🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم الرضا بالقضاء
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ قضاء پر راضی رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2892
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ، فَوَجَدَهُ حَارًّا، فَقَالَ:" حَسِّ"، وَقَالَ:" ابْنُ آدَمَ إِنَّ أَصَابَهُ بَرْدٌ قَالَ: حَسِّ، وَإِنَّ أَصَابَهُ حَرٌّ قَالَ: حَسِّ" . ثُمَّ تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس میں رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ گرم محسوس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حَسِّ» (یعنی اوئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر ابنِ آدم کو سردی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے: «حَسِّ» (یعنی اوئی)، اگر اسے گرمی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے: «حَسِّ» (یعنی اوئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ دنیا کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا سرسبز اور میٹھی ہے، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا، اس کے لیے اس میں برکت رکھی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ان کو قیامت کے دن جہنم ملے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2892]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3118، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2892، 4512، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2374، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27696، والحميدي فى (مسنده) برقم: 356» «رقم طبعة با وزير 2881»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (1592).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر ما يجب على المرء من ترك التسخط عند ورود ضد المراد في الحال عليه
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی مراد کے خلاف ہونے پر ناراضگی ترک کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2893
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عن مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي:" لَمْ فَعَلْتَ كَذَا وَلَمْ تَفْعَلْ كَذَا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اف نہیں کہا اور کبھی یہ نہیں فرمایا: یہ کیوں کیا ہے؟ اور یہ کیوں نہیں کیا؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2893]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2768، 3561، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2309، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2893، 2894، 6303، 6304، 7179، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4774، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2015، والدارمي فى (مسنده) برقم: 63، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12156» «رقم طبعة با وزير 2882»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح بما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم إلا أن أبا عامر الخزاز وهو صالح بن رستم المزني كثير الخطأ لكنه قد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر خبر ثان يدل على صحة ما أومأنا إليه
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے اشارہ کردہ کی صحت کی دلیل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2894
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، أَخْبَرَنَا سَلامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَشَرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي:" أُفٍّ قَطُّ"، وَلا قَالَ لِي:" أَلا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا، وَلَمْ تَصْنَعْ كَذَا وَكَذَا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، آپ نے کبھی مجھے اف نہیں کہا اور کبھی یہ نہیں فرمایا: تم نے یہ نہیں کیا؟ یہ کیوں نہیں کیا ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2894]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2768، 3561، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2309، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2893، 2894، 6303، 6304، 7179، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4774، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2015، والدارمي فى (مسنده) برقم: 63، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12156» «رقم طبعة با وزير 2883»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الشمائل» (296): م، وسيأتي بفظ آخر (7135). تنبيه!! رقم (7135) = (7179) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الأمر بالصبر لمن أصيب بمصيبة في الدنيا
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص دنیا میں مصیبت سے دوچار ہو اسے صبر کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2895
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ تَبْكِي، فَقَالَ:" يَا هَذِهِ، اصْبِرِي"، فَقَالَتْ: إِنَّكَ لا تَدْرِي مَا مُصَابِي، فَقِيلَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ، فَقَالَتْ: لَمْ أَعْرِفْكَ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورت! صبر سے کام لو۔ اس نے کہا کہ آپ نہیں جانتے مجھے کیا مصیبت لاحق ہوئی ہے، بعد میں اس خاتون کو بتایا گیا کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی کہ میں آپ کو پہچانی نہیں تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2895]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1252، 1283، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 926، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2895، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1868، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3124، والترمذي فى (جامعه) برقم: 987، 988، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1596، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7227، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12511» «رقم طبعة با وزير 2884»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الجنائز» (22)، ق أتم منه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر إثبات الخير للمسلم الصابر عند الضراء والشاكر عند السراء
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی تصدیق کہ صابر مسلمان کے لیے مصیبت میں خیر ہے اور خوشی میں شکر کرنے والے کے لیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2896
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، وَإِنَّ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، وَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لأَحَدٍ إِلا لِلْمُؤْمِنِ" .
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بندہ مومن کے بارے میں حیرت ہوتی ہے، اس کا معاملہ ہر حالت میں بہتر ہوتا ہے؛ اگر اسے خوشخبری ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے، اگر اسے پریشانی لاحق ہوتی ہے تو وہ صبر سے کام لیتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتی ہے، یہ خصوصیت صرف مومن کو حاصل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2896]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2999، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2896، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2819، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6650، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19237» «رقم طبعة با وزير 2885»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (147): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الخبر الدال على أن على المرء التصبر عند كل محنة يمتحن بها وإن كانت تلك المحنة شيئا يسيرا
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی پر لازم ہے کہ ہر اس آزمائش میں صبر کرے جس سے وہ امتحان دیا جائے، چاہے وہ آزمائش معمولی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2897
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا، فَجَلَسَ مُغْضَبًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لِيُسْأَلُ الْكَلِمَةَ فَمَا يُعْطِيهَا، فَيُوضَعُ عَلَيْهِ الْمِنْشَارِ، فَيَشُقُّ بِاثْنَيْنِ، مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ، وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُمْشَطُ مَا دُونَ عِظَامِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ، وَمَا يَصْرِفُهُ ذَاكَ عَنْ دِينِهِ، وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لا يَخَافُ إِلا اللَّهَ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ" .
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمیں مشرکین کی طرف سے تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ میں نے عرض کی: کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا نہیں کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غضب کی حالت میں سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے لوگوں سے کلمے کا مطالبہ کیا جاتا تھا، اگر وہ اسے پورا نہیں کرتا تھا تو آرے کو اس کے سر پر رکھ کر اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا تھا لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیر سکی، اور بعض اوقات کسی شخص پر (لوہے کی بنی ہوئی) کنگھی پھیری جاتی تھی جو اس کے گوشت اور پٹھوں میں سے گزر کر اس کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی تھی لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیر سکی۔ البتہ تم لوگ جلد بازی کا اظہار کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ضرور پورا کرے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے چل کر حضرموت تک جائے گا اور اسے صرف اللہ کا خوف ہو گا یا اپنی بکریوں کے حوالے سے بھیڑیے کا خوف ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3612، 3852، 6943، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2897، 6698، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5335، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17793، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21442» «رقم طبعة با وزير 2886»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2380).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الخبر الدال على من امتحن بمحنة في الدنيا فيلقاها بالصبر والشكر يرجى له زوالها عنه في الدنيا مع ما يدخر له من الثواب في العقبى
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص دنیا میں آزمائش سے دوچار ہو اور اسے صبر و شکر کے ساتھ ملے، اس کے لیے امید ہے کہ دنیا میں اس کی آزمائش ختم ہو جائے اور آخرت میں اس کے لیے ثواب ذخیرہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2898
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَيُّوبَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ فِي بَلائِهِ ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ إِلا رَجُلَيْنِ مِنْ إِخْوَانِهِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ، فَيَكْشِفُ مَا بِهِ، فَلَمَّا رَاحَ إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ: لا أَدْرِي مَا تَقُولُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللَّهُ إِلا فِي حَقٍّ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ، فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ، أَبْطَأَ عَلَيْهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى أَيُّوبَ فِي مكانِهِ ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ سورة ص آية 42 فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَبَلَغَتْهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا قَدْ أَذْهِبِ اللَّهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلاءِ فَهُوَ أَحْسَنُ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارِكَ اللَّهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا الْمُبْتَلَى، وَاللَّهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرُ الْقَمْحِ، وَأَنْدَرُ الشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَتَيْنِ، فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَتْ، وَأَفْرَغَتِ الأُخْرَى عَلَى أَنْدَرِ الشَّعِيرِ الْوَرِقَ حَتَّى فَاضَتْ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اللہ کے نبی سیدنا ایوب علیہ السلام اٹھارہ سال تک بیماری میں مبتلا رہے، ہر قریبی اور دور کے شخص نے ان سے لاتعلقی اختیار کر لی، سوائے دو آدمیوں کے جو ان کے انتہائی قریبی دوست تھے۔ وہ صبح و شام ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہتا تھا: تم یہ بات جانتے ہو، اللہ کی قسم! ایوب نے کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، جو تمام جہانوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: وہ کیا ہے؟ وہ بولا: اٹھارہ سال ہو گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم نہیں آیا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی تکلیف کو ختم کر دیتا۔ جب وہ شخص سیدنا ایوب علیہ السلام کے پاس گیا تو اس سے صبر نہیں ہوا، اس نے سیدنا ایوب علیہ السلام کے سامنے اس بات کا تذکرہ کر دیا، تو سیدنا ایوب علیہ السلام نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم تم کیا کہہ رہے ہو، البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے، میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا جو آپس میں جھگڑ رہے تھے اور وہ دونوں اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے، میں اپنے گھر واپس آ گیا اور میں نے ان دونوں کی طرف سے کفارہ دیا، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ناحق طور پر کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ قضائے حاجت کے لیے گئے، جب انہوں نے اپنی حاجت مکمل کر لی، تو ان کی بیوی نے ان کے ہاتھ کو پکڑا، پھر ایک دن وہ اس عورت کے پاس نہیں آئے، تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ایوب علیہ السلام پر اس جگہ وحی نازل کی: ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ [سورة ص: 42] تم اپنا پاؤں مارو تو یہاں سے غسل کرنے اور پینے کے لیے ٹھنڈا (پانی پھوٹ پڑے گا)۔ وہ عورت کچھ تاخیر سے ان کے پاس آئی، جب سیدنا ایوب علیہ السلام نے اس کی طرف رخ کیا، تو ان کی بیماری ختم ہو چکی تھی اور وہ پہلے کی طرح خوبصورت (اور تندرست تھے)۔ جب اس عورت نے انہیں دیکھا تو بولی: اے (صاحب!) اللہ تعالیٰ آپ کو برکت دے، کیا آپ نے بیماری میں مبتلا اللہ تعالیٰ کے نبی (سیدنا ایوب علیہ السلام) کو دیکھا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے آپ سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والا شخص نہیں دیکھا، یعنی جب وہ تندرست تھے، سیدنا ایوب علیہ السلام نے فرمایا: وہ میں ہی ہوں۔ سیدنا ایوب علیہ السلام کے دو گودام تھے، ایک گودام گندم کا تھا اور دوسرا گودام جَو کا تھا، اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے، ان میں سے ایک گندم والے گودام پر آیا اور اس نے اس پر سونے کی بارش کی یہاں تک کہ وہ (گودام سونے سے) بھر گیا اور دوسرے بادل نے جَو کے گودام پر چاندی کی بارش کی یہاں تک کہ وہ (گودام چاندی سے) بھر گیا (یعنی سیدنا ایوب علیہ السلام پھر سے خوب مالدار ہو گئے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2898]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2898، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4137، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3617، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 40» «رقم طبعة با وزير 2887»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (17).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من توطين النفس على تحمل المحن والبلايا
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر لازم ہے کہ اپنے نفس کو آزمائشوں اور بلاؤں کو برداشت کرنے کے لیے تیار کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2899
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا بَلاءٌ وَفِتْنَةٌ" .
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: دنیا میں اب صرف آزمائش اور فتنہ ہی باقی رہ گئے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2899]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 339، 392، 690، 2899، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4035، 4199، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17128» «رقم طبعة با وزير 2888»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - تقدم برقم (689). تنبيه!! رقم (689) = (690) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من توطين النفس على تحمل ما يستقبلها من المحن والمصائب
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر لازم ہے کہ اپنے نفس کو اس کی سامنے آنے والی آزمائشوں اور مصیبتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2900
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلاءً؟ قَالَ:" الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ، وَيُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَدَعَهُ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ، وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ" .
مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے زیادہ آزمائش کا سامنا کن لوگوں کو کرنا پڑتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء کو، پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ (نیک لوگوں کو)، بندے کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور آزمائش مسلسل بندے کے ساتھ رہتی ہے، یہاں تک کہ اسے ایسی حالت میں کر دیتی ہے کہ وہ زمین پر چلتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2900]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2900، 2901، 2920، 2921، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 120، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2398، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4023، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6630، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1499» «رقم طبعة با وزير 2889»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2901
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً؟ قَالَ:" الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الأَمْثَلُ، فَالأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ، ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ" .
مصعب بن سعد اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش کا شکار کون لوگ ہوتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء، پھر درجہ بدرجہ (مذہبی لوگ)، آدمی کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے، اگر اس کا دین مضبوط ہو تو اس کی آزمائش شدید ہوتی ہے اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے دین کے حساب سے ہی آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے، اور آدمی مسلسل آزمائش کا شکار ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ آزمائش انسان کو ایسی حالت میں کر دیتی ہے کہ وہ زمین پر چل رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا (یعنی اس کے سب گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2901]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2900، 2901، 2920، 2921، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 120، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2398، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4023، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6630، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1499» «رقم طبعة با وزير 2890»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (143).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں