🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب غسل ما يصيب من فرج المرأة:
باب: اس چیز کا دھونا جو عورت کی شرمگاہ سے لگ جائے ضروری ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 293
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلْ؟ قَالَ:" يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْغَسْلُ أَحْوَطُ وَذَاكَ الْآخِرُ، وَإِنَّمَا بَيَّنَّا لِاخْتِلَافِهِمْ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے ہشام بن عروہ سے، کہا مجھے خبر دی میرے والد نے، کہا مجھے خبر دی ابوایوب نے، کہا مجھے خبر دی ابی بن کعب نے کہ انھوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! جب مرد عورت سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے جو کچھ اسے لگ گیا اسے دھو لے پھر وضو کرے اور نماز پڑھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا غسل میں زیادہ احتیاط ہے اور یہ آخری احادیث ہم نے اس لیے بیان کر دیں (تاکہ معلوم ہو جائے کہ) اس مسئلہ میں اختلاف ہے اور پانی (سے غسل کر لینا ہی) زیادہ پاک کرنے والا ہے۔ (نوٹ: یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 293]
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب کوئی مرد اپنی بیوی سے ہمبستر ہو اور اسے انزال نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مقام کو دھو لے جس سے عورت کو مس کیا تھا، پھر وضو کرے اور نماز پڑھ لے۔ امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ غسل کرنے میں ہی احتیاط ہے۔ یہ آخری روایت ہم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلاف کی وجہ سے بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيلصحابي
👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوب
Newأبو أيوب الأنصاري ← أبي بن كعب الأنصاري
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← أبو أيوب الأنصاري
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
293
يغسل ما مس المرأة منه ثم يتوضأ ويصلي
صحيح مسلم
779
يغسل ما أصابه من المرأة ثم يتوضأ ويصلي
صحيح مسلم
780
يغسل ذكره ويتوضأ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 293 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 293
تشریح:
یعنی غسل کر لینا بہرصورت بہتر ہے۔ اگر بالفرض واجب نہ بھی ہو تو یہی فائدہ کیا کم ہے کہ اس سے بدن کی صفائی ہو جاتی ہے۔ مگر جمہور کا یہی فتویٰ ہے کہ عورت مرد کے ملاپ سے غسل واجب ہو جاتا ہے انزال ہو یا نہ ہو۔ ترجمہ باب یہاں سے نکلتا ہے کہ دخول کی وجہ سے ذکر میں عورت کی فرج سے جو تری لگ گئی ہو اسے دھونے کا حکم دیا۔

«قال ابن حجر فى الفتح وقدذهب الجمهور الي ان حديث الاكتفاءبالوضوء منسوخ وروي ابن ابي شيبة وغيره عن ابن عباس انه حمل حديث الماءمن الماءعلي صورة مخصوصة مايقع من روية الجماع وهى تاويل يجمع بين الحديثين بلاتعارض.»
یعنی علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ جمہور اس طرف گئے ہیں کہ یہ احادیث جن میں وضو کو کافی کہا گیا ہے یہ منسوخ ہیں۔ اور ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ «حديث الماءمن الماء» خواب سے متعلق ہے۔ جس میں جماع دیکھا گیا ہو، اس میں انزال نہ ہو تو وضو کافی ہو گا۔ اس طرح دونوں قسم کی حدیثوں میں تطبیق ہو جاتی ہے اور کوئی تعارض نہیں باقی رہتا۔

لفظ جنابت کی لغوی تحقیق سے متعلق حضرت نواب صدیق حسن صاحب فرماتے ہیں:
«وجنب درمصفي گفته مادئه جنب دلالت بربعد ميكند وچوں جماع درمواضع بعيده دمستوره ميشود الخ»
یعنی لفظ «جنب» کے متعلق مصفی شرح مؤطا میں کہا گیا ہے کہ اس لفظ کا مادہ دور ہونے پر دلالت کرتا ہے جماع بھی پوشیدہ اور لوگوں سے دور جگہ پر کیا جاتا ہے، اس لیے اس شخص کو جنبی کہا گیا، اور جنب کو جماع پر بولا گیا۔ بقول ایک جماعت جنبی تا غسل عبادت سے دور ہو جاتا ہے اس لیے اسے جنب کہا گیا۔ غسل جنابت شریعت ابراہیمی میں ایک سنت قدیمہ ہے جسے اسلام میں فرض اور واجب قرار دیا گیا۔ جمعہ کے دن غسل کرنا پچھنا لگوا کر غسل کرنا، میت کو نہلا کر غسل کرنا مسنون ہے۔ رواہ داؤد والحاکم

جو شخص اسلام قبول کرے اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ پہلے غسل کرے پھر مسلمان ہو۔ [مسك الختام، شرح بلوغ المرام، جلداول، ص: 170]
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 293]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 293
تخريج الحديث:
[197۔ البخاري فى: 5 كتاب الغسل: 29 باب غسل ما يصيب من فرج المرأة 293، مسلم 346، ابن حبان 1169]
فھم الحدیث: اس سے معلوم ہوا کہ عورت کی شرمگاہ سے نکلنے والی رطوبت نجس ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھونے کا حکم دیا۔
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 197]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 779
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس انسان کے بارے میں پوچھا، جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے، پھر اسے انزال نہیں ہوتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی سے اسے جو کچھ لگ جائے، اس کو دھو لے، پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:779]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
اقحاط:
اور اكسال دونوں سے مراد عدم انزال ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 779]

Sahih Bukhari Hadith 293 in Urdu