الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. ومِنْهُمْ: سُفْيَانُ بن عُيِّنَةَ رَحِمَهُ اللهُ
سفیان بن عینیہlکا تذکرہ
حدیث نمبر: 12011
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ مَا كَانَ أَشَدَّ عَلَى ابْنِ عُيَيْنَةَ أَنْ يَقُولَ حَدَّثَنَا
عبداللہ بن امام احمد سے مروی ہے کہ میرے والد امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: امام سفیان ابن عینیہ رحمتہ اللہ علیہ کے لیے حَدَّثَنَا کہنے سے زیادہ مشکل کوئی کام نہ تھا۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12011]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19194»
وضاحت: فوائد: … حَدَّثَنَا کہنے سے مراد احادیث بیان کرنا ہے، یعنی امام سفیان احادیث بیان کرنے کو سب سے مشکل کام سمجھتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب ہو جائے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث میں کوئی غلطی ہو جائے۔
سفیان بن عیینہ تبع تابعی ہیں، مکہ مکرمہ ان مسکن تھا اور انھوں نے وفات بھییہیں پائی، انہوںنے امام زہری، امام عمرو بن دینار، امام شعبی، امام عبداللہ بن دینار اور امام محمد بن منکدر سے سماع حدیث کیا اور ان سے امام اعمش، امام ثوری، امام ابن جریج، امام شعبہ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام حماد بن زید، امام شافعی، امام احمد اور امام ابن مدینی وغیرہ نے احادیث روایت کیں، ان کی جلالت و عظمت و رفعت پر اہل علم کا اتفاق ہے، ان کی ولادت (۱۰۷) سن ہجری میں اور وفات (۱۹۸) سن ہجری میں ہوئی۔
سفیان بن عیینہ تبع تابعی ہیں، مکہ مکرمہ ان مسکن تھا اور انھوں نے وفات بھییہیں پائی، انہوںنے امام زہری، امام عمرو بن دینار، امام شعبی، امام عبداللہ بن دینار اور امام محمد بن منکدر سے سماع حدیث کیا اور ان سے امام اعمش، امام ثوری، امام ابن جریج، امام شعبہ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام حماد بن زید، امام شافعی، امام احمد اور امام ابن مدینی وغیرہ نے احادیث روایت کیں، ان کی جلالت و عظمت و رفعت پر اہل علم کا اتفاق ہے، ان کی ولادت (۱۰۷) سن ہجری میں اور وفات (۱۹۸) سن ہجری میں ہوئی۔
الحكم على الحديث: صحیح
13. وَمِنْهُم زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ
زید بن عمرو بن نفیل کا تذکرہ
حدیث نمبر: 12012
أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَا آكُلُ مَا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ حَدَّثَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زید بن عمرو بن نفیل سے بلدح سے نشیبی حصے میں ملاقات ہوئی،یہ آپ پر نزول وحی سے پہلے کا واقعہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا، اس میں گوشت بھی تھا، زید نے کھانا کھانے سے انکار کیا اور کہا کہ تم لوگ اپنے بت خانوں پر جو جانور ذبح کرتے ہو، میں وہ نہیں کھاتا اور جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا جائے، میں وہ بھی نہیں کھایا کرتا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12012]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3826، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6110»
وضاحت: فوائد: … زید بن عمرو بن نفیل کے بیٹے سیدنا سعید بن زید عدوی رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعث سے قبل زید بن عمرو کو بت پرستی سے نفرت تھی،یہ حق کی تلاش میں رہتے تھے، فطری طور پر انہیںیہودیت اور نصرانیت بھی پسند نہ آئی، دراصل یہ شریعت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے جس کی بنیاد توحید پر تھی، غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے، اسی لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا تو انہوں نے سمجھا کہ دیگر اہل مکہ کی طرح آپ نے بھی بتوں کے نام پر یہ جانور ذبح کیا ہوگا، جبکہ در حقیقت ایسا نہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی شروع ہی سے غیر اللہ کے نام کی چیز نہ کھاتے تھے اللہ نے آپ کو ایسے کھانوں سے ہمیشہ محفوظ رکھا،
صحیح بخاری میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل، اہل مکہ سے کہا کرتے تھے کہ بکری کو اللہ نے پیدا کیا، اسی نے اس کے لیے آسمان سے پانی نازل کیا اور اسی نے اس کے لیے زمین سے گھاس اور چارہ اگایا اور پھر تم اس بکری کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہو۔ تمہارے اس عمل اور عقیدے پر حیف ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل، اہل مکہ سے کہا کرتے تھے کہ بکری کو اللہ نے پیدا کیا، اسی نے اس کے لیے آسمان سے پانی نازل کیا اور اسی نے اس کے لیے زمین سے گھاس اور چارہ اگایا اور پھر تم اس بکری کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہو۔ تمہارے اس عمل اور عقیدے پر حیف ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
14. وَمِنْهُمُ الْإِمَامُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ رَحِمَهُ اللَّهِ
امام مالک بن انسlکا تذکرہ
حدیث نمبر: 12013
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُوشِكُ أَنْ تَضْرِبُوا“ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً ”أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ لَا يَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ“ وَقَالَ قَوْمٌ هُوَ الْعُمَرِيُّ قَالَ فَقَدَّمُوا مَالِكًا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم لوگ طلب علم کے لیے اونٹوں پر سفر کرکے ان کو تھکا دو گے اور لوگ اہل مدینہ کے عالم سے بڑھ کر کوئی بڑا عالم نہیں پائیں گے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے عمری مراد ہیں، لیکن جمہور کا خیال ہے کہ اس سے امام مالک بن انس رحمہ اللہ مراد ہیں، پس انھوں نے امام مالک کو ترجیح دی۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12013]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الملك بن عبد العزيز مدلس، ولا يدلس الا عن ضعيف، وابو الزبير محمد بن مسلم مدلس ايضا وقد عنعنه، اخرجه الترمذي: 2680، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7967»
وضاحت: فوائد: … امام مالک l مشہور ائمہ اربعہ میں سے ایک ہیں،یہ امام دار الہجرہ ہیں، امام صاحب(۹۱) سن ہجری میں پیدا ہوئے اور (۱۷۹) سن ہجری میں وفات پائی، اہل علم ان کی امامت، جلالت، سیادت اور توقیر پر متفق ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی تعظیم کرنے اور یاد کرنے میں ان کو کمال حاصل تھا۔
عمری سے مراد کون ہے؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) عبد اللہ بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب، یہ بڑے زہد و تقوی والے تھے، امام نسائی نے ان کو ثقہ کہا اور امام ابن حبان نے کہا: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے اور خلوت میں بہت زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔ (۱۸۴) سن ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔
(۲) امام ترمذی نے کہا: عمری سے مراد عبد العزیز بن عبد اللہ ہیں، جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے۔
عمری سے مراد کون ہے؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) عبد اللہ بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب، یہ بڑے زہد و تقوی والے تھے، امام نسائی نے ان کو ثقہ کہا اور امام ابن حبان نے کہا: اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے اور خلوت میں بہت زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔ (۱۸۴) سن ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔
(۲) امام ترمذی نے کہا: عمری سے مراد عبد العزیز بن عبد اللہ ہیں، جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
15. وَمِنْهُمُ النَّجَاشِي مَلِكُ الْحَبْشَةِ رَحِمَهُ اللهُ
حبشہ کے بادشاہ نجاشیlکا تذکرہ
حدیث نمبر: 12014
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قَدْ تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبَشَةِ هَلُمَّ فَصُفُّوا“ قَالَ فَصَفَفْنَا فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج حبشہ کے ایک صالح آدمی کا انتقال ہوگیا ہے، آؤ صفیں بناؤ (اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھیں)۔ پس ہم نے صفیں بنائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12014]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1320، 3877،ومسلم: 952، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14197»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12015
(عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ“ فَقَامَ فَأَمَّنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج اللہ کا ایک بندہ اصحمہ وفات پا گیا ہے، اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر ہماری امامت کرائی اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12015]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14486»
وضاحت: فوائد: … حبشہ کے حاکم نجاشی کا نام اصحمہ تھا اور وہ مسلمان ہو چکا تھا، البتہ اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہیں ہوئی، اس نے اپنے ملک میں مسلمانوں کی خوب مدد کی اور ان کو امن و سکون سے رہنے کی اجازت دی، اس کی وفات کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام کو اس کی وفات کی اطلاع دی اور نماز جنازہ ادا کی، بنیادی طور پر یہی واقعہ غائبانہ نماز جنازہ کی مشروعیت کی دلیل ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ حبشہ میں ہونے والی وفات کا اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چل گیا تھا، حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ظاہر بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف اس لیے گئے تاکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع ہو جائے اور یہ بات بھی مشہور ہو جائے کہ اس نے
اسلام پر وفات پائی ہے، کیونکہ بعض لوگوں کو اس کے مسلمان ہونے کا علم ہی نہ تھا۔ ابن ابی حاتم نے تفسیر میں اور دارقطنی نے افراد میں یہ روایت نقل کی ہے کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی تو کسی صحابی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو حبشہ کے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھ دی ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَا أُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَایَشْتَرُوْنَ بِآیَاتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓـئِکَ لَہُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ} (سورۂ آل عمران: ۱۹۹) یعنی: یقینا اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اور ان کی جانب جو نازل ہوا اس پر بھی، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے بھی نہیں، ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے، یقینا اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کے شواہد بھی موجود ہیں اور مؤخر الذکر کی روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا منافق تھا۔ (فتح الباری: ۳/۲۴۲)
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ حبشہ میں ہونے والی وفات کا اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چل گیا تھا، حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ظاہر بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف اس لیے گئے تاکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع ہو جائے اور یہ بات بھی مشہور ہو جائے کہ اس نے
اسلام پر وفات پائی ہے، کیونکہ بعض لوگوں کو اس کے مسلمان ہونے کا علم ہی نہ تھا۔ ابن ابی حاتم نے تفسیر میں اور دارقطنی نے افراد میں یہ روایت نقل کی ہے کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی تو کسی صحابی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو حبشہ کے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھ دی ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَا أُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَایَشْتَرُوْنَ بِآیَاتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓـئِکَ لَہُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ} (سورۂ آل عمران: ۱۹۹) یعنی: یقینا اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا ہے اور ان کی جانب جو نازل ہوا اس پر بھی، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے بھی نہیں، ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے، یقینا اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کے شواہد بھی موجود ہیں اور مؤخر الذکر کی روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا منافق تھا۔ (فتح الباری: ۳/۲۴۲)
الحكم على الحديث: صحیح
16. وَمِنْهُمُ ورقة بن نوفل
ورقہ بن نوفل کا تذکرہ
حدیث نمبر: 12016
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ خَدِيجَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ فَقَالَ ”قَدْ رَأَيْتُهُ فِي الْمَنَامِ فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ ثِيَابَ بَيَاضٍ فَأَحْسِبُهُ لَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثِيَابُ بَيَاضٍ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو خواب میں دیکھا ہے، اس نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے، میرا خیال ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتا تو اس پر سفید کپڑے نہ ہوتے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12016]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه عبد الرزاق: 9709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24871»
وضاحت: فوائد: … ورقہ بن نوفل، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، یہ بھی زید بن عمرو کی طرح فطرت پر برقرار تھے، لیکن انھوں نے نصرانیت کو پسند کر کے قبول کر لیا اور مختلف پادریوں کو ملے، انھوںنے اسی مذہب کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حوصلہ افزائی کی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
17. وَمِنْهُمُ ابن جريج
ابن جریجlکا تذکرہ
حدیث نمبر: 12017
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَهْلُ مَكَّةَ يَقُولُونَ أَخَذَ ابْنُ جُرَيْجٍ الصَّلَاةَ مِنْ عَطَاءٍ وَأَخَذَهَا عَطَاءٌ مِنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَأَخَذَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَأَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَلَاةً مِنْ ابْنِ جُرَيْجٍ
عبدالرزاق سے مروی ہے کہ اہل مکہ کہا کرتے ہیں کہ ابن جریج نے نماز کا طریقہ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابن الزبیر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نماز کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھا۔ میں نے ابن جریج رحمہ اللہ سے بڑھ کر بہترنماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12017]
تخریج الحدیث: «أخرجه المروزي: 137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 73 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 73»
وضاحت: فوائد: … ابن جریج کا نام عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج ہے، ان کی کنیت ابو الولید اور ابو خالد ہے، یہ تبع تابعی ہیں، امام عبدالرزاق کہتے ہیں: میں جب ابن جریج کو نماز ادا کرتے دیکھتا تو پتہ چلتا کہ وہ واقعی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، انھوں نے سوبرس عمر پائی اور ۱۵۰ سن ہجری میں وفائی پائی،یہ کتب ستہ کے راویوں میں سے ہیں،اس باب میں ابن جریج صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منقبت بیان ہوئی کہ ان کی نماز کا طریقہ قابل رشک تھا۔ امام ترمذی نے ان کے مناقب میں بیان کیا ہے کہ مکی بن ابراہیم سے مروی ہے کہ ہم ابن جریج صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھے کہ ایک سائل ان کی خدمت میں آیا اور اس نے کچھ مانگا تو ابن جریج نے اپنے خادم سے کہا کہ اسے ایک دینار دے دو، اس نے کہا کہ اس وقت میرے پاس ایک ہی دینار ہے، اگر میں یہ بھی اسے دے دوں تو آپ اور آپ کے تمام اہل خانہ بھوکے رہیں گے، یہ سن کر ابن جریج نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: وہی اس کو دے دو۔ مکی سے مروی ہے کہ ہم ابھی ان کی خدمت میں ہی موجود تھے کہ ایک آدمی ایک خط اور ایک تھیلی لیے ان کی خدمت میں آیا، وہ ان کے کسی دوست نے بھیجا تھا، خط میں تحریر تھا کہ میں آپ کی خدمت میں پچاس دینار بھیج رہا ہوں، ابن جریج نے تھیلی کوکھلا، جب دیناروں کی گنتی کی تو وہ اکاون تھے۔ ابن جریج صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خادم سے کہا: تم نے ایک دینار اللہ کی راہ میں دیا تو اللہ نے وہی تمہیں واپس بھیج دیا اور اس کے ساتھ مزید پچاس دینار بھی بھیج دیئے۔
الحكم على الحديث: صحیح