🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

3. بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
ولاء صرف اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1080
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے آقا نے کہا: ہم اس شرط پر اسے آپ کو بیچتے ہیں کہ اس کی ولاء کی نسبت ہماری طرف ہو۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے یہ بات (اسے آزاد کرنے سے) نہ روکے اور بے شک ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1077).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1081
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ [ ص: 15 ] لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا. قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ". أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَالسَّابِعَ وَالثَّامِنَ مِنْ كِتَابِ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ وَهُمَا أَوَّلُ مَا فِيهِ.
عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا مدد طلب کرنے کے لیے آئیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تیرے آقا یہ پسند کرتے ہیں کہ میں تیری قیمت انہیں یکمشت دے کر تجھے آزاد کر دوں تو میں ایسا کرتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات اپنے آقا سے کہی تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر یہ کہ تیری ولاء ہمارے لیے ہو۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یحییٰ نے کہا: عمرہ کا خیال ہے کہ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے یہ بات (اسے آزاد کرنے سے) نہ روکے۔ تو اسے خرید کر آزاد کر دے، بے شک ولاء اس کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1081]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى المكاتب باب بيع المكاتب اذا رضي (2564).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ وَلَاءِ الْمَنْبُوذِ
لاوارث بچے کی ولاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1082
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُنَيْنِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ: أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَخْذِ هَذِهِ النَّسَمَةِ؟ قَالَ: وَجَدْتُهَا ضَائِعَةً فَأَخَذْتُهَا، فَقَالَ لَهُ عَرِيفِي: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّهُ رَجُلٌ صَالِحٌ، قَالَ: أَكَذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: اذْهَبْ فَهُوَ حُرٌّ وَلَكَ وَلَاؤُهُ وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ. أَخْرَجَهُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
بنو سلیم کے ایک آدمی سنین بن ابی جمیلہ سے روایت ہے کہ اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں راستے میں پڑا ہوا ایک بچہ ملا، تو وہ اسے لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے کس چیز نے اس جان کو اٹھانے پر آمادہ کیا؟ اس نے کہا: یہ ضائع ہو رہا تھا لہذا اس کو میں نے اٹھا لیا۔ ان کو میرے سردار نے کہا: اے امیر المومنین! یہ نیک آدمی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم چلے جاؤ، یہ بچہ آزاد ہے، اس کی ولاء تیرے لیے ہے اور اس کا خرچہ ہمارے ذمہ ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1082]
تخریج الحدیث: «اسناده،صحیح اخرجه البيهقي: 201/6، 202 - وعبد الرزاق (16182) وابن أبي شيبة (31569).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ إِرْثِ الْوَلَاءِ
ولاء کی وراثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1083
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ هِشَامٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ لَهُ ثَلَاثَةً: ابْنَيْنِ لِأُمٍّ، وَرَجُلًا لِعِلَّةٍ فَهَلَكَ أَحَدُ اللَّذَيْنِ لِأُمٍّ، وَتَرَكَ مَالًا وَمَوَالِيَ، فَوَرِثَهُ أَخُوهُ الَّذِي لِأُمِّهِ وَلِأَبِيهِ مَالَهُ وَوَلَاءَ مَوَالِيهِ ثُمَّ هَلَكَ الَّذِي وَرِثَ الْمَالَ وَوَلَاءَ الْمَوَالِي وَتَرَكَ ابْنَهُ وَأَخَاهُ لِأَبِيهِ، فَقَالَ ابْنُهُ: قَدْ أَحْرَزْتُ مَا كَانَ أَبِي أَحْرَزَ مِنَ الْمَالِ وَوَلَاءَ الْمَوَالِي، وَقَالَ أَخُوهُ: لَيْسَ كَذَلِكَ إِنَّمَا أَحْرَزْتُ الْمَالَ فَأَمَّا وَلَاءُ الْمَوَالِي فَلَا، أَرَأَيْتَ لَوْ هَلَكَ أَخِي الْيَوْمَ أَلَسْتُ أَرِثُهُ أَنَا؟ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَضَى لِأَخِيهِ بِوَلَاءِ الْمَوَالِي. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے بیان کیا کہ عاص بن ہشام فوت ہو گیا تو اس نے تین بیٹے چھوڑے: دو سگے بھائی اور ایک سوتیلا (جس کی ماں اور تھی)۔ سگے بھائیوں میں سے ایک فوت ہوا تو اس نے ترکہ میں مال اور آزاد کردہ غلام چھوڑے۔ اس کا وارث سگا بھائی بنا، اس کے مال کا اور اس کے آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا۔ پھر مال اور غلاموں کی ولاء کا وارث بننے والا بھی فوت ہو گیا، تو اس نے وارثوں میں ایک بیٹا اور ایک سوتیلا بھائی چھوڑا۔ تو اس کے بیٹے نے کہا: میں مال اور آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا وارث ہوں جو میرے باپ نے حاصل کی تھی۔ اور اس مرنے والے کے بھائی نے کہا: مسئلہ اس طرح نہیں ہے، کیونکہ تو نے مال تو وراثت سے حاصل کیا ہے لیکن غلاموں کی نسبت ولاء نہیں، تیرا کیا خیال ہے کہ اگر آج میرا بھائی فوت ہوتا تو کیا میں اس کا وارث نہ ہوتا؟ اب یہ دونوں جھگڑا لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے آزاد کردہ غلاموں کی ولاء کا فیصلہ بھائی کے حق میں کیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1083]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإنقطاعه: اخرجه البيهقي: 1/ 303 - والبغوى في شرح السنة (2227) - ومالك في الموطأ العتاقة والولاء، باب ميراث الولاء.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ الْإِرْثِ بِالْوَلَاءِ
ولاء کے ذریعے وراثت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1084
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَنَّ طَارِقَ بْنَ الْمُرَقَّعِ أَعْتَقَ أَهْلَ بَيْتٍ سَوَائِبَ وَأَتَى بِمِيرَاثِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَعْطُوهُ وَرَثَةَ طَارِقٍ فَأَبَوْا أَنْ يَأْخُذُوهُ، فَقَالَ عُمَرُ: فَاجْعَلُوهُ فِي مِثْلِهِمْ مِنَ النَّاسِ.
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ طارق بن مرقع نے اپنے گھر کے غلاموں کو سائبہ کیا، پھر ان کی میراث آئی۔ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ طارق کے ورثاء کو دے دو، لیکن انہوں نے لینے سے انکار کر دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان جیسے لوگوں میں اس کو بانٹ دو۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1084]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه فان عطاء لم يسمع من عمر أخرجه البيهقی: 10/ 300، 301 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (6064) - وعبد الرزاق (16226) وابن ابي شيبة (31426).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1085
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ: أَنَّ طَارِقَ بْنَ الْمُرَقَّعِ أَعْتَقَ أَهْلَ أَبْيَاتٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ سَوَائِبَ، فَانْقَلَعُوا عَنْ بِضْعَةَ عَشَرَ أَلْفًا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَدْفَعَ إِلَى طَارِقٍ، أَوْ وَرَثَةِ طَارِقٍ أَنَا شَكَكْتُ فِي الْحَدِيثِ هَكَذَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ صِفَةِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.
عطاء سے روایت ہے کہ طارق بن مرقع نے یمن کے اپنے گھر والوں میں سے غلام سائبہ کر کے آزاد کیے۔ تو انہوں نے دس ہزار اور کچھ ترکہ چھوڑا، جب اس بات کا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں یہ طارق یا طارق کے ورثاء کی طرف لوٹا دوں۔ مجھے حدیث میں اس بارے میں شک ہوا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1084).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ
ولاء کی خرید و فروخت اور اسے ہبہ کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1086
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، العتق، باب بيع الولاء وهبته (2535) ومسلم، باب النهي عن بيع الولاء وهبته (1506).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1087
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: الْوَلَاءُ بِمَنْزِلَةِ الْحِلْفِ، أُقِرُّهُ حَيْثُ جَعَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى.
مجاہد سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ولاء قسم (معاہدے) کی طرح ہے، میں اسے وہیں برقرار رکھوں گا جہاں اسے اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: اخرجه البيهقي: 10 / 294 - وفى المعرفة السنن والآثار له، رقم: 6054 - وعبدالرزاق (16140) وابن ابي شيبة (31600).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1088
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1088]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1086).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1089
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق والولاء والمدبر والمكاتب وحسن الملكة /حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1086).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں