🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب فِي بَيْعِ الْغَرَرِ
باب: دھوکہ کی بیع منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3376
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ"، زَادَ عُثْمَانُ وَالْحَصَاةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ کی بیع سے روکا ہے۔ عثمان راوی نے اس حدیث میں «والحصاة» کا لفظ بڑھایا ہے یعنی کنکری پھینک کر بھی بیع کرنے سے روکا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3376]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دھوکے والی بیع سے منع فرمایا ہے، عثمان نے مزید کہا: «بَيْعِ الْحَصَاةِ» ”بیع الحصاۃ“ سے بھی (منع فرمایا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/البیوع 2 (1513)، سنن الترمذی/البیوع 97 (1230)، سنن النسائی/البیوع 25 (4522)، سنن ابن ماجہ/التجارات 23 (2194)، (تحفة الأشراف: 13794)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/250، 376، 436، 439، 496)، سنن الدارمی/البیوع 20 (2596) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی بائع مشتری سے یا مشتری بائع سے یہ کہے کہ جب میں تیری طرف کنکریاں پھینک دوں تو بیع لازم ہو جائے گی یا بکریوں کے گلے میں جس بکری پر کنکری پڑے وہ میں دے دوں گا یا لے لوں گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1513)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3377
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ، أَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ، وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ أَوْ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے پہناؤں سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ ۱؎ اور منابذہ ۲؎ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ۳؎ ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3377]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو طرح کی خرید و فروخت اور دو طرح سے کپڑا اوڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ خرید و فروخت میں «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ اور «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ“ اور کپڑا اوڑھنے میں ایک «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» ”اشتمال الصماء“ ہے اور دوسرا یہ کہ انسان اپنے اوپر کپڑا اس طرح سے لپیٹ کر بیٹھے کہ شرمگاہ کو ننگا رکھے یا اس پر کچھ نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 10 (367)، البیوع 62 (2144)، 63 (2147)، اللباس 20 (5820)، 21 (5822)، الاستئذان 42 (6284)، سنن النسائی/البیوع 24 (4519)، سنن ابن ماجہ/التجارات 12 (2170)، (تحفة الأشراف: 4154، 4524)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع 1 (1512)، مسند احمد (3/6، 59، 66، 68، 71، 95)، دی/ البیوع 28 (2604) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ملامسہ یہ ہے کہ آدمی کپڑا چھو کر کھولے اور اندر سے دیکھے بغیر خرید لے، اور بعضوں نے کہا کہ ملامسہ یہ ہے کہ بائع اور مشتری آپس میں یہ طے کر لیں کہ جب اس کا کپڑا وہ چھو لے تو بیع لازم ہو جائے گی۔
۲؎: منابذہ: یہ ہے کہ بائع اپنا کپڑا بلا سوچے سمجھے مشتری کی طرف پھینک دے اور مشتری اپنا کپڑا بائع کی طرف اور یہی پھینکنا لزوم بیع قرار پائے۔
۳؎: اشتمال صمّاء سے مراد ہے کہ بدن پر ایک ہی کپڑا سر سے پیر تک لپیٹ لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6284) صحيح مسلم (1512)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3378
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعُ طَرَفَيِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، وَيُبْرِزُ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ، وَلَا يَنْشُرُهُ، وَلَا يُقَلِّبُهُ، فَإِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ.
اس سند سے بھی بواسطہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے بائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے، اور منابذہ یہ ہے کہ بائع یہ کہے کہ جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں تو بیع لازم ہو جائے گی، اور ملامسہ یہ ہے کہ ہاتھ سے چھو لے نہ اسے کھولے اور نہ الٹ پلٹ کر دیکھے تو جب اس نے چھو لیا تو بیع لازم ہو گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3378]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی اور مزید کہا: ” «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں اس طرح سے لپٹ جائے کہ کپڑے کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال لے اور اپنی دائیں جانب کو کھلا رکھے۔ اور «بَيْعُ الْمُنَابَذَةِ» یہ ہے کہ یوں کہے: ”جب میں تیری طرف یہ کپڑا پھینک دوں تو بیع لازم ہو گئی۔“ اور «بَيْعُ الْمُلَامَسَةِ» یہ ہے کہ چیز کو صرف اپنا ہاتھ لگا دے، اسے کھول کر یا الٹ پلٹ کر نہ دیکھ سکے اور جب اسے ہاتھ لگا دیا تو بیع لازم ہو گئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4154) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه البيھقي (5/342) واختصره البخاري (2147)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3379
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا.
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، آگے سفیان و عبدالرزاق کی حدیث کے ہم معنی حدیث مذکور ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3379]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”منع فرمایا ہے“۔ آگے سفیان اور عبدالرزاق کی احادیث (3377، 3378) کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ البیوع 62 (2144)، صحیح مسلم/ البیوع 1 (1512)، سنن النسائی/ البیوع 22 (4514)، (تحفة الأشراف: 4087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 95) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5820) صحيح مسلم (1512)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3380
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حبل الحبلة» (بچے کے بچہ) کی بیع سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3380]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حاملہ جانور کے بچے کے بچے کی بیع“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 61 (2143)، السلم 7 (2256)، مناقب الأنصار 26 (3843)، سنن النسائی/البیوع 66 (4629)، سنن ابن ماجہ/التجارات 24 (2197)، (تحفة الأشراف: 8370)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع 3 (1514)، سنن الترمذی/البیوع 16 (1229)، موطا امام مالک/البیوع 26 (62)، مسند احمد (1/56، 63) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ بیع ایام جاہلیت میں مروج تھی، آدمی اس شرط پر اونٹ خریدتا تھا کہ جب اونٹنی بچہ جنے گی پھر بچے کا بچہ ہو گا تب وہ اس اونٹ کے پیسے دے گا تو ایسی بیع سے روک دیا گیا ہے، اس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس حاملہ اونٹنی کی بچی حاملہ ہوکر جو بچہ جنے اس بچہ کو ابھی خریدتا ہوں “ تو یہ بیع بھی دھوکہ والے بیع میں داخل ہے کیوں کہ ابھی وہ بچہ معدوم ہے یہ اہل لغت کی تفسیر ہے، پہلی تفسیر راوی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ہے اس لئے وہی زیادہ معتبر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2143) صحيح مسلم (1514)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3381
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وقَالَ: وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ بَطْنَهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي نُتِجَتْ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے «حبل الحبلة» یہ ہے کہ اونٹنی اپنے پیٹ کا بچہ جنے پھر بچہ جو پیدا ہوا تھا حاملہ ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3381]
جناب نافع رحمہ اللہ نے بواسطہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی مانند روایت کیا اور کہا: ” «حَبَلِ الْحَبَلَةِ» یہ ہے کہ یہ اونٹنی بچہ جنے گی، پھر جب وہ پیدا ہونے والی اونٹنی حاملہ ہوگی (تو اس وقت ادائیگی ہوگی)۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ مناقب الأنصار 26 (3843)، صحیح مسلم/ البیوع 3 (1514)، (تحفة الأشراف: 8149) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3843) صحيح مسلم (1514)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب فِي بَيْعِ الْمُضْطَرِّ
باب: لاچار و مجبور ہو کر بیع کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ أَبُو عَامِرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا، قَالَ مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَوْ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ ابْنُ عِيسَى: هَكَذَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ:" سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ، وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ سورة البقرة آية 237 وَيُبَايِعُ الْمُضْطَرُّونَ، وَقَدْ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ، وَبَيْعِ الْغَرَرِ، وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ، قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ".
بنو تمیم کے ایک شیخ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، یا فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، جو کاٹ کھانے والا ہو گا، مالدار اپنے مال کو دانتوں سے پکڑے رہے گا (کسی کو نہ دے گا) حالانکہ اسے ایسا حکم نہیں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «ولا تنسوا الفضل بينكم» ”اللہ کے فضل بخشش و انعام کو نہ بھولو یعنی مال کو خرچ کرو“ (سورۃ البقرہ: ۲۳۸) مجبور و پریشاں حال اپنا مال بیچیں گے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاچار و مجبور کا مال خریدنے سے اور دھوکے کی بیع سے روکا ہے، اور پھل کے پکنے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3382]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”لوگوں پر ایسا وقت آئے گا جو کاٹ کھانے والا ہو گا، صاحبِ وسعت (صاحبِ مال) اپنے مال کو اپنے دانتوں سے پکڑے ہو گا (کہ صدقہ کرے گا نہ قرضہ دے گا بلکہ بخیل بنا رہے گا) حالانکہ اسے اس بات کا حکم نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 237] ”آپس میں احسان کرنے کو مت بھولو۔“ اور مجبور لوگ (مجبوری کی وجہ سے) بیع کریں گے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجبوری کی بیع سے منع فرمایا ہے اور دھوکے کی بیع اور پھلوں کے تیار ہو جانے سے پہلے انہیں فروخت کر دینے سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10335)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/116) (ضعیف) (اس کے راوی '' شیخ من بنی تمیم '' مبہم ہیں)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ضرورت مند کے مال کو سستا خریدنے سے یا زبردستی کسی کا مال خریدنے سے اور دھوکہ کی بیع سے اور پختگی سے پہلے پھل بیچنے سے منع کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
’’ شيخ من بني تميم ‘‘ مجهول كما قال المنذري (انظر عون المعبود264/3) والحديث ضعفه البغوي (شرح السنة : 2104)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 121

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب فى الشَّرِكَةِ
باب: تجارت میں شراکت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ، يَقُولُ: أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِذَا خَانَهُ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں جب تک کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کرے، اور جب کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3383]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مرفوعاً بیان کیا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں (ساجھے داروں) کا تیسرا ہوں جب تک ان میں کوئی ایک دوسرے کی خیانت نہ کرے۔ جب کوئی خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12939) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابو حیان تیمی مجہول ہیں، ابن الزبرقان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے، دار قطنی (303) میں اور جریر نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر،و الارواء 1468)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2933)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ
باب: مضارب (وکیل) ایسا تصرف کرے جس سے مالک کو فائدہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3384
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، حَدَّثَنِي الْحَيُّ، عَنْ عُرْوَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ، قَالَ:" أَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ أُضْحِيَّةً أَوْ شَاةً، فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، فَأَتَاهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ".
عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی (اس دعا کے بعد) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3384]
سیدنا عروہ بن الجعد البارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک دینار دیا کہ اس سے قربانی کا جانور یا بکری خرید لائے۔ اس نے دو بکریاں خرید لیں اور پھر ایک کو ایک دینار میں بیچ دیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بکری بھی لے آیا اور ایک دینار بھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تجارت میں برکت کی دعا دی۔ چنانچہ اس کا حال ایسا ہو گیا کہ وہ مٹی بھی خریدتا تو اسے اس میں نفع ہوتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المناقب 28 (3642)، سنن الترمذی/البیوع 34 (1258)، سنن ابن ماجہ/الاحکام 7 (2402)، (تحفة الأشراف: 9898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/375، 376) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مضاربت ایسے معاملے کو کہتے ہیں جس میں ایک آدمی کا پیسہ ہو اور دوسرے کی محنت، پیسے والے کو مضارَب اور محنت والے کو مضارِب کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3642)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3385
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ هُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ، بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَفْظُهُ مُخْتَلِفٌ.
اس سند سے بھی عروہ بارقی سے یہی حدیث مروی ہے اور اس کے الفاظ مختلف ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3385]
ابولبید کہتے ہیں کہ عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور ”اس کے لفظ مختلف ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9898) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں