Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ککڑی کا استعمال کھجور کے ساتھ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 196
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ»
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ککڑی کو تازہ کھجور کے ساتھ نوش جان فرماتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى فاكهة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«(سنن ترمذي:1844، وقال: حسن صحيح غريب...)، (صحيح بخاري: 5440)، (صحيح مسلم: 2043)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تربوز اور کھجور ملا کر تناول فرمائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 197
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تربوز کو تر کھجور کے ساتھ تناول فرمایا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى فاكهة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 1843، وقال: حسن غريب)، (سنن ابي داود: 3836)، (مسند الحميدي بتحقيقي: 256 و سنده صحيح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
خربوزہ اور تر کھجور کا اکٹھے کھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 198
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، أَوْ قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ - قَالَ وَهْبٌ: وَكَانَ صَدِيقًا لَهُ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْخِرْبِزِ وَالرُّطَبِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خربوزہ اور تر کھجوروں کو ملا کر کھا رہے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى فاكهة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«(مسند احمد 142/3 ح 12449)، (النسائي فى الكبريٰ 6726 وقالا: الخزبز.)، (صحيح ابن حبان الاحسان: 5224، نسخه محققه: 2548 وقال: البطيخ بدل الخزبز)، (مسند ابي يعليٰ 463/6، 464 ح 1112، وقال يجمع بين البطيخ والرطب)، اخلاق النبى صلى الله عليه وسلم لابي الشيخ (ص 217) من حديث مسلم بن ابراهيم نا حميد عن انس: ان النبى صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرطب والبطيخ، قال مسلم: وربما قال: الخنزبز»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تربوز اور تر کھجور کا اکٹھے کھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تربوز تازہ کھجوروں کے ساتھ ملا کر نوش فرمایا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى فاكهة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«(السنن الكبري للنسائي: 167/4 ح 6727) (اخلاق النبى صلى الله عليه وسلم: ص216. 217)»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ عبداللہ بن یزید بن الصلت ضعیف (راوی) ہے۔ دیکھئیے: [تقريب التهذيب: 3705 ]
➋ محمد بن اسحاق بن یسار صدوق مدلس تھے اور یہ روایت «عن» سے ہے۔
حدیث سابق (197) اس کا صحیح شاہد ہے، جس کے ساتھ یہ روایت بھی صحیح یا حسن ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نیا پھل دیکھنے پر کون سی دعا پڑھی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثِمَارِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَفِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ بِهِ لِمَكَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ» قَالَ: ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ يَرَاهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ
سید الفقہاء سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جب کسی نئے پھل کو دیکھتے تو اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے پکڑتے تو یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! ہمارے پھلوں میں برکت فرما، اور ہمارے شہر میں برکت فرما، اور ہمارے مد اور صاع میں برکت فرما، اے مولا کریم! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے، اور تیرے خلیل، اور تیرے نبی نے مکہ مکرمہ کے لیے آپ کے حضور میں دعا کی تھی اور میں مدینہ منورہ کے لیے آپ کے حضور میں دعا کرتا ہوں، اسی طرح کی دعا، جس طرح کی انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے کی تھی اور اس سے دو چند۔ راوی کہتا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے کم عمر بچے کو جو موجود ہوتے طلب فرماتے، اور انہیں اس پھل سے عطا فرماتے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى فاكهة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 3454، وقال: حسن صحيح)، (صحيح مسلم: 1373)، (الموطا للامام مالك رواية يحييٰ 885/2 ح1702، رواية ابن القاسم 447)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحفے کے بدلے میں تحفہ دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 201
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: بَعَثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ وَعَلَيْهِ أَجْرٌ مِنْ قِثَّاءِ زُغْبٍ، «وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْقِثَّاءَ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ وَعِنْدَهُ حِلْيَةٌ قَدْ قَدِمَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَمَلَأَ يَدَهُ مِنْهَا فَأَعْطَانِيهِ»
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ مجھے سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ نے تازہ کھجوروں کا ایک تھال دے کر بھیجا جس میں روئی والی چھوٹی چھوٹی ککڑیاں بھی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ککڑی بڑی پسند تھی۔ میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ لائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے کچھ زیورات آئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنی ایک مٹھی بھر کر مجھے عنایت فرمائے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى فاكهة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
یہ روایت کئی وجہ سے ضعیف ہے، مثلاً:
➊ محمد بن حمید الرازی ضعیف بلکہ سخت مجروح و ساقط العدالت راوی ہے۔
➋ محمد بن اسحاق بن یسار مدلس تھے اور یہ سند «عن» سے ہے۔
➌ ابراہیم بن المختار کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
نیز دیکھئے: حدیث: 202
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 202
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: «أَتيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ وَأَجْرٍ زُغْبٍ، فَأَعْطَانِي مِلْءَ كَفِّهِ حُلِيًّا» أَوْ قَالَتْ: ذَهَبًا
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تر کھجوروں اور چھوٹی ککڑیوں کا تھال، جن پر ابھی روئی باقی تھی، لے کر حاضر ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہتھیلی بھر کر زیور دیا، یا فرمایا: سونا عطا کیا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى فاكهة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«مسند احمد (359/6)، المعجم الكبير للطبراني (273/24 ح 694) وحسنه الهيثمي فى المجمع (13/9)!»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ عبداللہ بن محمد بن عقیل جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔
➋ شریک القاضی مدلس تھے اور یہ سند «عن» سے ہے، لہٰذا اسے حسن قرار دینا غلط ہے۔
نیز دیکھئے حدیث سابق: 201
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں