🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: بَدْءِ الأَذَانِ
باب: اذان کی شروعات۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 627
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضَهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ، قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ جمع ہو کر نماز کے وقت کا اندازہ کرتے تھے، اس وقت کوئی نماز کے لیے اذان نہیں دیتا تھا، تو ایک دن لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی، تو کچھ لوگ کہنے لگے: نصاریٰ کے مانند ایک ناقوس بنا لو، اور کچھ لوگ کہنے لگے: بلکہ یہود کے سنکھ کی طرح ایک سنکھ بنا لو، تو اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم کسی شخص کو بھیج نہیں سکتے کہ وہ نماز کے لیے پکار دیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! اٹھو اور نماز کے لیے پکارو۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 627]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہوتے اور نماز کے وقت کا اندازہ لگاتے تھے۔ کوئی شخص اس (نماز) کا اعلان نہ کرتا تھا۔ ایک دن انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں بات چیت کی۔ چنانچہ کسی نے کہا: عیسائیوں جیسا ناقوس (گھنٹہ) بنا لو۔ کسی نے کہا: بلکہ یہودیوں جیسا نرسنگا (دھوتو) بنا لو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم (نماز کے وقت) کوئی آدمی (گلیوں میں) کیوں نہیں بھیج دیتے جو نماز کا اعلان کرے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال! اٹھو اور نماز کا اعلان کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 1 (604)، صحیح مسلم/الصلاة 1 (377)، سنن الترمذی/الصلاة 25 (190)، (تحفة الأشراف: 7775)، مسند احمد 2/148 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: تَثْنِيَةِ الأَذَانِ
باب: اذان دہری کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 628
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دہری اور اقامت اکہری کہنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 628]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار کہیں اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 1 (603)، 2 (605)، 3 (607)، أحادیث الأنبیاء 50 (3457)، صحیح مسلم/الصلاة 2 (378)، سنن ابی داود/الصلاة 29 (508، 509)، سنن الترمذی/الصلاة 27 (193)، سنن ابن ماجہ/الأذان 6 (729، 730)، (تحفة الأشراف: 943)، مسند احمد 3/103، 189، سنن الدارمی/الصلاة 6 (1230، 1231) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح، متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 629
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال:" كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، إِلَّا أَنَّكَ تَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عہدرسالت میں اذان دہری اور اقامت اکہری تھی، البتہ تم «قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة ‏» (دو بار) کہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 629]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار تھے اور اقامت (تکبیر) کے ایک ایک بار، مگر یہ کہ تو «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» (دو مرتبہ) کہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 29 (510، 511)، (تحفة الأشراف: 7455)، مسند احمد 2/85، 87، سنن الدارمی/الصلاة 6 (1229)، ویأتي عند المؤلف برقم: (669) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: خَفْضِ الصَّوْتِ فِي التَّرْجِيعِ فِي الأَذَانِ
باب: اذان میں ترجیع، دھیمی آواز سے کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 630
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، وَجَدِّي عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْعَدَهُ فَأَلْقَى عَلَيْهِ الْأَذَانَ حَرْفًا حَرْفًا، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: هُوَ مِثْلُ أَذَانِنَا هَذَا، قُلْتُ لَهُ: أَعِدْ عَلَيَّ، قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: بِصَوْتٍ دُونَ ذَلِكَ الصَّوْتِ يُسْمِعُ مَنْ حَوْلَهُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بٹھایا، اور حرفاً حرفاً اذان سکھائی (راوی) ابراہیم کہتے ہیں: وہ ہمارے اس اذان کی طرح تھی، بشر بن معاذ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے (ابراہیم سے) کہا کہ میرے اوپر دہراؤ، تو انہوں نے کہا: «اللہ أكبر اللہ أكبر» ۲؎ «أشهد أن لا إله إلا اللہ» دو مرتبہ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» دو مرتبہ، پھر اس آواز سے دھیمی آواز میں کہا: وہ اپنے اردگرد والوں کو سنا رہے تھے، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» دو بار، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» دو بار، «حى على الصلاة» دو بار، «حى على الفلاح» دو بار، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «‏‏‏‏لا إله إلا اللہ» ۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 630]
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (اپنے پاس) بٹھایا اور حرفاً حرفاً (ایک ایک کلمہ کرکے) اذان سکھلائی۔ (راویِ حدیث) ابراہیم نے کہا: وہ بالکل ہماری اذان کی طرح تھی۔ (بشر بن معاذ کہتے ہیں کہ) میں نے ان سے کہا: ذرا مجھے سنا دو۔ تو انہوں نے کہا: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» دو بار، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» دو بار، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» دو بار، پھر اس سے مختلف (بلند) آواز کے ساتھ کہا جو ارد گرد کے لوگوں کو سنائی دیتی تھی: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» دو بار، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» دو بار، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» دو بار، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» دو بار، «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ»، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 28 (500، 501، 503، 505)، سنن الترمذی/الصلاة 26 (191) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الأذان 2 (708)، مسند احمد 2/ 408، 409، سنن الدارمی/الصلاة 7 (1232)، (تحفة الأشراف: 12169)، ویأتي عند المؤلف: (633) (منکر) (یہ حدیث ابو محذورہ سے مروی دیگر روایات کے بر خلاف ہے جس میں اس بات کی صراحت ہے کہ اذان کے کلمات (19) ہیں، دیکھیں اگلی روایات)»
وضاحت: ۱؎: شہادتیں کے کلمات کو پہلے دو بار آہستہ کہنے، پھر انہیں دو بار بلند آواز سے پکار کر کہنے کو ترجیع کہتے ہیں، جیسا کہ ابوداؤد کی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے، لیکن باب کی حدیث سے اس کے برعکس ظاہر ہے، الاّ یہ کہ «دون ذلک» کی تاویل «سوی ذالک» سے کی جائے۔ ۲؎: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر کلمات کی طرح تکبیر بھی دو ہی بار ہے لیکن آگے روایت آ رہی ہے جس میں اذان کے کلمات ضبط کئے گئے ہیں، اس میں تکبیر چار بار ہے نیز اس روایت میں ترجیع کی تصریح آئی ہے، اور بلال رضی اللہ عنہ کی اذان میں ترجیع کا ذکر نہیں ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں صورتیں جائز ہیں، ترجیع کے ساتھ بھی اذان کہی جا سکتی ہے اور بغیر ترجیع کے بھی۔
قال الشيخ الألباني: منكر مخالف للروايات الأخرى عن أبي محذورة
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: كَمِ الأَذَانُ مِنْ كَلِمَةٍ
باب: اذان میں کتنے کلمے ہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 631
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْأَذَانُ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالْإِقَامَةُ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً". ثُمَّ عَدَّهَا أَبُو مَحْذُورَةَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَسَبْعَ عَشْرَةَ.
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان کے انیس کلمے ہیں، اور اقامت کے سترہ کلمے، پھر ابومحذورۃ رضی اللہ عنہ نے انیس اور سترہ کلموں کو گن کر بتایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 631]
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان میں انیس (۱۹) کلمات اور اقامت میں سترہ (۱۷) کلمات سکھائے، پھر ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے انیس (۱۹) اور سترہ (۱۷) کلمات شمار کیے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 3 (379)، سنن ابی داود/ الصلاة 28 (502، 504)، سنن الترمذی/الصلاة 26 (192)، سنن ابن ماجہ/الأذان 2 (709)، (تحفة الأشراف: 12169)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 632، 634 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اذان میں انیس کلمات ترجیع والی اذان کے ساتھ مکمل ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: كَيْفَ الأَذَانُ
باب: اذان کیسے دیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 632
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قال: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ يَعُودُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» پھر آپ لوٹتے اور کہتے: «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ» ۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کے لیے آؤ، نماز کے لیے آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 632]
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان سکھلائی اور فرمایا: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے۔…… «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ پھر دوبارہ کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» نماز کے لیے آؤ، نماز کے لیے آؤ۔ «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کامیابی کے لیے آؤ، کامیابی کے لیے آؤ۔ «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 631 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 633
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ، أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حَتَّى جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، قال: قُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ: إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَأَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، قال لَهُ: خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ مَقْفَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ فَظَلِلْنَا نَحْكِيهِ وَنَهْزَأُ بِهِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا حَتَّى وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟" فَأَشَارَ الْقَوْمُ إِلَيَّ وَصَدَقُوا، فَأَرْسَلَهُمْ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي، فَقَالَ:" قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ"، فَقُمْتُ، فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، قَالَ:" قُلْ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: ارْجِعْ فَامْدُدْ صَوْتَكَ، ثُمَّ قَالَ: قُلْ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ، فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: أَمَرْتُكَ بِهِ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن محیریز جو ابومحذورہ کے زیر پرورش ایک یتیم کے طور پر رہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ان کے شام کے سفر کے لیے سامان تیار کیا) کہتے ہیں کہ میں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں شام جا رہا ہوں، اور میں ڈرتا ہوں کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے کہیں سوال کیا جائے (اور میں جواب نہ دے پاؤں، اس لیے مجھے اذان سکھا دو)، تو آپ نے کہا: میں چند لوگوں کے ساتھ نکلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حنین سے لوٹتے وقت ہم حنین کے راستہ میں تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ہی) اذان دی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی، تو ہم اس کی نقل اتارنے، اور اس کا مذاق اڑانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سنی تو ہمیں بلوایا تو ہم آ کر آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میں نے (ابھی) تم میں سے کس کی آواز سنی ہے؟ تو لوگوں نے میری جانب اشارہ کیا، اور انہوں نے سچ کہا تھا، آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا، اور مجھے روک لیا اور فرمایا: اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو، تو میں اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے اذان سکھائی، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ اپنی آواز کھینچو (بلند کرو)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»، پھر جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلایا، اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے مکہ میں اذان دینے پر مامور فرما دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کے لیے مامور کر دیا، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ آیا تو میں نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 633]
حضرت عبداللہ بن محیریز رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ یتیم تھے اور انہوں نے حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پائی تھی حتیٰ کہ خود حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے انہیں شام کی طرف تیار کر کے بھیجا۔ انہوں نے فرمایا: میں نے (شام آتے وقت) حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے گزارش کی کہ میں شام جا رہا ہوں اور مجھے امید ہے کہ وہاں مجھ سے آپ کی اذان کے بارے میں پوچھا جائے گا (آپ مجھے کچھ بتا دیجیے)۔ تو حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کچھ لوگوں کے ساتھ نکلا، ہم حنین کے راستے میں تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں ہمیں ملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں نماز کی اذان کہی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دور تھے۔ ہم نے مؤذن کی آواز سنی تو ہم ان کی نقل اتارنے لگے اور مذاق کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آواز سن لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلوایا حتیٰ کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ کون ہے جس کی بلند آواز میں نے سنی ہے؟ میرے ساتھیوں نے میری طرف اشارہ کیا اور انہوں نے سچ کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے ٹھہرا لیا اور فرمایا: اٹھو نماز کی اذان کہو۔ میں اٹھا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس مجھے اذان سکھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی آواز بلند کرو اور دو بار کہو: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ۔ پھر جب میں نے اذان مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے مکہ مکرمہ میں اذان پر مقرر فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں مقرر کر دیا۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کیے ہوئے گورنر مکہ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے گورنر کے سامنے اذان کہتا رہا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 630 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: الأَذَانِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں اذان دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 634
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قال: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ نَطْلُبُهُمْ، فَسَمِعْنَاهُمْ يُؤَذِّنُونَ بِالصَّلَاةِ، فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ سَمِعْتُ فِي هَؤُلَاءِ تَأْذِينَ إِنْسَانٍ حَسَنِ الصَّوْتِ"، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَأَذَّنَّا رَجُلٌ رَجُلٌ وَكُنْتُ آخِرَهُمْ، فَقَالَ حِينَ أَذَّنْتُ:" تَعَالَ،"، فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِي وَبَرَّكَ عَلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ فَأَذِّنْ عِنْدَ الْبَيْتِ الْحَرَامِ"، قُلْتُ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَعَلَّمَنِي كَمَا تُؤَذِّنُونَ الْآنَ بِهَا" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، قَالَ: وَعَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ هَذَا الْخَبَرَ كُلَّهُ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ.
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے نکلے تو میں (بھی) نکلا، میں اہل مکہ کا دسواں شخص تھا، ہم انہیں تلاش کر رہے تھے تو ہم نے انہیں نماز کے لیے اذان دیتے ہوئے سنا، تو ہم بھی اذان دینے (اور) ان کا مذاق اڑانے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں میں سے ایک اچھی آواز والے شخص کی اذان میں نے سنی ہے چنانچہ آپ نے ہمیں بلا بھیجا تو یکے بعد دیگرے سبھی لوگوں نے اذان دی، اور میں ان میں سب سے آخری شخص تھا جب میں اذان دے چکا (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ادھر آؤ! چنانچہ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھایا، اور میری پیشانی پر (شفقت کا) ہاتھ پھیرا، اور تین بار برکت کی دعائیں دیں، پھر فرمایا: جاؤ اور خانہ کعبہ کے پاس اذان دو (تو) میں نے کہا: کیسے اللہ کے رسول؟ تو آپ نے مجھے اذان سکھائی جیسے تم اس وقت اذان دے رہے ہو: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» (پھر دوبارہ) «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»، اور فجر میں «الصلاة خير من النوم»، «الصلاة خير من النوم» نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے کہا، (اور) کہا: مجھے آپ نے اقامت دہری سکھائی: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «قد قامت الصلاة»، «قد قامت الصلاة»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ» ۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ یہ پوری حدیث مجھے عثمان نے بتائی، وہ اسے اپنے والد اور عبدالملک بن ابی محذورہ رضی اللہ عنہ کی ماں دونوں کے واسطہ سے روایت کر رہے تھے کہ ان دونوں نے اسے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 634]
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین (کی وادی) سے نکلے تو ہم مکہ والے دس لڑکے ان (مسلمانوں) کی تلاش میں نکلے۔ ہم نے انہیں سنا، وہ نماز کی اذان کہہ رہے تھے۔ ہم بھی کھڑے ہو کر انہیں مذاق کرتے ہوئے اذان کہنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ان میں سے ایک اچھی آواز والے لڑکے کی آواز سنی ہے۔ سو آپ نے ہمیں بلا بھیجا۔ ہم میں سے ہر ایک نے باری باری اذان کہی۔ میں سب سے آخر میں تھا۔ جب میں نے اذان کہی تو آپ نے فرمایا: ادھر آؤ۔ اور مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور میری پیشانی پر ہاتھ پھیرنے لگے اور تین دفعہ میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر فرمایا: جاؤ، بیت اللہ کے پاس اذان کہا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیسے (اذان کہوں)؟ تو آپ نے مجھے اذان سکھلائی جیسا کہ تم اب کہتے ہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» اور صبح کی پہلی اذان میں «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» نماز نیند سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے مجھے اقامت دوہری سکھائی، «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» نماز کھڑی ہو گئی، نماز کھڑی ہو گئی۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث عثمان بن سائب نے اپنے والد اور عبدالملک بن ابو محذورہ کی والدہ سے بیان کی ہے اور ان دونوں نے یہ حدیث خود حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 631 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: أَذَانِ الْمُنْفَرِدَيْنِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں دو شخص ہوں تو ان کے اذان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 635
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَقَالَ:" إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ایک چچا زاد بھائی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (دوسری بار انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک ساتھی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دونوں سفر کرو تو دونوں اذان کہو ۱؎ اور دونوں اقامت کہو، اور جو تم دونوں میں بڑا ہو وہ امامت کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 635]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اور میرا چچا زاد بھائی اور ایک بار فرمایا: میں اور میرا ایک ساتھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ (واپسی کے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سفر کرو تو اذان و اقامت کہا کرو اور (جماعت کے وقت) تم میں سے بڑا امامت کرائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 18 (630)، الجھاد 42 (2848)، صحیح مسلم/المساجد 53 (674)، سنن الترمذی/الصلاة 37 (205)، سنن ابن ماجہ/إقامة 46 (979)، (تحفة الأشراف: 11182)، مسند احمد 3/436، 5/53، سنن الدارمی/الصلاة 42 (1288)، ویأتي عند المؤلف: 782 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک اذان کہے اور دوسرا جواب دے، یا یہ کہا جائے کہ دونوں کی طرف اسناد مجازی ہے، مطلب یہ ہے کہ تم دونوں کے درمیان اذان اور اقامت ہونی چاہیئے، جو بھی کہے، اذان اور اقامت کا معاملہ چھوٹے یا بڑے کے ساتھ خاص نہیں، البتہ امامت جو بڑا ہو وہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: اجْتِزَاءِ الْمَرْءِ بِأَذَانِ غَيْرِهِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر میں دوسرے کی اذان پر آدمی کے اکتفاء کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 636
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِنَا، فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَاهُ مِنْ أَهْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ:" ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَأَقِيمُوا عِنْدَهُمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے، ہم نے آپ کے پاس بیس روز قیام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحیم (بہت مہربان) اور نرم دل تھے، آپ نے سمجھا کہ ہم اپنے گھر والوں کے مشتاق ہوں گے، تو آپ نے ہم سے پوچھا: ہم اپنے گھروں میں کن کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں؟ ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ، (اور) ان کے پاس رہو، اور (جو کچھ سیکھا ہے اسے) ان لوگوں کو بھی سیکھاؤ، اور جب نماز کا وقت آ پہنچے تو انہیں حکم دو کہ تم میں سے کوئی ایک اذان کہے، اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 636]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم سب کے سب نوجوان ہم عمر تھے۔ ہم آپ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحم کرنے والے اور نہایت نرم دل تھے۔ آپ نے محسوس فرمایا کہ ہم کو گھر والوں کا اشتیاق ہو گیا ہے تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ تم کن کن کو گھر چھوڑ کر آئے ہو؟ ہم سب نے (اپنے اپنے حساب سے) آپ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے گھر بار کی طرف لوٹ جاؤ، ان کے پاس رہو، انہیں تعلیم دو اور انہیں اسلامی احکام بتلاؤ۔ جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور بڑا جماعت کرائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 17 (628) مطولاً، 18 (631) مطولاً، 35 (658)، 49 (685) مطولاً، 140 (819)، الأدب 27 (6008) مطولاً، أخبار الآحاد 1 (7246) مطولاً، صحیح مسلم/المساجد 53 (674) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 61 (589)، (تحفة الأشراف: 11182)، ویأتی عند المؤلف (670) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں