🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَمْ قَيْسِ بِنْتِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
سیدہ ام قیس بنت محص رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12001
عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ قَيْسٍ أَنَّهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ لَا تَغْسِلْ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ ”مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا“ قَالَ فَلَا أَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِّرَتْ مَا عُمِّرَتْ
سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا بیٹا وفات پا گیا، میں اس پر بہت زیادہ غمگین ہوئی، میں نے غسل دینے والے سے کہا کہ میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل دے کر اسے مار نہ دینا، تو ان کے بھائی سیدہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر تبسم کیا اور فرمایا: اس نے کیا کہا؟ اس کی عمر طویل ہو۔ ابو الحسن کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق جتنی عمر ان کو ملی، اتنی عمر کسی خاتون کی نہیں تھی۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12001]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، اخرجه النسائي: 4/ 29، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26999 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27539»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کا نام امیہ ہے، یہ سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں، انہوں نے مکہ میں اسلام قبول کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کا شرف حاصل کیا اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی سعادت حاصل کی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَم هاني بنت أبی طالب رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12002
عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَأَدْخَلْتُهُمَا بَيْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابًا فَجَاءَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ فَكَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ زَوْجِهَا قَالَتْ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ”يَا أُمَّ هَانِئٍ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ“
سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12002]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 280، 357، 3171، 6158، ومسلم: 336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27445»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۳۶)
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ کا اصل نام فاختہ ہے، نبوت سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا کو پیغام دے کر ان سے نکاح کی رغبت کا اظہار کیا اور اسی طرح ہبیرہ بن ابی وہب نے بھی ان سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا اور ہبیرہ سے ان کا نکاح ہو گیا تھا، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور اسلام نے ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان تفریق کر دی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12003
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ“
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پی کر باقی پانی ان کو واپس دیا تو انہوں نے (آپ کا جوٹھا پانی) پی لیا اور پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفلی روزے دار اپنے نفس کا خود امیر ہوتا ہے، چاہے تو روزہ پورا کر لے اور چاہے تو روزہ توڑ دے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12003]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه الترمذي: 732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27431»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12004
عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ يُخَفِّفُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ) مَا رَأَتْهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن اس کے گھر میں داخل ہوئے،غسل کیا اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، تخفیف کے ساتھ رکوع و سجود کیے، (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود مکمل کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12004]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1103، 1176، 4292، ومسلم: 336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26900)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27439»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۲۲۶۸)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12005
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ مَرَّ بِي ذَاتَ يَوْمٍ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ كَمَا قَالَتْ فَمُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ وَأَنَا جَالِسَةٌ قَالَ ”سَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ رَقَبَةٍ تُعْتِقِينَهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ تَحْمِيدَةٍ تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ فَرَسٍ مُسْرَجَةٍ مُلْجَمَةٍ تَحْمِلِينَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ تَكْبِيرَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ مُتَقَبَّلَةٍ وَهَلِّلِي اللَّهَ مِائَةَ تَهْلِيلَةٍ“ قَالَ ابْنُ خَلَفٍ أَحْسِبُهُ قَالَ ”تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَا يُرْفَعُ يَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِمِثْلِ مَا أَتَيْتِ بِهِ“
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں اور کمزور ہو گئی ہے، اس لیے مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ بیٹھ کر کر لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اولادِ اسماعیل سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اللہ کے راستے میں سو لگام شدہ اور زین شدہ گھوڑے دینے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہو، یہ عمل تیرے لیے ان سو (۱۰۰) اونٹوں کے برابر ہو گا، جن کو قلادے ڈال کر حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ کی طرف بھیج دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول بھی کر لیے جائیں اور سو (۱۰۰) بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہو، یہ عمل آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو ثواب سے بھر دے گا، اس دن کسی آدمی کا ایسا عظیم عمل اوپر کی طرف نہیں اٹھائے، الا یہ کہ وہ اسی طرح کا عمل کرے، جیسے تو نے کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12005]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي صالح، أخرجه بنحوه ابن ماجه: 3810، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27450»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَالْبَاقِیَّاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَ خَیْرٌ اَمَلَا۔} (سورۂ کہف: ۴۶) … اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اچھی اور توقع کے لحاظ سے بہتر ہیں۔
تمام فرائض و واجبات اور سنن و نوافل، باقیات صالحات ہیں، بلکہ ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا بھی عمل صالح ہے، جس پر آخرت میں اجر و ثواب ملے گا۔ اس حدیث میں ایک مثال کا ذکر ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَمْ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَرِثِ الْأَنْصَارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ
سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12006
عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهَا كُلَّ جُمُعَةٍ وَأَنَّهَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَوْمَ بَدْرٍ أَتَأْذَنُ فَأَخْرُجُ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ وَأُدَاوِي جَرْحَاكُمْ لَعَلَّ اللَّهَ يُهْدِي لِي شَهَادَةً قَالَ ”قَرِّي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُهْدِي لَكِ شَهَادَةً“ وَكَانَتْ أَعْتَقَتْ جَارِيَةً لَهَا وَغُلَامًا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا فَطَالَ عَلَيْهِمَا فَغَمَّاهَا فِي الْقَطِيفَةِ حَتَّى مَاتَتْ وَهَرَبَا فَأَتَى عُمَرُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ قَدْ قَتَلَهَا غُلَامُهَا وَجَارِيَتُهَا وَهَرَبَا فَقَامَ عُمَرُ فِي النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ وَرَقَةَ يَقُولُ انْطَلِقُوا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ وَإِنَّ فُلَانَةَ جَارِيَتَهَا وَفُلَانًا غُلَامَهَا غَمَّاهَا ثُمَّ هَرَبَا فَلَا يُؤْوِيهِمَا أَحَدٌ وَمَنْ وَجَدَهُمَا فَلْيَأْتِ بِهِمَا فَأُتِيَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبَيْنِ
سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کے دن ان کی ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے، بدر کے موقع پر انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں تاکہ مریضوں کی تیمار داری اور زخمیوں کا علاج معالجہ کروں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مقام شہادت عطا فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر ہی ٹھہری رہو، اللہ تعالیٰ تمہیں یہیں شہادت سے سرفراز کرے گا۔ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام اور لونڈی کو مدبر کیا تھا (یعنی انہوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ میری وفات کے بعد یہ دونوں آزاد ہوں گے۔) مگر اللہ کی قدرت کہ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہ کی عمر طویل ہو گئی اور ان دو غلام اور لونڈی نے اپنی آزادی کے لالچ میں ان کے منہ اور ناک پر کس کر کپڑا لپیٹ کر ان کا سانس بند کرکے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور خود فرار ہوگئے۔ امیر المومنین سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں مقدمہ گیا اور ان سے کہا گیا کہ ان کو ان کے غلام اور لونڈی نے قتل کیا ہے اور خود فرار ہوگئے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر خطاب کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لیے جایا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ آؤ شہیدہ کی ملاقات کو جائیں۔ ان کی فلاں لونڈی اور فلاں غلام نے ان کا سانس گھونٹ کر ان کو قتل کر دیا ہے اور فرار ہوگئے ہیں، کوئی بھی آدمی ان دونوں کو پناہ نہ دے اور جسے وہ دونوں ملیں، وہ ان کو ہمارے ہاں پیش کرے۔ چنانچہ ان دونوں کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور انہیں پھانسی دے دی گئی، سب سے پہلے ان دونوں کو پھانسی دی گئی تھی۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12006]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن خلاد وجدّةِ الوليد بن عبد الله، اخرجه ابوداود: 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27825»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. مِنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ النَّخْعِي وَالْأَسْوَدُ
خاتمہ: ایسے لوگوں کے مناقب، جو صحابہ میں سے نہیں ہیں امام ابراہیم نخعیlاور امام اسودlکا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12007
عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا قَالَ كَانَ يَخْرُجُ مَعَ خَالِهِ الْأَسْوَدِ قَالَ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَائِشَةَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ
ابو معشرکہتے ہیں کہ ابراہیم نخعی، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس جایا کرتے تھے۔ حدیث کے راوی سعید بن ابی عروبہ نے اپنے شیخ ابو معشر سے دریافت کیا کہ وہ ان کی خدمت میں کیسے چلے جاتے تھے؟ انھوں نے کہا: وہ اپنے ماموں اسود کے ساتھ جاتے تھے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور اسود کے مابین بھائی چارہ اور کافی الفت و محبت تھی۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12007]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 1/ 334، وابن حبان في الثقات: 4/ 9، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25909»
وضاحت: فوائد: … امام اسود بن یزید بن قیس بن عبداللہ بن مالک بن علقمہ نخعی کوفی تابعی مشہور فقیہ ہیں، ان کی کنیت ابو عمرو اور ابو عبدالرحمن ہے، یہ عبدالرحمن بن یزید کے بھائی اور علقمہ بن قیس کے بھتیجے اور ابراہیم بن یزید نخعی کے ماموں ہیں، انہیں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوااور انہوں نے سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا معاذ، سیدنا ابو موسیٰ اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے احادیث روایت کی ہیں، انھوں نے الگ الگ سفروں میں اسی سے زائد حج اور عمرے ادا کئے۔عجلی کہتے ہیں کہ انہوںنے اسلام سے پہلے کا دور بھی پایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں مشرف با سلام بھی ہوئے، مگر آپ سے ملاقات نہ ہو سکی،(۷۴ ئا ۷۵) سن ہجری میں ان کا انتقال ہوا، یہ صالح مزاج بزرگ تھے۔ امام ابراہیم بن یزید بن قیس بن اسود بن عمرو بن ربیعہ بن ذہل بن سعد بن مالک بن نخع، یہ کوفی ہیں، اپنے جدا مجد نخع کی نسبت سے نخعی کی نسبت سے شہرت پائی، کوفہ کے فقیہ ہیں، ان کی کنیت ابو عمران ہے، جلیل القدر تابعی ہیں، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے لیکن ان سے ان کا سماع حدیث ثابت نہیں، اٹھاون سال کی عمر میں (۹۶) سن ہجری میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. وَمِنْهُمْ أَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ وَمِنْهُمْ أُويْسُ الْقَرَنِي
احنف بن قیسlکا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12008
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ قَالَ بَيْنَمَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَتَذْكُرُ إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِكَ بَنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ قَالَ فَقُلْتُ أَنْتَ وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا وَلَا أَسْمَعُ إِلَّا حُسْنًا فَإِنِّي رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِكَ قَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ“ قَالَ فَمَا أَنَا لِشَيْءٍ أَرْجَى مِنْهَا
حسن سے روایت ہے کہ احنف نے کہا: میں ایک دفعہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنو سلیم کا ایک آدمی آ کر مجھے ملا اور اس نے مجھ سے کہا:کیا میں تمہیں ایک خوش خبری سناؤں؟ میں نے کہا: جی ضرور سنائیں۔ اس نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تمہاری قوم بنو سعد کی طرف روانہ فرمایا تھا تاکہ میں انہیں اسلام کی دعوت دوں تو تم نے اس موقع پر کہا تھا کہ اللہ کی قسم! اس رسول نے اچھی بات ہی کہی ہے اور میں نے بھی ان کے متعلق اچھا ہی سنا ہے، جب میں نے واپس آکر تمہاری بات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ نے یوں دعا کی تھی: اے اللہ! تو احنف کو بخش دے۔ انھوں نے کہا: پس مجھے سب سے زیادہ امید اسی دعا پر ہے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12008]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 2/ 50، وفي الاوسط: 1/ 185، والطبراني في الكبير: 7285، والحاكم: 3/ 614، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23548»
وضاحت: فوائد: … احنف بن قیس، مشہور قول کے مطابق ان کا نام ضحاک ہے، بعض نے ضخر اور حارث بھی نقل کیا ہے، احنف ان کا نام نہیں، بلکہ لقب ہے۔ ان کی شہرت نام کی بجائے اس لقب سے ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا اور اسی دور میں اسلام بھی قبول کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہ کر سکے، انھوں نے سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا ابو ذر وغیرہ سے احادیث روایت کی ہیں، امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ احنف، اہل بصرہ کے سردار ہیں، ان کی وفات (۶۷) سن ہجری میں بصرہ میں ہوئی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12009
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ أَهْلُ الْيَمَنِ جَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَقْرِي الرِّفَاقَ فَيَقُولُ هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ قَرَنٍ حَتَّى أَتَى عَلَى قَرَنٍ فَقَالَ مَنْ أَنْتُمْ قَالُوا قَرَنٌ فَوَقَعَ زِمَامُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ زِمَامُ أُوَيْسٍ فَنَاوَلَهُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَعَرَفَهُ فَقَالَ عُمَرُ مَا اسْمُكَ قَالَ أَنَا أُوَيْسٌ فَقَالَ هَلْ لَكَ وَالِدَةٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ كَانَ بِكَ مِنَ الْبَيَاضِ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ فَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَذْهَبَهُ عَنِّي إِلَّا مَوْضِعَ الدِّرْهَمِ مِنْ سُرَّتِي لِأَذْكُرَ بِهِ رَبِّي قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِي أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ وَلَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّرْهَمِ فِي سُرَّتِهِ“ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ثُمَّ دَخَلَ فِي غِمَارِ النَّاسِ فَلَمْ يُدْرَ أَيْنَ وَقَعَ قَالَ فَقَدِمَ الْكُوفَةَ قَالَ وَكُنَّا نَجْتَمِعُ فِي حَلْقَةٍ فَنَذْكُرُ اللَّهَ وَكَانَ يَجْلِسُ مَعَنَا فَكَانَ إِذَا ذَكَرَ هُوَ وَقَعَ حَدِيثُهُ مِنْ قُلُوبِنَا مَوْقِعًا لَا يَقَعُ حَدِيثُ غَيْرِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
اسیربن جابر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اہل یمن کے قافلے اور وفود آئے تو امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے قافلوں کے پاس بار بار جا کر دریافت کرتے کہ آیا تم میں بنو قرن قبیلے کا کوئی فرد بھی ہے؟ یہاں تک کہ آپ بنو قرن کے لوگوں کے پاس پہنچ گئے، آپ نے ان سے دریافت کیا کہ تم لوگ کس قبیلہ سے ہو؟ انہوں نے بتلایا کہ وہ بنو قرن قبیلے کے لوگ ہیں، اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یا اویس کی سواری کی مہار نیچے گر گئی تو ان میں سے ایک نے دوسرے کو وہ مہار تھما دی، اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اویس کو پہچان گئے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: آپ کا نام کیا ہے؟ انہوں نے بتلایا: جی میرا نام اویس ہے۔ انھوں نے پوچھا: تمہاری والدہ حیات ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے پوچھا: کیا تمہارے جسم پر سفید داغ (دھبہ) تھا؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی اوراس نے اسے ختم کر دیا تھا، البتہ اس میں سے ایک درہم جتنا دھبہ میری ناف کے قریب باقی رہ گیا ہے، تاکہ میں اسے دیکھ کر اپنے رب کو یاد کرتا رہوں۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا:آپ میرے حق میں دعائے مغفرت کریں۔ اس نے کہا: آپ اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ میرے حق میں مغفرت کی دعا کریں، کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تابعین میں سے سب سے افضل آدمی کا نام اویس ہے، اس کی والدہ حیات ہے، اس کے جسم پر سفید نشانات تھے، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے اس مرض کو اس سے زائل کر دیا، صرف ایک درہم کے برابر نشان اس کی ناف کے قریب باقی رہ گیا۔ یہ سن کر اویس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائے مغفرت کی، اس کے بعد وہ لوگوں کی بھیڑ میں چلے گئے اور کچھ پتہ نہ چل سکا کہ وہ کدھر غائب ہوگئے۔ اسیر کہتے ہیں: وہ کوفہ آئے، ہم ایک حلقہ میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے، جناب اویس وہ بھی ہمارے ساتھ تشریف رکھتے، جب وہ وعظ و نصیحت کرتے تو ان کی باتوں کا ہمارے دلوں پر اس قدر اثر ہوتا کہ کسی دوسرے کی تذکیر کا اتنا اثر نہ ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12009]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 266»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12010
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يَوْمَ صِفِّينَ أَفِيكُمْ أُوَيْسٌ الْقَرَنِيُّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ مِنْ خَيْرِ التَّابِعِينَ أُوَيْسًا الْقَرَنِيَّ“
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ جنگ صفین کے دن اہل شام میں سے ایک شخص نے بلند آواز سے پکار کر دریافت کیا:آیا تمہارے اندر اویس قرنی نام کا کوئی آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے بتلایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تابعین میں سب سے افضل شخص اویس قرنی ہوگا۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12010]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره اخرجه الحاكم: 3/ 402، والبيھقي في الدلائل: 6/ 378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16038»
وضاحت: فوائد: … ا ویس ایکیمنی باشندہ تھا، اپنی والدہ کی خدمت کرنے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ سکا، ایسے شخص کو محدثین کی اصطلاح میں مُخَضْرَم کہتے ہیں۔ جبیہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: اب آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: کوفہ کی طرف۔ آپ نے کہا: کیا میں کوفہ کے عامل کی طرف خط لکھ دوں (تاکہ وہ آپ کو عزت دے)؟ انھوں نے کہا: مفلس اور فقیر لوگوںمیں رہنا مجھے زیادہ پسند ہے۔ اگلے سال اس قبیلے کا ایک معزز آدمی حج کرنے کے لیے آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے اس سے اویس کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: اویس کے پاس تھوڑا سا سامان ہے اور ایک ردّی گھر میں سکونت پذیر ہیں۔ (مسلم)
اویسl دور رسالت میں اسلام قبول کرچکے تھے، ان دنوں ان کی والدہ حیات تھیں، ان کے سوا اس کی خدمت
کرنے والا اور کوئی نہ تھا، وہ اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے شرف صحابیت حاصل نہ کر سکے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو ان کی تفصیل بتا دی تھی، جس کا ذکر مذکورہ بالا احادیث میں گزرا ہے، ساری علامات کی تصدیق کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دعا کی درخواست کی۔ جناب اویسl نے عاجزی کے طور پر کہا کہ آپ صحابی ٔ رسول ہیں۔ آپ میرے حق میں دعا فرمائیں، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ساری بات بتلائی تو انہوںنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں دعا کی اور پھر لوگوں کے ہجوم میں کہیں غائب ہوگئے تاکہ لوگوں میں ان کی اس انداز سے شہرت نہ ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں