🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ مَوْضِعِ الْيَمِينِ وَوَقْتِهَا
قسم کی جگہ اور اس کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1720
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا بِيَمِينٍ آثِمَةٍ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے میرے اس منبر پر جھوٹی قسم کھائی، اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم بنالیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات /حدیث: 1720]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، الايمان والنذور، باب ماجاء في ترعظيم اليمين عند منبر النبي صلی اللہ علیہ وسلم (3246) وابن ماجة، الاحكام، باب اليمين عند مقاطع الحقوق (2325) وصححه ابن الجارود (927) وابن حبان، والحاكم: 4 / 296 - ووافقه الذهبي.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1721
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ الْمُرِّيَّ قَالَ: اخْتَصَمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ مُطِيعٍ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فِي دَارٍ، فَقَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ زَيْدٌ: أَحْلِفُ لَهُ مَكَانِي. قَالَ مَرْوَانُ: لَا وَاللَّهِ إِلَّا عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ، فَجَعَلَ زَيْدٌ يَحْلِفُ أَنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ، وَيَأْبَى أَنْ يَحْلِفَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَجَعَلَ مَرْوَانُ يَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ مَالِكٌ: كَرِهَ زَيْدٌ صَبْرَ الْيَمِينِ.
ابو غطفان المری نے بیان فرمایا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ابن مطیع نے اپنے ایک (مشترکہ) گھر کے جھگڑے کا مقدمہ مروان بن حکم کے سامنے رکھا، تو مروان نے اس بات پر فیصلہ دیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ منبر پر قسم کھائیں۔ زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنی جگہ پر ہی قسم کھاؤں گا۔ مروان نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! وہیں قسم کھاؤ جہاں لوگوں کے فیصلے ہوتے ہیں (یعنی منبر پر)۔ تو زید رضی اللہ عنہ یہ قسم کھاتے تھے کہ میں سچا ہوں لیکن منبر پر قسم کھانے سے انکار کرتے تھے اور مروان کو اس بات پر تعجب ہوتا تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زید رضی اللہ عنہ نے زبردستی قسم لینے کو ناپسند کیا ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات /حدیث: 1721]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقی: 10 / 177 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5930).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1722
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُؤَمَّلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الطَّائِفِ فِي جَارَتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، وَلَا شَاهِدَ عَلَيْهِمَا فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنِ احْبِسْهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ اقْرَأْ عَلَيْهِمَا: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا [آلِ عِمْرَانَ: 77] فَفَعَلْتُ فَاعْتَرَفَتْ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ.
ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو طائف سے دو لونڈیوں کے متعلق لکھا جن میں سے ایک نے دوسری کو مارا تھا اور اس وقت کوئی گواہ بھی نہیں تھا، تو انہوں نے میری طرف جواب میں لکھ بھیجا کہ ان کو عصر کے بعد روک اور ان پر یہ آیت پڑھ کہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں۔ (آل عمران: 77)۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں میں نے اسی طرح کیا تو ان میں سے ایک نے (جرم کا) اعتراف کر لیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات /حدیث: 1722]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، التفسير، باب ﴿ان الذين يشترون بعهد الله ....﴾ (4552).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ لَغْوِ الْيَمِينِ وَمَنْ حَلَفَ عَلَىٰ يَمِينٍ فَوَكَّدَهَا
لغو قسم اور اس شخص کا جس نے کسی بات پر قسم کھائی پھر اس کی پختگی کی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1723
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَهِيَ مُعْتَكِفَةٌ فِي ثَبِيرٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ [الْبَقَرَةِ: 225] قَالَتْ: هُوَ: لَا وَاللَّهِ، بَلَى وَاللَّهِ.
عطاء نے بیان فرمایا کہ میں اور عبید بن عمیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے جبکہ وہ شہیر مقام پر اعتکاف بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں نے ان سے اللہ کے فرمان اللہ تم سے تمہاری لغو قسموں پر مواخذہ نہیں کرے گا (البقرہ: 225) سے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ وہ (قسمیں ہیں جو لوگوں کا تکیہ کلام ہوں جیسے) نہیں اللہ کی قسم! ہاں اللہ کی قسم! [مسند امام شافعی/ كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات /حدیث: 1723]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو داود الايمان والنذور، باب لغو اليمين (3254) وصححه ابن حبان.» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: لَغْوُ الْيَمِينِ قَوْلُ الْإِنْسَانِ: لَا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ لغو قسم یہ ہے کہ انسان (عادتاً) کہے: نہیں اللہ کی قسم! اور ہاں اللہ کی قسم! [مسند امام شافعی/ كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات /حدیث: 1724]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاری، الايمان والنذور، باب﴿لا يؤاخذكم الله باللغو فى ايمانكم﴾ (6663).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1725
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَوَكَّدَهَا فَعَلَيْهِ عِتْقُ رَقَبَةٍ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْكَفَّارَاتِ وَالنُّذُورِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور پھر اسے پختہ کر دیا تو (اس کو توڑنے پر) اس پر ایک گردن آزاد کرانا ضروری ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات /حدیث: 1725]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 56/10 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5814).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں