سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کراہت کا اندازہ چہرے سے ہو جاتا
ترقیم الباني: 2085 ترقیم فقہی: -- 4043
-" كان إذا كره شيئا عرفناه في وجهه".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی چیز ناپسند کرتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے پہچان لیتے۔ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4043]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2085
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چلنے کا انداز
ترقیم الباني: 2083 ترقیم فقہی: -- 4044
-" كان إذا مشى كأنه يتوكأ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو ایسے محسوس ہوتا کہ آپ ٹیک لگا رہے ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4044]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2083
ترقیم الباني: 2104 ترقیم فقہی: -- 4045
-" ما رئي رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل متكئا قط، ولا يطأ عقبه رجلان".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چال چلتے تھے، اس سے پتہ چلتا تھا کہ آپ عاجز یا سست نہیں ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4045]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2104
آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے وقت ادھر ادھر متوجہ نہ ہوتے تھے
ترقیم الباني: 2086 ترقیم فقہی: -- 4046
-" كان إذا مشى لم يلتفت".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے ا دھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4046]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2086
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر کا سارا کام کاج کرنا
ترقیم الباني: 671 ترقیم فقہی: -- 4047
-" كان بشرا من البشر: يفلي ثوبه ويحلب شاته ويخدم نفسه".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کام کاج کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں میں سے ایک انسان تھے، جوؤں کے خیال سے اپنے کپڑے خود ٹٹول لیتے تھے، بکری کا دودھ دوہ لیتے اور اپنی خدمت کے کام خود کر لیتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4047]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 671
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ اور بالوں کی ہیئت
ترقیم الباني: 2053 ترقیم فقہی: -- 4048
-" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أبيض، كأنما صيغ من فضة، رجل الشعر".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ ایسا سفید تھا گویا کہ آپ کو چاندی سے بنایا گیا ہو اور آپ کے بال معمولی گھنگریالے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4048]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2053
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقی اور جسمانی خصائل
ترقیم الباني: 2095 ترقیم فقہی: -- 4049
-" كان شبح الذراعين، أهدب أشفار العينين، بعيد ما بين المنكبين، يقبل جميعا ويدبر جميعا، لم يكن فاحشا ولا متفحشا ولا صخابا في الأسواق".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھرے ہوئے بازوؤں والے اور لمبی پلکوں والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ زیادہ تھا۔ پورے وجود کے ساتھ متوجہ ہوا کرتے تھے اور پورے وجود کے ساتھ پیٹھ پھیرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدخلق تھے نہ بدزبان تھے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بازاروں میں شور کرنے والے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4049]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2095
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کا نام عفیر تھا
ترقیم الباني: 2098 ترقیم فقہی: -- 4050
-" كان له حمار يقال له: عفير".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گدھا تھا، اس کو ”عفیر“ کہا جاتا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4050]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2098
تین دفعہ بات کہہ دینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مراجعہ نہیں کیا جاتا
ترقیم الباني: 2108 ترقیم فقہی: -- 4051
-" كان لا يراجع بعد ثلاث".
سیدنا زیاد بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین دفعہ بات کہہ دینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث مباحثہ نہیں کیا جاتا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4051]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2108
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دار نہیں تھا
ترقیم الباني: 2489 ترقیم فقہی: -- 4052
-" كان يحرس حتى نزلت هذه الآية: * (والله يعصمك من الناس) * (¬1) ، فأخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم رأسه من القبة، فقال لهم: يا أيها الناس! انصرفوا فقد عصمني الله".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دیا جاتا تھا، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”اللہ تعالیٰ ٰ تم کو لوگوں سے بچائے گا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر خیمے سے نکالا اور صحابہ سے فرمایا: ”لوگو! چلے جاؤ اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ کر دیا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4052]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2489