صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الخبر الدال على من امتحن بمحنة في الدنيا فيلقاها بالصبر والشكر يرجى له زوالها عنه في الدنيا مع ما يدخر له من الثواب في العقبى
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص دنیا میں آزمائش سے دوچار ہو اور اسے صبر و شکر کے ساتھ ملے، اس کے لیے امید ہے کہ دنیا میں اس کی آزمائش ختم ہو جائے اور آخرت میں اس کے لیے ثواب ذخیرہ ہو
حدیث نمبر: 2898
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَيُّوبَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ فِي بَلائِهِ ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ إِلا رَجُلَيْنِ مِنْ إِخْوَانِهِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللَّهُ، فَيَكْشِفُ مَا بِهِ، فَلَمَّا رَاحَ إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ: لا أَدْرِي مَا تَقُولُ غَيْرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللَّهُ إِلا فِي حَقٍّ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ، فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ، أَبْطَأَ عَلَيْهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى أَيُّوبَ فِي مكانِهِ ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ سورة ص آية 42 فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَبَلَغَتْهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا قَدْ أَذْهِبِ اللَّهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلاءِ فَهُوَ أَحْسَنُ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارِكَ اللَّهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا الْمُبْتَلَى، وَاللَّهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرُ الْقَمْحِ، وَأَنْدَرُ الشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَتَيْنِ، فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَتْ، وَأَفْرَغَتِ الأُخْرَى عَلَى أَنْدَرِ الشَّعِيرِ الْوَرِقَ حَتَّى فَاضَتْ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اللہ کے نبی سیدنا ایوب علیہ السلام اٹھارہ سال تک بیماری میں مبتلا رہے ہر قریبی اور دور کے شخص نے ان سے لاتعلقی اختیار کر لی۔ سوائے دو آدمیوں کے جو ان کے انتہائی قریبی دوست تھے۔ وہ صبح شام ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہتا تھا تم یہ بات جانتے ہو۔ اللہ کی قسم! ایوب نے کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، جو تمام جہانوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: وہ کیا ہے وہ بولا: اٹھارہ سال ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو اس پر رحم نہیں آیا ورنہاللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو ختم کر دیتا جب وہ شخص سیدنا ایوب علیہ السلام کے پاس گیا تو اس سے صبر نہیں ہوا۔ اس نے سیدنا ایوب علیہ السلام کے سامنے اس بات کا تذکرہ کر دیا، تو سیدنا ایوب علیہ السلام نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم تم کیا کہہ رہے ہو، البتہ یہ ہے،اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے، میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرا جو آپس میں جھگڑ رہے تھے اور وہ دونوںاللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے تھے۔ میں اپنے گھر واپس آ گیا میں نے ان دونوں کی طرف سے کفارہ دیا اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے،اللہ تعالیٰ کا ذکر ناحق طور پر کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ قضائے حاجت کے لیے گئے، جب انہوں نے اپنی حاجت مکمل کر لی، تو ان کی بیوی نے ان کے ہاتھ کو پکڑا پھر ایک دن وہ اس عورت کے پاس نہیں آئے، تواللہ تعالیٰ نے سیدنا ایوب علیہ السلام پر اس جگہ وحی نازل کی: ”تم اپنا پاؤں مارو تو یہاں سے غسل کرنے اور پینے کے لیے ٹھنڈا (پانی پھوٹ پڑے گا)“ وہ عورت کچھ تاخیر سے ان کے پاس آئی، جب سیدنا ایوب علیہ السلام نے اس کی طرف رخ کیا، تو ان کی بیماری ختم ہو چکی تھی اور وہ پہلے کی طرح خوبصورت (اور تندرست تھے) جب اس عورت نے انہیں دیکھا تو بولی: اے (صاحب!)اللہ تعالیٰ آپ کو برکت دے، کیا آپ نے بیماری میں مبتلااللہ تعالیٰ کے نبی (سیدنا ایوب علیہ السلام) کو دیکھا ہے؟اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے آپ سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والا شخص نہیں دیکھا، یعنی جب وہ تندرست تھے سیدنا ایوب علیہ السلام نے فرمایا: وہ میں ہی ہوں۔ سیدنا ایوب علیہ السلام کے دو گودام تھے، ایک گودام گندم کا تھا اور دوسرا گودام جو کا تھا،اللہ تعالیٰ نے دو بال بھیجے، ان میں سے گندم والے گودام پر آیا اور اس نے اس پر سونے کی بارش کی یہاں تک کہ وہ (گودام سونے سے) بھر گیا اور دوسرے بادل نے جو کے گودام پر چاندی کی بارش کی یہاں تک کہ وہ (گودام چاندی سے) بھر گیا (یعنی سیدنا ایوب علیہ السلام پھر سے خوب مالدار ہو گئے) [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2898]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2887»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (17).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم
الرواة الحديث:
محمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري