سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب فِي الْمُخَابَرَةِ
باب: مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3406
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَاءٍ يَعْنِي الْمَكِّيَّ، قَالَ ابْنُ خُثَيْمٍ، حَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ لَمْ يَذَرِ الْمُخَابَرَةَ، فَلْيَأْذَنْ بِحَرْبٍ مِنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مخابرہ نہ چھوڑے تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان کر دے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3406]
جناب ابو الزبیر، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص مخابرہ (مزارعت) نہ چھوڑے تو اسے چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار رہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2775) (ضعیف)» (اس کے راوی ابو الزبیر مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الزبير عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
إسناده ضعيف
أبو الزبير عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
حدیث نمبر: 3407
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ، قُلْتُ: وَمَا الْمُخَابَرَةُ؟، قَالَ: أَنْ تَأْخُذَ الْأَرْضَ بِنِصْفٍ، أَوْ ثُلُثٍ، أَوْ رُبْعٍ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے روکا ہے، میں نے پوچھا: مخابرہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: مخابرہ یہ ہے کہ تم زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر لو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3407]
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُخَابَرَةِ» ”مخابرہ“ سے منع فرمایا ہے۔ (ثابت بن حجاج نے پوچھا کہ): ”مخابرہ سے کیا مراد ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ کہ تو زمین کو آدھی، تہائی یا چوتھائی پر حاصل کر لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3699)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/187) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد بٹائی کی وہ صورتیں ہیں جن میں فریقین کے اندر اختلاف پیدا ہونے کے اسباب ہوتے ہیں کیوں کہ بٹائی آپ سے صحیح احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
35. باب فِي الْمُسَاقَاةِ
باب: مساقاۃ یعنی درختوں میں بٹائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3408
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کو زمین کے کام پر اس شرط پہ لگایا کہ کھجور یا غلہ کی جو بھی پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا تمہیں دیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3408]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے معاملہ طے فرمایا تھا کہ ”جو پھل یا کھیتی آئے گی اس میں سے آدھا انہیں ملے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 8 (2329)، صحیح مسلم/المساقاة 1 (1551)، سنن الترمذی/الأحکام 41 (1383)، سنن ابن ماجہ/الرھون 14 (2467)، (تحفة الأشراف: 8138)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/17، 22، 37)، سنن الدارمی/البیوع 71 (2656) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مساقاۃ یہ ہے کہ باغ کا مالک اپنے باغ کو کسی ایسے شخص کے حوالہ کر دے جو اس کی پوری نگہداشت کرے پھر اس سے حاصل ہونے والے پھل میں دونوں برابر کے شریک ہوں، مساقاۃ مزارعت ہی کی ایک شکل ہے فرق یہ ہے کہ مساقاۃ کا تعلق درختوں سے ہے جب کہ مزارعت کا تعلق کھیتی سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2329) صحيح مسلم (1551)
حدیث نمبر: 3409
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ غَنَجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ، وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ ثَمَرَتِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے کھجور کے درخت اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ ان میں اپنی پونجی لگا کر کام کریں گے اور جو پیداوار ہو گی، اس کا نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3409]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی کھجوریں اور وہاں کی زمینیں اہل خیبر کو اس شرط پر دے دی تھیں کہ ”وہ ان میں اپنے خرچ پر محنت کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا آدھا پھل ملے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8424) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1551)
حدیث نمبر: 3410
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَ اشْتَرَطَ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ"، قَالَ: أَهْلُ خَيْبَرَ، نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ مِنْكُمْ فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنَّ لَكُمْ نِصْفَ الثَّمَرَةِ وَلَنَا نِصْفٌ، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَحَزَرَ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ وَهُوَ الَّذِي يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، فَقَالَ: فِي ذِهْ كَذَا وَكَذَا، قَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، فَقَالَ: فَأَنَا أَلِي حَزْرَ النَّخْلِ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا، اور یہ شرط لگا دی (واضح کر دیا) کہ اب زمین ان کی ہے اور جو بھی سونا چاندی نکلے وہ بھی ان کا ہے، تب خیبر والے کہنے لگے: ہم زمین کے کام کاج کو آپ لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں تو آپ ہمیں زمین اس شرط پہ دے دیجئیے کہ نصف پیداوار آپ کو دیں گے اور نصف ہم لیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر انہیں زمین دے دی، پھر جب کھجور کے توڑنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر کھجور کا اندازہ لگایا (اسی کو اہل مدینہ «خرص» (آنکنا) کہتے ہیں) تو انہوں نے کہا: اس باغ میں اتنی کھجوریں نکلیں گی اور اس باغ میں اتنی (ان کا نصف ہمیں دے دو) وہ کہنے لگے: اے ابن رواحہ! تم نے تو ہم پر (بوجھ ڈالنے کے لیے) زیادہ تخمینہ لگا دیا ہے، تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا (اگر یہ زیادہ ہے) تو ہم اسے توڑ لیں گے اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دیں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا یہی صحیح بات ہے، اور اسی انصاف اور سچائی کی بنا پر ہی زمین و آسمان اپنی جگہ پر قائم اور ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم راضی ہیں تمہارے آنکنے کے مطابق ہی ہم لے لیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3410]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کر لیا اور شرط کی کہ ”مسلمان اس کی زمین اور اس کے سونے چاندی کے مالک ہیں۔“ تو خیبر والوں نے کہا کہ ”ہم آپ کی نسبت زمین کے زیادہ ماہر ہیں۔ آپ یہ ہمیں دے دیں اور شرط یہ رہی کہ آدھا ہم آپ کو دیں گے اور آدھا خود رکھیں گے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر زمین انہیں دے دی، پھر جب پھل چننے کا موسم آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا جو کھجوروں کے پھل کا اندازہ لگا کر آئے اور اس عمل کو اہل مدینہ «الْخَرْصُ» ”اندازہ لگانا“ کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”فلاں باغ میں اس قدر ہے اور فلاں میں اس قدر۔“ تو انہوں نے کہا: ”اے ابن رواحہ! تو نے ہم پر زیادہ لگا دیا ہے۔“ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”میں نے ان پھلوں کا جو اندازہ لگایا ہے، اس کا میں ذمہ دار ہوں، میں اس کا نصف تمہیں دیتا ہوں۔“ یہودیوں نے کہا: ”یہی وہ حق (اور عدل) ہے جس سے آسمان و زمین قائم ہیں جو آپ نے کہا ہم اس کے لینے پر راضی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزکاة 18 (1820)، (تحفة الأشراف: 6494) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (1820 وسنده حسن)
أخرجه ابن ماجه (1820 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3411
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: فَحَزَرَ، وَقَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَالْفِضَّةَ لَهُ.
جعفر بن برقان سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں لفظ «فحزر» ہے اور «وكل صفراء وبيضاء» کی تفسیر سونے چاندی سے کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3411]
جعفر بن برقان نے اپنی مذکورہ سند سے اس حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور «فَحَزَرَ» کا لفظ استعمال کیا اور «وَكُلُّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ» کے بعد یعنی ” «الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ لَهُ» “ بھی کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6494) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2410)
انظر الحديث السابق (2410)
حدیث نمبر: 3412
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ، عَنْ مِقْسَمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدٍ، قَالَ: فَحَزَرَ النَّخْلَ، وَقَالَ: فَأَنَا أَلِي جُذَاذَ النَّخْلِ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ.
مقسم سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت خیبر فتح کیا، پھر آگے انہوں نے زید کی حدیث (پچھلی حدیث) کی طرح حدیث ذکر کی اس میں ہے پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجور کا اندازہ لگایا، (اور جب یہودیوں نے اعتراض کیا) تو آپ نے کہا: اچھا کھجوروں کے پھل میں خود توڑ لوں گا، اور جو اندازہ میں نے لگایا ہے، اس کا نصف تمہیں دے دوں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3412]
جناب مقسم نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا اور زید کی (مذکورہ بالا) حدیث کی مانند بیان کیا، اس کے لفظ تھے «فَحَزَرَ النَّخْلَ» ”پھل کی مقدار کا اندازہ لگایا“ اور کہا: (اگر تم اس اندازے پر مطمئن نہیں ہو تو) ”پھل کی تڑائی میں کر لوں گا اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دوں گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3410)، (تحفة الأشراف: 6494) (صحیح الإسناد)» (اگلی دونوں روایتوں سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ خود یہ مرسل روایت ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2410)
انظر الحديث السابق (2410)
36. باب فِي الْخَرْصِ
باب: درخت پر پھل کا اندازہ لگانا۔
حدیث نمبر: 3413
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ، قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُ يَهُودَ، يَأْخُذُونَهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ، أَوْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ، لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتُفَرَّقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو (خیبر) بھیجتے تھے، تو وہ کھجوروں کا اٹکل اندازہ لگاتے تھے جس وقت وہ پکنے کے قریب ہو جاتا کھائے جانے کے قابل ہونے سے پہلے پھر یہود کو اختیار دیتے کہ یا تو وہ اس اندازے کے مطابق نصف لے لیں یا آپ کو دے دیں تاکہ وہ زکوٰۃ کے حساب و کتاب میں آ جائیں، اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور ادھر ادھر بٹ جائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3413]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جب کھجوریں پکنے کے قریب آتیں تو ان کے کھائے جانے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرماتے، وہ ان کے پھلوں کی مقدار کا اندازہ لگاتے۔ پھر وہ یہودیوں کو اختیار دیتے کہ وہ یا تو اس اندازہ کردہ مقدار سے اپنا حصہ لے لیں یا مسلمانوں کو دے دیں، اور یہ سب اس لیے ہوتا کہ پھل کھائے جانے سے پہلے اس کی زکوٰۃ (عشر) کا حساب لگایا جا سکے اور تقسیم کیا جا سکے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1606)، (تحفة الأشراف: 16531، 16752) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (1606)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
ضعيف
انظر الحديث السابق (1606)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
حدیث نمبر: 3414
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ:" أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ خَيْبَرَ، فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانُوا، وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو (آدھے آدھے کے اصول پر) انہیں بٹائی پر دے دیا اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو (تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا (اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا)۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3414]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”جب اللہ عز وجل نے خیبر اپنے رسول کو بطور فے عنایت فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس کی زمینوں پر ویسے ہی رہنے دیا جیسے کہ وہ پہلے تھے اور ان کے اور اپنے درمیان متعین حصے طے کر لیے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے ان پر پھلوں کا اندازہ لگایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2648)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/367) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الزبير مدلس وعنعن في ھذا اللفظ والحديث الآتي (الأصل : 3415) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
إسناده ضعيف
أبو الزبير مدلس وعنعن في ھذا اللفظ والحديث الآتي (الأصل : 3415) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122
حدیث نمبر: 3415
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ، وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمْ ابْنُ رَوَاحَةَ، أَخَذُوا الثَّمَرَ، وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار وسق (کھجور) کا اندازہ لگایا (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے) اور ان کا خیال ہے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جب یہود کو اختیار دیا (کہ وہ ہمیں اس کا نصف دے دیں، یا ہم سے اس کا نصف لے لیں) تو انہوں نے پھل اپنے پاس رکھا اور انہیں بیس ہزار وسق (کٹائی کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا پڑا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3415]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار وسق کا اندازہ لگایا تھا اور پھر جب یہودیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے پھل لے لیا اور ان کے ذمے (مسلمانوں کا) بیس ہزار وسق آ گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2869) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1806)
مشكوة المصابيح (1806)