صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب
باب -
حدیث نمبر: 33
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ يَرَاهَا فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لا يَرَى رُؤْيَا إِلا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ لَهُ الْخَلاءُ، فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءَ، فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعِدَّةِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ، فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ، فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، قَالَ:" فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ لِي: اقْرَأْ، فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سورة العلق آية 1 حَتَّى بَلَغَ مَا لَمْ يَعْلَمْ سورة العلق آية 5، قَالَ: فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي"، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا خَدِيجَةُ مَا لِي؟" وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ وَقَالَ:" قَدْ خَشِيتُهُ عَلَيَّ"، فَقَالَتْ: كَلا أَبْشِرْ، فَوَاللَّهِ لا يُخْزِيكَ الِلَّهِ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ، وَكَانَ أَخَا أَبِيهَا، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ، فَيَكْتُبُ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الإِنْجِيلِ مَا شَاءَ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمِّ، اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، فَقَالَ وَرَقَةُ: ابْنَ أَخِي، مَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى، فَقَالَ وَرَقَةُ: هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ فِيهَا جَذَعًا، أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمُخْرِجِيَّ هُمْ؟!" قَالَ: نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلا عُودِيَ وَأُوذِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا، ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ، وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا لِكَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ كَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهَا تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا، فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ، وَتَقَرُّ نَفْسُهُ، فَيَرْجِعُ، فَطَالَ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الْوَحْيِ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ، فَأَوْفَى بِذِرْوَةِ الْجَبَلِ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وحی کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب دکھائی دینے لگے، جو آپ نیند کی حالت میں دیکھتے تھے۔ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے، وہ صبح کے نمودار ہونے کی مانند پورا ہو جاتا تھا، پھر آپ کی طبیعت خلوت کی طرف مائل کر دی گئی۔ آپ غار حرا تشریف لے جاتے تھے اور وہاں «التَّحَنُّثُ» (تحنث) کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) یعنی آپ وہاں متعدد راتوں تک عبادت کرتے رہتے تھے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا زادراہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر واپس سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے تھے۔ وہ اسی کی مانند مزید زادراہ تیار کر دیتی تھیں۔ یہاں تک کہ اچانک ایک دن حق آپ کے پاس آ گیا۔ آپ اس وقت غار حرا میں موجود تھے۔ وہاں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور بولا: آپ پڑھیے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نہیں پڑھوں گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے بھینچ لیا، یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر اس نے مجھ سے کہا: آپ پڑھیے! میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دوسری مرتبہ مجھے بھینچ لیا، یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا، پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا: آپ پڑھیے! میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے تیسری مرتبہ بھینچ لیا، یہاں تک کہ مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] ۔“ یہ آیات یہاں تک ہیں: ﴿عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ [سورة العلق: 5] ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا راوی کہتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لائے، تو آپ کے جسم پر کپکپی طاری تھی۔ آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے اوڑھنے کے لیے کچھ دو!“ انہوں نے آپ کو اوڑھنے کے لیے کوئی چیز دے دی۔ یہاں تک کہ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے خدیجہ! میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟“ پھر آپ نے انہیں پوری بات بتائی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہے“، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں۔ آپ کے لیے خوشخبری ہے، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ بے شک آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں، جو ان کے چچا تھے، یہ صاحب زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی میں تحریر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے انجیل کا کچھ حصہ عربی میں نوٹ کیا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی عمر کے صاحب تھے، جو نابینا ہو چکے تھے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے میرے چچا! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنیے، ورقہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم نے کیا دیکھا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات دیکھی تھی اس کے بارے میں انہیں بتایا، تو ورقہ نے کہا: یہ وہ «النَّامُوسُ» (ناموس) ہے، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اے کاش کہ میں اس وقت موجود ہوتا، یا اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو (مکہ سے) نکال دیتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا وہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟“ ورقہ نے جواب دیا: جی ہاں، آپ جو چیز لے کر آئے ہیں، اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا، تو اس سے دشمنی کی گئی اور اسے اذیت پہنچائی گئی۔ اگر مجھے وہ دن دیکھنے کو ملا، تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے کچھ عرصے کے بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔ پھر وحی کے نزول کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہو گئے۔ آپ کی یہ کیفیت اتنی شدید ہوئی کہ آپ کئی مرتبہ پہاڑ سے چھلانگ لگانے کے ارادے سے تشریف لے گئے۔ جب بھی آپ پہاڑ کی چوٹی سے خود کو نیچے گرانے کا ارادہ کرتے تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ جاتے اور آپ سے یہ کہتے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس وجہ سے آپ کی بے چینی کو سکون آ جاتا اور آپ کی جان کو قرار آ جاتا اور آپ واپس تشریف لے آتے، جب وحی کے انقطاع کا سلسلہ طویل ہو گیا، تو ایک مرتبہ آپ اس کی مانند تشریف لے گئے۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آئے اور انہوں نے آپ کے سامنے اسی کی مانند بات کہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 33]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3، 3392، 4953، 4955، 4956، 4957، 6982، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 160، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 33، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2891، 2892، 3975، 3976، 4871، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3632، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13463، 17794، 17797، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25841، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1570، 1572»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح دون جملة التردي - «مختصر البخاري» (رقم 3)، ولم يذكرها (م) *، «فقه السيرة». * [(م)] قال الشيخ: خلافاً لِمَا توهَّمه المعلِّقُ على الحديث في طبعة «مؤسسة الرسالة» (1/ 219) فقد عزاهُ لجمعٍ ليست هذه الزيادة الواهيه عند بعضهم - أحدهم مسلم -! ولم يتنبَّه لها الشيخ أحمد شاكر، فلم يستدركها؛ فأوهم صحَّتها.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، ابن أبي السري قد توبع عليه، وباقي السند على شرطهما.
2. - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه يضاد خبر عائشة الذي تقدم ذكرنا له-
- اس خبر کا ذکر جو ایسے شخص کے وہم کو دور کرتا ہے جو فنِ حدیث کا ماہر نہیں اور اسے گمان ہوا کہ یہ خبر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مخالف ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 34
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلَ؟، قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُلْتُ: إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّ أَوَّلَ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلَ؟ قَالَ: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّ أَوَّلَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ قَالَ جَابِرٌ : لا أُحَدِّثُكَ إِلا مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جَاوَرْتُ فِي حِرَاءَ، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ، فَنُودِيتُ، فَنَظَرْتُ أَمَامِي، وَخَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، فَنُودِيتُ، فَنَظَرْتُ فَوْقِي، فَأَنَا بِهِ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي دَثِّرُونِي، وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، فَأُنْزِلَتْ عَلَيَّ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ سورة المدثر آية 1 - 3 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي خَبَرِ جَابِرٍ هَذَا: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّر سورة المدثر آية 1 ُ، وَفِي خَبَرِ عَائِشَةَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ سورة العلق آية 1، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ، إِذِ الِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ سورة العلق آية 1 وَهُوَ فِي الْغَارِ بِحِرَاءَ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ دَثَّرَتْهُ خَدِيجَةُ وَصَبَّتْ عَلَيْهِ الْمَاءَ الْبَارِدَ، وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ فِي بَيْتِ خَدِيجَةَ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ سورة المدثر آية 1 - 2 مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَهَاتُرٌ أَوْ تَضَادٌّ.
یحییٰ بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے دریافت کیا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] ۔ میں نے کہا: مجھے تو یہ پتا چلا ہے کہ سب سے پہلے قرآن میں سے یہ سورت نازل ہوئی تھی: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] ”اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا ہے۔“ تو ابوسلمہ نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] ۔ میں نے ان سے کہا: مجھے تو یہ پتا چلا ہے کہ سب سے پہلے قرآن میں سے یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] ”اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا۔“ تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں وہی بات بتاؤں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے غارِ حرا میں اعتکاف کیا ہوا تھا، جب میرا یہ اعتکاف مکمل ہوا تو میں نیچے اترا اور وادی کے نشیبی حصے میں آ گیا، تو مجھے پکارا گیا، میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف دیکھا لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، پھر مجھے پکارا گیا، میں نے اپنے اوپر دیکھا تو میرے سامنے فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک تخت پر بیٹھا ہوا تھا، تو میں اس سے گھبرا گیا اور میں خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس آ گیا۔ میں نے کہا: مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی بہاؤ۔ پھر مجھ پر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ﴾ [سورة المدثر: 1-3] ”اے چادر اوڑھنے والے! آپ کھڑے ہو جائیے اور ڈرایئے اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کیجیے۔“”(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے منقول اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ قرآن میں سب سے پہلے ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] نازل ہوئی، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت میں یہ مذکور ہے کہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] سب سے پہلے نازل ہوئی۔ ان دونوں روایات میں تضاد نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] اس وقت نازل فرمائی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر تشریف لے آئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چادر اوڑھنے کے لیے دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ٹھنڈا پانی ڈالا، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] نازل ہو گئی، تو ان دو روایات کے درمیان کوئی اختلاف یا تضاد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 34]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4، 3238، 4922، 4923، 4924، 4925، 4926، 4954، 6214، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 161، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 34، 35، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3011، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11567، 11568، 11569، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3325، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13464، 17795، 17796، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14508، 14509، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1793، 1794، 1799، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1948، 1949، 2225، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 37713»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (90): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
3. - ذكر القدر الذي جاور المصطفى صلى الله عليه وسلم بحراء عند نزول الوحي عليه-
- اس قدر (مدت) کا ذکر جس میں نبی کریم ﷺ پر غارِ حرا میں وحی کے نزول کے وقت قیام رہا۔
حدیث نمبر: 35
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلَ؟، قَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُلْتُ: أَوِ اقْرَأْ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سورة المدثر آية 1، فَقُلْتُ: أَوِ اقْرَأْ، فَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ، فَنُودِيتُ، فَنَظَرْتُ أَمَامِي، وَخَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّ نُودِيتُ، فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ، فَهُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ، فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ، فَأَمَرْتُهُمْ فَدَثَّرُونِي، ثُمَّ صَبُّوا عَلَيَّ الْمَاءَ، وَأَنْزَلَ الِلَّهِ عَلَيَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ سورة المدثر آية 1 - 4 .
یحییٰ بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے دریافت کیا کہ قرآن کا کون سا حصہ پہلے نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ۔ میں نے کہا: (یہ پہلے نازل ہوا تھا) یا «اقْرَأْ» (پہلے نازل ہوا تھا)؟ تو ابوسلمہ نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» پہلے نازل ہوئی تھی، تو میں نے کہا: (یہ پہلے نازل ہوئی تھی) یا «اقْرَأْ» (پہلے نازل ہوئی تھی)؟ تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”میں نے غارِ حرا میں ایک مہینے تک اعتکاف کیا، جب میں نے اپنا یہ اعتکاف مکمل کر لیا تو میں پہاڑ سے نیچے آیا۔ میں وادی کے نشیبی حصے میں پہنچا تو مجھے آواز دے کر پکارا گیا۔ میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آیا، پھر مجھے پکارا گیا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو وہ (ایک فرشتہ) خلا میں ایک تخت پر تھا۔ اس کی وجہ سے مجھ پر شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میری ہدایت پر انہوں نے مجھے اوڑھنے کے لیے چادر دی اور پھر مجھ پر پانی بہایا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ٭ قُمْ فَأَنذِرْ ٭ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ٭ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾ [سورة المدثر: 1 - 4] ”اے چادر اوڑھنے والے! تم اٹھو اور ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 35]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4، 3238، 4922، 4923، 4924، 4925، 4926، 4954، 6214، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 161، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 34، 35، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3011، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11567، 11568، 11569، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3325، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13464، 17795، 17796، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14508، 14509، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1793، 1794، 1799، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1948، 1949، 2225، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 37713»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر الذي قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، الأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو إمام أهل الشام في عصره.
4. - ذكر وصف الملائكة عند نزول الوحي على صفيه صلى الله عليه وسلم-
- اس حالت کا ذکر جب فرشتوں کا نزول نبی کریم ﷺ پر وحی کے وقت ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 36
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَضَى الِلَّهِ الأَمْرَ فِي السَّمَاءِ، ضَرَبَتِ الْمَلائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، حَتَّى فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، فَيَسْتَمِعُهَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلُ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا إِلَى الَّذِي هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ، وَرُبَّمَا لَمْ يُدْرِكْهُ الشِّهَابُ حَتَّى يَرْمِيَ بِهَا إِلَى الَّذِي هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ، قَالَ: وَهُمْ هَكَذَا بَعْضُهُمْ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ وَوَصَفَ ذَلِكَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَيَرْمِي بِهَا هَذَا إِلَى هَذَا، وَهَذَا إِلَى هَذَا، حَتَّى تَصِلَ إِلَى الأَرْضِ، فَتُلْقَى عَلَى فَمِ الْكَافِرِ وَالسَّاحِرِ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كِذْبَةٍ، فَيُصَدَّقُ، وَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا، فَصَدَقَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا علم ہوا ہے: ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ صادر فرماتا ہے، تو فرشتے اس کے فرمان کے سامنے عاجزی سے سر جھکاتے ہوئے اپنے پر یوں مارتے ہیں، جس طرح ہموار پتھر پر زنجیر ماری جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو وہ دریافت کرتے ہیں: تمہارے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں: ﴿الْحَقَّ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ﴾ [سورة سبإ: 23] ”اس نے حق ارشاد فرمایا ہے، اور وہ بلند و برتر اور سب سے بڑا ہے“۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر چوری چھپے سننے والا کوئی (جن) اس بات کو سن لیتا ہے، تو بعض اوقات اس (جن) کے اسے نیچے پہنچانے سے پہلے ہی شہابِ ثاقب اس تک پہنچ جاتا ہے، اور بعض اوقات شہابِ ثاقب اس تک نہیں پہنچ پاتا، یہاں تک کہ وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتا دیتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (یا شاید راوی) فرماتے ہیں: ”وہ لوگ اس طرح ایک دوسرے کے اوپر تلے ہوتے ہیں۔“ سفیان نامی راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ یہ کر کے دکھایا کہ وہ اس طرح ایک دوسرے کو یہ بات بتاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ بات زمین تک پہنچ جاتی ہے اور کاہن یا جادوگر کے منہ میں ڈال دی جاتی ہے۔ وہ (شیطان) اس کے ساتھ ایک سو جھوٹ ملا دیتا ہے، تو کبھی ایسا ہوتا ہے کہ (اصل بات) کی تصدیق کر دی جاتی ہے (یا وہ سچ ثابت ہوتی ہے)، تو یہ کہا جاتا ہے: کیا فلاں دن اس نے یہ بات نہیں کہی تھی؟ تو اس نے سچ کہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 36]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «صحيح، وأخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4701، 4800، 7481، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 36، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2997، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3989، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3223، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 194، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1185»
«قال الدارقطني: ورواه أحمد بن عبدة وأبو معمر عن ابن عيينة وقالا عنه عن عمرو عن عكرمة قال أنبا أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الحديث وهو الصحيح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (8 / 263)»
«قال الدارقطني: ورواه أحمد بن عبدة وأبو معمر عن ابن عيينة وقالا عنه عن عمرو عن عكرمة قال أنبا أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الحديث وهو الصحيح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (8 / 263)»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1293): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، إبراهيم بن بشار، وهو الرمادي من رمادة اليمن، وليس من رمادة فلسطين، حافظ، متقن، ضابط، صحب ابن عيينة سنين كثيرة، وسمع منه مراراً، وباقي رجال السند على شرطهما.
5. - ذكر وصف أهل السماوات عند نزول الوحي-
- آسمانوں کے رہنے والوں (ملائکہ) کی کیفیت کا ذکر جب وحی نازل ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 37
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَكَلَّمَ بِالْوَحْيِ سَمِعَ أَهْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَةً كَجَرِّ السِّلْسِلَةِ عَلَى الصَّفَا، فَيُصْعَقُونَ، فَلا يَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ جِبْرِيلُ فَجَاءَهُمْ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، فَيَقُولُونَ: يَا جِبْرِيلُ مَاذَا قَالَ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: الْحَقَّ، فَيُنَادُونَ: الْحَقَّ الْحَقَّ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی وحی کے بارے میں کلام فرماتا ہے تو آسمان پر رہنے والے اس بات کو یوں سنتے ہیں جس طرح گھنٹی کی آواز ہوتی ہے، جیسے کسی زنجیر کو پتھر پر مارا جاتا ہے، پھر وہ بے ہوش ہو جاتے ہیں اور ان کی یہی کیفیت رہتی ہے یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آتے ہیں، جب وہ ان کے پاس آتے ہیں تو ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل! تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں: «الْحَقَّ» ”حق فرمایا ہے“، تو وہ فرشتے بھی یہی کہتے ہیں: «الْحَقَّ» ”حق فرمایا ہے، حق فرمایا ہے“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 37]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «موقوف صحيح، وأخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 37، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4738»
«قال الدارقطني: الموقوف هو المحفوظ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (5 / 242)»
«قال الدارقطني: الموقوف هو المحفوظ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (5 / 242)»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» - أيضاً -: خ معلقاً موقوفاً.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. علي بن الحسين: صدوق، ثقة، روى له أبو داود، وابن ماجة، وباقي السند على شرطهما، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير الكوفي، وكان أحفظ الناس لحديث الأعمش، ومسلم: هو ابن صُبيح الهمداني أبو الضحى، ومسروق: هو ابن الأجدع بن مالك الهمداني.
6. - ذكر وصف نزول الوحي على رسول الله صلى الله عليه وسلم-
- وحی کے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے کے انداز اور کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 38
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، فَيَنْفَصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلا، فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ" ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِي الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَنْفَصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرْقًا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اوقات وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز میں آتی ہے، اور یہ میرے لیے سب سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ جب میری یہ کیفیت ختم ہوتی ہے، تو فرشتے نے جو کہا ہوتا ہے، میں اسے محفوظ کر لیتا ہوں۔ اور بعض اوقات فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور میرے ساتھ بات چیت کرتا ہے، تو اس کی کہی ہوئی بات کو میں محفوظ کر لیتا ہوں“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، ایک مرتبہ شدید سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوئی، جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ کی مبارک پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 38]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «صحيح، وأخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2، 3215، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2333، ومالك فى (الموطأ) برقم: 691، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 38، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5249، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 932، 933، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1007، 1008، 7925، 11063، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3634، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13471، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25889، والحميدي فى (مسنده) برقم: 258»
«قال الدارقطني: وهو الصحيح أي من مسند عائشة، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (14 / 153)»
«قال الدارقطني: وهو الصحيح أي من مسند عائشة، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (14 / 153)»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (91)، «الصحيحة» (5958): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
7. - ذكر استعجال المصطفى صلى الله عليه وسلم في تلقف الوحي عند نزوله عليه-
- اس حالت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ وحی کے نزول کے وقت کس طرح جلدی سے وحی کو یاد کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 39
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا، فَأَنْزَلَ الِلَّهِ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ سورة القيامة آية 16 - 17، قَالَ: جَمْعُهُ فِي صَدْرِكَ، ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَ قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَه سورة القيامة آية 18 ُ، قَالَ: فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ، فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانَ أَقْرَأَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ [سورة القيامة: 16] کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”تم اس کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، تاکہ تم اسے جلدی حاصل کر لو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے نزول کے وقت شدت کا سامنا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ان ہونٹوں کو حرکت دے کر دکھاتا ہوں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرکت دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ * إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ﴾ [سورة القيامة: 16-17] ”تم اس کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، تاکہ تم اس کو جلدی حاصل کر لو، بے شک اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اس کے جمع کرنے سے مراد ”تمہارے سینے میں اسے جمع کرنا ہے“، پھر تم اس آیت کو تلاوت کرو: ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ [سورة القيامة: 18] ”ہم اسے پڑھتے ہیں: تم اس پڑھے ہوئے کی پیروی کرو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ”تم اسے غور سے سنو اور خاموش رہو۔“ ﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴾ [سورة القيامة: 19] ”پھر اس کا بیان ہمارے ذمے ہے۔“ اس سے مراد یہ ہے، پھر تمہارا تلاوت کرنا ہمارے ذمے ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے غور سے سنتے تھے، جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کو اسی طرح تلاوت کر لیتے تھے، جس طرح سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کے سامنے اسے پڑھا ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 39]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5، 4927، 4928، 4929، 5044، 7524، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 448، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 39، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم:934، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1009، 7924، 11570، 11571، 11572، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3329، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1935، 3252، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2750، والحميدي فى (مسنده) برقم: 537، والبزار فى (مسنده) برقم: 4976، 4977، والطبراني فى(الكبير) برقم: 12297»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
8. - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الله جل وعلا لم ينزل آية واحدة إلا بكمالها-
- ذکر اس خبر کا جو اس قول کو باطل قرار دیتی ہے جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ جل وعلا نے کوئی آیت نازل نہیں فرمائی مگر مکمل صورت میں
حدیث نمبر: 40
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْهَرَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُ لِي زَيْدًا وَيَجِيءُ مَعَهُ بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ، أَوْ بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ"، ثُمَّ قَالَ:" اكْتُبْ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ: وَخَلْفَ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنِي، فَإِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ؟ قَالَ الْبَرَاءُ: فَأُنْزِلَتْ مَكَانَهَا: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النساء: 95] ”اہلِ ایمان میں سے بیٹھے رہنے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس زید کو بلا کر لاؤ۔“ وہ اپنے ساتھ لوح اور دوات (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شانے کی ہڈی اور دوات لے کر آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ لکھو: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 95] ”اہلِ ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔““ راوی بیان کرتے ہیں: اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو نابینا ہیں، وہ موجود تھے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ کیونکہ میں تو نابینا شخص ہوں۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، تو اسی جگہ آیت کے یہ الفاظ ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] ”جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو“ نازل ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2831، 4593، 4594، 4990، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1898، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 40، 41، 42، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3101، 3102، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4294، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1670، 3031، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2464، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17887، 17888، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18777»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، محمد بن عثمان العجلي: هو محمد بن عثمان بن كرامة الكوفي العجلي مولاهم، ثقة من رجال البخاري، وباقي السند على شرطهما0 أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله بن عبيد السبيعي الكوفي أحد الأعلام الأثبات.
حدیث نمبر: 41
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بْنِسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيتُونِي بِالْكَتِفِ أَوِ اللَّوْحِ"، فَكَتَبَ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَقَالَ: هَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ فَنَزَلَتْ، غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس کندھے کی ہڈی یا لوح لے کر آؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت املا کروائی: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النساء: 95] ”اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ برابر نہیں ہیں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلایا، وہ شانے کی ہڈی لے کر آئے، انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کی، جب سیدنا ابن مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنی معذوری کی شکایت کی تو یہ الفاظ نازل ہوئے: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] ”جنہیں کوئی ضرر نہ ہو۔“ «ذِكْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ السَّبِيعِيَّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْخَبَرَ مِنَ الْبَرَاءِ» ”اس روایت کا تذکرہ جو اس شخص کے موقف کو غلط ثابت کرتی ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ ابواسحاق سبیعی رحمہ اللہ نے یہ روایت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2831، 4593، 4594، 4990، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1898، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 40، 41، 42، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3101، 3102، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4294، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1670، 3031، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2464، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17887، 17888، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18777»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مختصر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
9. - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن أبا إسحاق السبيعي لم يسمع هذا الخبر من البراء-
- اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو رد کرتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ابواسحاق السبیعی نے یہ حدیث براء رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی۔
حدیث نمبر: 42
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَاءَ بِكَتِفٍ فَكَتَبَهَا فِيهِ، فَشَكَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ، فَنَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النساء: 95] ”اہل ایمان میں سے بیٹھے ہوئے لوگ برابر نہیں ہیں“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بلوایا، وہ کندھے (کی ہڈی) لے کر آئے اور انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کر دی، پھر سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو یہ آیت ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] ”جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو“ نازل ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الوحي/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2831، 4593، 4594، 4990، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1898، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 40، 41، 42، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3101، 3102، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4294، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1670، 3031، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2464، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17887، 17888، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18777»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.