🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْوَلاَءِ:
باب: ولاء میں شرط لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2729
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُمْ، فَأَبَوْا عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِهِمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكِ عَلَيْهِمْ، فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے اپنے مالک سے نو اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ دینا ہو گا۔ آپ بھی میری مدد کیجئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر تمہارے مالک چاہیں تو میں ایک دم انہیں اتنی قیمت ادا کر سکتی ہوں۔ لیکن تمہاری ولاء میری ہو گی۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے یہاں گئیں اور ان سے اس صورت کا ذکر کیا لیکن انہوں نے ولاء کے لیے انکار کیا۔ جب وہ ان کے یہاں سے واپس ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مالکوں کے سامنے یہ صورت رکھی تھی، لیکن وہ کہتے تھے کہ ولاء انہیں کی ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ بات سنی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو انہیں خرید لے اور انہیں ولاء کی شرط لگانے دے۔ ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ میں گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا کوئی پتہ (سند، دلیل) کتاب اللہ میں نہیں ہے ایسی کوئی بھی شرط جس کا پتہ (سند، دلیل) کتاب اللہ میں نہ ہو باطل ہے خواہ سو شرطیں کیوں نہ لگالی جائیں۔ اللہ کا فیصلہ ہی حق ہے اور اللہ کی شرطیں ہی پائیدار ہیں اور ولاء تو اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2729]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے پاس حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کرنے لگیں کہ میں نے نو اوقیے چاندی کی ادائیگی کے عوض اپنے مالکان سے عقد کتابت کر لیا ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہوگا، لہٰذا آپ میرا تعاون کریں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر مالکان پسند کریں تو میں یک مشت ان کو تیرا بدل کتابت ادا کر دیتی ہوں، البتہ تیری ولا میرے لیے ہوگی، اگر انہیں منظور ہو تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکان کے پاس گئیں، ان سے کہا تو انہوں نے اس طرح کرنے سے انکار کر دیا۔ جب وہ ان کے پاس سے واپس آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے مالکان پر یہ معاملہ پیش کیا ہے لیکن وہ لوگ ولا کے بغیر معاملہ کرنے سے منکر ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ سن لیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید لو اور ان کے لیے ولا کی شرط کر لو۔ ولا کا حق دار تو وہی ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا کر دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”ان لوگوں کا کیا حال ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ ایسی سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ برحق اور اس کی شرط ہی قابل اعتبار ہے۔ آگاہ رہو! ولا کا حق تو اسی کا ہے جو اسے آزاد کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2729]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ إِذَا اشْتَرَطَ فِي الْمُزَارَعَةِ إِذَا شِئْتُ أَخْرَجْتُكَ:
باب: مزارعت میں مالک نے کاشتکار سے یہ شرط لگائی کہ جب میں چاہوں گا تجھے بے دخل کر سکوں گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2730
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مَرَّارُ بْنُ حَمُّويَهْ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ الْكِنَانِيُّ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا فَدَعَ أَهْلُ خَيْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَامَ عُمَرُ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، وَقَالَ: نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ، وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى مَالِهِ هُنَاكَ، فَعُدِيَ عَلَيْهِ مِنَ اللَّيْلِ، فَفُدِعَتْ يَدَاهُ وَرِجْلَاهُ، وَلَيْسَ لَنَا هُنَاكَ عَدُوٌّ غَيْرَهُمْ هُمْ عَدُوُّنَا وَتُهْمَتُنَا، وَقَدْ رَأَيْتُ إِجْلَاءَهُمْ، فَلَمَّا أَجْمَعَ عُمَرُ عَلَى ذَلِكَ أَتَاهُ أَحَدُ بَنِي أَبِي الْحُقَيْقِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَتُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَامَلَنَا عَلَى الْأَمْوَالِ، وَشَرَطَ ذَلِكَ لَنَا، فَقَالَ عُمَرُ: أَظَنَنْتَ أَنِّي نَسِيتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ تَعْدُو بِكَ قَلُوصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ: كَانَتْ هَذِهِ هُزَيْلَةً مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ، قَالَ: كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، فَأَجْلَاهُمْ عُمَرُ وَأَعْطَاهُمْ قِيمَةَ مَا كَانَ لَهُمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالًا وَإِبِلًا وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ". رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَحْسِبُهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَصَرَهُ.
ہم سے ابواحمد مرار بن حمویہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے محمد بن یحییٰ ابوغسان کنانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی نافع سے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب ان کے ہاتھ پاؤں خیبر والوں نے توڑ ڈالے تو عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کے یہودیوں سے ان کی جائیداد کا معاملہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں قائم رکھے ہم بھی قائم رکھیں گے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں اپنے اموال کے سلسلے میں گئے تو رات میں ان کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ کیا گیا جس سے ان کے پاؤں ٹوٹ گئے۔ خیبر میں ان کے سوا اور کوئی ہمارا دشمن نہیں ‘ وہی ہمارے دشمن ہیں اور انہیں پر ہمیں شبہ ہے اس لیے میں انہیں جلا وطن کر دینا ہی مناسب جانتا ہوں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنو ابی حقیق (ایک یہودی خاندان) کا ایک شخص تھا ’ آیا اور کہا یا امیرالمؤمنین کیا آپ ہمیں جلا وطن کر دیں گے حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں باقی رکھا تھا اور ہم سے جائیداد کا ایک معاملہ بھی کیا تھا اور اس کی ہمیں خیبر میں رہنے دینے کی شرط بھی آپ نے لگائی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھول گیا ہوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب تم خیبر سے نکالے جاؤ گے اور تمہارے اونٹ تمہیں راتوں رات لیے پھریں گے۔ اس نے کہا یہ ابوالقاسم (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ایک مذاق تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے دشمن! تم نے جھوٹی بات کہی۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں شہر بدر کر دیا اور ان کے پھلوں کی کچھ نقد قیمت کچھ مال اور اونٹ اور دوسرے سامان یعنی کجاوے اور رسیوں کی صورت میں ادا کر دی۔ اس کی روایت حماد بن سلمہ نے عبیداللہ سے نقل کی ہے جیسا کہ مجھے یقین ہے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختصر طور پر۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2730]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خیبر کے یہودیوں نے ان کے ہاتھ پاؤں توڑ دیے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے خیبر کا معاملہ ان کے اموال کے متعلق کیا اور فرمایا تھا: ”جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھہرائے گا ہم تمہیں ٹھہرائیں گے۔“ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہاں خیبر میں اپنے مال کی دیکھ بھال کے لیے گئے تو رات کے وقت ان پر تشدد کیا گیا اور ان کے ہاتھ پاؤں توڑ دیے گئے۔ وہاں یہودیوں کے علاوہ ہمارا کوئی دشمن نہیں، وہی لوگ ہمارے دشمن ہیں اور ہم انہی پر اپنے شبہ کا اظہار کرتے ہیں، اس لیے انہیں جلا وطن کر دینا ہی مناسب خیال کرتا ہوں، چنانچہ جب انہوں نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو ابوالحقیق خاندان کا ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! آپ ہمیں کیسے یہاں سے جلاوطن کر سکتے ہیں جبکہ ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرایا اور ہمارے اموال پر ہمارے ساتھ معاملہ کیا ہے، ہمارے ساتھ یہاں رہنے کی شرط بھی طے کی تھی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھول گیا ہوں (جو آپ نے تیرے لیے فرمایا تھا): ”اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تجھے خیبر سے نکالا جائے گا اور تیری تیز رفتار اونٹنیاں راتوں رات تجھے بھگا لے جائیں گی؟“ اس یہودی نے جواب دیا: یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مذاق کے طور پر تھا۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے دشمن! تو جھوٹ بولتا ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کر دیا اور ان کے پھلوں کی قیمت کچھ نقدی کی صورت میں، کچھ ساز و سامان کی صورت میں اور کچھ اونٹنیوں کی صورت میں ادا کر دی، ساز و سامان میں پالان اور رسیاں وغیرہ بھی تھیں۔ حماد بن سلمہ نے بھی اس روایت کو مرفوع اور مختصر طور پر بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2730]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْجِهَادِ وَالْمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الْحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوطِ:
باب: جہاد میں شرطیں لگانا اور کافروں کے ساتھ صلح کرنے میں اور شرطوں کا لکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2731
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ، قَالَا:‏‏‏‏"خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةٌ، فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ، فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُمْ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ، فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ حَلْ، حَلْ، فَأَلَحَّتْ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ، وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ، ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ، قَالَ:‏‏‏‏ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يُلَبِّثْهُ النَّاسُ حَتَّى نَزَحُوهُ، وَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ، وَكَانُوا عَيْبَةَ نُصْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ وَمَعَهُمُ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ وَلَكِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ، وَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ نَهِكَتْهُمُ الْحَرْبُ وَأَضَرَّتْ بِهِمْ، فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْتُهُمْ مُدَّةً، وَيُخَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ فَإِنْ أَظْهَرْ، فَإِنْ شَاءُوا أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ فَعَلُوا وَإِلَّا فَقَدْ جَمُّوا، وَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى أَمْرِي هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي وَلَيُنْفِذَنَّ اللَّهُ أَمْرَهُ، فَقَالَ بُدَيْلٌ:‏‏‏‏ سَأُبَلِّغُهُمْ مَا تَقُولُ، قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قُرَيْشًا، قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا قَدْ جِئْنَاكُمْ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ، وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ قَوْلًا، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعْرِضَهُ عَلَيْكُمْ فَعَلْنَا، فَقَالَ سُفَهَاؤُهُمْ:‏‏‏‏ لَا حَاجَةَ لَنَا أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْهُ بِشَيْءٍ، وَقَالَ ذَوُو الرَّأْيِ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ هَاتِ مَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَحَدَّثَهُمْ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ قَوْمِ، أَلَسْتُمْ بِالْوَالِدِ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ أَوَلَسْتُ بِالْوَلَدِ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ فَهَلْ تَتَّهِمُونِي؟ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي اسْتَنْفَرْتُ أَهْلَ عُكَاظَ، فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَيَّ جِئْتُكُمْ بِأَهْلِي وَوَلَدِي، وَمَنْ أَطَاعَنِي؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ هَذَا قَدْ عَرَضَ لَكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ، اقْبَلُوهَا وَدَعُونِي آتِيهِ، قَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَأَتَاهُ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَحْوًا مِنْ قَوْلِهِ لِبُدَيْلٍ، فَقَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ عِنْدَ ذَلِكَ أَيْ مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَأْصَلْتَ أَمْرَ قَوْمِكَ، هَلْ سَمِعْتَ بِأَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَهْلَهُ قَبْلَكَ وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى، فَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى وُجُوهًا وَإِنِّي لَأَرَى أَوْشَابًا مِنَ النَّاسِ خَلِيقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ:‏‏‏‏ امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ، أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ ذَا؟ قَالُوا:‏‏‏‏أَبُو بَكْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ بِهَا لَأَجَبْتُكَ، قَالَ:‏‏‏‏ وَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُلَّمَا تَكَلَّمَ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، وَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا؟ قَالُوا:‏‏‏‏ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ غُدَرُ، أَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَّا الْإِسْلَامَ فَأَقْبَلُ، وَأَمَّا الْمَالَ فَلَسْتُ مِنْهُ فِي شَيْءٍ، ثُمَّ إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ يَرْمُقُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنَيْهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ، فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ قَوْمِ، وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ، وَكِسْرَى، وَالنَّجَاشِيِّ، وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدًا، وَاللَّهِ إِنْ تَنَخَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ:‏‏‏‏ دَعُونِي آتِيهِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَا فُلَانٌ، وَهُوَ مِنْ قَوْمٍ يُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ، فَابْعَثُوهَا لَهُ، فَبُعِثَتْ لَهُ وَاسْتَقْبَلَهُ النَّاسُ يُلَبُّونَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ، قَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا يَنْبَغِي لِهَؤُلَاءِ أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِّدَتْ وَأُشْعِرَتْ، فَمَا أَرَى أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ دَعُونِي آتِيهِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَا مِكْرَزٌ، وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو". قَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُ لَمَّا جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَقَدْ سَهُلَ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ. قَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ فَجَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ:‏‏‏‏ هَاتِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابًا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَاتِبَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ أَمَّا الرَّحْمَنُ، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا هُوَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ كَمَا كُنْتَ تَكْتُبُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا نَكْتُبُهَا إِلَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ، وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ:‏‏‏‏ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلَى أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَطُوفَ بِهِ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ، أَنَّا أُخِذْنَا ضُغْطَةً، وَلَكِنْ ذَلِكَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَكَتَبَ، فَقَالَ سُهَيْلٌ، وَعَلَى:‏‏‏‏ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، قَالَ الْمُسْلِمُونَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، كَيْفَ يُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جَاءَ مُسْلِمًا؟ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ فِي قُيُودِهِ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ حَتَّى رَمَى بِنَفْسِهِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ هَذَا يَا مُحَمَّدُ، أَوَّلُ مَا أُقَاضِيكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ إِذًا لَمْ أُصَالِحْكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَأَجِزْهُ لِي، قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِمُجِيزِهِ لَكَ، قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، فَافْعَلْ، قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ مِكْرَزٌ:‏‏‏‏ بَلْ قَدْ أَجَزْنَاهُ لَكَ، قَالَ أَبُو جَنْدَلٍ:‏‏‏‏ أَيْ مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا، أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ لَقِيتُ وَكَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا فِي اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْتَ نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَسْتُ أَعْصِيهِ وَهُوَ نَاصِرِي، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَوَلَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوفُ بِهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّا نَأْتِيهِ الْعَامَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، إِذًا قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ وَهُوَ نَاصِرُهُ فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوفُ بِهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، أَفَأَخْبَرَكَ أَنَّكَ تَأْتِيهِ الْعَامَ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهِ. قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ فَعَمِلْتُ لِذَلِكَ أَعْمَالًا، قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ قُومُوا فَانْحَرُوا، ثُمَّ احْلِقُوا، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتُحِبُّ ذَلِكَ اخْرُجْ، ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ، وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ، فَخَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ نَحَرَ بُدْنَهُ وَدَعَا حَالِقَهُ فَحَلَقَهُ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَامُوا فَنَحَرُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا، ثُمَّ جَاءَهُ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ حَتَّى بَلَغَ بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ سورة الممتحنة آية 10، فَطَلَّقَ عُمَرُ يَوْمَئِذٍ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ فِي الشِّرْكِ، فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَالْأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ، فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ الْعَهْدَ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ، فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَنَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلَانُ جَيِّدًا فَاسْتَلَّهُ الْآخَرُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَجَيِّدٌ، لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جَرَّبْتُ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ:‏‏‏‏ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ، فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ:‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:‏‏‏‏ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ، فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ وَاللَّهِ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ، قَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ، ثُمَّ أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْهُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَيْلُ أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ، قَالَ:‏‏‏‏ وَيَنْفَلِتُ مِنْهُمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ، فَوَاللَّهِ مَا يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّأْمِ إِلَّا اعْتَرَضُوا لَهَا، فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ بِاللَّهِ وَالرَّحِمِ لَمَّا أَرْسَلَ، فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ حَتَّى بَلَغَ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ سورة الفتح آية 24 - 26، وَكَانَتْ حَمِيَّتُهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ، وَلَمْ يُقِرُّوا بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَحَالُوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْبَيْتِ. وَقَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ مَعَرَّةٌ الْعُرُّ الْجَرَبُ تَزَيَّلُوا تَمَيَّزُوا، وَحَمَيْتُ الْقَوْمَ مَنَعْتُهُمْ حِمَايَةً، وَأَحْمَيْتُ الْحِمَى جَعَلْتُهُ حِمًى لَا يُدْخَلُ، وَأَحْمَيْتُ الْحَدِيدَ، وَأَحْمَيْتُ الرَّجُلَ إِذَا أَغْضَبْتَهُ إِحْمَاءً.
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان بن حکم رحمہ اللہ سے روایت ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی حدیث کی تصدیق کرتا ہے، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (معجزانہ طور پر) فرمایا: ”خالد بن ولید مقام غمیم میں قریش کے سواروں کے ہمراہ موجود ہے اور یہ قریش کا ہراول دستہ ہے، لہٰذا تم دائیں جانب کا راستہ اختیار کرو۔“ تو اللہ کی قسم! خالد کو ان کے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئی یہاں تک کہ جب لشکر کا غبار ان تک پہنچا تو وہ فوراً قریش کو مطلع کرنے کے لیے وہاں سے دوڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جس سے مکہ میں اترا جاتا تھا تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ اس پر لوگوں نے اسے چلانے کے لیے «حَلْ حَلْ» ”چل چل“ کہا مگر اس نے کوئی حرکت نہ کی۔ لوگ کہنے لگے: قصواء بیٹھ گئی، قصواء اڑ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصواء نہیں بیٹھی اور نہ یوں اڑنا ہی اس کی عادت ہے، مگر جس (اللہ) نے ہاتھیوں (کے لشکر) کو (مکہ میں داخل ہونے سے) روکا تھا اس نے اس (قصواء کو بھی) روک دیا ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر کفارِ قریش مجھ سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی طرف سے حرمت و عزت والی چیزوں کی تعظیم کریں تو میں اس کو ضرور منظور کروں گا۔“ پھر آپ نے اس اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ جست لگا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ آپ نے ان (اہل مکہ) کی طرف سے رخ پھیرا اور حدیبیہ کے انتہائی (آخری) حصے میں ایک ندی پر پڑاؤ کیا جس میں بہت کم پانی تھا۔ لوگ اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی لینے لگے اور چند لمحات میں اس کو صاف کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیاس کی شکایت کی گئی تو آپ نے ایک تیر اپنی ترکش سے نکالا اور ارشاد فرمایا کہ ”اس کو اس پانی میں گاڑ دیں۔“ (پھر کیا تھا) اللہ کی قسم! پانی جوش مارنے لگا اور سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر پیا اور ان کی واپسی تک یہی حال رہا۔ اسی حالت میں بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم خزاعہ کے چند آدمیوں کو لیے ہوئے آ پہنچا اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیر خواہ اور با اعتماد تہامہ کے لوگوں میں سے تھا۔ اس نے کہا: میں نے کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ حدیبیہ کے عمیق چشموں پر فروکش ہیں اور ان کے ساتھ دودھ والی اونٹنیاں ہیں اور وہ لوگ آپ سے جنگ کرنا اور بیت اللہ سے آپ کو روکنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کسی سے لڑنے نہیں بلکہ صرف عمرہ کرنے آئے ہیں اور بے شک قریش کو لڑائی نے کمزور کر دیا ہے اور ان کو بہت نقصان پہنچایا ہے، لہٰذا اگر وہ چاہیں تو میں ان سے ایک مدت طے کر لیتا ہوں اور وہ اس مدت میں میرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان حائل نہ ہوں (اگر اس دوران میں کوئی مجھ پر غالب آجائے تو یہ ان کی مراد ہے اور) اگر میں غالب ہو جاؤں اور وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں جس میں اور لوگ داخل ہو گئے ہیں ورنہ وہ مزید چند روز آرام حاصل کر لیں گے۔ اگر وہ یہ بات نہ مانیں تو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تو اس دین پر ان سے لڑتا رہوں گا یہاں تک کہ میری گردن کٹ جائے اور یقیناً اللہ تعالیٰ ضرور اپنے اس دین کو جاری کرے گا۔“ اس پر بدیل نے کہا: میں آپ کا پیغام ان کو پہنچا دیتا ہوں، چنانچہ وہ چلا گیا اور قریش کے پاس جا کر کہنے لگا: ہم یہاں اس شخص کے پاس آ رہے ہیں اور ہم نے ان کو کچھ کہتے ہوئے سنا ہے، اگر تم چاہو تو تمہیں سناؤں۔ اس پر کچھ بے وقوف لوگوں نے کہا: ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ تم ہمیں ان کی کسی بات کی خبر دو، مگر ان میں سے عقل مند لوگوں نے کہا: اچھا بتلاؤ تم کیا بات سن کر آئے ہو؟ بدیل نے کہا: میں نے ان کو ایسا ایسا کہتے سنا ہے، پھر جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ اس نے بیان کر دیا۔ اتنے میں عروہ بن مسعود ثقفی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میری قوم کے لوگو! کیا تم اولاد کی طرح (میرے خیر خواہ) اور میں تم پر باپ کی طرح شفقت نہیں کرتا؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم مجھ پر کوئی الزام لگاتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے اہل عکاظ کو تمہاری مدد کے لیے بلایا مگر انہوں نے جب میرا کہا نہ مانا تو میں اپنے بال بچے، تعلق دار اور پیروکاروں کو لے کر تمہارے پاس آ گیا؟ انہوں نے کہا: ہاں ٹھیک ہے۔ عروہ نے کہا: اس شخص، یعنی بدیل نے تمہاری خیر خواہی کی بات کی ہے، اس کو منظور کر لو اور اجازت دو کہ میں اس کے پاس جاؤں۔ سب لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے تم اس کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے باتیں کرنے لگا۔ آپ نے اس سے بھی وہی گفتگو کی جو بدیل سے کی تھی۔ عروہ یہ سن کر کہنے لگا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اگر تم اپنی قوم کی جڑ بالکل کاٹ دو گے تو (کیا فائدہ ہو گا؟) کیا تم نے اپنے سے پہلے کسی عرب کو سنا ہے کہ اس نے اپنی قوم کا استیصال کیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہوئی، یعنی تم مغلوب ہو گئے تو اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھیوں کے منہ دیکھتا ہوں کہ یہ مختلف لوگ جنہیں بھاگنے کی عادت ہے، تمہیں چھوڑ دیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: ”جا اور لات کی شرمگاہ پر منہ مار! کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟“ عروہ نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تمہارا ایک احسان مجھ پر نہ ہوتا جس کا ابھی تک بدلہ نہیں دے سکا تو میں تمہیں سخت جواب دیتا۔ راوی کہتا ہے کہ پھر عروہ باتیں کرنے لگا اور جب بات کرتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کو پکڑتا۔ اس وقت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے پاس کھڑے تھے جن کے ہاتھ میں تلوار اور سر پر خود تھا، لہٰذا جب عروہ اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی طرف بڑھاتا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ اس کے ہاتھ پر تلوار کا نچلا حصہ مارتے اور کہتے کہ ”अपना ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے دور رکھ۔“ یہ سن کر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہنے لگا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا: اے دغاباز! کیا میں نے تیری دغا بازی کی سزا سے تجھ کو نہیں بچایا؟ ہوا یوں کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کافروں کی کسی قوم کے ساتھ گئے تھے، پھر انہیں قتل کر کے ان کا مال لوٹا اور چلے آئے، اس کے بعد وہ مسلمان ہو گئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اسلام تو میں قبول کرتا ہوں لیکن جو مال تو لایا ہے، اس سے مجھے کوئی غرض نہیں۔“ اس کے بعد عروہ گوشہ چشم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھنے لگا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ اللہ کی قسم! اس نے دیکھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوکتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر ہی پڑتا تھا اور وہ اسے اپنے چہرے اور بدن پر ملتا تھا۔ اور جب آپ انہیں کوئی حکم دیتے تو وہ فوراً اس کی تعمیل کرتے تھے۔ اور جب آپ وضو کرتے تو وہ آپ کے وضو کا گرا ہوا پانی لینے پر جھپٹ پڑتے تھے اور ہر شخص اسے لینے کی خواہش کرتا۔ وہ لوگ کبھی بات کرتے تو آپ کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے اور آپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھتے تھے۔ یہ حال دیکھ کر عروہ اپنے لوگوں کے پاس لوٹ کر گیا اور ان سے کہا: لوگو! اللہ کی قسم! میں بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں اور قیصر و کسریٰ، نیز نجاشی کے دربار بھی دیکھ آیا ہوں مگر میں نے کسی بادشاہ کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جس طرح محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اصحاب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! جب وہ تھوکتے ہیں تو ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر پڑتا ہے اور وہ اس کو اپنے چہرے پر مل لیتا ہے۔ اور جب وہ کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو وہ فوراً ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ وضو کرتے ہیں تو لوگ ان کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے لیے لڑتے مرتے ہیں اور جب گفتگو کرتے ہیں تو ان کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں اور تعظیم کی وجہ سے ان کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھتے۔ بے شک انہوں نے تمہیں ایک اچھی بات کی پیش کش کی ہے، تم اسے قبول کر لو۔ اس پر بنو کنانہ کے ایک آدمی نے کہا: اب مجھے اس کے پاس جانے کی اجازت دو، لوگوں نے کہا: اچھا اب تم ان کے پاس جاؤ۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فلاں شخص ہے اور یہ اس قوم سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں، لہٰذا تم قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دو۔“ چنانچہ قربانی اس کے سامنے پیش کی گئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے لبیک پکارتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ جب اس نے یہ حال دیکھا تو کہنے لگا: سبحان اللہ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا زیب نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ بھی اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گیا اور کہنے لگا: میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا کہ ان کے گلے میں ہار پڑے ہوئے ہیں اور ان کے کوہان زخمی ہیں، میں تو ایسے لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا مناسب خیال نہیں کرتا۔ پھر ان میں سے ایک اور شخص جس کا نام مکرز بن حفص تھا کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: مجھے اجازت دو کہ میں آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں، لوگوں نے کہا: اچھا تم بھی جاؤ۔ جب وہ مسلمانوں کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مکرز ہے اور یہ بد کردار آدمی ہے۔“ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا۔ ابھی وہ آپ سے گفتگو ہی کر رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا۔ جب سہیل بن عمرو آیا تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تمہارا کام آسان ہو گیا ہے۔“ پھر اس نے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان صلح کی دستاویز تحریر کریں، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلا کر اس سے فرمایا: ”لکھو: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» “ اس پر سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ رحمن کون ہے؟ آپ اس طرح لکھوائیں: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ» جیسا کہ آپ پہلے لکھا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے کہا: ہم تو «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ہی لکھوائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ» ہی لکھ دو۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”لکھو کہ یہ وہ تحریر ہے جس کی بنیاد پر محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے صلح کی۔“ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم یقین رکھتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم نہ تو آپ کو بیت اللہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ ہی کرتے، لہٰذا محمد بن عبد اللہ لکھوائیں گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم میری تکذیب ہی کرو۔ اچھا محمد بن عبد اللہ ہی لکھو...“ امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درج ذیل فرمان کی وجہ سے کیا: ”اگر کفارِ قریش مجھ سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی طرف سے حرمت و عزت والی چیزوں کی تعظیم کریں تو میں ضرور اس کو منظور کروں گا...“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”لیکن اس شرط پر کہ تم ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل نہیں ہو گے تاکہ ہم کعبہ کا طواف کر لیں۔“ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ عرب باتیں کریں گے کہ ہم دباؤ میں آگئے ہیں، البتہ آئندہ سال یہ بات ہو جائے گی، چنانچہ آپ نے یہی لکھوا دیا۔ پھر سہیل نے کہا: یہ شرط بھی ہے کہ ہماری طرف سے جو شخص تمہاری طرف آئے، اگرچہ وہ تمہارے دین پر ہو، اس کو آپ نے ہماری طرف واپس کرنا ہو گا۔ مسلمانوں نے کہا: سبحان اللہ! وہ کس لیے مشرکوں کے حوالے کیا جائے جبکہ وہ مسلمان ہو کر آیا ہے؟ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابوجندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما بیڑیاں پہنے ہوئے آہستہ آہستہ مکہ کی نشیبی طرف سے آتے ہوئے معلوم ہوئے یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں پہنچ گئے۔ سہیل نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! سب سے پہلی بات جس پر ہم صلح کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس کو مجھے واپس کر دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی تو صلح نامہ پورا لکھا بھی نہیں گیا۔“ سہیل نے کہا: تو پھر اللہ کی قسم! میں تم سے کسی بات پر صلح نہیں کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تم اس کی مجھے اجازت دے دو۔“ سہیل نے کہا: میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تم مجھے اس کی اجازت دے دو۔“ اس نے کہا: میں نہیں دوں گا۔ مکرز بولا: اچھا ہم آپ کی خاطر اس کی اجازت دیتے ہیں۔ (مگر اس کی بات نہیں مانی گئی۔) بالآخر حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہما بول اٹھے: اے مسلمانو! کیا میں مشرکین کی طرف واپس کر دیا جاؤں گا، حالانکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں نے کیا کیا مصیبتیں اٹھائی ہیں؟ درحقیقت اسلام کی راہ میں اسے سخت تکلیف دی گئی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا آپ اللہ کے سچے پیغمبر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ایسا ہی ہے۔“ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، ایسے ہی ہے۔“ میں نے عرض کیا: تو پھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا، وہ میرا مدد گار ہے۔“ میں نے عرض کیا: کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، مگر کیا میں نے تم سے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اسی سال (بیت اللہ) جائیں گے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تم (ایک وقت) بیت اللہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: اے ابوبکر! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر ہم دین کے متعلق یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: بھلے آدمی! وہ اللہ کے رسول ہیں، اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے، اللہ ان کا مدد گار ہے، لہٰذا وہ جو حکم دیں اس کی تعمیل کرو اور ان کی رکاب کو تھام لو کیونکہ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں۔ میں نے کہا: کیا آپ ہم سے یہ بیان نہیں کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ جا کر اس کا طواف کریں گے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، کہا تھا مگر کیا یہ بھی کہا تھا کہ تم اسی سال بیت اللہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم بیت اللہ پہنچو گے اور اس کا طواف کرو گے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اس (بے ادبی اور گستاخی کی تلافی کے لیے) بہت سے نیک عمل کیے۔ راوی کا بیان ہے کہ جب صلح نامہ لکھا جا چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے کہا: ”اٹھو اور قربانی کے جانور ذبح کرو، نیز سر کے بال منڈاؤ۔“ راوی کہتا ہے کہ اللہ کی قسم! یہ سن کر کوئی بھی نہ اٹھا، پھر آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، جب ان میں سے کوئی نہ اٹھا تو آپ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا جو لوگوں سے آپ کو پیش آیا تھا۔ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ یہ بات چاہتے ہیں تو باہر تشریف لے جائیں اور ان میں سے کسی کے ساتھ کلام نہ فرمائیں بلکہ آپ اپنے قربانی کے جانور ذبح کر کے سر مونڈنے والے کو بلائیں تاکہ وہ آپ کا سر مونڈ دے۔ چنانچہ آپ باہر تشریف لائے اور کسی سے گفتگو نہ کی حتیٰ کہ آپ نے تمام کام کر لیے، آپ نے قربانی کے جانور ذبح کیے اور سر مونڈنے والے کو بلایا جس نے آپ کا سر مونڈا، چنانچہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے یہ دیکھا تو وہ بھی اٹھے اور انہوں نے قربانی کے جانور ذبح کیے، پھر ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ غم کی وجہ سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کر دیں گے۔ اس کے بعد چند مسلمان خواتین آپ کے ہاں حاضرِ خدمت ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ ۖ ... وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ [سورة الممتحنة: 10] (ترجمہ: مسلمانو! جب مسلمان عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان لو... کافر عورتوں کو نکاح میں نہ رکھو)۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے اس دن اپنی دو مشرک عورتوں کو طلاق دے دی جو ان کے نکاح میں تھیں، ان میں ایک کے ساتھ حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو ابوبصیر نامی ایک شخص مسلمان ہو کر آپ کے پاس آیا جو قریشی تھا اور کفارِ مکہ نے اس کے تعاقب میں دو آدمی بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہلوا بھیجا کہ جو عہد آپ نے ہم سے کیا ہے اس کا خیال کریں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو ان دونوں کے حوالے کر دیا اور وہ دونوں اسے لے کر ذوالحلیفہ پہنچے اور وہاں اتر کر کھجوریں کھانے لگے تو حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ایک سے کہا: اللہ کی قسم! تیری تلوار بہت عمدہ معلوم ہوتی ہے۔ اس نے سونت کر کہا: بے شک عمدہ ہے، میں اسے کئی دفعہ آزما چکا ہوں۔ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے دکھاؤ میں بھی تو دیکھوں کیسی اچھی ہے؟ چنانچہ وہ تلوار اس نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے اسی تلوار سے وار کر کے اسے ٹھنڈا کر دیا۔ دوسرا شخص بھاگتا ہوا مدینہ آیا اور دوڑتا ہوا مسجد میں گھس آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”یہ کچھ خوفزدہ ہے۔“ پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرا ساتھی قتل کر دیا گیا ہے اور میں بھی نہیں بچوں گا۔ اتنے میں حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ بھی آپہنچے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے آپ کا عہد پورا کر دیا ہے، آپ نے مجھے کفار کو واپس کر دیا تھا مگر اللہ نے مجھے نجات دی ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں کے لیے خرابی ہو! یہ تو لڑائی کی آگ ہے، اگر کوئی اس کا مددگار ہوتا تو ضرور بھڑک اٹھتی۔“ جب حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو وہ سمجھ گئے کہ آپ اس کو پھر ان (کفار) کے حوالے کریں گے، لہٰذا وہ سیدھے نکل کر سمندر کے کنارے جا پہنچے۔ دوسری طرف سے حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہما بھی مکہ سے بھاگ کر اس سے مل گئے۔ اس طرح جو شخص بھی قریش کا مسلمان ہو کر آتا وہ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ سے مل جاتا تھا یہاں تک کہ وہاں ایک جماعت وجود میں آگئی، پھر اللہ کی قسم! وہ قریش کے جس قافلے کی بابت سنتے کہ وہ شام کی جانب جا رہا ہے اس کی گھات میں رہتے، اس کے آدمیوں کو قتل کر کے ان کا ساز و سامان لوٹ لیتے، پھر آخر کار قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیجا اور آپ کو اللہ اور قرابت کا واسطہ دیا کہ ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو کہلا بھیجیں کہ وہ ایذا رسانی سے باز آجائے اور اب سے جو شخص مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے اس کو امن ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی بابت پیغام بھیجا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الفتح: 24] (ترجمہ: وہی اللہ جس نے عین مکہ میں تمہیں ان پر فتح دی اور ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے جبکہ اس سے پہلے تمہیں ان پر غالب کر چکا تھا)۔ ﴿إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ﴾ [سورة الفتح: 26] (ترجمہ: جب کفار نے اپنے دلوں میں زمانہ جاہلیت کی نخوت ٹھان لی)۔ اور جاہلانہ نخوت یہ تھی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو نہ مانا اور «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» نہ لکھنے دیا، نیز مسلمانوں اور کعبہ کے درمیان حائل ہوئے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: «مَعَرَّة» «عَرَّة» سے مشتق ہے، اس کے معنی خارش کے ہیں اور «تَزَيَّلُوا» کے معنی ہیں: وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ (اور «حَمِيَّة» کا لفظ) «حَمَيْتُ الْقَوْمَ» سے ہے، اس کے معنی ہیں: میں نے لوگوں کو شر سے بچایا، اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ میں نے چراگاہ کی حفاظت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2731]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2732
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ، قَالَا:‏‏‏‏"خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةٌ، فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ، فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُمْ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ، فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ حَلْ، حَلْ، فَأَلَحَّتْ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ، وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ، ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ، قَالَ:‏‏‏‏ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يُلَبِّثْهُ النَّاسُ حَتَّى نَزَحُوهُ، وَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ، وَكَانُوا عَيْبَةَ نُصْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ وَمَعَهُمُ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ وَلَكِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ، وَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ نَهِكَتْهُمُ الْحَرْبُ وَأَضَرَّتْ بِهِمْ، فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْتُهُمْ مُدَّةً، وَيُخَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ فَإِنْ أَظْهَرْ، فَإِنْ شَاءُوا أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ فَعَلُوا وَإِلَّا فَقَدْ جَمُّوا، وَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى أَمْرِي هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي وَلَيُنْفِذَنَّ اللَّهُ أَمْرَهُ، فَقَالَ بُدَيْلٌ:‏‏‏‏ سَأُبَلِّغُهُمْ مَا تَقُولُ، قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قُرَيْشًا، قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا قَدْ جِئْنَاكُمْ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ، وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ قَوْلًا، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعْرِضَهُ عَلَيْكُمْ فَعَلْنَا، فَقَالَ سُفَهَاؤُهُمْ:‏‏‏‏ لَا حَاجَةَ لَنَا أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْهُ بِشَيْءٍ، وَقَالَ ذَوُو الرَّأْيِ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ هَاتِ مَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَحَدَّثَهُمْ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ قَوْمِ، أَلَسْتُمْ بِالْوَالِدِ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ أَوَلَسْتُ بِالْوَلَدِ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ فَهَلْ تَتَّهِمُونِي؟ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي اسْتَنْفَرْتُ أَهْلَ عُكَاظَ، فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَيَّ جِئْتُكُمْ بِأَهْلِي وَوَلَدِي، وَمَنْ أَطَاعَنِي؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ هَذَا قَدْ عَرَضَ لَكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ، اقْبَلُوهَا وَدَعُونِي آتِيهِ، قَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَأَتَاهُ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَحْوًا مِنْ قَوْلِهِ لِبُدَيْلٍ، فَقَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ عِنْدَ ذَلِكَ أَيْ مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَأْصَلْتَ أَمْرَ قَوْمِكَ، هَلْ سَمِعْتَ بِأَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَهْلَهُ قَبْلَكَ وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى، فَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى وُجُوهًا وَإِنِّي لَأَرَى أَوْشَابًا مِنَ النَّاسِ خَلِيقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ:‏‏‏‏ امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ، أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ ذَا؟ قَالُوا:‏‏‏‏أَبُو بَكْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ بِهَا لَأَجَبْتُكَ، قَالَ:‏‏‏‏ وَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُلَّمَا تَكَلَّمَ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، وَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا؟ قَالُوا:‏‏‏‏ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ غُدَرُ، أَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَّا الْإِسْلَامَ فَأَقْبَلُ، وَأَمَّا الْمَالَ فَلَسْتُ مِنْهُ فِي شَيْءٍ، ثُمَّ إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ يَرْمُقُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنَيْهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ، فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ قَوْمِ، وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ، وَكِسْرَى، وَالنَّجَاشِيِّ، وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدًا، وَاللَّهِ إِنْ تَنَخَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ:‏‏‏‏ دَعُونِي آتِيهِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَا فُلَانٌ، وَهُوَ مِنْ قَوْمٍ يُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ، فَابْعَثُوهَا لَهُ، فَبُعِثَتْ لَهُ وَاسْتَقْبَلَهُ النَّاسُ يُلَبُّونَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ، قَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا يَنْبَغِي لِهَؤُلَاءِ أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِّدَتْ وَأُشْعِرَتْ، فَمَا أَرَى أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ دَعُونِي آتِيهِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَا مِكْرَزٌ، وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو". قَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُ لَمَّا جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَقَدْ سَهُلَ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ. قَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ فَجَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ:‏‏‏‏ هَاتِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابًا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَاتِبَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ أَمَّا الرَّحْمَنُ، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا هُوَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ كَمَا كُنْتَ تَكْتُبُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا نَكْتُبُهَا إِلَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ، وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ:‏‏‏‏ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلَى أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَطُوفَ بِهِ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ، أَنَّا أُخِذْنَا ضُغْطَةً، وَلَكِنْ ذَلِكَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَكَتَبَ، فَقَالَ سُهَيْلٌ، وَعَلَى:‏‏‏‏ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، قَالَ الْمُسْلِمُونَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، كَيْفَ يُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جَاءَ مُسْلِمًا؟ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ فِي قُيُودِهِ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ حَتَّى رَمَى بِنَفْسِهِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ هَذَا يَا مُحَمَّدُ، أَوَّلُ مَا أُقَاضِيكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ إِذًا لَمْ أُصَالِحْكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَأَجِزْهُ لِي، قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِمُجِيزِهِ لَكَ، قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، فَافْعَلْ، قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ مِكْرَزٌ:‏‏‏‏ بَلْ قَدْ أَجَزْنَاهُ لَكَ، قَالَ أَبُو جَنْدَلٍ:‏‏‏‏ أَيْ مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا، أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ لَقِيتُ وَكَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا فِي اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْتَ نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَسْتُ أَعْصِيهِ وَهُوَ نَاصِرِي، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَوَلَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوفُ بِهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّا نَأْتِيهِ الْعَامَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، إِذًا قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ وَهُوَ نَاصِرُهُ فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوفُ بِهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، أَفَأَخْبَرَكَ أَنَّكَ تَأْتِيهِ الْعَامَ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهِ. قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ فَعَمِلْتُ لِذَلِكَ أَعْمَالًا، قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ قُومُوا فَانْحَرُوا، ثُمَّ احْلِقُوا، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتُحِبُّ ذَلِكَ اخْرُجْ، ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ، وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ، فَخَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ نَحَرَ بُدْنَهُ وَدَعَا حَالِقَهُ فَحَلَقَهُ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَامُوا فَنَحَرُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا، ثُمَّ جَاءَهُ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ حَتَّى بَلَغَ بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ سورة الممتحنة آية 10، فَطَلَّقَ عُمَرُ يَوْمَئِذٍ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ فِي الشِّرْكِ، فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَالْأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ، فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ الْعَهْدَ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ، فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَنَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلَانُ جَيِّدًا فَاسْتَلَّهُ الْآخَرُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَجَيِّدٌ، لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جَرَّبْتُ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ:‏‏‏‏ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ، فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ:‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:‏‏‏‏ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ، فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ وَاللَّهِ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ، قَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ، ثُمَّ أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْهُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَيْلُ أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ، قَالَ:‏‏‏‏ وَيَنْفَلِتُ مِنْهُمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ، فَوَاللَّهِ مَا يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّأْمِ إِلَّا اعْتَرَضُوا لَهَا، فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ بِاللَّهِ وَالرَّحِمِ لَمَّا أَرْسَلَ، فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ حَتَّى بَلَغَ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ سورة الفتح آية 24 - 26، وَكَانَتْ حَمِيَّتُهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ، وَلَمْ يُقِرُّوا بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَحَالُوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْبَيْتِ. وَقَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ مَعَرَّةٌ الْعُرُّ الْجَرَبُ تَزَيَّلُوا تَمَيَّزُوا، وَحَمَيْتُ الْقَوْمَ مَنَعْتُهُمْ حِمَايَةً، وَأَحْمَيْتُ الْحِمَى جَعَلْتُهُ حِمًى لَا يُدْخَلُ، وَأَحْمَيْتُ الْحَدِيدَ، وَأَحْمَيْتُ الرَّجُلَ إِذَا أَغْضَبْتَهُ إِحْمَاءً.
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی حدیث کی تصدیق کرتا ہے، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (معجزانہ طور پر) فرمایا: ”خالد بن ولید مقام غمیم میں قریش کے سواروں کے ہمراہ موجود ہے اور یہ قریش کا ہر اول دستہ ہے، لہٰذا تم دائیں جانب کا راستہ اختیار کرو۔“ تو اللہ کی قسم! خالد کو ان کے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئی یہاں تک کہ جب لشکر کا غبار ان تک پہنچا تو وہ فوراً قریش کو مطلع کرنے کے لیے وہاں سے دوڑا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جس سے مکہ میں اترا جاتا تھا تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ اس پر لوگوں نے اسے چلانے کے لیے حل حل کہا مگر اس نے کوئی حرکت نہ کی۔ لوگ کہنے لگے: قصواء بیٹھ گئی، قصواء اڑ گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصواء نہیں بیٹھی اور نہ یوں اڑنا ہی اس کی عادت ہے، مگر جس (اللہ) نے ہاتھیوں (کے لشکر) کو (مکہ میں داخل ہونے سے) روکا تھا اس نے اس (قصواء) کو بھی روک دیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر کفار قریش مجھ سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی طرف سے حرمت و عزت والی چیزوں کی تعظیم کریں تو میں اس کو ضرور منظور کروں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ جست لگا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (اہل مکہ) کی طرف سے رخ پھیرا اور حدیبیہ کے انتہائی (آخری) حصے میں ایک ندی پر پڑاؤ کیا جس میں بہت کم پانی تھا۔ لوگ اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی لینے لگے اور چند لمحات میں اس کو صاف کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیاس کی شکایت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تیر اپنی ترکش سے نکالا اور ارشاد فرمایا کہ ”اس کو اس پانی میں گاڑ دیں۔“ (پھر کیا تھا) اللہ کی قسم! پانی جوش مارنے لگا اور سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر پیا اور ان کی واپسی تک یہی حال رہا۔ اسی حالت میں بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم خزاعہ کے چند آدمیوں کو لیے ہوئے آ پہنچا اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیر خواہ اور با اعتماد تہامہ کے لوگوں میں سے تھا۔ اس نے کہا: میں نے کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ حدیبیہ کے عمیق چشموں پر فروکش ہیں اور ان کے ساتھ دودھ والی اونٹنیاں ہیں اور وہ لوگ آپ سے جنگ کرنا اور بیت اللہ سے آپ کو روکنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کسی سے لڑنے نہیں بلکہ صرف عمرہ کرنے آئے ہیں اور بے شک قریش کو لڑائی نے کمزور کر دیا ہے اور ان کو بہت نقصان پہنچایا ہے، لہٰذا اگر وہ چاہیں تو میں ان سے ایک مدت طے کر لیتا ہوں اور وہ اس مدت میں میرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان حائل نہ ہوں (اگر اس دوران میں کوئی مجھ پر غالب آ جائے تو یہ ان کی مراد ہے اور) اگر میں غالب ہو جاؤں اور وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں جس میں اور لوگ داخل ہو گئے ہیں ورنہ وہ مزید چند روز آرام حاصل کر لیں گے۔ اگر وہ یہ بات نہ مانیں تو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تو اس دین پر ان سے لڑتا رہوں گا یہاں تک کہ میری گردن کٹ جائے۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ ضرور اپنے اس دین کو جاری کرے گا۔“ اس پر بدیل نے کہا: میں آپ کا پیغام ان کو پہنچا دیتا ہوں، چنانچہ وہ چلا گیا اور قریش کے پاس جا کر کہنے لگا: ہم یہاں اس شخص کے پاس آ رہے ہیں اور ہم نے ان کو کچھ کہتے ہوئے سنا ہے، اگر تم چاہو تو تمھیں سناؤں۔ اس پر کچھ بے وقوف لوگوں نے کہا: ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ تم ہمیں ان کی کسی بات کی خبر دو، مگر ان میں سے عقل مند لوگوں نے کہا: اچھا بتلاؤ تم کیا بات سن کر آئے ہو؟ بدیل نے کہا: میں نے ان کو ایسا ایسا کہتے سنا ہے، پھر جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ اس نے بیان کر دیا۔ اتنے میں عروہ بن مسعود ثقفی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میری قوم کے لوگو! کیا تم اولاد کی طرح (میرے خیر خواہ) اور میں تم پر باپ کی طرح شفقت نہیں کرتا؟ انھوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم مجھ پر کوئی الزام لگاتے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے اہل عکاظ کو تمھاری مدد کے لیے بلایا مگر انھوں نے جب میرا کہا نہ مانا تو میں اپنے بال بچے، تعلق دار اور پیروکاروں کو لے کر تمھارے پاس آ گیا؟ انھوں نے کہا: ہاں ٹھیک ہے۔ عروہ نے کہا: اس شخص، یعنی بدیل نے تمھاری خیر خواہی کی بات کی ہے، اس کو منظور کر لو اور اجازت دو کہ میں اس کے پاس جاؤں۔ سب لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے تم اس کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی وہی گفتگو کی جو بدیل سے کی تھی، عروہ یہ سن کر کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تم اپنی قوم کی جڑ بالکل کاٹ دو گے تو (کیا فائدہ ہو گا؟) کیا تم نے اپنے سے پہلے کسی عرب کو سنا ہے کہ اس نے اپنی قوم کا استیصال کیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہوئی، یعنی تم مغلوب ہو گئے تو اللہ کی قسم! میں تمھارے ساتھیوں کے منہ دیکھتا ہوں کہ یہ مختلف لوگ جنھیں بھاگنے کی عادت ہے، تمھیں چھوڑ دیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: جا اور لات کی شرمگاہ پر منہ مار! کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ عروہ نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تمھارا ایک احسان مجھ پر نہ ہوتا جس کا ابھی تک بدلہ نہیں دے سکا تو میں تمھیں سخت جواب دیتا۔ راوی کہتا ہے کہ پھر عروہ باتیں کرنے لگا اور جب بات کرتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کو پکڑتا، اس وقت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے پاس کھڑے تھے جن کے ہاتھ میں تلوار اور سر پر خود تھا، لہٰذا جب عروہ اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی طرف بڑھاتا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس کے ہاتھ پر تلوار کا نچلا حصہ مارتے اور کہتے کہ اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے دور رکھ۔ یہ سن کر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہنے لگا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا: اے دغا باز! کیا میں نے تیری دغا بازی کی سزا سے تجھ کو نہیں بچایا؟ ہوا یوں کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کافروں کی کسی قوم کے ساتھ گئے تھے، پھر انھیں قتل کر کے ان کا مال لوٹا اور چلے آئے، اس کے بعد وہ مسلمان ہو گئے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا اسلام تو میں قبول کرتا ہوں لیکن جو مال تو لایا ہے، اس سے مجھے کوئی غرض نہیں۔“ اس کے بعد عروہ گوشہ چشم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھنے لگا، راوی بیان کرتا ہے کہ اللہ کی قسم! اس نے دیکھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوکتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر ہی پڑتا تھا اور وہ اسے اپنے چہرے اور بدن پر ملتا تھا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کوئی حکم دیتے تو وہ فوراً اس کی تعمیل کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تو وہ آپ کے وضو کا گرا ہوا پانی لینے پر جھپٹ پڑتے تھے اور ہر شخص اسے لینے کی خواہش کرتا۔ وہ لوگ کبھی بات کرتے تو آپ کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے اور آپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھتے تھے۔ یہ حال دیکھ کر عروہ اپنے لوگوں کے پاس لوٹ کر گیا اور ان سے کہا: لوگو! اللہ کی قسم! میں بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں اور قیصر و کسریٰ، نیز نجاشی کے دربار بھی دیکھ آیا ہوں مگر میں نے کسی بادشاہ کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں، اللہ کی قسم! جب وہ تھوکتے ہیں تو ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر پڑتا ہے اور وہ اس کو اپنے چہرے پر مل لیتا ہے، اور جب وہ کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو وہ فوراً ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ وضو کرتے ہیں تو لوگ ان کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے لیے لڑتے مرتے ہیں اور جب گفتگو کرتے ہیں تو ان کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں اور تعظیم کی وجہ سے ان کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھتے، بے شک انھوں نے تمھیں ایک اچھی بات کی پیش کش کی ہے، تم اسے قبول کر لو۔ اس پر بنو کنانہ کے ایک آدمی نے کہا: اب مجھے اس کے پاس جانے میں اجازت دو۔ لوگوں نے کہا: اچھا اب تم ان کے پاس جاؤ۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فلاں شخص ہے اور یہ اس قوم سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں، لہٰذا تم قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دو۔“ چنانچہ قربانی اس کے سامنے پیش کی گئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے لبیک پکارتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ جب اس نے یہ حال دیکھا تو کہنے لگا: سبحان اللہ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا زیب نہیں دیتا، چنانچہ وہ بھی اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گیا اور کہنے لگا: میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا کہ ان کے گلے میں ہار پڑے ہوئے ہیں اور ان کے کوہان زخمی ہیں، میں تو ایسے لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا مناسب خیال نہیں کرتا۔ پھر ان میں سے ایک اور شخص جس کا نام مکرز بن حفص تھا کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: مجھے اجازت دو کہ میں آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں۔ لوگوں نے کہا: اچھا تم بھی جاؤ۔ جب وہ مسلمانوں کے پاس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مکرز ہے اور یہ بد کردار آدمی ہے۔“ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا، ابھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو ہی کر رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا۔ جب سہیل بن عمرو آیا تو اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تمھارا کام آسان ہو گیا ہے۔“ پھر اس نے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان صلح کی دستاویز تحریر کریں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلا کر اس سے فرمایا: ”لکھو: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» “ اس پر سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ رحمٰن کون ہے، آپ اس طرح لکھوائیں: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ» جیسا کہ آپ پہلے لکھا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے کہا: ہم تو «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ہی لکھوائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ» ہی لکھ دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھو کہ یہ وہ تحریر ہے جس کی بنیاد پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی۔“ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم یقین رکھتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم نہ تو آپ کو بیت اللہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ ہی کرتے، لہٰذا محمد بن عبداللہ لکھوائیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم میری تکذیب ہی کرو، اچھا محمد بن عبداللہ ہی لکھو۔“ امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درج ذیل فرمان کی وجہ سے کیا: ”اگر کفار قریش مجھ سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی طرف سے حرمت و عزت والی چیزوں کی تعظیم کریں تو میں ضرور اس کو منظور کروں گا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”لیکن اس شرط پر کہ تم ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل نہیں ہو گے تاکہ ہم کعبہ کا طواف کر لیں۔“ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ عرب باتیں کریں گے کہ ہم دباؤ میں آ گئے ہیں، البتہ آئندہ سال یہ بات ہو جائے گی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی لکھوا دیا۔ پھر سہیل نے کہا: یہ شرط بھی ہے کہ ہماری طرف سے جو شخص تمھاری طرف آئے، اگرچہ وہ تمھارے دین پر ہو، اس کو آپ نے ہماری طرف واپس کرنا ہو گا۔ مسلمانوں نے کہا: سبحان اللہ! وہ کس لیے مشرکوں کے حوالے کیا جائے جبکہ وہ مسلمان ہو کر آیا ہے؟ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابوجندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما بیڑیاں پہنے ہوئے آہستہ آہستہ مکہ کی نشیبی طرف سے آتے ہوئے معلوم ہوئے یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں پہنچ گئے۔ سہیل نے کہا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سب سے پہلی بات جس پر ہم صلح کرتے ہیں کہ اس کو مجھے واپس کر دو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی تو صلح نامہ پورا لکھا بھی نہیں گیا۔“ سہیل نے کہا: تو پھر اللہ کی قسم! میں تم سے کسی بات پر صلح نہیں کرتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تم اس کی مجھے اجازت دے دو۔“ سہیل نے کہا: میں تمھیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکرز سے فرمایا: ”نہیں، تم مجھے اس کی اجازت دے دو۔“ اس نے کہا: میں نہیں دوں گا۔ مکرز بولا: اچھا ہم آپ کی خاطر اس کی اجازت دیتے ہیں۔ (مگر اس کی بات نہیں مانی گئی۔) بالآخر حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ بول اٹھے: اے مسلمانو! کیا میں مشرکین کی طرف واپس کر دیا جاؤں گا، حالانکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں نے کیا کیا مصیبتیں اٹھائی ہیں؟ درحقیقت اسلام کی راہ میں اسے سخت تکلیف دی گئی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا آپ اللہ کے سچے پیغمبر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ایسا ہی ہے۔“ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، ایسے ہی ہے۔“ میں نے عرض کیا: تو پھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلا شبہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا، وہ میرا مدد گار ہے۔“ میں نے عرض کیا: کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مگر کیا میں نے تم سے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اسی سال (بیت اللہ) جائیں گے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (ایک وقت) بیت اللہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔“ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پھر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: اے ابوبکر! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر ہم دین کے متعلق یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: بھلے آدمی! وہ اللہ کے رسول ہیں، اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے، اللہ ان کا مدد گار ہے، لہٰذا وہ جو حکم دیں اس کی تعمیل کرو اور ان کے رکاب کو تھام لو کیونکہ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں۔ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ بیان نہیں کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ جا کر اس کا طواف کریں گے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں کہا تھا، مگر کیا یہ بھی کہا تھا کہ تم اسی سال بیت اللہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم بیت اللہ پہنچو گے اور اس کا طواف کرو گے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس (بے ادبی اور گستاخی کی تلافی کے لیے) بہت سے نیک عمل کیے۔ راوی کا بیان ہے کہ جب صلح نامہ لکھا جا چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے کہا: ”اٹھو اور قربانی کے جانور ذبح کرو، نیز سر کے بال منڈاؤ۔“ راوی کہتا ہے کہ اللہ کی قسم! یہ سن کر کوئی بھی نہ اٹھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی فرمایا، جب ان میں سے کوئی نہ اٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا جو لوگوں سے آپ کو پیش آیا تھا۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ یہ بات چاہتے ہیں تو باہر تشریف لے جائیں اور ان میں سے کسی کے ساتھ کلام نہ فرمائیں بلکہ آپ اپنے قربانی کے جانور ذبح کر کے سر مونڈنے والے کو بلائیں تاکہ وہ آپ کا سر مونڈ دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور کسی سے گفتگو نہ کی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کام کر لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور ذبح کیے اور سر مونڈنے والے کو بلایا جس نے آپ کا سر مونڈا، چنانچہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے یہ دیکھا تو وہ بھی اٹھے اور انھوں نے قربانی کے جانور ذبح کیے، پھر ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ غم کی وجہ سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کر دیں گے۔ اس کے بعد چند مسلمان خواتین آپ کے ہاں حاضر خدمت ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ”مسلمانو! جب مسلمان عورتیں ہجرت کر کے تمھارے پاس آئیں تو ان کا امتحان لو...“ اور ﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ [سورة الممتحنة: 10] ”کافر عورتوں کو نکاح میں نہ رکھو۔“ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس دن اپنی دو مشرک عورتوں کو طلاق دے دی جو ان کے نکاح میں تھیں، ان میں ایک کے ساتھ حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو ابوبصیر نامی ایک شخص مسلمان ہو کر آپ کے پاس آیا جو قریشی تھا اور کفار مکہ نے اس کے تعاقب میں دو آدمی بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہلوا بھیجا کہ جو عہد آپ نے ہم سے کیا ہے اس کا خیال کریں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو ان دونوں کے حوالے کر دیا اور وہ دونوں اسے لے کر ذوالحلیفہ پہنچے اور وہاں اتر کر کھجوریں کھانے لگے تو حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ایک سے کہا: اللہ کی قسم! تیری تلوار بہت عمدہ معلوم ہوتی ہے۔ اس نے سونت کر کہا: بے شک عمدہ ہے، میں اسے کئی دفعہ آزما چکا ہوں۔ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے دکھاؤ میں بھی تو دیکھوں کیسی اچھی ہے؟ چنانچہ وہ تلوار اس نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے اسی تلوار سے وار کر کے اسے ٹھنڈا کر دیا۔ دوسرا شخص بھاگتا ہوا مدینہ آیا اور دوڑتا ہوا مسجد میں گھس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”یہ کچھ خوفزدہ ہے۔“ پھر جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرا ساتھی قتل کر دیا گیا ہے اور میں بھی نہیں بچوں گا۔ اتنے میں حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ بھی آ پہنچے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے آپ کا عہد پورا کر دیا ہے، آپ نے مجھے کفار کو واپس کر دیا تھا مگر اللہ نے مجھے نجات دی ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں کے لیے خرابی ہو! یہ تو لڑائی کی آگ ہے، اگر کوئی اس کا مدد گار ہوتا تو ضرور بھڑک اٹھتی۔“ جب حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو وہ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پھر ان (کفار) کے حوالے کریں گے، لہٰذا وہ سیدھے نکل کر سمندر کے کنارے جا پہنچے۔ دوسری طرف سے حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ بھی مکہ سے بھاگ کر اس سے مل گئے۔ اس طرح جو شخص بھی قریش کا مسلمان ہو کر آتا وہ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ سے مل جاتا تھا یہاں تک کہ وہاں ایک جماعت وجود میں آ گئی، پھر اللہ کی قسم! وہ قریش کے جس قافلے کی بابت سنتے کہ وہ شام کی جانب جا رہا ہے اس کی گھات میں رہتے، اس کے آدمیوں کو قتل کر کے ان کا ساز و سامان لوٹ لیتے، پھر آخر کار قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ اور قرابت کا واسطہ دیا کہ ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو کہلا بھیجیں کہ وہ ایذا رسانی سے باز آ جائے اور اب سے جو شخص مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے اس کو امن ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی بابت پیغام بھیجا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الفتح: 24] ”وہی اللہ جس نے عین مکہ میں تمھیں ان پر فتح دی اور ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے جبکہ اس سے پہلے تمھیں ان پر غالب کر چکا تھا...“ اور ﴿إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ﴾ [سورة الفتح: 26] ”(جب کفار نے اپنے دلوں میں) زمانہ جاہلیت کی نخوت ٹھان لی...“ اور جاہلانہ نخوت یہ تھی کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو نہ مانا اور «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» نہ لکھنے دیا، نیز مسلمانوں اور کعبہ کے درمیان حائل ہوئے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: «مَعَرَّة» «عَرَّة» سے مشتق ہے، اس کے معنی خارش کے ہیں، اور «تَزَيَّلُوا» کے معنی ہیں: وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، اور ( «حَمِيَّة» کا لفظ) «حَمَيْتُ الْقَوْمَ» سے ہے، اس کے معنی ہیں: میں نے لوگوں کو شر سے بچایا، اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ میں نے چراگاہ کی حفاظت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2732]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2733
وَقَالَ عُقَيْلٌ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ، وَبَلَغْنَا أَنَّهُ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرُدُّوا إِلَى الْمُشْرِكِينَ مَا أَنْفَقُوا عَلَى مَنْ هَاجَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِمْ، وَحَكَمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ لَا يُمَسِّكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ، أَنَّ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَيْنِ قَرِيبَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، وَابْنَةَ جَرْوَلٍ الْخُزَاعِيِّ، فَتَزَوَّجَ قَرِيبَةَ مُعَاوِيَةُ، وَتَزَوَّجَ الْأُخْرَى أَبُو جَهْمٍ، فَلَمَّا أَبَى الْكُفَّارُ أَنْ يُقِرُّوا بِأَدَاءِ مَا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ، أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَإِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ سورة الممتحنة آية 11 وَالْعَقْبُ مَا يُؤَدِّي الْمُسْلِمُونَ إِلَى مَنْ هَاجَرَتِ امْرَأَتُهُ مِنَ الْكُفَّارِ، فَأَمَرَ أَنْ يُعْطَى مَنْ ذَهَبَ لَهُ زَوْجٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَا أَنْفَقَ مِنْ صَدَاقِ نِسَاءِ الْكُفَّارِ اللَّائِي هَاجَرْنَ، وَمَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ ارْتَدَّتْ بَعْدَ إِيمَانِهَا، وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَصِيرِ بْنَ أَسِيدٍ الثَّقَفِيَّ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا مُهَاجِرًا فِي الْمُدَّةِ، فَكَتَبَ الْأَخْنَسُ بْنُ شَرِيقٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ أَبَا بَصِيرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
عقیل نے زہری سے بیان کیا ‘ ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کا (جو مکہ سے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہجرت کر کے مدینہ آتی تھیں) امتحان لیتے تھے (زہری نے) بیان کیا کہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان وہ سب کچھ ان مشرکوں کو واپس کر دیں جو انہوں نے اپنی ان بیویوں پر خرچ کیا ہو جو (اب مسلمان ہو کر) ہجرت کر آئی ہیں اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو بیویوں قریبہ بنت ابی امیہ اور ایک جرول خزاعی کی لڑکی کو طلاق دے دی۔ بعد میں قریبہ سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے شادی کر لی تھی (کیونکہ اس وقت معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان نہیں ہوئے تھے) اور دوسری بیوی سے ابوجہم نے شادی کر لی تھی لیکن جب کفار نے مسلمانوں کے ان اخراجات کو ادا کرنے سے انکار کیا جو انہوں نے اپنی (کافرہ) بیویوں پر کئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «وإن فاتكم شىء من أزواجكم إلى الكفار فعاقبتم‏» ”اور تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کے ہاں چلی گئی تو وہ معاوضہ تم خود ہی لے لو۔“ یہ وہ معاوضہ تھا جو مسلمان کفار میں سے اس شخص کو دیتے جس کی بیوی ہجرت کر کے (مسلمان ہونے کے بعد کسی مسلمان کے نکاح میں آ گئی ہو) پس اللہ نے اب یہ حکم دیا کہ جس مسلمان کی بیوی مرتد ہو کر (کفار کے یہاں) چلی جائے اس کے (مہر و نفقہ کے) اخراجات ان کفار کی عورتوں کے مہر سے ادا کر دئیے جائیں جو ہجرت کر کے آ گئی ہیں (اور کسی مسلمان نے ان سے نکاح کر لیا ہے) اگرچہ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ کوئی مہاجرہ بھی ایمان کے بعد مرتد ہوئی ہوں اور ہمیں یہ روایت بھی معلوم ہوئی کہ ابوبصیر بن اسید ثقفی رضی اللہ عنہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مومن و مہاجر کی حیثیت سے معاہدہ کی مدت کے اندر ہی حاضر ہوئے تو اخنس بن شریق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تحریر لکھی جس میں اس نے (ابوبصیر رضی اللہ عنہ کی واپسی کا) مطالبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ پھر انہوں نے حدیث پوری بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2733]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (عورتوں) کا امتحان لیتے تھے (جو مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آتی تھیں)۔ (زہری نے کہا:) ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ حکم نازل فرمایا کہ مسلمان وہ سب کچھ ان مشرکین کو واپس کر دیں جو انہوں نے اپنی ان بیویوں پر خرچ کیا ہے جو (اب مسلمان ہو کر) ہجرت کر آئی ہیں۔ نیز مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو بیویوں قریبہ بنت ابو امیہ اور جرول خزاعی کی دختر کو طلاق دے دی۔ بعد میں قریبہ سے حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما نے شادی کر لی (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) دوسری (بیوی) کو ابوجہم نے اپنے عقد میں لے لیا۔ جب کفار نے مسلمانوں کے ان اخراجات کو ادا کرنے سے انکار کر دیا جو انہوں نے اپنی (کافرہ) بیویوں پر کیے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ إِلَى الْكُفَّارِ فَعَقَبْتُمْ فَآتُوا الَّذِينَ ذَهَبَتْ أَزْوَاجُهُمْ مِثْلَ مَا أَنْفَقُوا﴾ [سورة الممتحنة: 11] ”اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے حق مہر سے تمہیں کچھ نہ ملے تو سزا کے طور پر تم معاوضہ خود ہی وصول کر لو۔“ یہ وہ معاوضہ تھا جو مسلمان، کفار میں سے اس شخص کو دیتے جس کی بیوی ہجرت کر کے آ جاتی۔ اب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جس مسلمان کی بیوی مرتد ہو کر (کفار کے ہاں) چلی جائے اس کے اخراجات ان کفار کی عورتوں کے حق مہر سے ادا کر دیے جائیں جو ہجرت کر کے آئی ہیں (اور کسی مسلمان نے ان سے نکاح کر لیا ہے)۔ اور ہمیں نہیں معلوم کہ کوئی مسلمان مہاجرہ عورت ایمان کے بعد مرتد ہوئی ہو۔ اور ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ حضرت ابو بصیر بن اسید ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان مہاجر کی حیثیت سے معاہدے کی مدت کے دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اخنس بن شریق نے ایک تحریر کے ذریعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2733]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْقَرْضِ:
باب: قرض میں شرط لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2734
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعَطَاءٌ: إِذَا أَجَّلَهُ فِي الْقَرْضِ جَازَ.
اور عبداللہ بن عمر اور عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر قرض (کی ادائیگی) کے لیے کوئی مدت مقرر کی جائے تو یہ جائز ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: Q2734]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2734
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلاً سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارِ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى.
اور لیث نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ذکر کیا جنہوں نے بنی اسرائیل کے کسی دوسرے شخص سے ایک ہزار اشرفی قرض مانگا اور اس نے ایک مقررہ مدت تک کے لیے دے دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2734]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک اسرائیلی کا ذکر کیا جس نے کسی سے ایک ہزار بطور قرض طلب کیے تو اس نے ایک معین مدت تک کے لیے اسے قرض دیا۔“ اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2734]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ الْمُكَاتَبِ، وَمَا لاَ يَحِلُّ مِنَ الشُّرُوطِ الَّتِي تُخَالِفُ كِتَابَ اللَّهِ:
باب: مکاتب کا بیان اور جو شرطیں ناجائز اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2735
وَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الْمُكَاتَبِ: شُرُوطُهُمْ بَيْنَهُمْ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ، أَوْ عُمَرُ: كُلُّ شَرْطٍ خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَيُقَالُ عَنْ كِلَيْهِمَا، عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ.
اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مکاتب کے بارے میں کہا کہ ان کی (یعنی مکاتب اور اس کے مالک کی) جو شرطیں ہوں وہ معتبر ہوں گی اور ابن عمر یا عمر رضی اللہ عنہ نے (راوی کو شبہ ہے) کہا کہ ہر وہ شرط جو کتاب اللہ کے مخالف ہو وہ باطل ہے خواہ ایسی سو شرطیں بھی لگائی جائیں۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں سے یہ قول مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: Q2735]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَتَتْهَا بَرِيرَةُ تَسْأَلُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتُ أَهْلَكِ وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَّرْتُهُ ذَلِكَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ یحییٰ بن سعید انصاری سے ‘ ان سے عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مکاتبت کے سلسلے میں ان سے مدد مانگنے آئیں تو انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو تمہارے مالکوں کو (پوری قیمت) دے دوں اور تمہاری ولاء میرے ہو گی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں تو خرید لے اور آزاد کر دے۔ ولاء تو بہرحال اسی کی ہو گی جو آزاد کر دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا کوئی پتہ (دلیل، سند) کتاب اللہ میں نہیں ہے ‘ جس نے بھی کوئی ایسی شرط لگائی جس کا پتہ (دلیل، سند) کتاب اللہ میں نہ ہو تو خواہ ایسی سو شرطیں لگا لے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2735]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ان کے پاس حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور ان سے بدلِ کتابت کے متعلق تعاون کا سوال کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تیرے مالکان کو بدلِ کتابت ادا کر دیتی ہوں، لیکن ولاء میرے لیے ہوگی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں عائد کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں؟ آگاہ رہو! جس نے کوئی ایسی شرط لگائی جس کی بنیاد کتاب اللہ میں نہیں، وہ (شرط) قابل اعتبار ہی نہیں اگرچہ ایسی سو شرطیں لگائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2735]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الاِشْتِرَاطِ وَالثُّنْيَا فِي الإِقْرَارِ:
باب: اقرار میں شرط لگانا یا استثناء کرنا جائز ہے اور ان شرطوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2736
وَالشُّرُوطِ الَّتِي يَتَعَارَفُهَا النَّاسُ بَيْنَهُمْ وَإِذَا قَالَ مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ رَجُلٌ لِكَرِيِّهِ:" أَرْحِلْ رِكَابَكَ، فَإِنْ لَمْ أَرْحَلْ مَعَكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا فَلَكَ مِائَةُ دِرْهَمٍ، فَلَمْ يَخْرُجْ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: مَنْ شَرَطَ عَلَى نَفْسِهِ طَائِعًا غَيْرَ مُكْرَهٍ فَهُوَ عَلَيْهِ. وَقَالَ أَيُّوبُ: عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، إِنَّ رَجُلًا بَاعَ طَعَامًا، وَقَالَ: إِنْ لَمْ آتِكَ الْأَرْبِعَاءَ فَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بَيْعٌ، فَلَمْ يَجِئْ، فَقَالَ شُرَيْحٌ لِلْمُشْتَرِي: أَنْتَ أَخْلَفْتَ، فَقَضَى عَلَيْهِ".
‏‏‏‏ جو معاملات عموماً لوگوں میں رائج ہیں اور اگر کوئی یوں کہے کہ مجھ پر فلاں کے سو درہم نکلتے ہیں مگر ایک یا دو اور ابن عون نے ابن سیرین سے نقل کیا کہ کسی نے اونٹ والے سے کہا تو اپنے اونٹ اندر لا کر باندھ دے اگر میں تمہارے ساتھ فلاں دن تک نہ جا سکا تو تم سو درہم مجھ سے وصول کر لینا۔ پھر وہ اس دن تک نہ جا سکا تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا کہ جس نے اپنی خوشی سے اپنے اوپر کوئی شرط لگائی اور اس پر کوئی جبر بھی نہیں کیا گیا تھا تو وہ شرط اس کو پوری کرنی ہو گی۔ ایوب نے ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ کسی شخص نے غلہ بیچا اور خریدار نے کہا کہ اگر تمہارے پاس بدھ کے دن تک نہ آ سکا تو میرے اور تمہارے درمیان بیع باقی نہیں رہے گی۔ پھر وہ اس دن تک نہیں آیا تو شریح رحمہ اللہ نے خریدار سے کہا کہ تو نے وعدہ خلافی کی ہے آپ نے فیصلہ اس کے خلاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: Q2736]