صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ غَسْلِ مَا يُصِيبُ مِنْ فَرْجِ الْمَرْأَةِ:
باب: اس چیز کا دھونا جو عورت کی شرمگاہ سے لگ جائے ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 293
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلْ؟ قَالَ:" يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْغَسْلُ أَحْوَطُ وَذَاكَ الْآخِرُ، وَإِنَّمَا بَيَّنَّا لِاخْتِلَافِهِمْ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے ہشام بن عروہ سے، کہا مجھے خبر دی میرے والد نے، کہا مجھے خبر دی ابوایوب نے، کہا مجھے خبر دی ابی بن کعب نے کہ انھوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! جب مرد عورت سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے جو کچھ اسے لگ گیا اسے دھو لے پھر وضو کرے اور نماز پڑھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا غسل میں زیادہ احتیاط ہے اور یہ آخری احادیث ہم نے اس لیے بیان کر دیں (تاکہ معلوم ہو جائے کہ) اس مسئلہ میں اختلاف ہے اور پانی (سے غسل کر لینا ہی) زیادہ پاک کرنے والا ہے۔ (نوٹ: یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 293]
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب کوئی مرد اپنی بیوی سے ہمبستر ہو اور اسے انزال نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مقام کو دھو لے جس سے عورت کو مس کیا تھا، پھر وضو کرے اور نماز پڑھ لے۔“ امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ غسل کرنے میں ہی احتیاط ہے۔ یہ آخری روایت ہم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلاف کی وجہ سے بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة