الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
Mention When Ghusal (A Purifying Bath) Is Obligatory And When It Is Not
حدیث نمبر: 298
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) اخبرنا عمرو بن يزيد قال حدثنا بهز قال حدثنا شعبة قال الحكم اخبرني عن إبراهيم عن همام بن الحرث ان عائشة قالت: لقد رايتني وما ازيد على ان افركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏.‏
(مرفوع) أخبرنا عمرو بن يزيد قال حدثنا بهز قال حدثنا شعبة قال الحكم أخبرني عن إبراهيم عن همام بن الحرث أن عائشة قالت: لقد رأيتني وما أزيد على أن أفركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ہمام بن حارث سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتی تھی کہ اسے (یعنی منی کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے مل دوں۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الطہارة 32 (288)، سنن ابی داود/الطہارة 136 (371)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 82 (537)، مسند احمد 6/43، 125، 135، 193، 263، (تحفة الأشراف: 17676) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 299
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) اخبرنا الحسين بن حريث انبانا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن همام عن عائشة قالت: كنت افركه من ثوب النبي صلى الله عليه وسلم.‏
(مرفوع) أخبرنا الحسين بن حريث أنبأنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن همام عن عائشة قالت: كنت أفركه من ثوب النبي صلى الله عليه وسلم.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے (یعنی منی کو) مل دیتی تھی۔

تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 298 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 300
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) اخبرنا شعيب بن يوسف عن يحيى بن سعيد عن الاعمش عن إبراهيم عن همام عن عائشة قالت: كنت اراه في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحكه ‏.‏
(مرفوع) أخبرنا شعيب بن يوسف عن يحيى بن سعيد عن الأعمش عن إبراهيم عن همام عن عائشة قالت: كنت أراه في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأحكه ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں اسے (یعنی منی کو) دیکھتی تو اسے رگڑ دیتی تھی۔

تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 298 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 301
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) اخبرنا قتيبة قال حدثنا حماد بن زيد عن هشام بن حسان عن ابي معشر عن إبراهيم عن الاسود عن عائشة قالت: لقد رايتني افرك الجنابة من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏.‏
(مرفوع) أخبرنا قتيبة قال حدثنا حماد بن زيد عن هشام بن حسان عن أبي معشر عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: لقد رأيتني أفرك الجنابة من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت (منی کے اثر کو) مل رہی ہوں۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الطہارة 32 (288)، (تحفة الأشراف: 15941) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 302
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن كامل المروزي قال حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم عن الاسود عن عائشة قالت: لقد رايتني اجده في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحته عنه ‏.‏
(مرفوع) أخبرنا محمد بن كامل المروزي قال حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: لقد رأيتني أجده في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأحته عنه ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اسے (یعنی منی کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں پاتی تو اسے رگڑ کر اس سے صاف کر دیتی۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الطہارة 32 (288)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 82 (539)، (تحفة الأشراف: 15976) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
189. بَابُ: بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ
189. باب: دودھ پینے والے بچے کے پیشاب کا حکم۔
Chapter: Urine Of A Boy Who Does Not Yet Eat Food
حدیث نمبر: 303
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ام قيس بنت محصن، انها اتت بابن لها صغير لم ياكل الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم،" فاجلسه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره فبال على ثوبه، فدعا بماء فنضحه ولم يغسله".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، تو اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا، اور اس سے کپڑے پر چھینٹا مار، اور اسے دھویا نہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الوضوء 59 (223)، الطب 10 (5693)، صحیح مسلم/الطہارة 31 (287)، سنن ابی داود/الطھارة 137 (374)، سنن الترمذی/الطھارة 54 (71)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (524)، (تحفة الأشراف: 18342)، موطا امام مالک/الطھارة 30 (110)، مسند احمد 6/355، 356، سنن الدارمی/الطھارة 63 (768) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 304
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، قالت:" اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بصبي فبال عليه، فدعا بماء فاتبعه إياه".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک (دودھ پینے والا) بچہ لایا گیا، تو اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، تو آپ نے پانی منگایا، اور اسے اس پر بہا دیا۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الوضوء 59 (222)، العقیقة 1 (5468)، الأدب 21 (6002)، الدعوات 30 (6355)، (تحفة الأشراف: 17163)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 31 (286)، سنن ابن ماجہ/فیہ 77 (523)، موطا امام مالک/الطہارة30 (109) مسند احمد 6/52، 210، 212 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
190. بَابُ: بَوْلِ الْجَارِيَةِ
190. باب: بچی کے پیشاب کا بیان۔
Chapter: Urine Of A Girl
حدیث نمبر: 305
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) اخبرنا مجاهد بن موسى، قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال: حدثنا يحيى بن الوليد، قال: حدثني محل بن خليفة، قال: حدثني ابو السمح، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" يغسل من بول الجارية ويرش من بول الغلام".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ".
ابو سمح رضی اللہ عنہ (خادم النبی) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا ۱؎۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 12052)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 137 (376)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (526) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: ایک روایت میں «مالم یطعم» (جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے) کی قید ہے، اس لیے جو روایتیں مطلق ہیں، انہیں مقید پر محمول کیا جائے گا یعنی دونوں کے پیشاب میں یہ تفریق اس وقت تک کے لیے ہے جب تک وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، کھانا کھانے لگ جانے کے بعد دونوں کے پیشاب کا حکم یکساں ہو گا، دونوں کا پیشاب دھونا ضروری ہو جائے گا۔

قال الشيخ الألباني: صحيح
191. بَابُ: بَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ
191. باب: حلال جانوروں کے پیشاب کا بیان۔
Chapter: Urine Of An Animal Whose Meat May Be Eaten
حدیث نمبر: 306
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال: حدثنا يزيد بن زريع، قال: حدثنا سعيد، قال: حدثنا قتادة، ان انس بن مالك حدثهم، ان اناسا او رجالا من عكل قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فتكلموا بالإسلام، فقالوا: يا رسول الله، إنا اهل ضرع ولم نكن اهل ريف واستوخموا المدينة" فامر لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بذود وراع، وامرهم ان يخرجوا فيها فيشربوا من البانها وابوالها". فلما صحوا وكانوا بناحية الحرة، كفروا بعد إسلامهم وقتلوا راعي النبي صلى الله عليه وسلم واستاقوا الذود، فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فبعث الطلب في آثارهم، فاتي بهم فسمروا اعينهم وقطعوا ايديهم وارجلهم، ثم تركوا في الحرة على حالهم حتى ماتوا.
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أُنَاسًا أَوْ رِجَالًا مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ" فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا". فَلَمَّا صَحُّوا وَكَانُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ، كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ تُرِكُوا فِي الْحَرَّةِ عَلَى حَالِهِمْ حَتَّى مَاتُوا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اپنے اسلام لانے کی بات کی، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم لوگ مویشی والے ہیں (جن کا گزارہ دودھ پر ہوتا ہے) ہم کھیتی باڑی والے نہیں ہیں، مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں کچھ اونٹ اور ایک چرواہا دے دیا جائے، اور ان سے کہا کہ وہ جا کر مدینہ سے باہر رہیں، اور ان جانوروں کے دودھ اور پیشاب پئیں ۱؎ چنانچہ وہ باہر جا کر حرّہ کے ایک گوشے میں رہنے لگے جب اچھے اور صحت یاب ہو گئے، تو اپنے اسلام لے آنے کے بعد کافر ہو گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے تعاقب کرنے والوں کو ان کے پیچھے بھیجا (چنانچہ وہ پکڑ لیے گئے اور) آپ کے پاس لائے گئے، تو لوگوں نے ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائی پھیر دی ۲؎، اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے، پھر اسی حال میں انہیں (مقام) حرہ میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الوضوء 66 (233)، الزکاة 68 (1501)، الجھاد 184 (3064)، المغازي 36 (4192)، الطب 5 (5685)، 29/5727، الحدود 15 (6802)، 18 (6805)، الدیات 22 (6899)، صحیح مسلم/القسامة 2 (1671)، (تحفة الأشراف: 1176)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 38 (1845)، الطب 6 (2042)، سنن ابن ماجہ/فیہ 30 (3503)، مسند احمد 3/161، 163، 170، 233، ویأتي عند المؤلف برقم: 4037 (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ علاج کے طور پر اونٹ کا پیشاب پیا جا سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جن جانورں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے، اور بوقت ضرورت ان کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ۲؎: ایک روایت میں انس رضی اللہ عنہ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس وجہ سے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہے کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں، لیکن یہ روایت بقول امام ترمذی غریب ہے، یحییٰ بن غیلان کے علاوہ کسی نے بھی اس میں یزید بن زریع کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 307
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن وهب، حدثنا محمد بن سلمة، عن ابي عبد الرحيم، قال: حدثني زيد بن ابي انيسة، عن طلحة بن مصرف، عن يحيى بن سعيد، عن انس بن مالك، قال: قدم اعراب من عرينة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فاسلموا فاجتووا المدينة حتى اصفرت الوانهم وعظمت بطونهم، فبعث بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى لقاح له" وامرهم ان يشربوا من البانها وابوالها". حتى صحوا، فقتلوا راعيها واستاقوا الإبل، فبعث نبي الله صلى الله عليه وسلم في طلبهم، فاتي بهم فقطع ايديهم وارجلهم وسمر اعينهم. قال امير المؤمنين عبد الملك لانس وهو يحدثه هذا الحديث: بكفر ام بذنب؟ قال: بكفر. قال ابو عبد الرحمن: لا نعلم احدا، قال: عن يحيى، عن انس، في هذا الحديث غير طلحة، والصواب عندي والله تعالى اعلم يحيى، عن سعيد بن المسيب، مرسل.
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَلْوَانُهُمْ وَعَظُمَتْ بُطُونُهُمْ، فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقَاحٍ لَهُ" وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا". حَتَّى صَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ. قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِأَنَسٍ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ: بِكُفْرٍ أَمْ بِذَنْبٍ؟ قَالَ: بِكُفْرٍ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا، قَالَ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَنَسٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ طَلْحَةَ، وَالصَّوَابُ عِنْدِي وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، مُرْسَلٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی (دیہاتی) آئے، اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، یہاں تک کہ ان کے رنگ زرد ہو گئے، اور پیٹ پھول گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی اونٹنیوں کے پاس بھیج دیا ۱؎ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پئیں، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو گئے، تو ان لوگوں نے آپ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ان کے تعاقب میں بھیجا، چنانچہ انہیں پکڑ کر آپ کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1664)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4040 (صحیح الاسناد)»

قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد

Previous    8    9    10    11    12    13    14    Next    

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.