🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب البيع المنهي عنه - ذكر الخبر المفسر للفظة المجملة التي ذكرناها-
ممنوعہ بیوع کا بیان - وہ خبر بیان کی گئی جو اس غیر واضح لفظ (مجمل لفظ) کی تفسیر کرتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4953
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضافی پانی کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں گھاس اُگنا بند ہو جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4953]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1565، وابن الجارود فى "المنتقى"، 648، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4953، 5155، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2301، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4674، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2477، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10963، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14865» «رقم طبعة با وزير 4932»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «أحاديث البيوع»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن منع فضل الماء قصد الضرر فيه على المسلمين-
ممنوعہ بیوع کا بیان - مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی نیت سے اضافی پانی روکنے سے ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4954
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَضْمَرَ فِيهِ الْمَاءَ الَّذِي لا يَقَعُ فِيهِ الْحَوْزُ وَلا يَتَمَلَّكُهُ أَحَدٌ مَا دَامَ مَشَاعًا مِثْلَ الْمِيَاهِ الْجَارِيَةِ الْمُشْتَرِكَةِ بَيْنَ النَّاسِ، وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ الْمَاءُ الَّذِي يَكُونُ لِلْمَرْءِ فِي الْبَادِيَةِ مِنْ بِئْرٍ أَوْ عَيْنٍ فَيَنْتَفِعُ بِهِ، وَيَمْنَعُ النَّاسَ مَا فَضَلَ عَنْهُ، فَنُهِيَ عَنْ مَنْعِ الْمُسْلِمِينَ مَا فَضَلَ مِنْ مَائِهِ بَعْدَ قَضَاءِ حَاجَتِهِ عَنْهُ، لأَنَّ فِي مَنْعِهِ ذَلِكَ مَنْعَ النَّاسِ عَنِ الْكَلإِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اضافی پانی سے منع نہ کیا جائے ورنہ اس کے نتیجے میں گھاس کا اگنا بند ہو جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جس میں حوض واقع نہ ہو (یعنی اس کے اردگرد چار دیواری کھڑی نہ ہو)، کوئی ایک شخص تنہا اس کا مالک نہ ہو اور وہ لوگوں کے درمیان مشترکہ طور پر استعمال ہوتا ہو، جو بہتے ہوئے پانی کی مانند مشترک ہوتا ہے اور اس میں اس بات کا احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد وہ پانی ہو جو جنگل میں کنویں یا چشمے کا ہو اور اس کے ذریعے نفع حاصل کیا جاتا ہو، پھر کوئی آدمی اضافی پانی کے استعمال سے لوگوں کو منع کر دے؛ اور اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد مسلمانوں کو اضافی پانی استعمال کرنے سے روک دیا جائے کیونکہ اس سے روکنے کے نتیجے میں لوگوں کو گھاس ملنے سے روکنا بھی لازم آئے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4954]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2353، 2354، 6962، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1566، وابن الجارود فى "المنتقى"، 649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4954، 4956، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5742، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3473، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1272، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2478، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11177، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7442» «رقم طبعة با وزير 4933»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (4261)، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن منع المرء فضل الماء الذي لا حاجة به إليه-
ممنوعہ بیوع کا بیان - اس پانی کو روکنے سے ممانعت جس کی انسان کو خود ضرورت نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4955
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْنَعَ نَقْعُ الْبِئْرِ، يَعْنِي فَضْلَ الْمَاءِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أُمُّهُ عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، وَكَانَتْ مِنْ أَعْلَمِ النِّسَاءِ بِحَدِيثِ عَائِشَةَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کنویں کے «نَقْع» سے منع کیا جائے۔ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد اضافی پانی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) محمد بن عبدالرحمن نامی راوی کی والدہ عمرہ بنت عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ ہیں، یہ خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول احادیث کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی خاتون ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4955]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4955، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2479، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11966، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25380» «رقم طبعة با وزير 4934»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (2388).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. باب البيع المنهي عنه - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل-
ممنوعہ بیوع کا بیان - وہ علت بیان کی گئی جس کی وجہ سے اس فعل سے روکا گیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4956
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَيْوَةَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى غِفَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ، وَلا تَمْنَعُوا الْكَلأَ، فَيَهْزُلَ الْمَاءُ وَيَجُوعَ الْعِيَالُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اضافی پانی سے منع نہ کرو اور گھاس سے منع نہ کرو ورنہ مال (یعنی زرعی زمین) ختم ہو جائے گی اور بال بچے بھوکے رہ جائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4956]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2353، 2354، 6962، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1566، وابن الجارود فى "المنتقى"، 649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4954، 4956، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5742، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3473، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1272، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2478، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11177، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7442» «رقم طبعة با وزير 4935»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف بهذا اللفظ - «الضعيفة» (4261).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن بيع الأرض المبذور فيها مع البذر قبل أن يظهر ما يتولد منه-
ممنوعہ بیوع کا بیان - اس زمین کو بیچنے سے ممانعت جس میں بیج بو دیا گیا ہو اور ابھی پیداوار ظاہر نہ ہوئی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4957
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيَاضِ الأَرْضِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی بیاض سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4957]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1487، 2189، 2196، 2381، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1534، وابن الجارود فى "المنتقى"، 650، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4957، 4971، 4992، 4995، 5000، 5031، 5192، 5193، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2287، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3887، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3370، 3373، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1290، 1313، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2216، 2218، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10709، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2912، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14542» «رقم طبعة با وزير 4936»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (5/ 20).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن تلقي المشتري البيوع-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بازار کے خریداروں کو بیچ میں جا کر روک لینے (تلقی رکبان) سے ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4958
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ هُوَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (منڈی سے باہر ہی) سوداگروں سے ملنے سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4958]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2149، 2164، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1518، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4958، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1220، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10839، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4177» «رقم طبعة با وزير 4937»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (336)، «أحاديث البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. باب البيع المنهي عنه - ذكر البيان بأن التلقي للبيوع إنما زجر عنه إلى أن تهبط الأسواق-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بیان کہ بیوع کے استقبال (تلقی) سے ممانعت صرف اس وقت تک ہے جب تک سامان بازار میں نہ پہنچ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4959
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ تَلَقِّي السِّلَعِ حَتَّى تَهْبِطَ الأَسْوَاقَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کو (منڈی سے باہر ہی) ملنے سے منع کیا ہے جب تک وہ بازار نہیں پہنچ جاتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4959]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2139، 2165، 5142، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1412، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1910، وابن الجارود فى "المنتقى"، 621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4047، 4051، 4959، 4965، 4966، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2081، 3436، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1868، 2171، 2179، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10998، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4619» «رقم طبعة با وزير 4938»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (2165)، م (5/ 5).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن أن يبيع المرء الحاضر للبادي من الأعراب-
ممنوعہ بیوع کا بیان - دیہاتی کے لیے شہری شخص کے بیچنے سے ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4960
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَدَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شہری شخص کسی دیہاتی کے لیے ہرگز سودا نہ کرے، تم لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطا کرتا رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4960]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1522، وابن الجارود فى "المنتقى"، 625، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4960، 4963، 4964، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4507، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3442، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1223، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2176، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11016، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14512» «رقم طبعة با وزير 4939»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (330)، «أحاديث البيوع»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. باب البيع المنهي عنه - ذكر الزجر عن بيع الحاضر المهاجر للأعراب-
ممنوعہ بیوع کا بیان - مہاجر کے لیے دیہاتی کی طرف سے بیچنے سے ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4961
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى عَنِ التَّلَقِّي، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ الْمُهَاجِرُ لِلأَعْرَابِيِّ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے (منڈی سے باہر ہی) سوداگروں سے ملنے سے منع کیا ہے اور اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی مہاجر شہری کسی دیہاتی کے لیے سودا کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4961]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2140، 2148، 2150، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1408، 1524، 2563، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4046، 4048، 4050، 4068، 4069، 4070، 4113، 4115، 4117، 4118، 4961، 4970، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2065، 2066، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125 م، 1126، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1867، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 647، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10567، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7254» «رقم طبعة با وزير 4940»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحاديث البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. باب البيع المنهي عنه - ذكر البيان بأن الحاضر قد زجر عن أن يبيع للبادي وإن لم يكن بالمهاجر-
ممنوعہ بیوع کا بیان - بیان کہ حاضر شخص کو دیہاتی کے لیے بیچنے سے روکا گیا ہے خواہ وہ مہاجر نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4962
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَقَالَ: لا تَلَقُّوا الْبُيُوعَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری شخص کسی دیہاتی کے لیے سودا کرے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم سوداگروں کو (منڈی سے باہر) نہ ملو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البيوع/حدیث: 4962]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2159، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4962، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4509، النسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6044، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11017، 11018، 11019» «رقم طبعة با وزير 4941»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (2159).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں