سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
برائیوں کا نیکیوں میں بدل جانا، اسلام قبول کرنے، نیکیاں کرنے اور براییاں ترک کرنے کی برکتیں
ترقیم الباني: 3053 ترقیم فقہی: -- 2334
- (لَيَتَمَنَّيَنَّ أقوامٌ لو أَكثَرُوا مِنَ السَّيِّئاتِ. قالوا: بم يا رسول الله؟ قال: الذِينَ بَدَّلَ اللهُ سَيِّئاتِهم حَسَناتٍ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کئی لوگ یہ خواہش کریں گے کہ کاش وہ زیادہ برائیاں کر کے لاتے۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ جن کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2334]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3053
مسلسل گناہ، عذاب عام کو دعوت دیتے ہیں
ترقیم الباني: 3353 ترقیم فقہی: -- 2335
- (ما من قوم يعُمل فيهم بالمعاصي؛ هم أكثر وأعز ممن يعمل بها، ثم لا يغيرونه؛ إلا يوشك أن يعمهم الله بعقاب) .
عبیداللہ بن جرید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس قوم میں برائیوں کا ارتکاب کیا جائے اور (برائیاں نہ کرنے والے لوگ) برائیاں کرنے والے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ بھی ہوں اور طاقتور (اور معزز) بھی، لیکن وہ پھر بھی ان کو نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو عام عذاب میں مبتلا کر دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2335]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3353
زائد از ضرورت عمارت وبال ہے
ترقیم الباني: 2830 ترقیم فقہی: -- 2336
-" أما إن كل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا، إلا ما لا، يعني: ما لابد منه".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، ایک بلند گنبد دیکھا اور فرمایا: (یہ کیا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا: یہ فلاں انصاری آدمی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا، جب اس کا مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کہا۔ آپ نے اس سے اعراض کیا، اس نے کئی مرتبہ سلام کہا (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعراض کرتے رہے) بالآخر اس آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی اور اعراض کا اندازہ ہو گیا، اس نے صحابہ سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: بخدا! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عجیب و اجنبی محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: (دراصل) آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تھے اور تیرا گنبد دیکھا تھا۔ سو وہ آدمی فوراً اپنے گنبد کی طرف لوٹا اور اس کو گرا کر زمین کے برابر کر دیا۔ (پھر) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور وہ گنبد آپ کو نظر نہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”گنبد کا کیا بنا؟ صحابہ نے کہا: اس کے مالک نے ہمارے سامنے آپ کے اعراض کرنے کا شکوہ رکھا تھا، ہم نے (آپ کی ناپسندیدگی کی ساری صورتحال) اس پر واضح کر دی، اس لیے اس نے اس کو منہدم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! ہر عمارت اپنے مالک کے حق میں وبال ہے، سوائے اس کے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2336]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2830
ترقیم الباني: 2831 ترقیم فقہی: -- 2337
-" إن الرجل يؤجر في نفقته كلها إلا في هذا التراب".
ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ جنہوں نے اپنے بدن پر سات داغ لگائے ہوئے تھے، کے پاس بیمار پرسی کے لیے گئے۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو: موت کی تمنا نہ کیا کرو۔ فرماتے نہ سنا ہوتا تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا۔ وہ اپنی دیوار (یعنی مکان وغیرہ) درست کر رہے تھے، اسی اثنا میں انہوں نے کہا: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” آدمی کو اس کے ہر قسم کے خرچے پر اجر دیا جاتا ہے مگر اس مٹی میں (یعنی مکان تعمیر کرنے میں کوئی اجر نہیں)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2337]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2831
سجدہ تواضع کی فضیلت
ترقیم الباني: 3231 ترقیم فقہی: -- 2338
- (مرَّ رجلٌ ممن كان قبلكُم بجُمجُمة، فنظر إليها، فحدّث نفسه بشيءٍ ثم قال: يا ربِّ! أنت أنت، وأنا وأنا، أنت العوادُ بالمغفرةِ، وأنا العوادُ بالذنوب! وخرّ للهِ ساجداً، فقيل له: ارفع رأسك، فأنت العوّادُ بالذّنوبِ، وأنا العوّادُ بالمغفرةِ، [فرفع رأسه، فغُفِر له] ) . أخرجه ابن عدي (2/147) ، والخطيب في" التاريخ" (9/ 92) ، والديلمي
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے والے لوگوں میں سے ایک آدمی (کا ذکر ہے، وہ) ایک کھوپڑی کے پاس سے گزرا، اس نے اس کی طرف دیکھا اور اپنے آپ سے باتیں کرنے لگا۔ پھر اس نے کہا: اے میرے پروردگار! تو بڑی عظیم ذات ہے اور میں بڑا کمزور ہوں، تو بار بار بخشنے والا ہے اور میں بار بار گناہ کرنے والا ہوں، پھر اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑا، (غیبی آواز آئی اور) اسے کہا گیا: اپنا سر اٹھاؤ، تو بار بار گناہ کرنے والا ہے اور میں بار بار بخشنے والا ہوں۔ سو اس نے اپنا سر اٹھایا اور (اللہ تعالیٰ نے )اسے بخش دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2338]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3231
دنیا کو ترجیح دینے والا آخرت میں نقصان پائے گا
ترقیم الباني: 3287 ترقیم فقہی: -- 2339
- (من طلب الدُّنيا أضرَّ بالآخرةِ، ومن طلَبَ الآخرةَ أضرَّ بالدُّنيا! فأضِرّوا بالفاني للباقي) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا طلب کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت کا مطالبہ کیا اس نے اپنی دنیا کو نقصان دیا۔ پس تم باقی (رہنے والی زندگی) کی خاطر فنا ہونے والی (دنیا) کا نقصان ہونے دو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2339]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3287
زمین ناحق غصب کرنے کا انجام بد
ترقیم الباني: 3365 ترقیم فقہی: -- 2340
- (من غصب رجلاً أرضاً ظلماً؛ لقي الله وهو عليه غضبان) .
علقمہ بن وائل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص نے کوئی زمین ظلماً غصب کر لی وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غصے ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2340]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3365
تکبر، قرض اور خیانت سے اجتناب کرنا جنتی لوگوں کا وصف ہے
ترقیم الباني: 2785 ترقیم فقہی: -- 2341
-" من فارق الروح الجسد وهو بريء من ثلاث دخل الجنة: الكبر والدين والغلول".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کی روح اس کے جسم سے اس حال میں نکلے کہ وہ تین چیزوں: تکبر، قرض اور خیانت، سے بری ہو تو (وہ شخص)جنت میں داخل ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2341]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2785
انسان کی موت اور اس کی امیدوں کی مثال
ترقیم الباني: 3428 ترقیم فقہی: -- 2342
- (هل تدرُون ما هذا؟ قالوا: اللهُ ورسولُه أعلمُ! قال: هذا الإنسانُ، وهذا أجلُه، وهذا أملُه، يتعاطَى الأملَ، يختلجُه [الأجلُ] دون ذلك) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی اپنے سامنے اور ایک دوسرے پہلو کے ساتھ گاڑھی اور پھر ذرا دور کر کے تیسری لکڑی گاڑھ دی اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ انسان ہے، یہ اس کی موت ہے اور وہ اس کی تمنائیں ہیں، وہ اپنی آرزوؤں کے پیچھے پڑا رہتا ہے، لیکن (ان تک رسائی حاصل کرنے) سے پہلے موت اس کو اچک لیتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2342]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3428
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی اہمیت
ترقیم الباني: 3392 ترقیم فقہی: -- 2343
- (والله! للدُّنيا أهونُ على اللهِ من هذه السَّخلةِ على أهلِها، فلا أُلفينَّها أهلكت أحداً منكم) .
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گندگی کے ڈھیر کے پاس سے گزرے، وہاں بکری کا مردار بچہ پڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے مالکوں کو اس کی کوئی ضرورت ہے، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر ان کو ضرورت ہوتی تو یوں نہ پھینکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی قسم! بکری کے بچے کا یہ مردار جس قدر اپنے مالکوں کی نگاہ میں (بے قیمت ہے)، دنیا اس سے کہیں زیادہ حقیر ہے۔ سو میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ دنیا نے اس کو ہلاک کر رکھا ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المواعظ والرقائق/حدیث: 2343]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3392