صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. - ذكر ما كان يأمر النبي صلى الله عليه وسلم بكتبة القرآن عند نزول الآية بعد الآية-
- اس بیان کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ آیات کے نزول کے وقت صحابہ کو قرآن لکھنے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 43
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ قَرَنْتُمْ بَيْنَ الأَنْفَالِ وَبَرَاءَةَ، وَبَرَاءَةُ مِنَ الْمِئِينَ، وَالأَنْفَالُ مِنَ الْمَثَانِي، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: كَانَ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ الآيَةُ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ، فَيَقُولُ لَهُ: ضَعْهُ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا، وَأُنْزِلَتِ الأَنْفَالُ بِالْمَدِينَةِ، وَبَرَاءَةُ بِالْمَدِينَةِ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُخْبِرْنَا أَيْنَ نَضَعُهَا، فَوَجَدْتُ قِصَّتَهَا شَبِيهًا بِقِصَّةِ الأَنْفَالِ، فَقَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ نَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ"، فَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطُّوَلِ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے کس وجہ سے سورہ انفال اور سورہ توبہ کو ایک ساتھ ملا دیا ہے؟ حالانکہ سورہ توبہ دو سو آیات والی سورت ہے، اور سورہ انفال مثانی میں سے ہے، آپ نے دونوں کو ملا دیا؟ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب بھی قرآن کی کوئی آیت نازل ہوتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لکھنے والے کو بلا لیتے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یہ فرماتے تھے: ”تم ان کو اس سورت میں شامل کر دو، جس میں فلاں چیز کا تذکرہ کیا گیا ہے“۔ تو سورہ انفال بھی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور سورہ توبہ بھی مدینہ منورہ میں نزول کے اعتبار سے آخری زمانے میں نازل ہوئی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم انہیں کہاں رکھیں، تو میں نے یہ بات پائی کہ اس کا واقعہ سورہ انفال کے واقعہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، اس لیے میں نے ان دونوں کو ملا دیا ہے، اور ہم نے ان دونوں کے درمیان «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کی سطر نہیں لکھی ہے، میں نے انہیں سات طویل سورتوں میں شامل کر دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 43، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2893، 3291، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7953، وأبو داود فى (سننه) برقم: 786،والترمذي فى (جامعه) برقم: 3086، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2414، وأحمد فى (مسنده) برقم: 406، 506»
«قال إبن حبان: صححه، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (8 / 638)»
«قال إبن حبان: صححه، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (8 / 638)»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
منكر - «ضعيف أبي داود» (140).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
يزيد الفارسي هذا اختلفوا فيه، أهو يزيد بن هرمز أم غيره؟ قال البخاري في "التاريخ الكبير" 8/ 367: قال لي علي: قال عبد الرحمن: يزيد الفارسي هو ابن هرمز. قال: فذكرته ليحيى، فلم يعرفه، قال: وكان يكون مع الأمراء. وذكر البخاري ذلك أيضاً في كتابه "الضعفاء" ص122. وقال ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 9/ 293: قال أبو محمد: اختلفوا في يزيد بن هرمز أنه يزيد الفارسي أم لا؟ فقال عبد الرحمن بن مهدي وأحمد بن حنبل: هو يزيد بن هرمز وأنكر يحيى بن سعيد القطان أن يكونا واحداً، وسمعت أبى يقول: يزيد بن هرمز هذا ليس هو بيزيد الفارسي، هو سواه. فأما يزيد بن هرمز فهو والد عبد الله بن يزيد بن هرمز، وكان ابن هرمز من أبناء الفرس الذين كانوا بالمدينة، وجالسوا أبا هريرة ... وليس هو بيزيد الفارسي البصري الذي يروى عن ابن عباس. وقال الترمذي عقب الحديث: ويزيد الفارسي قد روى عن ابن عباس غير حديث، ويقال: هو يزيد بن هرمز، ويزيد الرقاشي هو يزيد بن أبان الرقَّاشي ولم يدرك ابنَ عباس، إنما روى عن أنس بن مالك، وكلاهما من أهل البصرة، ويزيد الفارسي أقدم من يزيد الرقاشي" اهـ.
11. - ذكر البيان بأن الوحي لم ينقطع عن صفي الله صلى الله عليه وسلم إلى أن أخرجه الله من الدنيا إلى جنته-
- اس وضاحت کا ذکر کہ اللہ کے برگزیدہ ﷺ پر وحی کا سلسلہ آپ ﷺ کی وفات تک منقطع نہیں ہوا، یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کو اپنی جنت میں منتقل فرما دیا۔
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ، وَأَنَا أَسْمَعُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ: كَمِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلُ مَوْتِهِ؟، فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْ هَذَا أَحَدٌ مُذْ وَعَيْتُهَا مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ :" لَقَدْ قُبِضَ مِنَ الدُّنْيَا وَهُوَ أَكْثَرُ مِمَّا كَانَ" .
عبدالرحمن بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص زہری کے پاس آیا اور میں اس وقت سن رہا تھا، اس نے کہا: اے ابوبکر! (یعنی ابن شہاب زہری) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پہلے وحی کا سلسلہ کتنا عرصہ پہلے منقطع ہوا تھا؟ تو زہری نے جواب دیا: جب سے میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی ہے، اس کے بعد کسی نے مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی تھی کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو (وصال سے کچھ عرصہ پہلے) آپ پر زیادہ وحی نازل ہوتی رہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4982، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 3016، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 44، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7929، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13683، والبزار فى (مسنده) برقم: 6338»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - ق نحوه، أتم منه دون سؤال السائل، وقول الزهري. * [خَالِدٌ] قال الشيخ: هو خالدُ بنُ عبد الله الطُحان الواسطيُّ، ثقةٌ من رجالِ الشيخين. وعبد الرحمن بنُ إسحاق: هو القرشيُّ، صدوق فيه كلام يسير، احتجّ به مسلمٌ والزهريُّ: هو محمد بنُ مسلم بن عبيد الله عبد الله الزهريُّ أبو بكر، الثقةُ الفقيه الجليل، احتجَّ به الجميع. والسندُ جيِّدٌ. وقد تَابعَ ابنَ إسحاقَ: صالحُ بنُ كيسانَ عنِ ابنِ شهابٍ ... بأتمٍّ منه: رواه البخاري (8982)، ومسلم (8/ 238). * [لَقَدْ قُبِضَ مِنَ الدُّنْيَا وَهُوَ] قال الشيخ: يعني الوحي.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. خالد: هو ابن عبد الله الطحان الواسطي.