🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي قَتَادَةَ السُّنَمِي وَاسْمُهُ الْحَرِثُ بْنُ رِبعِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو قتادہ حارث بن ربعی سلمی رضی اللہ عنہ کاتذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11950
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ ”إِنَّكُمْ إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا تَعْطَشُوا“ وَانْطَلَقَ سَرَعَانُ النَّاسِ يُرِيدُونَ الْمَاءَ وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَالَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَمْتُهُ فَأَدْعَمَ ثُمَّ مَالَ فَدَعَمْتُهُ فَأَدْعَمَ ثُمَّ مَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَنْجَفِلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَدَعَمْتُهُ فَانْتَبَهَ فَقَالَ ”مَنِ الرَّجُلُ“ قُلْتُ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ ”مُذْ كَمْ كَانَ مَسِيرُكَ“ قُلْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ قَالَ ”حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَ رَسُولَهُ“ ثُمَّ قَالَ ”لَوْ عَرَّسْنَا“ فَمَالَ إِلَى شَجَرَةٍ فَنَزَلَ فَقَالَ ”انْظُرْ هَلْ تَرَى أَحَدًا“ قُلْتُ هَذَا رَاكِبٌ هَذَانِ رَاكِبَانِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةً فَقَالَ ”احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا“ فَنِمْنَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَانْتَبَهْنَا فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَارَ وَسِرْنَا هُنَيْهَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ ”أَمَعَكُمْ مَاءٌ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ مَعِي مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ ”ائْتِ بِهَا“ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ ”مَسُّوا مِنْهَا مَسُّوا مِنْهَا“ فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ وَبَقِيَتْ جَرْعَةٌ فَقَالَ ”ازْدَهِرْ بِهَا يَا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ“ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ وَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا تَقُولُونَ إِنْ كَانَ أَمْرَ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ وَإِنْ كَانَ أَمْرَ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا فَقَالَ ”لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوهَا وَمِنَ الْغَدِ وَقْتَهَا“ ثُمَّ قَالَ ”ظُنُّوا بِالْقَوْمِ“ قَالُوا إِنَّكَ قُلْتَ بِالْأَمْسِ ”إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا تَعْطَشُوا“ فَالنَّاسُ بِالْمَاءِ فَقَالَ أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاءِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَسْبِقَكُمْ إِلَى الْمَاءِ وَيُخَلِّفَكُمْ وَإِنْ يُطِعِ النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدُوا قَالَهَا ثَلَاثًا فَلَمَّا اشْتَدَّتِ الظَّهِيرَةُ رَفَعَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا عَطَشًا تَقَطَّعَتِ الْأَعْنَاقُ فَقَالَ ”لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ“ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا قَتَادَةَ ائْتِ بِالْمِيضَأَةِ“ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ ”احْلِلْ لِي غُمَرِي“ يَعْنِي قَدَحَهُ فَحَلَلْتُهُ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَجَعَلَ يَصُبُّ فِيهِ وَيَسْقِي النَّاسَ فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ فَكُلُّكُمْ سَيَصْدُرُ عَنْ رَيٍّ“ فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ لِي فَقَالَ ”اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ“ قَالَ قُلْتُ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ“ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ بَعْدِي وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَةٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ فَقَالَ مَنِ الرَّجُلُ قُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ الْقَوْمُ أَعْلَمُ بِحَدِيثِهِمْ انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي أَحَدُ السَّبْعَةِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ مَا كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ أَحَدًا يَحْفَظُ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرِي قَالَ حَمَّادٌ وَحَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَّسَ وَعَلَيْهِ لَيْلٌ تَوَسَّدَ يَمِينَهُ وَإِذَا عَرَّسَ الصُّبْحَ وَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ الْيُمْنَى وَأَقَامَ سَاعِدَهُ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا: اگر تمہیں کل پانی نہ ملا تو تم پیاسے رہو گے۔ تیز رفتار لوگ آگے چلے گئے تاکہ پانی تلاش کریں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری آپ کو لیے راستے سے ایک طرف ہٹ گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سواری پر ہی اونگھ آگئی، میں نے آپ کو ذرا آسرا دے کر سیدھا کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھے ہوگئے، اس کے بعد پھر جھک گئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدھا کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھے ہوگئے، اس کے بعد پھر اونگھ کی وجہ سے اس قدر جھکے یا آپ کو جھٹکا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری سے گرنے کے قریب ہوگئے، میں نے آپ کو سیدھا کیا تو آپ متنبہ ہوئے اور دریافت کیا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: جی میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کب سے اس طرح میرے ساتھ چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: ساری رات اسی طرح گزر گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے جس طرح اللہ کے رسول کی حفاظت کی، اللہ تمہاری حفاظت کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہتر ہوگا کہ ہم کہیں رک کر آرام کر لیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کی طرف گئے اور وہاں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا دیکھو کوئی آدمی دکھائی دیتا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ ایک سوار آرہا ہے، یہ دو سوار آرہے ہیں،یہاں تک کہ آنے والوں کی تعداد سات ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے لیے نماز کے وقت کا خیال رکھنا۔ پھر ہم سو گئے اور اس قدر سوئے کہ سورج کی تمازت نے ہمیں بیدار کیا، ہم بیدار ہوئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہو کر روانہ ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کچھ دور تک گئے، اس کے بعد آپ سواری سے نیچے اترے اور دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی موجود ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، میرے پاس وضو کے برتن میں کچھ پانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی لے آؤ۔ میں پانی کا برتن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے پانی لے کر وضو کر لو۔ چنانچہ لوگوں نے وضو کیا، برتن میں ایک گھونٹ جتنا پانی باقی رہ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابو قتادہ! اسے محفوظ کرلو، عنقریب اس گھونٹ کی بڑی شان ہوگی۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی اور سب نے فجر سے پہلی د ورکعتیں ادا کیں اور پھر فجر کی نماز با جماعت ادا کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوگئے، ہم میں سے بعض لوگوں نے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے نماز کے بارے میں بڑی کوتاہی سرزد ہو گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: کیا باتیں کر رہے ہو؟ اگر دنیاوی باتیں ہیں توتم جانو اور تمہارا کام اور اگر دین کی کوئی بات ہے تو مجھ سے کرو۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!ہم سے نماز کے بارے میں بہت بڑی کوتاہی سر زد ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیند کے سبب نماز میں تاخیر ہو جانا کوتاہی نہیں، کوتاہی تو اس صورت میں ہوتی ہے جب آدمی بیدار ہو اور نماز کو لیٹ کر دے، جب ایسی صورت حال پیش آجائے تو اسی وقت نماز ادا کر لو اور آئندہ اس نماز کو اس کے اپنے مقرر وقت پر ادا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ آگے گئے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں اندازہ کرو کہ وہ اس وقت کہاں پہنچ چکے ہوں گے؟ صحابۂ کرام نے گزارش کی کہ آپ ہی نے توکل ارشاد فرمایا تھا کہ اگر کل تمہیں پانی نہ ملا تو پیاسے رہو گے۔ اس لیے لوگ پانی کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں۔ صبح ہوئی تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس موجود نہ پایا، پس وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی پانی والے مقام پر ہوں گے۔ ان لوگوں میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، ان دونوں حضرات نے کہا: لوگو! یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں پیچھے چھوڑ کر خود پہلے پانی کے مقام پر چلے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے تین بار فرمایا کہ اگر لوگ ابو بکر اور عمر کی بات مان لیں تو اچھے رہیں گے۔ جب دھوپ خوب چڑھ گئی اور گرمی شدید ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے نمودار ہوئے تو لوگ چیخ اٹھے کہ: اے اللہ کے رسول! ہم تو پیاسے مر گئے اور پیاس کی شدت سے ہماری گردنیں کٹنے کو ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات سن کر فرمایا: تمہارے اوپر ہلاکت نہیں آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو قتادہ! پانی والا برتن لے آؤ۔ میں وہ برتن لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم میرا پیالہ کھول کر لے آؤ۔ میں نے اسے کھول کر آپ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ اس برتن میں سے پانی کو اس پیالے میں انڈیل انڈیل کر لوگوں کو پلانے لگے۔ آپ کے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے اچھا برتاؤ کرو عنقریب تم میں سے ہر کوئی سیراب ہو کر جائے گا۔ چنانچہ سب لوگوں نے پانی نوش کر لیا صرف میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی باقی رہ گئے۔ تو آپ نے میرے لیے پیالے میں انڈیلا اور فرمایا ابو قتادہ! رضی اللہ عنہ لو یہ نوش کرو۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! پہلے آپ نوش فرمائیں۔ آپ نے فرمایا دوسروں کو پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔ چنانچہ میں نے پانی پیا اور میرے بعد آپ نے نوش کیا۔ اوربرتن میں پانی اتنا بچ رہا جتنا اس میں پہلے سے تھا۔ اس دن لوگوں کی تعداد تین سو تھی۔عبداللہ سے مروی ہے کہ میں جامع مسجد میں یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میری آواز سن لی۔ انھوں نے کہا کہ بیان کرنے والا آدمی کون ہے؟میں نے عرض کیا کہ میں عبداللہ بن رباح انصاری ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ قوم کے افراد ہی اپنی بات کو بہتر طور پر جانتے ہوتے ہیں۔ بہر حال تم ذرا خیال کرکے بیان کرو۔ اس رات جمع ہونے والے سات افراد میں سے ایک میں بھی ہوں جب میں حدیث بیان کرکے فارغ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں سمجھتا تھا کہ اس حدیث کو میرے سوا کوئی دوسرا بھی یاد رکھتا ہوگا۔ حماد بن سلمہ نے بیان کیا کہ ہم سے اس حدیث کو حمید طویل نے بکر بن عبداللہ مزنی سے انہوں نے عبداللہ بن رباح سے انہوں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسے اسی طرح بیان کیا۔ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو آرام کی غرض سے کہیں ٹھہرتے اور رات کا کچھ حصہ باقی ہوتا تو اپنے داہنے ہاتھ کو تکیہ کے طور پر استعمال کرتے اورجب صبح بالکل قریب ہوتی تو اپنا سر اپنی داہنی ہتھیلی پر رکھ کر اپنے بازو کو سیدھا اوپر کو کھڑا کر لیتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11950]
تخریج الحدیث: «اخرجه بنحوه مسلم: 681، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22913»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابوقتادہ حارث بن ربعی خزرجی سلمی رضی اللہ عنہ انصاری صحابی ہیں،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سوار صحابی تھے، غزوۂ احد اور اس کے بعد والے معرکوں میں شریک ہوئے، (۷۲) سال کی عمر (۵۴) سن ہجری میں مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا۔

الحكم على الحديث:
اخرجه بنحوه مسلم: 681
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11951]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11952]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11953
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ”تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے بھی بہتر آدمی یعنی سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11953]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22984»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2915
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِى وَاسْمُهُ عَبْدُ بنُ قَيْس رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11954
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ يَقْرَأُ فَقَالَ ”لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن قیس یعنی ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اورفرمایا: اسے تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11954]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه النسائي: 2/180، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8806»
وضاحت: فوائد: … سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں، ان کا اصل نام عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار ہے، کتب حدیث میں عام طور پر ان کا تذکرہ کنیت سے ہوا ہے، ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ جا کر دولت اسلام سے بہرہ ور ہوئے، پھر حبشہ کی طرف ہجرت کی، بعد ازاں حبشہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا شرف حاصل ہوا، آپ کی حبشہ سے مدینہ منورہ آمد فتح خیبر کے بعد ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں زبید، عدن اور سواحل یمن پر عامل مقرر کیا تھا اور امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں کوفہ، بصرہ، اہواز اور اصبہان وغیرہ کے علاقوں کا عامل مقرر کیا تھا، تریسٹھ سال کی عمر میں (۴۴) سن ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11955
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ فَقَالَ ”لَقَدْ أُوتِيَ أَبُو مُوسَى مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ابو موسیٰ کو تو آل داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11955]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي: 2/181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25857»
وضاحت: فوائد: … مَزَامِیْر کے معانی بانسریوں کے ہیں، لیکن اس سے مراد آواز کا خوبصورت اور سریلا ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے دائود علیہ السلام کو انتہائی خوبصورت اور دل کش آواز عطا کی گئی تھی،سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا دائود علیہ السلام ستر لہجوں میں زبور کی تلاوت کیا کرتے تھے اور وہ اس قدر سریلی اور دل کش آواز سے تلاوت کیا کرتے تھے کہ بخار میں مبتلا آدمی بھی جھومنے لگتا، جب رونے لگتے تو خشکی اور سمندر کا ہر جانور صامت و ساکت ہو کر آپ کی تلاوت کو غور سے سننے لگتا اور رونے لگ جاتا۔
آواز کی اس خوبصورتی کا کچھ حصہ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو بھی عطا کیا گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه النسائي: 2/181
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11956
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجَ بُرَيْدَةُ عِشَاءً فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُ رَجُلٍ يَقْرَأُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تُرَاهُ مُرَائِيًا“ فَأَسْكَتَ بُرَيْدَةُ فَإِذَا رَجُلٌ يَدْعُو فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ“ قَالَ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْقَابِلَةِ خَرَجَ بُرَيْدَةُ عِشَاءً فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُ الرَّجُلِ يَقْرَأُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَتَقُولُهُ مُرَائِيًا“ فَقَالَ بُرَيْدَةُ أَتَقُولُهُ مُرَائِيًا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ لَا بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ“ فَإِذَا الْأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ بِصَوْتٍ لَهُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْأَشْعَرِيَّ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ“ فَقُلْتُ أَلَا أُخْبِرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَلَى فَأَخْبِرْهُ“ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَنْتَ لِي صَدِيقٌ أَخْبَرْتَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عشا کے وقت باہر گئے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور مسجد میں لے گئے، وہاں تلاوت کرتے ہوئے ایک آدمی کی آوازسنی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ دکھلاوا کر رہا ہے؟ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے، پھر اس آدمی نے یوں دعا کی: اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ بِأنّی اَشْہَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ الَّذِی لَا اِلٰہ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ کُفُوَاًاَحَدٌ۔ (یا اللہ! میں یہ واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی وہ اللہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تو ایسا بے نیاز ہے، جس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں۔) یہ دعا سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ سے اس کے اس سب سے با عظمت نام لے کر دعا کی ہے کہ جب بھی اللہ سے اس کا یہ نام لے کر کچھ مانگا جائے تو وہ عنایت کرتا ہے اور جو بھی دعا کی جائے، وہ قبول کرتا ہے۔ بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دوسری رات ہوئی تو میں عشاء کے وقت باہر نکلا، اس دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور مسجد میں لے گئے تو اسی آدمی کی تلاوت کی آواز آرہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو سمجھتا ہے کہ یہ دکھلاوا کر رہا ہے؟ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ دکھلاوا کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دکھلاوا کرنے والا نہیں ہے، بلکہ مخلص مومن ہے، یہ دکھلاوا کرنے والا نہیں، بلکہ مخلص مومن ہے۔ میں (بریدہ) نے دیکھا تو وہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے، جو مسجد کے ایک کونے میں بلند آواز سے قرأت کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کو داؤد علیہ السلام کیسی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان کو اس بات سے با خبر کردوں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں اور ان کو بتلا دو۔ جب میں نے ان کو اس کی خبر دی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: تم میرے مخلص دوست ہو، کیونکہ تم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خاص بات سے باخبر کیا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11956]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 1494، والترمذي: 3475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23340»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11957
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قُلْتُ لِرَجُلٍ هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ هَذَا الْيَوْمَ فَخَطَبَ فَقَالَ ”وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“ فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ سَاخَتْ بِي
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ایک آدمی سے کہا:آؤ ہم اپنا آج کا یہ دن اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کر یں، اللہ کی قسم یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے ساتھ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کیا اور کہا: بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو دوسروں سے کہتے ہیں کہ آؤ ہم اپنا آج کا یہ دن اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات اس قدر تکرار سے ارشاد فرمائی کہ میں نے تمنا کی کاش کہ زمین مجھے اپنے اندر دھنسا لے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11957]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام من روي عنه ثابت، اخرجه البزار: 3577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19756 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19994»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی تمنا سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس بات اور عمل کو پسند نہیںکیا، ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کا ہر دن اس اعتدال سے گزارا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی کیا جائے، اس کے احکام بھی پورے کیے جائیں اور دنیا کی ضرورتیں بھی پوری کی جائیں۔
حدیث ضعیف ہونے کی وجہ سے کسی توجیہ کی ضرورت نہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام من روي عنه ثابت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11958
عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ كَتَبَ عُمَرُ فِي وَصِيَّتِهِ أَنْ لَا يُقَرَّ لِي عَامِلٌ أَكْثَرَ مِنْ سَنَةٍ وَأَقِرُّوا الْأَشْعَرِيَّ يَعْنِي أَبَا مُوسَى أَرْبَعَ سِنِينَ
شعبی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ میرا مقرر کردہ کوئی عامل ایک سال سے زیادہ عرصہ تک اپنی ذمہ داری پر بحال نہ رکھا جائے، البتہ تم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو چار سال تک ان کی ذمہ داری پر برقرار رکھو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11958]
تخریج الحدیث: «اثر ضعيف الاسناد لضعف مجالد، وھشيمُ بن بشير مدلس وقد عنعنه، والشعبي لم يدرك عمر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19719»

الحكم على الحديث:
اثر ضعيف الاسناد لضعف مجالد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11959
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَكْثَرِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ قَالَ فَقُتِلَ عُبَيْدٌ يَوْمَ أَوْطَاسٍ وَقَتَلَ أَبُو مُوسَى قَاتِلَ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ قَاتِلِ عُبَيْدٍ وَبَيْنَ أَبِي مُوسَى فِي النَّارِ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یااللہ! اپنے بندے عبید ابو عامر کو قیامت کے دن اکثر لوگوں سے بلند مرتبہ پر فائز فرمانا۔ سیدنا عبید رضی اللہ عنہ غزوۂ اوطاس میں شہید ہوئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبید رضی اللہ عنہ کے قاتل کو قتل کرکے جہنم رسید کیا تھا۔ راویٔ حدیث عاصم کہتے ہیں: میرے شیخ ابو وائل نے بیان کیا: مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید رضی اللہ عنہ کے قاتل اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو جہنم میں اکٹھے نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11959]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19929»
وضاحت: فوائد: … فَقُتِلَ عُبَیْدٌ کی ترکیب سے معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا ابو عامر عبید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے بعد شہید ہوئے تھے، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ پہلے شہید ہوئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی وسیت کے مطابق ان کے لیے دعا کی، دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۹۴۱)اور اس کے فوائد میں مذکورہ حدیث۔ آخری جملے میں دراصل سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے حق میں شہادت دی گئی ہے کہ وہ جہنم میں نہیں جائیں گے۔ (ان شاء اللہ تعالی)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں