🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِى وَاسْمُهُ عَبْدُ بنُ قَيْس رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11960
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدِيثَ أَبِي حَرِيزٍ أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ قَالَ أَوْصَى أَبُو مُوسَى حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ فَقَالَ إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي فَأَسْرِعُوا الْمَشْيَ وَلَا يَتَّبِعُنِي مُجَمَّرٌ وَلَا تَجْعَلُوا فِي لَحْدِي شَيْئًا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ التُّرَابِ وَلَا تَجْعَلُوا عَلَى قَبْرِي بِنَاءً وَأُشْهِدُكُمْ أَنَّنِي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ حَالِقَةٍ أَوْ سَالِقَةٍ أَوْ خَارِقَةٍ قَالُوا أَوَسَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابو بردہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے وصیت کرتے ہوئے کہا: جب تم میرا جنازہ لے کر چلو تو ذرا تیز تیز چلنا اور کوئی آدمی آگ کے کوئلوں پر خوشبو ڈال کر جنازے کے ساتھ نہ چلے اور میری قبر میں کوئی ایسی چیز بھی نہ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو، نیز تم میری قبر پر کوئی عمارت کھڑی نہ کرنا اور میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں کسی کی وفات پر سر کے بال مونڈنے والی، چیخنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی ہر عورت سے بری اور لا تعلق ہوں۔ لوگوں نے عرض کیا: کیا آپ نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11960]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه مسلم: 104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19776»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي مَالِكِ نِ الْأَشْعَرِى وَاسْمُهُ عبيد رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو مالک عبید اشعری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11961
أَبِي ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ثَنَا حَرِيزٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَهُ دَعَا لَهُ ”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى عُبَيْدٍ أَبِي مَالِكٍ وَاجْعَلْهُ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ“
سیدنا ابو مالک عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیےیہ دعا کی تھی: یا اللہ! ابو مالک عبید پر رحمت نازل فرما اور اسے بہت سے لوگوں پر فوقیت عطا فرما۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11961]
تخریج الحدیث: «مرسل، حبيب لم يدرك ابا مالك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23295»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کا نام عبید،یا عمرو، یا کعب یا عامر ہے، یہ طاعون عمواس میں فوت ہوئے تھے۔

الحكم على الحديث:
مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11962
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ شِعْرًا يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ قَالَ وَأَبَقَ مِنِّي غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا غُلَامُكَ“ قُلْتُ هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْتَقْتُهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آرہا تھا تو میں نے راستے میں یہ شعر کہا: یَالَیْلَۃً مِنْ طُولھا وَعَنَالِٔھا عَلٰی انّہا مِنْ دَارْۃِ الکُفْرِ نَجَّتٖ (تعجب ہےاسراتپرجواسقدرطویل اور پر مشقت ہے ہاں یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اس نے مجھے دارالکفر سے نکال لیا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: راستے میں میرا ایک غلام مجھ سے فرار ہو گیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر مسلمان ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کر لی، میں آپ کی خدمت میں ہی بیٹھا تھا کہ وہ غلام بھی آگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابو ہریرہ! یہ ہے تمہارا غلام۔ میں نے عرض کیا:وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے، پھر انھوں نے اس کو آزاد کر دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11962]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2531، 4393، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7832»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، ان کے اور ان کے باپ کے نام کے تعین کے بارے میں تیس اقوال موجود ہیں، راجح قول کے مطابق ان کا نام عبد الرحمن بن صخر ہے، دورِ جاہلیت میں ان کا نام عبد شمس تھا، یہ مشرف باسلام تو پہلے ہو چکے تھے، البتہ غزوۂ خیبر والے سال مدینہ منورہ تشریف لائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کے اشتیاق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خیبر پہنچ گئے، اس کے بعدیہ گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چمٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی اور رات ہو یا دن، سفر ہو یا حضر، ہر ممکنہ صورت میں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال و اقوال کو نقل کرنے کی،یاد کرنے کی اور پھر یہ امانت امت تک پہنچانے کے لیے ازحد محنت اور مشقت کی،یہ اصحاب ِ صفہ صحابہ میں سے ایک تھے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا امتیازی وصف یہ تھا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزانہ انداز میں قوت ِ حافظہ حاصل کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کو یاد کرنے کی ذمہ داری اٹھا لی، دواوین احادیث میں سب سے زیادہ احادیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، ان سے مروی احادیث کی تعداد (۵۳۷۴) ہے، یہ شرف کسی اور صحابی کے حصے میں نہ آ سکا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تقریباً اسی سال عمر پائی اور (۵۷) سن ہجری کی فوت ہوئے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2531
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11963
حَدَّثَنَا خُثَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ عِرَاكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَقَدِ اسْتَخْلَفَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِـ {كهيعص} [مريم: 1] وَفِي الثَّانِيَةِ {وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ} [المطففين: 1] قَالَ فَقُلْتُ لِنَفْسِي وَيْلٌ لِفُلَانٍ إِذَا اكْتَالَ اكْتَالَ بِالْوَافِي وَإِذَا كَالَ كَالَ بِالنَّاقِصِ قَالَ فَلَمَّا صَلَّى زَوَّدَنَا شَيْئًا حَتَّى أَتَيْنَا خَيْبَرَ وَقَدِ افْتَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ فَأَشْرَكُونَا فِي سِهَامِهِمْ
عراک بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے افراد کے ساتھ مدینہ منورہ آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دنوں خیبر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں سیدنا سباع بن عرفطہ کو اپنا نائب مقرر کر گئے تھے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا سباع رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو وہ صبح کی پہلی رکعت میں {کہیعص}اور دوسری رکعت میں سورۂ مطففین کی تلاوت کر رہے تھے، میں نے دل میں کہا: فلاں آدمی کے لیے تباہی اور ہلاکت ہے، جب وہ اپنے لیے لیتا ہے تو پورا پیمانہ لیتا ہے اور جب دوسروں کو دیتا ہے تو کم پیمانہ دیتا ہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہمیں کچھ زاد راہ دیا،یہاں تک کہ ہم خیبر جا پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام سے بات کرکے ہمیں بھی مال غنیمت میں شریک کر لیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11963]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابن خزيمة: 1039، والحاكم: 2/ 33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8533»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاقات اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی حرص کا اندازہ لگائیں کہ وہ مدینہ منورہ میں رہ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی واپسی کا انتظار نہ کر سکے، بلکہ ایک طویل سفر کر کے خیبر میں جا پہنچے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11964
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الطُّفَاوَةِ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَلَمْ أُدْرِكْ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَشَدَّ تَشْمِيرًا وَلَا أَقْوَمَ عَلَى ضَيْفٍ مِنْهُ فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ وَأَسْفَلَ مِنْهُ جَارِيَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ وَمَعَهُ كِيسٌ فِيهِ حَصًى وَنَوًى يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ حَتَّى إِذَا أَنْفَذَ مَا فِي الْكِيسِ أَلْقَاهُ إِلَيْهَا فَجَمَعَتْهُ فَجَعَلَتْهُ فِي الْكِيسِ ثُمَّ دَفَعَتْهُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَإِنِّي بَيْنَمَا أَنَا أُوعَكُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ ”مَنْ أَحَسَّ الْفَتَى الدَّوْسِيَّ مَنْ أَحَسَّ الْفَتَى الدَّوْسِيَّ“ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ هُوَ ذَاكَ يُوعَكُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيَّ وَقَالَ لِي مَعْرُوفًا فَقُمْتُ فَانْطَلَقَ حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ وَصَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَاءٍ وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ”إِنْ نَسَّانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي فَلْيُسَبِّحِ الْقَوْمُ وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ“ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْسَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ ”مَجَالِسَكُمْ هَلْ مِنْكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَغْلَقَ بَابَهُ وَأَرْخَى سِتْرَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُحَدِّثُ فَيَقُولُ فَعَلْتُ بِأَهْلِي كَذَا وَفَعَلْتُ بِأَهْلِي كَذَا“ فَسَكَتُوا فَأَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ ”هَلْ مِنْكُنَّ مَنْ تُحَدِّثُ“ فَجَثَتْ فَتَاةٌ كَعَابٌ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهَا وَتَطَاوَلَتْ لِيَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَسْمَعَ كَلَامَهَا فَقَالَتْ إِي وَاللَّهِ إِنَّهُمْ لَيُحَدِّثُونَ وَإِنَّهُنَّ لَيُحَدِّثْنَ فَقَالَ ”هَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ إِنَّ مَثَلَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مَثَلُ شَيْطَانٍ وَشَيْطَانَةٍ لَقِيَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بِالسِّكَّةِ قَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ“ ثُمَّ قَالَ ”أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ“ قَالَ وَذَكَرَ ثَالِثَةً فَنَسِيتُهَا ”أَلَا إِنَّ طِيبَ الرَّجُلِ مَا وُجِدَ رِيحُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ لَوْنُهُ أَلَا إِنَّ طِيبَ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَلَمْ يُوجَدْ رِيحُهُ“
ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ بنو طفاوہ قبیلہ کے ایک فرد سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں مہمان ٹھہرا، میں نے صحابۂ کرام میں سے کسی کو ان سے بڑھ کر مہمان نواز نہیں پایا، میں ان کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا اور وہ اپنی چارپائی پر تشریف فرما تھے، ان کی سیاہ فام لونڈی نیچے تھی، سیدنا ابو ہریرہ کے پاس ایک تھیلی میں کنکر اور گٹھلیاں تھیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھتے جاتے، جب تھیلی خالی ہو جاتی تو وہ اسے اس لونڈی کی طرف پھینکتے اور وہ تمام کنکروں اور گٹھلیوں کو تھیلی میں جمع کر کے ان کے حوالے کر دیتی۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک واقعہ نہ سناؤں۔ میں نے عرض کیا: جی ضرور سنائیں، انہوں نے کہا: مجھے بخار تھا اور میں مدینہ منورہ کی مسجد یعنی مسجد نبوی میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا: کسی کو دوسی جوان یعنی ابو ہریرہ کے متعلق علم ہو، کسی کو دوسی جوان کا علم ہو۔ (کہ وہ کہاں ہے؟) کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! وہ دیکھیں وہ تو مسجد کے ایک کونے میں بخار میں مبتلا پڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر اپنا ہاتھ مبارک مجھ پر رکھا اور میرے ساتھ پیاری پیاری باتیں کیں۔ یہاں تک کہ میں اٹھ کھڑا ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل کر اپنی نماز والی جگہ پر تشریف لے گئے، اس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مردوں کی دو اور عورتوں کی ایک صف یا عورتوں کی دو اور مردوں کی ایک صف تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کرکے ارشاد فرمایا: اگر شیطان مجھے نماز میں کچھ بھلوا دے تو مرد حضرات سُبْحَانَ اللّٰہِ کہہ دیاکریں اور عورتیں اپنے ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مار کر آواز پیدا کریں (جس سے میں اپنی بھول اور غلطی پر متنبہ ہو جاؤں گا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں نہ بھولے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کا سلام پھیرا اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو،کیا تم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے اہل خانہ کے ہاں جا کر دروازہ بند کرکے پردے لٹکانے کے بعد (حق زوجیت سے فارغ ہو کر) باہر جا کر لوگوں کی بتلائے کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ یوں کیا اور یہ کیا۔ آپ کی بات سن کر صحابۂ کرام خاموش رہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم میں کوئی عورت بھی ایسی ہے جو ایسی باتیں کرتی ہو؟ تو ابھرے ہوئے سینہ والی ایک نوجوان لڑکی اپنے ایک گھٹنے کے بل ذرا اونچی ہو کر گردن اٹھا کر آپ کی طرف دیکھنے لگی تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف توجہ فرمائیں اور اس کی بات سنیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! مرد بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور عورتیں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ایسی باتیں کرنے والوں کی کیا مثال ہے؟ ایسی باتیں کرنے والوں کی مثال شیطان اور شیطاننی کی مانند ہے، جو راستے میں ہی ایک دوسرے سے ملیں اور بر سر عام ایک دوسرے سے اپنی نفسانی خواہش پوری کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: خبر دار! کوئی مرد کسی مرد یا کسی عورت کے ساتھ اور کوئی عورت کسی مرد یا کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں علیحدہ نہ لیٹے، صرف باپ اور اس کا بیٹا اس طرح لیٹ سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تیسری بات کا بھی ذکر کیا جو مجھے بھول گئی ہے۔ خبردار! مردوں کی خوشبو ایسی ہونی چاہیے جس کی صرف خوشبو ہو اور رنگ نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو ایسی ہونی چاہیے کہ جس کا رنگ ہو اور خوشبو نہ ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11964]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الطفاوي، ولبعض قطع ھذا الحديث شواھد تقويه، اخرجه ابوداود: 2174، 4019،والترمذي: 2787،والنسائي: 8/ 151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10990»
وضاحت: فوائد: … تمام فقہی مسائل پہلے گزر چکے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الطفاوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11965
حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ وَقَالَ لَنَا وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي قُلْتُ وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ أُمِّي كَانَتْ امْرَأَةً مُشْرِكَةً وَإِنِّي كُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيَّ فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيَّ وَإِنِّي دَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ“ فَخَرَجْتُ أَعْدُو أُبَشِّرُهَا بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٍ وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ وَسَمِعْتُ خَشْفَ رِجْلٍ يَعْنِي وَقْعَهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَمَا أَنْتَ ثُمَّ فَتَحَتِ الْبَابَ وَقَدْ لَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا فَقَالَتْ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ كَمَا بَكَيْتُ مِنَ الْحُزْنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ فَقَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دُعَاءَكَ وَقَدْ هَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا“ فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي أَوْ يَرَى أُمِّي إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّنِي
ابوکثیر سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کرتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! اللہ نے جس کسی مومن کو پیدا کیا اور اس نے میر ے متعلق محض سنا ہو، دیکھا نہ بھی ہو تو وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ ابو کثیر کہتے ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا کہ ابو ہریرہ! آپ کو اس بات کا کیا علم کہ ہر مومن آپ سے محبت رکھتا ہے؟ انہوں نے کہا: میری والدہ مشرک عورت تھی، میں اس کو اسلام کی دعوت دیا کرتا تھا اور وہ میری بات کو قبول کرنے سے انکار کرتی رہتی تھی۔ ایک دن میں نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق ایسی ایسی باتیں کہیں جو مجھے قطعاً اچھی نہ لگیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر رونے لگا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی والدہ کو اسلام کی دعوت دیا کرتا تھا اور وہ میری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتی رہتی تھی، میں نے آج بھی اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے آپ کے متعلق ایسی ایسی ناگواری باتیں کہی ہیں، جو مجھے قطعاً پسند نہیں، آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ میری ماں کو ہدایت سے سر فراز فرما دے، (پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی)۔ میں دوڑتا ہوا اپنی والدہ کی طرف گیا تاکہ جا کر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی بشارت دے سکوں، میں دروازے پر پہنچا تو دروازہ اندر سے بند تھا۔ میں نے پانی کے گرنے کی آواز سنی اور میں نے جوتوں کی آواز بھی سنی۔ اندر سے میری والدہ نے کہا: ابو ہریرہ! ذرا ٹھہرے رہو۔ کچھ دیر بعد اس نے دروازہ کھولا۔اس نے قمیص پہنی اور سر پر اوڑھنی لینے سے بھی پہلے پکار اٹھی: إِنِّی أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔میں جس طرح کچھ دیر قبل غم کی وجہ سے روتا ہوا آپ کی خدمت میں گیا تھا، اب اسی طرح خوشی کی شدت سے روتا ہوا میں آپ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مبارک ہو، اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت سے سرفراز کر دیا ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے اور میری ماں کو اپنے تمام اہل ایمان بندوں کی نظروں میں محبوب بنا دے اور تمام اہل ایمان کو ہمارے ہاں محبوب بنادے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: یا اللہ!تو اپنے اس بندے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) اور اس کی والدہ کو اپنے تمام اہل ایمان بندوں کا محبوب بنا دے اور تمام اہل ایمان کو ان دونوں کا محبوب بنا دے۔ اس دعا کی برکت سے اب ہر وہ مومن جو میرے متعلق سنتا ہے، خواہ اس نے مجھے یا میری والدہ کو نہ بھی دیکھا ہو، وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11965]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2491، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8242»
وضاحت: فوائد: … ان کرامتوں اور منقبتوں کے باوجود اس مسلک والے لوگوں پر حیرانی ہونی چاہیے، جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو غیر فقیہ قرار دے کر ان سے مروی بعض احادیث کو ردّ کر دیتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2491
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11966
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَلَا مِنْ رَجُلٍ يَأْخُذُ بِمَا فَرَضَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ كَلِمَةً أَوْ كَلِمَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَيَجْعَلُهُنَّ فِي طَرَفِ رِدَائِهِ فَيَتَعَلَّمُهُنَّ وَيُعَلِّمُهُنَّ“ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”فَابْسُطْ ثَوْبَكَ“ قَالَ فَبَسَطْتُ ثَوْبِي فَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”ضُمَّ إِلَيْكَ“ فَضَمَمْتُ ثَوْبِي إِلَى صَدْرِي فَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا أَكُونَ نَسِيتُ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اللہ کے فرائض میں سے ایک، دو، تین، چار یا پانچ باتیں سن کر اپنی چادر کے پلو میں باندھ لے، پھر ان باتوں کا علم خود بھی حاصل کرے اور دوسروں کو بھی ان کی تعلیم دے؟ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کام کے لیے میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا کپڑا بچھاؤ۔ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا بچھایا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ باتیں ارشاد فرمائیں اور پھر فرمایا: اس کپڑے کو سمیٹ لو۔ چنانچہ میں نے اپنے کپڑے کو سمیٹ کر اپنے سینےسے لگا لیا، مجھے امید ہے کہ اس کے بعد میں نے آپ سے جو بھی حدیث سنی، اسے بھولنے نہیں پاؤں گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11966]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8390»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان برکتوں کا حصول صرف سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ سکا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11967
عَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكُمْ تَقُولُونَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ إِنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ لَا يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ وَمَا بَالُ الْأَنْصَارِ لَا يُحَدِّثُونَ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ وَإِنَّ أَصْحَابِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَتْ تَشْغَلُهُمْ صَفَقَاتُهُمْ فِي الْأَسْوَاقِ وَإِنَّ أَصْحَابِي مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ تَشْغَلُهُمْ أَرْضُوهُمْ وَالْقِيَامُ عَلَيْهَا وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُعْتَكِفًا وَكُنْتُ أُكْثِرُ مُجَالَسَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْضُرُ إِذَا غَابُوا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا يَوْمًا فَقَالَ ”مَنْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ حَدِيثِي ثُمَّ يَقْبِضُهُ إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي أَبَدًا“ فَبَسَطْتُ ثَوْبِي أَوْ قَالَ نَمِرَتِي ثُمَّ قَبَضْتُهُ إِلَيَّ فَوَاللَّهِ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ أَبَدًا ثُمَّ تَلَا {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى} [البقرة: 159] الْآيَةَ كُلَّهَا
اعرج سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ اعتراض کرتے ہو اور کہتے ہو کہ ابو ہریرہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت احادیث روایت کرتا ہے، اللہ گواہ ہے، تم کہتے ہو کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ احادیث ایسی ہوتی ہیں، جو نہ تو مہاجرین بیان کرتے ہیں اور نہ انصاری۔ (اب سنو،) حقیقت یہ ہے کہ میرے مہاجر بھائی بازاروں میں خرید و فروخت میں مصروف رہتے اور میرے انصاری بھائی اپنی کھیتی باڑی اور اپنے اموال وغیرہ میں مشغول رہتے اور میں ایک گوشہ نشین بن کر رہا اور میرا بیشتر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بسر ہوتا۔ لوگ اپنے کاموں کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفلوں سے غیر حاضر رہتے اور میں حاضر ہوتا۔ وہ لوگ احادیث بھول جاتے مگر میں یاد رکھتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کے دوران ایک دن ہم سے فرمایا: کون ہے جو اپنا کپڑا بچھائے یہاں تک کہ جب میں اپنی بات مکمل کرکے فارغ ہو جاؤں تو وہ اپنے کپڑے کو اپنی طرف سمیٹ لے، اس کی برکت اس قدر ہوگی کہ وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بھی بات کبھی بھی نہ بھلا سکے گا۔ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا بچھا دیا اور پھر اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ اللہ کی قسم! اس کی برکت سے میں آپ سے سنی ہوئی کوئی بھی بات نہیں بھولا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں کبھی کچھ بیان نہ کرتا، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی:{اِنّ الّذینیَکْتُمُونَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیّنَاتِ وَالْھُدیٰ مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ فِیْ الْکِتَابِ اُولٰئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَیَلْعَنُھُمُ اللَّاعِنُوْنَ} … بے شک جو لوگ ہمارے نازل کردہ صریح دلائل اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں بعد اس کے کہ ہم نے لوگوں کے لیے ان کو کتاب میں کھول کر بیان کر دیا ہے ان لوگوں پر اللہ اور سب لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11967]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7691»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ زیادہ احادیث بیان کرنے کی وجوہات بیان کر رہے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2492
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11968
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ فَرُّوخَ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يَقُولُ تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا فَكَانَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ يَعْتَقِبُونَ اللَّيْلَ أَثْلَاثًا يُصَلِّي هَذَا ثُمَّ يُوقِظُ هَذَا وَيُصَلِّي هَذَا ثُمَّ يَرْقُدُ وَيُوقِظُ هَذَا قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تَصُومُ قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَصُومُ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ ثَلَاثًا فَإِنْ حَدَثَ لِي حَادِثٌ كَانَ آخِرَ شَهْرِي قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ وَمَا فِيهِنَّ شَيْءٌ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهَا أَنَّهَا شَدَّتْ مَضَاغِي
ابو عثمان نہدی سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: میں سات روز تک سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں مہمان ٹھہرا، ان کا معمول تھا کہ وہ، ان کی اہلیہ اور ان کا خادم رات کو تین حصوں میں باری باری جاگتے، ایک نماز پڑھتا رہتا، بعد میں وہ دوسرے کو جگا دیتا، وہ نماز پڑھتا رہتا، پھر وہ سو جاتا اور تیسرے کو بیدار کر دیتا۔ میں نے دریافت کیا: ابو ہریرہ! آپ روزے کس طرح رکھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: مہینہ کے شروع میں تین روزے رکھتا ہوں، اگر کوئی وجہ در پیش ہو تو مہینہ کے آخر تک یہی روزے ہوتے ہیں۔ ابو عثمان کہتے ہیں: میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان کھجور یں تقسیم کیں تو سات کھجوریں میرے حصے میں آئیں۔ ان میں سے ایک بے کار سی کھجور تھی، تاہم وہ مجھے سب سے زیادہ پسند تھی، اس نے میرے دانتوں کو مضبوط کر دیا2، (تب میں اس کو چبا سکا)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11968]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5411، 5441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8618»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5411
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11969
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي خَلِيلِي الصَّادِقُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْثٌ إِلَى السِّنْدِ وَالْهِنْدِ“ فَإِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُ فَاسْتُشْهِدْتُ فَذَلِكَ وَإِنْ أَنَا فَذَكَرَ كَلِمَةً رَجَعْتُ وَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ قَدْ أَعْتَقَنِي مِنَ النَّارِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے سچے خلیل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس امت میں ایک لشکر سندھ اور ہند کی طرف جائے گا۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اگر میں اس لشکر کو پا لوں اور اس میں شریک ہو کر شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو جاؤں تو بہتر، اوراگر میں (شہید نہ ہوا)، بلکہ واپس آ گیا تو میں آزاد ابو ہریرہ بن جاؤں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آگ سے آزاد کر دے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11969]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف البراء بن عبد الله العنزي، ولانقطاعه، فان الحسن البصري لم يسمع من ابي ھريرة، اخرجه النسائي: 6/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8809»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف البراء بن عبد الله العنزي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں