الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصديق رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
سیدہ اسما بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11974
عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ صَنَعْتُ سُفْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُهَاجِرَ قَالَتْ فَلَمْ نَجِدْ لِسُفْرَتِهِ وَلَا لِسِقَائِهِ مَا نَرْبِطُهُمَا بِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ وَاللَّهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُهُ بِهِ إِلَّا نِطَاقِي قَالَ فَقَالَ شُقِّيهِ بِاثْنَيْنِ فَارْبِطِي بِوَاحِدٍ السِّقَاءَ وَبِالْآخَرِ السُّفْرَةَ فَلِذَلِكَ سُمِّيَتْ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہجرت کے موقع پر میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے زاد راہ تیار کیا، آپ کے تھیلے اور مشکیزے کو باندھنے کے لیے ہمیں کوئی چیز دستیاب نہ ہوئی، میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا:اللہ کی قسم! اس سامان کو باندھنے کے لیے میرے کمر بند کے سوا اور کوئی چیز موجود نہیں ہے۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس کے دو حصے کرکے ایک سے کھانے کا اور ایک سے پینے کا سامان باندھ دو۔ اسی وجہ سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کا نام ذات النطاقین پڑ گیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11974]
تخریج الحدیث: «اخرجه 5388، ومسلم: 2545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27467»
وضاحت: فوائد: … نِطَاق: محنت مشقت کرنے کے لیے کمر پر باندھی جانے والی پیٹی، جب سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا نے اپنی پیٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیا تو گویا دو پیٹیاں بن گئیں، اس لیے ان کو ذات النطاقین کہا گیا،یعنی دو پیٹیوں والی۔
الحكم على الحديث: اخرجه 5388
حدیث نمبر: 11975
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوكٍ وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ قَالَتْ فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ أَعْلِبُ وَأَسْتَقِي الْمَاءَ وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ فَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ قَالَتْ فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ ”إِخْ إِخْ“ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ قَالَتْ فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ قَالَتْ وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنِّي قَدِ اسْتَحْيَيْتُ فَمَضَى وَجِئْتُ الزُّبَيْرَ فَقُلْتُ لَقِينِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَنَاخَ لِأَرْكَبَ مَعَهُ فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى أَشَدُّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ قَالَتْ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے نکاح کر لیا، جبکہ ان کے پاس ایک گھوڑے کے سوا مال، غلام اور کوئی چیز، غرضیکہ کچھ بھی نہیں تھا، میں ہی ان کے گھوڑے کو گھاس ڈالتی، اس کی ضروریات پوری کرتی اور میں گھوڑے کو گھما پھرا لاتی اور میں ان کے اونٹ کے لیے کھجور کی گٹھلیاں کوٹتی پیستی، اسے گھاس ڈالتی اور اس پر پانی لاد لاتی، پانی کا ڈول پھٹ جاتا تو اس کی مرمت کرتی، آٹا گوندھتی، میں اچھی طرح روٹی پکانا نہیں جانتی تھی، اس لیے میری ہمسایہ انصاری خواتین مجھے روٹی پکا دیتی تھیں،یہ بڑی اچھی عورتیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو زمین سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو عنایت کیا تھا وہ تقریباً دو میل دور تھا، میں وہاں سے گٹھلیاں سر پر لاد کر لاتی۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ساتھ آرہے تھے کہ راستے میں مجھ سے ملاقات ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے آواز دے کر اپنے پیچھے مجھے سوار کرنے کے لیے اپنی سواری کو روکنے کی آواز دی، لیکن مجھے مردوں کے ساتھ سفر کرنے میں جھجک محسوس ہوئی۔ ساتھ ہی مجھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کی غیرت بھی یاد آئی، وہ سب سے زیادہ غیرت مند تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جان گئے کہ میں آپ کے ساتھ سوار ہونے سے جھجک رہی ہوں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل دیئے۔ میں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان کو بتلایا کہ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں۔ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام مل گئے، آپ نے مجھے اپنے ساتھ سوار کرنے کے لیے سواری کو بٹھانے کا ارادہ کیا، لیکن میں تو شرما گئی اور میں آپ کی غیرت کو بھی جانتی ہوں۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرے نزدیک تمہارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے تمہارا گٹھلیاں اٹھا کر لانامیرے لیے زیادہ ناگوار ہے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میری یہی صورت حال رہی،یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک خدامہ میری طرف بھیج دی، پھر گھوڑے کی خدمت کے سلسلہ میں اس خادمہ نے میری ذمہ داریاں سنبھال لیں، اس نے آکر گویا مجھے آزاد کر دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11975]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3151، 5224،ومسلم: 2182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27476»
وضاحت: فوائد: … سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، ان کا لقب ذات النطاقین ہے، یہ قدیم الاسلام ہیں۔ انہوں نے جن دنوں اپنے شوہر سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے بطن میں تھے، ایام حمل پورے ہو چکے تھے۔ مدینہ منورہ جاتے ہوئے انہوں نے قباء میں بچے (عبداللہ) کو جنم دیا، اس کے بعد ان کے بطن سے عروۃ، منذر، مہاجر، عاصم، خدیجہ کبریٰ، ام الحسن، اور عائشہ پیدا ہوئے۔مہاجرین میں سے سب سے آخر میں ان کی وفات ہوئی، سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا سخاوت اور خوابوں کی تعبیر بیان کرنے میں معروف تھیں۔ ان کی ولادت ہجرت سے ستائیس سال قبل اور وفات (۷۳) سن ہجری میں سو سال کی عمر میں ہوئی۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3151
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11976
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ“ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ”لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، وہ ان دنوں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، وہ لوگ بیٹھے ہی تھے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے ان لوگوں کو اپنی اہلیہ کے ہاں دیکھا تو انہیں یہ بات ناگوار گزری۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا اور کہا کہ میں نے کوئی قابل اعتراض بات تو نہیں دیکھی بلکہ میں نے تو اچھی بات ہی دیکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسماء کو ایسی باتوں سے محفوظ رکھا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: آج کے بعد کوئی آدمی اکیلا کسی ایسی خاتون کے ہاں نہ جائے، جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الایہ کہ اس کے ساتھ ایک دو آدمی اس کے ساتھ ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11976]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6744»
الحكم على الحديث: اخرجه مسلم: 2173
حدیث نمبر: 11977
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيَ عُمَرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ سُبِقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْكُمْ قَالَتْ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ وَيَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا فَقَالَتْ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَتْ فَذَكَرَتْ مَا قَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلْ لَكُمُ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ“
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہو گئی تو انھوں نے کہا: تم بڑے اچھے لوگ ہو، بس یہ بات ہے کہ لوگ تم سے پہلے ہجرت کر آئے ہیں اور ہم تم سے افضل ہیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، تمہیں جس چیز کا علم نہ ہوتا، اللہ کے رسول تمہیں تعلیم دیتے اور تم میں سے جس کے پاس سواری نہ ہوتی، اللہ کے رسول اسے سواری عنایت کر دیتے اور ہم اپنے دین کو بچاتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔ بہرحال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے ضرور اس بات کا ذکر کروں گی، چنانچہ انہوں نے جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ساری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں دو ہجرتوں کا ثواب ملے گا، ایک حبشہ کی طرف اور ایک مدینہ کی طرف۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11977]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4230، 4231،ومسلم: 2503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19930»
وضاحت: فوائد: … سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ میمونہ بنت الحارث کی مادری بہن ہیں اور یہ بہت سی صحابیات کی پدری،یا مادری،یا سگی بہن ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دار ارقم میں جانے سے پہلے انہوںنے اسلام قبول کیا اور سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئیں اور وہیں عبداللہ، محمد اور عون کو جنم دیا۔ غزوۂ موتہ میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، ان کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا، انھوں نے ان سے محمد نامی بچہ جنم دیا، ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا اور ان سے عون اور یحییٰ پیدا ہوئے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4230
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمَامَةَ بِنْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللہ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11978
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ فِيهَا قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ فَقَالَ ”لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ“ فَقَالَتِ النِّسَاءُ ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ پیش کیا گیا، اس میں یمنی موتیوں کا ایک ہار بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ ہار اپنے اہل میں سے اسے دوں گا، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ عورتوں نے سمجھا کہ اس ہار کو ابو قحافہ کی بیٹی یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لے جائیں گی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نواسی سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو بلوا کر وہ ہار ان کی گردن میں ڈال دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11978]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وجھالة ام محمد، اخرجه ابويعلي: 4471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25211»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کا درج ذیل سیاق صحیح ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: قَدِمَتْ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِلْیَۃٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ أَہْدَاہَا لَہُ فِیہَا خَاتَمٌ مِنْ ذَہَبٍ فِیہِ فَصٌّ حَبَشِیٌّ، فَأَخَذَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِہِ مُعْرِضًا عَنْہُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ ابْنَۃَ ابْنَتِہِ فَقَالَ: ((تَحَلَّیْ بِہٰذَا یَا بُنَیَّۃُ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجاشی کی جانب سے تحفہ میں زیورات آئے، جن میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض انگلیوں کی مدد سے ایک لکڑی کے ذریعے اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو پکڑا اور پھر اپنی نواسی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا: پیاری بیٹی! اسے بطور زیور پہن لو۔ (ابوداود: ۴۲۳۵، مسند احمد۲۴۸۸۰)
سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے اور بسا اوقات ان کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا مغیرہ بن نوفل نے ان سے نکاح کیا، ایک قول ہے کہ ان کے بطن سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور مغیرہ کی کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی اور ایک قول کے مطابق مغیرہ کے بیٹےیحییٰ کی ولادت ان کے بطن سے ہوئی۔ واللہ اعلم۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: قَدِمَتْ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِلْیَۃٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ أَہْدَاہَا لَہُ فِیہَا خَاتَمٌ مِنْ ذَہَبٍ فِیہِ فَصٌّ حَبَشِیٌّ، فَأَخَذَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِہِ مُعْرِضًا عَنْہُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ ابْنَۃَ ابْنَتِہِ فَقَالَ: ((تَحَلَّیْ بِہٰذَا یَا بُنَیَّۃُ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجاشی کی جانب سے تحفہ میں زیورات آئے، جن میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض انگلیوں کی مدد سے ایک لکڑی کے ذریعے اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو پکڑا اور پھر اپنی نواسی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا: پیاری بیٹی! اسے بطور زیور پہن لو۔ (ابوداود: ۴۲۳۵، مسند احمد۲۴۸۸۰)
سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے اور بسا اوقات ان کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا مغیرہ بن نوفل نے ان سے نکاح کیا، ایک قول ہے کہ ان کے بطن سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور مغیرہ کی کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی اور ایک قول کے مطابق مغیرہ کے بیٹےیحییٰ کی ولادت ان کے بطن سے ہوئی۔ واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
4. بَاب مَا جَاءَ فِي بَرِيرَةَ مَولَاةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11979
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ“ قَالَ وَعُتِقَتْ فَخَيَّرَهَا وَفِي رِوَايَةٍ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقَتْهَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْتَارِي فَإِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِ“ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا قَالَتْ وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا فَتُهْدِي لَنَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ میں تین مسائل ہیں، اس کے اہل خانہ نے ان کو اس شرط پر فروخت کرنا چاہا کہ اس کی ولاء ان کا حق ہو گا، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خرید کر آزاد کر دو، ولاء کا تعلق اسی کے ساتھ ہوتا ہے، جو آزاد کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پس میں نے ان کو آزاد کیا تو وہ ان دنوں ایک غلام (مغیث) کی زوجیت میں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہیں اختیار ہے، تم چاہو تو اس غلام کی زوجیت میں رہ سکتی ہو اور اگر چاہو تو اس سے مفارقت اختیار کر سکتی ہو۔ انہوں نے اپنے لیے اس سے مفارقت کو پسند کر لیا،تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقات دیا کرتے تھے اور وہ انہی صدقات میں سے کچھ حصہ بطور تحفہ ہمیں دے دیاکرتی تھی، جب میں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے اور تمہارے لیے اس کی طرف سے ہدیہ اورتحفہ ہوتا ہے، پس تم یہ کھانا کھا سکتی ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11979]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2155، 2565، 2726،ومسلم: 1075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24691»
وضاحت: فوائد: … سیدہ بریرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی تھیں، دراصل یہ انصار کے لوگوں کی لونڈی تھیں، انہوںنے ان کے ساتھ مکاتبت کا معاہدہ کیا کہ وہ اتنی مقررہ مقدار میں مال ادا کر دیں تو وہ ان کو آزاد کر دیں گے، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئیں اور ان سے مال مکاتبت کے سلسلہ میں تعاون کی درخواست کی،سیدہ نے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں تو میں تمہاری ساری رقم ادا کرکے تمہیں ان سے خرید کر آزاد کر دوں، اس کے مالک اس پر راضی ہو گئے، لیکن ولاء تعلق انہیں سے رہے گا، سیدہ نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خرید کر آزاد کر دو، ولاء کا تعلق اسی کے ساتھ ہوتا ہے،حو آزاد کرتا ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خرید کر آزاد کر دیا، ان دنوں سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ایک غلام مغیث کی زوجیت میں تھیں۔ ایسی صورت میں آزاد ہونے والی عورت کو شرعی طور پر اختیار ہے کہ وہ چاہے تو غلام شوہر کی زوجیت میں رہے یا وہ چاہے تو اس سے مفارقت کرکے کسی دوسری جگہ نکاح کر ے۔ اس اصول کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اختیار دیا تو انہوںنے اپنے شوہر سے مفارقت اختیار کی، ان کا خاوند ان سے بہت محبت کرتا تھا، وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتا ان کی منت سماجت کیا کرتا تھا کہ وہ اسے چھوڑکر نہ جائے، اس کے آنسو اس کی داڑھی اور رخساروں پر بہہ رہے ہوتے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں سفارش بھی کرائی، لیکن سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے مغیث رضی اللہ عنہ کے ہاں رہنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکم نہیں بلکہ میں تو محض سفارش کرتا ہوں، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اب اس کے پاس رہنا نہیں چاہتی۔ وَلائ: وہ رشتہ ہے، جس کے ذریعے آزاد کنندہ، آزاد شدہ کاوارث بنتا ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2155
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
سیدہ درہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11980
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرَةَ عَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”ائْتُونِي بِوَضُوءٍ“ قَالَتْ فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ الْكُوزَ فَأَخَذْتُهُ أَنَا فَتَوَضَّأَ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَيَّ أَوْ طَرْفَهُ إِلَيَّ وَقَالَ ”أَنْتِ مِنِّي وَأَنَا مِنْكِ“
سیدہ درہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کے لیے پانی طلب فرمایا، تو میں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پانی کے برتن کی طرف لپکیں اورمیں نے پانی کا برتن پکڑ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور میری طرف نظر اٹھا کر فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11980]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي، ولجھالة شيخ سماك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24891»
وضاحت: فوائد: … سیدہ درہ بنت ابی لہب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چچا زاد ہیں، انہوںنے اسلام قبول کیا اور پھر ہجرت کی، سیدنا حارث بن نوفل بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا تو ان کے بطن سے عقبہ اور ولید وغیرہ کی ولادت ہوئی۔ ملاذری نے ذکر کیا ہے کہ ان سے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا تھا،ممکن ہے کہ انہوںنے سیدنا حارث بن نوفل رضی اللہ عنہ سے قبل ان سے نکاح کیا ہو اور سیدنا حارث کے بعد سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي
6. باب مَا جَاءَ فِي الرُّمَبْصَاءِ أَوِ الْعُمَيْصَاءِ أَمْ سُلَيْمٍ وَالدةِ انَسِ بْنِ مَالِكِ وَزَوْجَةِ أَبِي طَلْحَةَ الأنصاري رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11981
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ مَا هَذِهِ الْخَشَفَةُ فَقِيلَ هَذِهِ الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں گیا تو میں نے وہاں چلنے کی آہٹ سنی، میں نے پوچھا کہ یہ کیسی آہٹ ہے؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ رمیصاء بنت ملحان کے چلنے کی آواز ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11981]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13865»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا ایک انصاری جلیل القدر صحابیہ ہیں،یہ خادم رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، ان کی زیادہ شہرت کنیت سے ہے، ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔سہلہ، زمیلہ، انیسہ، رمیثہ، رمیصاء اور عمیصاء نام کے اقوال پائے جاتے ہیں، انہوںنے قبل از اسلام دور جاہلیت میں مالک بن نضر سے نکاح کیا، اس سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، انصار میں سے جو لوگ شروع شروع میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، یہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوگئیں، ان پر ان کا شوہر ناراض ہو کر سر زمین شام کی طرف نکل گیا اور وہیں اسے موت آ گئی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابو طلحہ نے نکاح کیا۔ سنن نسائی وغیرہ میں ہے کہ ابو طلحہ نے ان کو نکاح کا پیغام بھیجا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے واپسی پیغام بھیجا کہ آپ جیسے آدمی کے ساتھ نکاح سے انکار تو نہیں کرنا چاہیے مگر مشکل یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور آپ کافر ہیں، میرے لیے آپ سے نکاح کرنا حلال نہیں، آپ اگر اسلام قبول کر لیں تو یہی چیز میرے لیے مہر ہوگی اور میں اس کے علاوہ کسی بھی چیز کا بطور مہر مطالبہ نہ کروں گی، چنانچہ انھوںنے اسلام قبول کر لیا اور یہی عمل ان کا مہر قرار پایا۔ ثابت کہتے ہیں کہ میں نے نہیں سنا کہ کسی خاتون کا مہر ام سلیم رضی اللہ عنہا کے مہر سے زیادہ بہتر ہو۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں بھی شریک ہوتی تھیں، ان کے بہت سے کارنامے ہیں جو ان کے کمال ایمان، ان کی دانش مندی اور قوت فیصلہ پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2456
حدیث نمبر: 11982
وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَةً بَيْنَ يَدَيَّ فَإِذَا هِيَ الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ“ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے سامنے آہٹ سی سنی، وہ غمیصاء بنت ملحان تھی۔ یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11982]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13548»
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13548
حدیث نمبر: 11983
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَرَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ابو طلحہ کی اہلیہ رمیصاء کو پایا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11983]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3679،ومسلم: 2457، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15257»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3679