🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
139. (بَابُ بَيْعِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ)
(سونا چاندی کی برابر وزن فروخت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 215
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبَ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا أَرَى بِهَذَا بَأْسًا. فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ؟ أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ! لا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ أَنْتَ فِيهَا، ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ:" أَنْ لا تَبِيعَ ذَلِكَ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ وَوَزْنًا بِوَزْنٍ".
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سونے یا چاندی کا برتن اس کے وزن سے زیادہ سونے یا چاندی کے عوض خریدا، تو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جیسے سودے سے منع فرماتے ہوئے سنا الا یہ کہ دونوں کا وزن برابر ہو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے اس میں کوئی حرج نہیں لگتا (کیونکہ زیادہ مزدوری کے عوض ہے)۔ (بعض نسخوں کے مطابق) سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا میرے معاملے میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کون نمٹے گا میں حدیث سنا رہا ہوں یہ اپنی رائے دے رہا ہے پھر ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا میں ایسی زمین میں سکونت اختیار نہیں کر سکتا جہاں تم ہو پھر سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے آکر شکایت کی کہ وہاں حدیث پر عمل نہیں کیا جا رہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام حکم لکھا کہ سونا چاندی کی خرید و فروخت وزن بروزن اور مثل بمثل (یعنی دونوں کی جب جنس ایک ہو تو وزن برابر برابر ہو اور نقد ہو) ہوں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 215]
تخریج الحدیث: «سنن نسائی، البيوع، باب الذهب بالذهب، رقم: 4572 وقال الالباني: صحیح مختصر، السنن الكبرى للبيهقى: 280/5، مؤطا امام مالك، البيوع، باب بيع الذهب بالفضة تبرا وعنيا، رقم: 33 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
140. (بَابُ أَحْكَامِ بَيْعِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ)
(سونا چاندی کی بیع کے احکام)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 216
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ، وَلا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں برابر برابر نہ ہوں دونوں اطراف سے کسی قسم کی کمی یا زیادتی کو روانہ رکھو اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں برابر برابر نہ ہوں دونوں اطراف سے کمی یا زیادتی روا نہ رکھو، اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 216]
تخریج الحدیث: «صحيح البخاري، البيوع، باب بيع الفضة بالفضة، رقم: 2177، صحيح مسلم، المساقاة، باب الربا، رقم: 1584 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
141. (بَابُ حُكْمِ النَّقْدِ فِي الْبَيْعِ)
(بیع میں نقد لین دین کا حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 217
عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ، أَنَّهُ: أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَمَسَ، صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ أَوْ تَأْتِيَ خَازِنَتِي شَكَّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لا تُفَارِقْهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلا هَاءَ وَهَاءَ".
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں سو دینار کا چینج چاہیے تھا تو انہیں سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بلایا معاملہ طے پایا وہ دینار ہاتھ میں لے کر الٹنے پلٹنے لگے اور کہنے لگے ذرا میرے خادمہ یا خزانچی کو غابہ سے آلینے دو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ باتیں سن رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ جب تک سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے دینار نہ لے لو ان سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا اگر چاندی کے بدلہ میں نقد انقد نہ ہو تو سود ہو گا، گندم گندم کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے کھجور، کھجور کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتی ہے، جو جو کے بدلے اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری البیوع باب بيع الشعير بالشعير، رقم: 2174، صحيح مسلم، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدًا، رقم: 1586 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
142. (بَابُ أَحْكَامِ الرِّبَا وَمُبَادَلَةِ الْأَشْيَاءِ)
(سود اور تبادلہ اشیاء کے احکام)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آَخَرُ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ". قَالَ وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا التَّمْرَ أَوِ الْمِلْحَ وَزَادَ الآخَرُ:" مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، نمک نمک کے بدلے، نہ فروخت کرو الا یہ کہ برابر، برابر نقد بنقد ہو ایک ہاتھ دو دوسرے سے لو والا معاملہ ہولیکن سونا چاندی کے عوض، چاندی سونے کے عوض، گندم جو کے عوض، جو گندم کے عوض، کھجور نمک کے عوض نمک کھجور کے عوض کا سودا ہو تو جیسے مرضی فروخت کرو (وزن میں برابری ضروری نہیں لیکن) ہو نقد ونقد جنس ایک ہے تو کمی پیشی کرنا یا کرانا سود ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 218]
تخریج الحدیث: «سنن نسائی، البيوع، باب بيع البر بالبر، رقم: 4560، سنن ابن ماجه التجارات، باب الصرف و مالا يجوز متفاضلا يداً بيد، رقم: 2254، وقال الالباني: صحيح .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
143. (بَابُ الرِّبَا فِي بَيْعِ التَّمْرِ)
(کھجوروں کے تبادلے میں سود)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 219
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟" فَقَالَ: أُعْطِيتُ صَاعَيْنِ وَأَخَذْتُ صَاعًا مِنْ هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَيْتَ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِهَا".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لائی گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجور تو ہماری کھجوروں میں سے نہیں؟ اس پر ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے اپنی کھجور کے دو صاع دے کر ایک صاع یہ لی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سود ہے اسے واپس کرو پھر اپنی کھجور قیمتاً فروخت کرو پھر اس قیمت سے ہمارے لیے یہ کھجور علیحدہ سے خرید لو۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 219]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، البيوع، باب بيع الطعام مثلاً بمثل رقم: 1594 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
144. (بَابُ تَحْرِيمِ الرِّبَا فِي الْأَجْنَاسِ الْمُتَّحِدَةِ)
(ہم جنس اشیاء میں سود کی ممانعت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 220
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ، عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ إِذْ غَمَزَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي، فَقَالَ: سَلْهُ عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ بِفَضْلٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا يَأْمُرُنِي أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: هُوَ رِبًا، فَقَالَ: سَلْهُ بِرَأْيِهِ يَقُولُ أَمْ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا يَقُولُ: سَلْهُ بِرَأْيِهِ يَقُولُ أَمْ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُحَدِّثُكُمْ: جَاءَهُ صَاحِبُ نَخْلَةٍ بِصَاعِ تَمْرٍ طَيِّبٍ، فَقَالَ لَهُ:" كَأَنَّ هَذَا أَجْوَدُ مِنْ تَمْرِنَا" فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا وَأَخَذْتُ صَاعًا مِنْ هَذَا التَّمْرِ، فَقَالَ:" أَرْبَيْتَ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سِعْرَ هَذَا فِي السُّوقِ كَذَا وَكَذَا وَسِعْرُ هَذَا فِي السُّوقِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" فَبِعْهُ بِسِلْعَةٍ، ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أَيَّ تَمْرٍ شِئْتَ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: التَّمْرُ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الرِّبَا أَمِ الْفِضَّةُ.
ابو نضرۃ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے مجھے پیچھے سے دبایا کہنے لگا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھ چاندی بعوض چاندی کمی و بیشی کے ساتھ (سودا جائز ہے؟) میں نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ آدمی مجھے کہتا ہے کہ میں آپ سے چاندی بعوض چاندی کا مسئلہ پوچھوں ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو سود ہے۔ اس آدمی نے کہا اب پوچھ یہ آپ رضی اللہ عنہ کی ذاتی رائے ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ میں نے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے کہا یہ کہتا ہے یہ رائے جناب والا کی ہے یا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے؟ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے وہ بیان کیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں مشاہدہ کیا ایک کھجور والا ایک صاع عمدہ کھجور لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا یہ ہماری کھجور سے گویا عمدہ ہے۔ اس آدمی نے عرض کی اپنی کھجور کی دو صاع دے کر ایک صاع لی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے سودی سودا کیا تو اس نے کہا اللہ کے رسول اس کی قیمت بازار میں یہ یہ ہے اور ہماری کھجور کا بازاری ریٹ یہ یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کھجور کو قیمت فروخت کیا کر پھر قیمتا جو اچھی لگے خرید لیا کر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھجور میں اگر سود ہو گا تو چاندی میں کیوں نہیں ہو گا؟ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ، برقم: 219 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
145. (بَابُ تَحْرِيمِ الرِّبَا فِي الْأَصْنَافِ الرِّبَوِيَّةِ)
(اشیائے ربویہ میں سود کی ممانعت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 221
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ , عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ أُنَاسٌ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبِيعُونَ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِلَى الْعَطَا، فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ، إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى".
ابو اشعث صنعانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں کچھ لوگ بازاروں میں آئے جو سونے کے برتن اور ہار وغیرہ فروخت کرتے تھے تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے اور گندم گندم کے بدلے، اور کھجور کھجور کے بدلے اور جو جو کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے فروخت کرنے سے منع کیا الا یہ کہ دونوں عوض ایک جیسے ہوں وزن میں برابر ہوں، جس نے کمی و بیشی کی یا کرائی اس نے سود کا سودا کیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 221]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقداً، رقم: 1587 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
146. (بَابُ أَحْكَامِ تِجَارَةِ الْأَصْنَافِ الرِّبَوِيَّةِ)
(اشیاءِ ربویہ کی تجارت کے احکام)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 222
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ فَأَصَبْنَا ذَهَبًا وَفِضَّةً فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلا أَنْ يَبِيعَهَا النَّاسَ فِي أُعْطِيَاتِهِمْ قَالَ: فَسَارَعَ النَّاسُ فِيهَا فَقَامَ عُبَادَةُ فَنَهَاهُمْ فَرَدُّوهَا فَأَتَى الرَّجُلُ مُعَاوِيَةَ فَشَكَا إِلَيْهِ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ خَطِيبًا فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَيْهِ لَمْ نَسْمَعْهَا، فَقَامَ عُبَادَةُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَنُحَدِّثَنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلا الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَلا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلا مِثْلا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ".
ابو اشعث رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم نے ایک لڑائی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لڑی۔ مال غنیمت میں سونا چاندی ہاتھ لگا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اس مالِ غنیمت کو لوگوں کو ملنے والے عطیات (تنخواہ) کے عوض فروخت کر دے (یعنی جب عطیات ملے قیمت اس وقت وصول کر لیں گے) لوگوں نے خریداری میں جلدی کی سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے لوگوں کو منع کیا تو لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نمائندے کو سونا چاندی واپس کر دیا اس نے جا کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو شکایت کر دی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ لوگوں کا حال کیا ہو گیا وہ احادیث رسول کی یہ بیان کرتے ہیں اور آپ کی یہ تم پر جھوٹ باندھتے ہیں (ہم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں) ہم نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا نہیں سنا سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ پھر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: واللہ ہم وہ احادیث ضرور بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی خواہ معاویہ ناپسند کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ سونے کو سونے سے، چاندی کو چاندی سے، گندم کو گندم سے، جو کو جو سے کھجور کو کھجور سے نمک کو نمک سے نہ بیچو الا یہ کہ برابر برابر ہو ایک جیسے اور نقد بنقد ہوں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 222]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ، برقم: 221 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
147. (بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ قَبْضِهِ)
(غلہ پر قبضہ سے پہلے فروخت کی ممانعت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 223
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کو پوری طرح قبضہ کرنے سے پہلے آگے فروخت کر دینے سے منع فرمایا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب الكيل على البائع والمعطى، رقم: 2126، صحیح مسلم، البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، رقم: 1526»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 224
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غذائی جنس خریدے تو قبضہ میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب ما يذكر في بيع الطعام والحكرة، رقم: 2133، صحیح مسلم، البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، رقم: 1526»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں