الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. هَدمُ الْكَعْبَةِ وَاسْتِخْرَاجُ كَنُرِهَا بِأَيْدِي الْحَبْشَةِ
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
حدیث نمبر: 13048
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يَنْقُضُهَا حَجَرًا حَجَرًا“، يَعْنِي الْكَعْبَةَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گویا کالے رنگ کے اس آدمی کی طرف دیکھ رہا ہوں، جس کے پیروں کے اگلے حصے قریب اور ایڑھیاں دور ہیں، وہ کعبہ کے پتھروں کو ایک ایک کر کے گرا رہا ہے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13048]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1595، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2010»
وضاحت: فوائد: … حبشی لوگوں کی پنڈلیاں بالعموم باریک ہوتی ہیں، لیکن اس شخص کی پنڈلیاں اتنی زیادہ باریک ہوں گی کہ وہ دوسرے حبشیوں سے بھی ممتاز نظر آئے گا۔
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ ذو السویقتین حبشی کا زمانہ عیسی علیہ السلام کے بعد اور قیامت کے قریب ہو گا، کیونکہ دجال کے زمانے میں حرمین شریفین آباد ہوں گے، صحیح بخاری (۱۵۹۳) کی روایت کے مطابق یاجوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ ذو السویقتین حبشی کا زمانہ عیسی علیہ السلام کے بعد اور قیامت کے قریب ہو گا، کیونکہ دجال کے زمانے میں حرمین شریفین آباد ہوں گے، صحیح بخاری (۱۵۹۳) کی روایت کے مطابق یاجوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1595
3. الْخَسْفُ وَكَثرَةُ الصَّوَاعِقِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
حدیث نمبر: 13049
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَحَّارٍ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، فَيُقَالُ: مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ“، قَالَ: فَعَرَفْتُ حِينَ قَالَ قَبَائِلَ أَنَّهَا الْعَرَبُ، لِأَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا
سیدنا صحار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کئی قبائل کو زمین میں دھنسا نہیں دیا جائے گا، (جب ایک قبیلہ کو دھنسایا جائے گا تو) پوچھا جائے گا کہ بنو فلاں میں سے کون کون بچا ہے؟ سیدنا صحار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبائل کا ذکر کیا تو میں پہچان گیا کہ یہ عرب لوگ ہوں گے، کیونکہ عجمی لوگوں کو تو بستیوں کاطرف منسوب کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13049]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن صُحار مجھول أخرجه ابويعلي: 6834، والبزار: 3403، والطبراني في الكبير: 7404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16052»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 13050
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ بُقَيْرَةَ امْرَأَةَ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: ”إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا، فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ“
قعقاع بن ابی حدرد کی اہلیہ سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: تم جب سنو کہ تمہارے قریب کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے، تو سمجھ لینا کہ قیامت تمہارے سروں پر آچکی ہے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13050]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق، وان صرح بسماعه من محمد بن ابراهيم التيمي عند الحميدي، الا انه تفرد به، وفي بعض ما تفرد به نكارة، ثم انه اختلف عليه فيه، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 225، والحميدي: 351، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27670»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 13051
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ إِنِّي لَجَالِسَةٌ فِي صُفَّةِ النِّسَاءِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يُشِيرُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَقَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا سَمِعْتُمْ يُخْسَفُ هَاهُنَا قَرِيبًا فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ“
۔ (دوسری سند) سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں عورتوں والے حصے میں بیٹھی ہوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: لوگو! تم جب سنو کہ یہاں قریب ہی کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو سمجھ لینا کہ قیامت تمہارے سروں پر آچکی ہے۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13051]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27671»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27671
حدیث نمبر: 13052
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا ”إِنَّ السَّاعَةَ لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَّةُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تُرْحِلُ النَّاسَ“ الحَدِيثَ
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہ دس علامتیں نہیں دیکھ لو گے:مشرق میں دھنسنا، مغرب میں دھنسنا، جریرۂ عرب میں دھنسنا، دھواں، دجال، چوپایہ، آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، یا جوج و ماجوج اور عدن کے انتہائی مقام سے نکلنے والی آگ، جو لوگوں کو اپنے آگے آگے ہانک کر لے جائے گی، … …۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13052]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2901، وابوداود!: 4311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16144 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16244»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2901
حدیث نمبر: 13053
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَكْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ حَتَّى يَأْتِيَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَيَقُولُ مَنْ صَعِقَ مِنْكُمُ الْغَدَاةَ فَيَقُولُونَ صَعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب بے ہوشیاں بہت زیادہ ہوں گی، یہاں تک کہ ایک آدمی لوگوں کے پاس آکر پوچھے گا: آج صبح تم میں سے کون کون بے ہوش ہوا ہے؟ وہ بتائیں گے کہ فلاں فلاں بیہوش ہوئے ہیں۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13053]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11643»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
4. خُرُوجُ نَارٍ مِنْ حَضْرَمُوْتَ تَحْشُرُ النَّاسَ
حضر موت کی جانب سے نکلنے والی آگ جو لوگو ںکو جمع کر دے گی
حدیث نمبر: 13054
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ أَوْ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَحْشُرُ النَّاسَ“ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَاذَا تَأْمُرُنَا قَالَ ”عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی، جو لوگوں کو جمع کرے گی۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت شام کے علاقے میں سکونت اختیار کرنا۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13054]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 2217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5376»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 13055
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ أَوْ بِحَضْرَمَوْتَ فَتَسُوقُ النَّاسَ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنَا قَالَ ”عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضر موت کے علاقے سے ایک آگ نکلے گی، وہ لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اس وقت کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13055]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابويعلي: 5551، وابن حبان: 7305، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4536»
وضاحت: فوائد: … یمن کی اُس طرف والی انتہائی حدود میں حضرموت واقع ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 13056
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ قَالَ قَامَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا بَنِي غِفَّارٍ قُولُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ الصَّادِقَ وَالْمَصْدُوقَ حَدَّثَنِي ”أَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاكِبِينَ طَاعِمِينَ كَاسِينَ وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ وَتَحْشُرُهُمْ إِلَى النَّارِ“ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ هَذَانِ قَدْ عَرَفْنَاهُمَا فَمَا بَالُ الَّذِينَ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ قَالَ ”يُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ حَتَّى لَا يَبْقَى ظَهْرٌ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَكُونُ لَهُ الْحَدِيقَةُ الْمُعْجِبَةُ فَيُعْطِيهَا بِالشَّارِفِ ذَاتِ الْقَتَبِ فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهَا“
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے بنو غفار! تم درست بات کیا کرو اور آپس میں اختلاف نہ کیا کرو، بے شک صادق و مصدوق یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بیان کیا تھا کہ: لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کر کے لایا جائے گا، ایک حصہ ان لوگوں کاہو گا، جو سوار ہوں گے، اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوں گے اور لباس بھی پہنا ہوا ہو گا، ایک حصہ وہ لوگ ہوں گے، جو چلتے اور دوڑتے ہوئے آئیں گے اور تیسری قسم کے وہ لوگ ہوں گے۔ جنہیں فرشتے چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ کسی پوچھنے والے نے پوچھا: ہم ان پہلی اور تیسری قسم کے لوگوں کو تو جانتے ہیں، یہ چلنے والے اور دوڑنے والوں کیسے اور کیوں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفتیں نازل کرے گا، یہاں سواریاں بہت کم رہ جائیں گے، ایک آدمی کے پاس ایک شاندار باغ ہوگا، وہ ایک پالان والی اونٹنی حاصل کرنے کے لیے وہ سارا باغ دینے کو تیار ہوگا، مگروہ ایسی اونٹنی نہیں پا سکے گا۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13056]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه النسائي: 4/ 116، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21788»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 13057
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ بِشْرٍ أَوْ بِسْرٍ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ حُبْسِ سَيْلٍ تَسِيرُ سَيْرَ بَطِيئَةِ الْإِبِلِ تَسِيرُ النَّهَارَ وَتُقِيمُ اللَّيْلَ تَغْدُو وَتَرُوحُ يُقَالُ غَدَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَاغْدُوا قَالَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَأَقِيلُوا رَاحَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَرُوحُوا مَنْ أَدْرَكَتْهُ أَكَلَتْهُ“
سیدنا بشر یا بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک آگ حبسِ سیل سے نکلے گی، وہ سست رفتار اونٹ کی طرح چلے گی، وہ دن کو چلے گی اور رات کو ٹھہر جائے گی، وہ صبح و شام کرے گی، کہاجائے گا: لوگو! آگ صبح کو چل پڑی ہے، تم بھی چل پڑو۔ لوگو! اب آگ قیلولہ کرنے لگی ہے، تم بھی سستا لو، اب آگ چل پڑی ہے، تم بھی چل پڑو، جس آدمی کو وہ آگ پا لے گی، اسے جلا دے گی۔ [الفتح الربانی/علامات أخرى/حدیث: 13057]
تخریج الحدیث: «رجاله رجال الصحيح غير رافع، وھو ثقة، قاله الھيثمي في المجمع: 8/ 12، أخرجه ابويعلي: 934، وابن حبان: 6840، والحاكم: 4/ 442، والطبراني في الكبير: 1229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15743»
الحكم على الحديث:
رجاله رجال الصحيح غير رافع