مسند الشافعی سے متعلقہ
4. بَابُ إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ
بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1499
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ أَحْيَا مَوَاتًا مِنَ الْأَرْضِ فَهُوَ لَهُ، وَعَادِيُّ الْأَرْضِ للَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ مِنِّي".
ابن طاؤوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غیر آباد زمینوں کو آباد کیا تو وہ اسی کی ہیں، اور پرانی زمینیں اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہیں، پھر یہ میرے طرف سے تمہارے لیے ہیں۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات /حدیث: 1499]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإرساله: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (3737).»
حدیث نمبر: 1500
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ أَحْيَا مَوَاتًا فَهُوَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ".
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غیر آباد زمین کو زرخیز بنایا وہ اسی کے لیے ہے، اور ظالم رگ کا (اس میں) کوئی حق نہیں۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات /حدیث: 1500]
تخریج الحدیث: «أنظر الحديث السابق برقم (1497).»
حدیث نمبر: 1501
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ: أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ قَامَ بِفِنَاءِ دَارِهِ ثُمَّ ضَرَبَ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: سَنَامُ الْأَرْضِ إِنَّ لَهَا سَنَامًا، زَعَمَ ابْنُ فَرْقَدٍ الْأَسْلَمِيُّ أَنِّي لَا أَعْرِفُ حَقِّي مِنْ حَقِّهِ لِي بَيَاضُ الْمَرْوَةِ وَلَهُ سَوَادُهَا، وَلِي مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَيْسَ لِأَحَدٍ إِلَّا مَا أَحَاطَتْ عَلَيْهِ جُدْرَانُهُ، إِنَّ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ مَا يَكُونُ زَرْعًا أَوْ حَفْرًا أَوْ يُحَاطُ بِالْجُدُرَاتِ وَهُوَ مِثْلُ إِبْطَالِهِ التَّحْجِيرَ، يَعْنِي مَا يَعْمُرُ بِهِ مِثْلَ مَا يُحَجِّرُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
علقمہ بن نضلہ سے روایت ہے کہ ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر اپنا پاؤں مارا اور فرمایا: ”بیچ والی زمین، بے شک زمین کے لیے بھی کہاں ہے۔“ تو ابن فرقد اسلمی نے یہ سمجھا کہ میں نے ان کے حق سے اپنا حق نہیں پہچانا لہذا میرے لیے مروہ کی سفیدی (یعنی غیر آباد زمین) اور ان کے لیے اس کی سیاہی (یعنی آباد زمین) ہے۔ جب یہ بات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”مینڈوں کے علاوہ کی جگہ کسی کے لیے نہیں ہے۔ بے شک بنجر زمین کو زندہ کرنا (آباد کرنا) جو کھیتی کی صورت میں ہو، یا کنواں کھودنے کی صورت میں یا مینڈوں کے اٹھانے کی صورت میں، وہ تصرف کے باطل کرنے کی طرح ہے، یعنی اس کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو تصرف سے ممانعت والی چیز کا ہوتا ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات /حدیث: 1501]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجهاله حسن بن القاسم الأزرقى و لإنقطاع بين علقمة بن نضلة وعمر بن الخطاب: اخرجه البيهقى 148/6 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3750).»
5. بَابٌ مِنْهُ فِي إِقْطَاعِ الدُّورِ وَالْعَقِيقِ
گھروں اور عقیق کو بطور جاگیر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1502
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ النَّاسَ الدُّورَ، فَقَالَ حَيٌّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو عَبْدِ بْنِ زُهْرَةَ: نَكِّبْ عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَلِمَ ابْتَعَثَنِي اللَّهُ إِذَنْ؟ إِنَّ اللَّهَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيهِمْ حَقُّهُ".
یحییٰ بن جعدہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگوں کے لیے گھروں کو معین کیا، جب بنوزہرہ کے ایک قبیلے جنہیں بنوعبد بن زہرہ کہا جاتا تھا نے کہا کہ ابن ام عبد (یعنی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو ہمارے گھروں سے ہٹائیں (یعنی ہمارے گھروں کے پاس انہیں قطعہ زمین نہ دیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مجھے اللہ تعالیٰ نے کیوں بھیجا ہے؟ بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں کرتے جو مہمانوں کے حقوق ادا نہیں کرتی۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات /حدیث: 1502]
تخریج الحدیث: «ثبت موصولا اخرجه الطبرانی (10534) والبيهقى 6 / 156 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3738) . وقال الهيثمي في مجمع الزوائد: 4 / 197 - رجاله ثقات وقال المنذر في الترغيب والترهيب: 3/ 119 - اسناده جید وقال ابن حجر في التلخيص الحبير: 63/3 - اسناده قوی.»
حدیث نمبر: 1503
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ أَرْضًا وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْطَعَ الْعَقِيقَ أَجْمَعَ، وَقَالَ: أَيْنَ الْمُسْتَقْطِعُونَ؟ وَالْعَقِيقُ قَرِيبٌ مِنَ الْمَدِينَةِ. [ ص: 230 ] أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
ہشام اپنے باپ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو قطعہ زمین دیا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عقیق کے علاقے کے قطعے بنائے اور لوگوں کو جمع کر کے فرمایا: ”قطعہ زمین کا مطالبہ کرنے والے کہاں ہیں؟“ اور عقیق مقام مدینہ کے قریب ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات /حدیث: 1503]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقي: 6 / 146، 145 - وفي المعرفة السنن والآثار له (3748).»
6. بَابُ الْحِمَى
بخار کا بیان
حدیث نمبر: 1504
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا حِمَى إِلَّا للَّهِ وَرَسُولِهِ".
صعب بن جثادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی چراگاہ نہیں مگر وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات /حدیث: 1504]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، المساقاة، باب لا حمى الا الله ورسوله (2370).»
حدیث نمبر: 1505
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُقَالُ لَهُ: هُنَيٌّ عَلَى الْحِمَى، فَقَالَ لَهُ: يَا هُنَيُّ، ضُمَّ جَنَاحَكَ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُجَابَةٌ. وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ. وَإِيَّايَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ، فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَانِ إِلَى نَخْلٍ وَزَرْعٍ، وَإِنَّ رَبَّ الْغُنَيْمَةِ يَأْتِي بِعِيَالِهِ فَيَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَفَتَارِكُهُمْ أَنَا؟ لَا أَبَا لَكَ، فَالْمَاءُ وَالْكَلَأُ أَهْوَنُ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ، [ ص: 231 ] وَايْمُ اللَّهِ لَعَلَّ ذَلِكَ أَنَّهُمْ لَيَرَوْنُ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلَادُهَا قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ. وَلَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى مَا حَمَيْتُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنْ بِلَادِهِمْ شَيْئًا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
زید بن اسلم نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہنی نامی اپنے ایک غلام کو (سرکاری) چراگاہ کا نگران مقرر کیا، تو اس سے مخاطب ہو کر کہا: ”اے ہنی! اپنے ہاتھوں کو روکے رکھنا (یعنی کسی پر ظلم نہ کرنا)، مظلوم کی بددعا سے بچنا، کیونکہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے۔ گنے چنے اونٹوں اور گنی چنی بکریوں والوں کو چراگاہ میں داخل ہونے کی اجازت دینا، اور ابن عفان (مراد عثمان رضی اللہ عنہ) اور ابن عوف (عبدالرحمن رضی اللہ عنہ) جیسے امیر صحابہ ثانی کے مویشیوں کے بارے میں احتیاط کرنا (یعنی ان کے دولت مند ہونے کی وجہ سے غرباء پر مقدم نہ کرنا) کیونکہ اگر ان کے جانور ہلاک ہو جائیں تو یہ کھجور کے باغات اور کھیتیوں سے اپنی معاش حاصل کر لیں گے اور مویشیوں کے ہلاک ہونے کی صورت میں گنی چنی بکریوں والا اپنے بچوں کی فریاد لے کر آئے گا اور کہے گا: اے امیر المومنین! اے امیر المومنین! تو کیا میں انہیں چھوڑ دوں، تیرا باپ نہ ہو (ان کو پالنا)۔ ان کے لیے پانی اور چارے کا بندوبست کرنا درہم و دینار سے زیادہ آسان ہے۔ اللہ کی قسم! شاید یہ لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ میں نے ان پر ظلم کیا ہے کیونکہ یہ ان کی زمینیں ہیں، انہوں نے دور جاہلیت میں اس کے لیے لڑائیاں لڑیں، اور اسلام لانے کے بعد بھی یہ ان کے پاس ہیں۔ اور اگر وہ مال (مراد گھوڑے ہیں) نہ ہوتا جس پر میں لوگوں کو جہاد میں سوار کرتا ہوں تو میں مسلمانوں کی زمینوں میں سے تھوڑی سی زمین بھی چراگاہ نہ بناتا۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات /حدیث: 1505]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الجهاد والسير، باب اذا سلم قوم فى دار الحرب ولهم مال وأرضون فهى لهم (3059).»