🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم طبعی طور پر دنیا سے بے رغبت تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 352
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو الْقَاسِمِ الْقُرَشِيُّ الْمَكِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، حَتَّى يَنْسَلِخَ فَيَأْتِيهِ جِبْرِيلُ فَيَعْرِضُ عَلَيْهِ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال و دولت خرچ کرنے میں تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے، زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں اس کے ختم ہونے تک نہایت ہی سخی ہوتے، جبرائیل امین علیہ السلام آپ کے پاس آتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے قرآن کریم کا دور کرتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل امین علیہ السلام سے ملتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال و دولت خرچ کرنے میں تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 352]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏صحيح» ‏‏‏‏ }:
«صحيح بخاري (4997)، صحيح مسلم (2308) من حديث ابراهيم بن سعد به .»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا مال ذخیر ہ نہ کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 353
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو بھی آنے والے دن کے لیے ذخیرہ نہ کرتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 353]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده حسن» ‏‏‏‏ }:
«(سنن ترمذي: 2362، وقال:غريب...)، شرح السنة للبغوي (253/13 ح 3690)، صحيح ابن حبان (2139)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
میرے نام پر خرید لو، ادائیگی کر دوں گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 354
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الْمَدِينِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عِنْدِي شَيْءٌ وَلَكِنِ ابْتَعْ عَلَيَّ، فَإِذَا جَاءَنِي شَيْءٌ قَضَيْتُهُ» فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَعْطَيْتُهُ فَمَّا كَلَّفَكَ اللَّهُ مَا لَا تَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَ عُمَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْفِقْ وَلَا تَخَفْ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَرَفَ فِي وَجْهِهِ الْبِشْرَ لِقَوْلِ الْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ قَالَ: «بِهَذَا أُمِرْتُ»
امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ سے کچھ مانگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس تو کچھ نہیں، البتہ میرے نام پر خرید لو، جب میرے پاس مال آئے گا تو میں اسے ادا کر دوں گا۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے وہ دیا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکلف نہیں بنایا اور نہ ہی وہ آپ کی دسترس اور طاقت میں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات کو ناپسند فرمایا اس دوران انصار کے ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ خرچ کرتے رہیں اور عرش والے سے تنگدستی کا خوف دل میں نہ لائیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے اور انصاری کی اس بات سے آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار معلوم ہونے لگے پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔“ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 354]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده ضعيف» ‏‏‏‏ }:
اس کا راوی موسیٰ بن ابی علقمہ مجہول ہے۔
اور ابوالشیخ الاصبہانی کی کتاب: اخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم (ص53) کی ایک روایت میں اس کی ضعیف ومردود متابعت بھی آئی ہے۔ دیکھئے [مختصر الشمائل للالباني: 305 ]
جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور روایت ضعیف ہی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«هل جزاء من الاحسان إلا الاحسان»
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 355
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ وَأَجْرٍ زُغْبٍ فَأَعْطَانِي مِلْءَ كَفِّهِ حُلِيًّا وَذَهَبًا»
سیدہ ربیعہ بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تر کھجوروں اور چھوٹی ککڑیوں کا تھال لے کر آئی جن پر ابھی روئی باقی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی ہتھیلی بھر کے زیور اور سونا عطا کیا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 355]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده ضعيف» ‏‏‏‏ }:
دیکھئے حدیث سابق: 202
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تحفہ کا بدلہ دینا سنت رسول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 356
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تحفہ قبول فرماتے اور اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 356]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده صحيح» ‏‏‏‏ }:
«(سنن ترمذي: 1953، وقال:حسن صحيح)، صحيح بخاري (2585)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12