🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب
باب -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4887
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ ، عَنِ الْجَارُودِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ" .
سیدنا جارود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مسلمان کی گمشدہ چیز جہنم کا شعلہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4887]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4887، 4888، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2502، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12195، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16572» «رقم طبعة با وزير 4867»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (620).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم ضالة المسلم أراد به بعض الضال لا الكل-
باب - بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «ضالة المسلم» تمام گم شدہ چیزوں پر نہیں بلکہ بعض پر دلالت کرتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4888
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَجِدُ فِي الطَّرِيقِ هَوَامِي مِنَ الإِبِلِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ" .
مطرف اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو عامر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں راستے میں اونٹ ملے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کی گم شدہ چیز جہنم کا شعلہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4888]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4887، 4888، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2502، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12195، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16572» «رقم طبعة با وزير 4868»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4889
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنَكَ بِهَا"، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ، قَالَ:" لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، قَالَ: فَضَالَّةُ الإِبِلِ، قَالَ:" مَا لَكَ، وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الأَمْرُ بِاسْتِعْمَالِ الانْتِفَاعِ بِاللُّقَطَةِ بَعْدَ تَعْرِيفِ سَنَةٍ أَضْمَرَ فِيهِ اعْتِقَادَ الْقَلْبِ عَلَى رَدِّهَا عَلَى صَاحِبِهَا إِذَا جَاءَ وَعَرَّفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا".
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جو کہیں گری ہوئی ملتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی تھیلی اور اس تھیلی کے منہ پر بندھی ہوئی چیز کی شناخت رکھو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، اگر اس کا مالک آ جاتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ تم اسے استعمال کرو۔ اس شخص نے دریافت کیا: گمشدہ بکری (کا کیا حکم ہو گا)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیا لے جائے گا۔ اس شخص نے دریافت کیا: گم شدہ اونٹ (کا کیا حکم ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے، اس کے پاؤں اس کے پاس ہیں، وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت سے کچھ کھا پی لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد گمشدہ ملنے والی چیز سے نفع حاصل کرنے کا حکم اس صورت میں ہے جب آدمی کے دل میں اس بات کا اعتقاد ہو کہ وہ اس چیز کے مالک کے آنے پر وہ چیز اس مالک کو واپس کر دے گا اور اس شخص نے اس کی تھیلی اور تھیلی کے منہ پر باندھی جانے والی چیز کی پہچان رکھی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4889]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 91، 2372، 2427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1722، وابن الجارود فى "المنتقى"، 723، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4889، 4890، 4893، 4895، 4898، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1704، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1372، 1373، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2504، 2507، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12175، الدارقطني فى (سننه) برقم: 4566، 4569، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17311» «رقم طبعة با وزير 4869»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1496): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فشأنك بها أراد به فاستنفقها-
لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «فشأنك بها» سے مراد ہے کہ «اسے اپنے مصرف میں لے لو» ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4890
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ:" أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، قَالَ:" اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، قَالَ: فَضَالَّةُ الإِبِلِ؟ قَالَ:" مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا" ، أَبُو الرَّبِيعِ، هَذَا اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ مِصْرِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بَصْرِيٌّ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس تھیلی کو اور اس کے منہ پر بندھی ہوئی چیز کی شناخت کو یاد رکھو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کا کوئی طلبگار نہیں آتا تو پھر تم اسے خرچ کر لو۔ اس نے دریافت کیا: گم شدہ بکری (کا کیا حکم ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیوں کو ملے گی۔ اس نے عرض کی: گمشدہ اونٹ (کا کیا حکم ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے، اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں، وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت کے پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔ ابوربیع نامی راوی کا نام سلیمان بن داؤد بن حماد بن سعد ہے جو رشدین بن سعد مصری کے بھتیجے ہیں اور ابوربیع زہرانی کا نام سلیمان بن داؤد بصری ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4890]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 91، 2372، 2427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1722، وابن الجارود فى "المنتقى"، 723، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4889، 4890، 4893، 4895، 4898، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1704، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1372، 1373، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2504، 2507، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12175، الدارقطني فى (سننه) برقم: 4566، 4569، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17311» «رقم طبعة با وزير 4870»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1495): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم عرفها سنة ليس بحد-
لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «عرفها سنة» کسی حد (شرعی سزا) کے معنی میں نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4891
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا، فَقَالا: دَعْهُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لا أَدَعُهُ تَأْكُلُهُ السِّبَاعُ، لأَسْتَمْتِعَنَّ بِهِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقَالَ: أَحْسَنْتَ إِنِّي أَصَبْتُ صُرَّةً فِيهَا دَنَانِيرُ، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا حَوْلا"، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا، فَعَرَّفْتُهَا ثَلاثَةَ أَحْوَالٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" احْفَظْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ، فَادْفَعْهَا، وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا" .
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ہمراہ روانہ ہوا، میں نے (راستے میں) گمشدہ کوڑا اٹھا لیا۔ تو ان دونوں نے کہا کہ تم اسے چھوڑ دو۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے اس لیے نہیں چھوڑوں گا تاکہ درندے اسے کھا جائیں، میں اس کے ذریعے فائدہ حاصل کروں گا۔ میں مدینہ منورہ آ گیا۔ میری ملاقات سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے، مجھے ایک تھیلی ملی تھی جس میں دینار تھے، میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر مجھے کوئی شخص نہیں ملا، میں نے تین سال تک اس کا اعلان کیا۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس تھیلی کے منہ پر بندھی ہوئی ڈوری اور اس میں موجود دیناروں کی تعداد کو یاد رکھنا، اگر کوئی شخص آ کر تمہیں اس بارے میں بتا دے تو یہ اس کے حوالے کر دینا، ورنہ تم اس سے نفع حاصل کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4891]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2426، 2437، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1723، وابن الجارود فى "المنتقى"، 725، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4891، 4892، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5789، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1701، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12180، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21556، 21557» «رقم طبعة با وزير 4871»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1492): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. ذكر البيان بأن تعريف أبي بن كعب الصرة التي التقطها الأحوال الثلاثة إنما كان ذلك بأمر المصطفى-
لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - بیان کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے جو تھیلی تین برس تک متعارف کرائی تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4892
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا بِالْعُذَيْبِ، فَقَالا: دَعْهُ، فَقُلْتُ لا أَدَعُهُ، فَقَدِمْتُ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ: أَحْسَنْتَ، أَحْسَنْتَ، الْتَقَطْتُ عَلَى عَهْد ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِئَةَ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" اعْلَمْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعَدَدِهَا وَوِعَائِهَا وَوِكَائِهَا، فَأَعْطِهِ إِيَّاهَا، وَإِلا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاسْتَمْتِعْ بِهَا، وَشَأْنَكَ بِهَا أَضْمَرَ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةَ رَدَّ اللُّقَطَةِ عَلَى صَاحِبِهَا إِذَا جَاءَ بَعْدَ الأَحْوَالِ الثَّلاثَةِ.
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں میں سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما کے ہمراہ روانہ ہوا۔ عذیب کے مقام پر ایک کوڑا ملا، میں نے وہ اٹھا لیا، ان دونوں نے کہا: تم اسے چھوڑ دو۔ میں نے کہا: میں اسے اس لیے نہیں چھوڑوں گا تاکہ درندے اسے کھا لیں، پھر میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مجھے ایک سو دینار پڑے ہوئے ملے تھے۔ میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک ان کا اعلان کیا، میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کا اعلان کرو۔ میں نے پھر ایک سال تک ان کا اعلان کیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کا اعلان کرو۔ میں ایک سال تک ان کا اعلان کرتا رہا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی تعداد، اس کی تھیلی اور تھیلی کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کی نشانی یاد رکھنا، اگر کوئی شخص بعد میں آ کر تمہیں اس کی تعداد، تھیلی اور تھیلی کی ڈوری کی نشانی کے بارے میں بتا دے تو تم (اتنی ہی رقم) اسے ادا کر دینا، ورنہ تم اس کے ذریعے نفع حاصل کر لو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تم اس کے ذریعے نفع حاصل کرو اس میں یہ بات پوشیدہ ہے اگر تین سال گزرنے کے بعد بھی اس کا مالک اس کے پاس آ جاتا ہے تو وہ ملنے والی چیز اسے لوٹائی جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4892]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2426، 2437، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1723، وابن الجارود فى "المنتقى"، 725، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4891، 4892، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5789، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1701، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12180، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21556، 21557» «رقم طبعة با وزير 4872»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. ذكر لفظة أوهمت عالما من الناس ضد ما ذهبنا إليه-
لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - ایک لفظ جس نے بعض علماء کو ہمارے بیان کردہ مفہوم کے برخلاف وہم میں ڈال دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4893
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ،" أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ، قَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، فَدَعْهَا تَأْكُلُ الشَّجَرَ، وَتَرِدُ الْمَاءَ حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا"، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، فَعَرَفَ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا، فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ، وَإِلا فَهِيَ لَكَ" .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟ اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے اور اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں، تم اسے چھوڑ دو، وہ خود ہی درخت کے پتے کھا لے گا اور پانی تک پہنچ جائے گا، یہاں تک کہ اسے تلاش کرنے والا شخص اس تک پہنچ جائے۔ اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیے کو مل جائے گی۔ پھر اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی تعداد، اس کی تھیلی اور اس کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کی شناخت کو یاد رکھو، اگر اس کا مالک آ جائے اور وہ اس کی تعداد، تھیلی اور ڈوری کے بارے میں نشانی بتا دے تو وہ تم اس کے سپرد کر دو، ورنہ وہ تمہاری ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4893]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 91، 2372، 2427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1722، وابن الجارود فى "المنتقى"، 723، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4889، 4890، 4893، 4895، 4898، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1704، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1372، 1373، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2504، 2507، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12175، الدارقطني فى (سننه) برقم: 4566، 4569، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17311» «رقم طبعة با وزير 4873»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1499).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. ذكر الخبر الدال على أن اللقطة وإن أتى عليها أعوام هي لصاحبها دون الملتقط يردها عليه أو قيمتها وإن أكلها أو استنفقها-
لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - وہ خبر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ لقطہ اگر برسوں بعد بھی مل جائے تو وہ مالک ہی کی ہے، ملتقط پر لازم ہے کہ اصل یا قیمت واپس کرے چاہے وہ اسے خرچ کر چکا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4894
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ الْتَقَطَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوِي عَدْلٍ، ثُمَّ لا يَكْتُمُ، وَلا يُغَيِّرُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِلا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَضْمَرَ فِيهِ إِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا، فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ.
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص گمشدہ ملنے والی چیز کو اٹھا لیتا ہے، وہ دو عادل لوگوں کو گواہ بنا لے، پھر وہ کوئی بات چھپائے نہیں اور کسی چیز کو تبدیل نہ کرے، اگر اس چیز کا مالک آ جاتا ہے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہو گا، ورنہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مال شمار ہو گا جسے وہ چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے اگر اس کا مالک نہیں آتا تو وہ پھر اللہ تعالیٰ کا مال ہو گا جسے وہ چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4894]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 728، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4894، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5776، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1709، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2505، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12182، 12214، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17753» «رقم طبعة با وزير 4874»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1503).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. ذكر السبب الذي هو مضمر في نفس الخطاب الذي تقدم ذكرنا له-
لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - وہ سبب جو سابقہ خطاب میں مضمر (چھپا) ہوا تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4895
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ كُلْهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ" .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر اس کے مالک کا پتا نہیں چلتا تو پھر اس کی تھیلی اور اس کے منہ پر باندھی جانے والی ڈوری کو یاد رکھو، پھر تم اسے خود استعمال کر لو، اگر اس کا مالک آ گیا (تو اس کی مانند رقم) اسے دے دینا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4895]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 91، 2372، 2427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1722، وابن الجارود فى "المنتقى"، 723، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4889، 4890، 4893، 4895، 4898، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1704، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1372، 1373، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2504، 2507، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12175، الدارقطني فى (سننه) برقم: 4566، 4569، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17311» «رقم طبعة با وزير 4875»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1497): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. ذكر الزجر عن حمل لقطة الحاج إذا لم يكن يعرف أربابها-
لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - حاجیوں کی گم شدہ چیز اٹھانے سے منع کیا گیا جب تک مالک کی پہچان نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4896
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأشجِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ" ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَلُقَطَةُ الْحَجِّ يَتْرُكُهَا حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ أَخِي طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قُتِلَ هُوَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجیوں کی گری ہوئی چیز کو اٹھانے سے منع کیا ہے۔ ابن وہب بیان کرتے ہیں، حاجیوں کی گری ہوئی چیز کو یوں ہی رہنے دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبدالرحمن نامی یہ راوی عبدالرحمن بن عثمان بن عبید اللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہیں، یہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں، یہ اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ایک ہی دن شہید ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب اللقطة/حدیث: 4896]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1724، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4896، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2386، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5773، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1719، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12246، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16317، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 6094، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 4703» «رقم طبعة با وزير 4876»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1512): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»