🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. ذكر خبر فيه كالدليل على أن الفراق في خبر ابن عمر الذي ذكرناه إنما هو فراق الأبدان-
بیع کا بیان - وہ خبر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں «فراق» سے مراد جسمانی جدائی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4913
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ بَيِّعَيْنِ لا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: خرید و فروخت کرنے والے دو آدمیوں کے درمیان سودا اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے، البتہ جس سودے میں (بعد میں ختم کرنے کا) اختیار ہو، اس کا حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4913]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2107، 2109، 2111، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1531، ابن الجارود فى "المنتقى"، 673، 674، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4912، 4913، 4915، 4916، 4917، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2186، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3454، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2181، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10541، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2806، وأحمد فى (مسنده) برقم: 400، والحميدي فى (مسنده) برقم: 669» «رقم طبعة با وزير 4893»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 155)، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. ذكر الخبر الدال على أن الفراق في خبر ابن عمر الذي ذكرناه إنما هو فراق الأبدان دون الفراق الذي يكون بالكلام-
بیع کا بیان - وہ خبر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں فراق سے مراد جسمانی جدائی ہے نہ کہ محض زبانی کلام۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4914
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلالُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَن ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ بَيْعًا فَوَجَبَ لَهُ، فَهُوَ فِيهِ بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يُفَارِقْهُ، إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، فَإِنْ فَارَقَهُ فَلا خِيَارَ لَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص کوئی چیز خریدتا ہے تو یہ اس کے حق میں لازم ہو جاتی ہے اور اسے اس بارے میں اپنے ساتھی کے مقابلے میں اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ اس (ساتھی) سے جدا نہیں ہو جاتا۔ اگر وہ چاہے، تو اسے حاصل کر لے اور اگر چاہے تو اسے ترک کر دے۔ اگر وہ اپنے ساتھی سے جدا ہو جاتا ہے تو پھر اس کے پاس اختیار باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4914]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4914، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2186، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10552، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2806» «رقم طبعة با وزير 4894»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «أحاديث البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4915
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4915]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2107، 2109، 2111، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1531، ابن الجارود فى "المنتقى"، 673، 674، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4912، 4913، 4915، 4916، 4917، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2186، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3454، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2181، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10541، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2806، وأحمد فى (مسنده) برقم: 400، والحميدي فى (مسنده) برقم: 669» «رقم طبعة با وزير 4894/*»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «أحاديث البيوع» -أيضا-.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فإن فارقه فلا خيار له أراد به في غير بيع الخيار-
بیع کا بیان - بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد «فإن فارقه فلا خيار له» سے مراد وہ بیع ہے جس میں خیار کی شرط نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4916
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُتَبَايعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: خرید و فروخت کرنے والے دونوں فریقوں کو دوسرے فریق کے حوالے سے اختیار حاصل رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے البتہ بیع خیار کا حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4916]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2107، 2109، 2111، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1531، ابن الجارود فى "المنتقى"، 673، 674، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4912، 4913، 4915، 4916، 4917، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2186، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3454، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2181، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10541، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2806، وأحمد فى (مسنده) برقم: 400، والحميدي فى (مسنده) برقم: 669» «رقم طبعة با وزير 4895»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 154): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
بیع کا بیان - ایک دوسری روایت جو ہمارے مذکورہ بیان کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4917
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، فَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب دو آدمی سودا کرتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کو (سودا ختم کرنے کا) اختیار ہوتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں اور اکٹھے رہیں یا پھر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو (بعد میں سودا ختم کرنے کا) اختیار دے دے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار دے دیتا ہے اور وہ اس شرط پر سودا کر لیتے ہیں تو سودا طے ہو جائے گا اور اگر وہ سودا طے کر لینے کے بعد جدا ہو جائیں اور ان دونوں میں سے ایک نے بیع کو ترک نہ کیا ہو تو بیع لازم ہو جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4917]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2107، 2109، 2111، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1531، ابن الجارود فى "المنتقى"، 673، 674، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4912، 4913، 4915، 4916، 4917، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2186، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3454، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1245، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2181، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10541، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2806، وأحمد فى (مسنده) برقم: 400، والحميدي فى (مسنده) برقم: 669» «رقم طبعة با وزير 4896»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» -أيضاً- «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. ذكر الأمر لمن اشترى طعاما أن يكيله رجاء وجود البركة فيه-
بیع کا بیان - خریدار کو حکم دیا گیا کہ وہ اناج خرید کر خود ناپے تاکہ اس میں برکت ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4918
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّامِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كِيلُوا طَعَامَكُمْ، يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ" .
سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے اناج کو ماپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈالی جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4918]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2128، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4918، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11281، 11282، 11283، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17450، والطبراني فى(الكبير) برقم: 643» «رقم طبعة با وزير 4897»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله جل وعلا ويل للمطففين-
بیع کا بیان - وہ سبب بیان کیا گیا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے «وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِینَ» نازل فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4919
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ سَعْدِ ابْنِ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ كَانُوا مِنْ أَخْبَثِ النَّاسِ كَيْلا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ سورة المطففين آية 1، فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ماپنے میں سب سے زیادہ کمی کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ﴾ [سورة المطففين: 1] بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جو ماپنے میں کمی کرتے ہیں۔ نازل کی، اس کے بعد ان لوگوں نے اچھے طریقے سے ماپنا شروع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4919]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4919، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2253، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11590، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2223، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11285، والطبراني فى(الكبير) برقم: 12041» «رقم طبعة با وزير 4898»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «أحاديث البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. ذكر الإخبار عن جواز أخذ المرء في ثمن سلعته المبيعة العين الذي لم يقع العقد عليه من غير أن يكون بينهما فراق-
بیع کا بیان - بیان کہ خریدار کو اس چیز کی قیمت نقد دینے کی اجازت ہے جو ابھی فریقین کے درمیان تفریق کے بغیر بیچی گئی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4920
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ فِي الْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا بَأْسَ إِذَا أَخَذْتُهُمَا بِسِعْرِ يَوْمِهِمَا فَافْتَرَقْتُمَا وَلَيْسَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا تھا، میں دینار کے عوض میں اونٹ فروخت کرتا تھا اور درہم وصول کر لیا کرتا تھا یا درہم کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور دینار وصول کر لیا کرتا تھا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بقیع میں اونٹ فروخت کیے، میں نے دینار کے عوض میں فروخت کیے اور دینار کی جگہ درہم وصول کر لیے، یا درہم کے عوض میں فروخت کیے اور اس کی جگہ دینار وصول کر لیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے جب تم نے اس دن کی قیمت کے مطابق وصولی کی ہو اور تم دونوں (فریق) ایسی حالت میں جدا ہوئے ہو کہ تمہارے درمیان کوئی (بعد کی ادائیگی کی شرط) نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4920]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 712، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4920، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2298، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4596، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3354، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1242، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2623، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2262، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10624، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2875، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 22950» «رقم طبعة با وزير 4899»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «المشكاة» (2819 / التحقيق الثاني)، «الإرواء» (1326) «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. ذكر البيان بأن مشتري النخلة بعدما أبرت لا يكون له من ثمرها شيء إذا لم يتقدمه الشرط-
بیع کا بیان - بیان کہ اگر کھجور کا درخت گُبھا (پھول) نکلنے کے بعد فروخت کیا جائے تو پھل بیچنے والے کا ہوگا جب تک خریدار کے حق میں شرط نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4921
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى نَخْلا بَعْدَمَا أُبِّرَتْ وَلَمْ يَشْتَرِطْ ثَمَرَهَا فَلا شَيْءَ لَهُ، وَمَنِ اشْتَرَى عَبْدًا وَلَمْ يَشْتَرِطْ مَالَهُ فَلا شَيْءَ لَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص پیوند کاری ہو جانے کے بعد کھجور کا درخت خریدے اور (سودا کرتے ہوئے) اس کے پھل کی شرط عائد نہ کرے تو اسے کچھ نہیں ملے گا اور جو شخص غلام خریدتے ہوئے اس کے پاس موجود مال کی شرط عائد نہ کرے اسے کچھ نہیں ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4921]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4921، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2603، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1914، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5517، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 5586» «رقم طبعة با وزير 4900»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1314)، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. ذكر البيان بأن قوله فلا شيء له أراد به البائع لا المشتري-
بیع کا بیان - «فلا شيء له» سے مراد بیچنے والا ہے نہ کہ خریدار۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4922
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ ابْتَاعَ نَخْلا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص پیوندکاری ہو جانے کے بعد کھجور کا باغ خریدتا ہے تو اس کا پھل اس شخص کو ملے گا جس نے اسے فروخت کیا ہے، البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا) اور جو شخص کوئی غلام خریدتا ہے، جس کے پاس مال موجود ہو تو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا، البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4922]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2204، 2206، 2379، 2716، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1543، وابن الجارود فى "المنتقى"، 684، 685، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4922، 4923، 4924، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3433، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1244، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2210، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7444، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4589، والحميدي فى (مسنده) برقم: 625» «رقم طبعة با وزير 4901»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں