🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ فِي الإِسْلاَمِ وَالأَحْكَامِ وَالْمُبَايَعَةِ:
باب: اسلام میں داخل ہوتے وقت اور معاملات بیع وشراء میں کون سی شرطیں لگانا جائز ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2711
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامْتَعَضُوا مِنْهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ إِلَّا ذَلِكَ، فَكَاتَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَرَدَّ يَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَرْجِعْهَا إِلَيْهِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ إِلَى قَوْلِهِ وَلا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ سورة الممتحنة آية 10.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، یہ دونوں حضرات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دیتے تھے کہ جب سہیل بن عمرو نے (حدیبیہ میں کفار قریش کی طرف سے معاہدہ صلح) لکھوایا تو جو شرائط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سہیل نے رکھی تھیں، ان میں یہ شرط بھی تھیں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اگر آپ کے یہاں (فرار ہو کر) چلا جائے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو تو آپ کو اسے ہمارے حوالہ کرنا ہو گا۔ مسلمان یہ شرط پسند نہیں کر رہے تھے اور اس پر انہیں دکھ ہوا تھا۔ لیکن سہیل نے اس شرط کے بغیر صلح قبول نہ کی۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر صلح نامہ لکھوا لیا۔ اتفاق سے اسی دن ابوجندل رضی اللہ عنہ کو جو مسلمان ہو کر آیا تھا (معاہدہ کے تحت بادل ناخواستہ) ان کے والد سہیل بن عمرو کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی طرح مدت صلح میں جو مرد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (مکہ سے بھاگ کر آیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے حوالے کر دیا۔ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ رہا ہو۔ لیکن چند ایمان والی عورتیں بھی ہجرت کر کے آ گئی تھیں، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی ان میں شامل تھیں جو اسی دن (مکہ سے نکل کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تھیں، وہ جوان تھیں اور جب ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے حوالے نہیں فرمایا، بلکہ عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ (سورۃ الممتحنہ میں) ارشاد فرما چکا تھا «{‏ إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن الله أعلم بإيمانهن‏ }‏ إلى قوله ‏ {‏ ولا هم يحلون لهن‏ }‏‏.‏» ‏‏‏‏ ”جب مسلمان عورتیں تمہارے یہاں ہجرت کر کے پہنچیں تو پہلے تم ان کا امتحان لے لو، یوں تو ان کے ایمان کے متعلق جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد تک کہ ”کفار و مشرکین ان کے لیے حلال نہیں ہیں الخ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2711]
حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیان کرتے ہیں کہ جب سہیل بن عمرو نے صلح حدیبیہ کے دن صلح نامہ لکھوایا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شرط رکھی کہ ہمارا جو آدمی بھی آپ کے پاس آئے گا، خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو، آپ کو اسے ہمارے ہاں واپس کرنا ہوگا، آپ اس کے ہمارے درمیان راستہ خالی کر دیں گے۔ مسلمانوں نے اس شرط کو ناپسند کیا اور وہ اس کے باعث غصے سے بھر گئے، لیکن سہیل اس شرط کے بغیر صلح کرنے پر تیار نہ ہوا۔ آخر کار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح کر لی اور اسی روز ابو جندل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا، پھر مردوں میں سے جو بھی آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس مدت کے دوران میں واپس کرتے رہے اگرچہ وہ مسلمان ہو کر آتا۔ اب کچھ اہل ایمان خواتین بھی ہجرت کر کے آئیں، ان عورتوں میں عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی تھیں جنہوں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور وہ نوجوان عورت تھیں۔ ان کے اہل خانہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کی طرف واپس نہ کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق حکم نازل کیا تھا: ﴿جب اہل ایمان خواتین تمہاری طرف ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو (ان کی جانچ پڑتال کرو)۔ اللہ تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ اگر تمہیں ان کے ایمان کا یقین ہو جائے تو پھر انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ ایسی عورتیں کافروں کے لیے حلال نہیں اور نہ کافر ہی ان کے لیے حلال ہیں۔﴾ [سورة الممتحنة: 10] [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2711]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2712
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامْتَعَضُوا مِنْهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ إِلَّا ذَلِكَ، فَكَاتَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَرَدَّ يَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَرْجِعْهَا إِلَيْهِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ إِلَى قَوْلِهِ وَلا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ سورة الممتحنة آية 10.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، یہ دونوں حضرات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دیتے تھے کہ جب سہیل بن عمرو نے (حدیبیہ میں کفار قریش کی طرف سے معاہدہ صلح) لکھوایا تو جو شرائط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سہیل نے رکھی تھیں، ان میں یہ شرط بھی تھیں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اگر آپ کے یہاں (فرار ہو کر) چلا جائے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو تو آپ کو اسے ہمارے حوالہ کرنا ہو گا۔ مسلمان یہ شرط پسند نہیں کر رہے تھے اور اس پر انہیں دکھ ہوا تھا۔ لیکن سہیل نے اس شرط کے بغیر صلح قبول نہ کی۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر صلح نامہ لکھوا لیا۔ اتفاق سے اسی دن ابوجندل رضی اللہ عنہ کو جو مسلمان ہو کر آیا تھا (معاہدہ کے تحت بادل ناخواستہ) ان کے والد سہیل بن عمرو کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی طرح مدت صلح میں جو مرد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (مکہ سے بھاگ کر آیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے حوالے کر دیا۔ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ رہا ہو۔ لیکن چند ایمان والی عورتیں بھی ہجرت کر کے آ گئی تھیں، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی ان میں شامل تھیں جو اسی دن (مکہ سے نکل کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تھیں، وہ جوان تھیں اور جب ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے حوالے نہیں فرمایا، بلکہ عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ (سورۃ الممتحنہ میں) ارشاد فرما چکا تھا «{‏ إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن الله أعلم بإيمانهن‏ }‏ إلى قوله ‏ {‏ ولا هم يحلون لهن‏ }‏‏.‏» ‏‏‏‏ ”جب مسلمان عورتیں تمہارے یہاں ہجرت کر کے پہنچیں تو پہلے تم ان کا امتحان لے لو، یوں تو ان کے ایمان کے متعلق جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد تک کہ ”کفار و مشرکین ان کے لیے حلال نہیں ہیں الخ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2712]
حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیان کرتے ہیں کہ جب سہیل بن عمرو نے صلح حدیبیہ کے دن صلح نامہ لکھوایا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شرط رکھی کہ ہمارا جو آدمی بھی آپ کے پاس آئے گا، خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو، آپ کو اسے ہمارے ہاں واپس کرنا ہوگا، آپ اس کے اور ہمارے درمیان راستہ خالی کر دیں گے۔ مسلمانوں نے اس شرط کو ناپسند کیا اور وہ اس کے باعث غصے سے بھر گئے لیکن سہیل اس شرط کے بغیر صلح کرنے پر تیار نہ ہوا۔ آخر کار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح کر لی اور اسی روز ابو جندل رضی اللہ عنہ کو اس کے والد سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔ پھر مردوں میں سے جو بھی آتا آپ اسے اس مدت کے دوران میں واپس کرتے رہے اگرچہ وہ مسلمان ہو کر آتا۔ اب کچھ اہل ایمان خواتین بھی ہجرت کر کے آئیں، ان عورتوں میں عقبہ بن ابو معیط کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی تھیں جنہوں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور وہ نوجوان عورت تھیں۔ ان کے اہل خانہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے، لیکن آپ نے اسے ان کی طرف واپس نہ کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق حکم نازل کیا تھا: ﴿جب اہل ایمان خواتین تمہاری طرف ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو (ان کی جانچ پڑتال کرو۔) اللہ تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ اگر تمہیں ان کے ایمان کا یقین ہو جائے تو پھر انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ ایسی عورتیں کافروں کے لیے حلال نہیں اور نہ کافر ہی ان کے لیے حلال ہیں﴾ [سورة الممتحنة: 10] ۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2712]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2713
قَالَ عُرْوَةُ: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ سورة الممتحنة آية 10 إِلَى غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة الممتحنة آية 12، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْهُنَّ؟ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ بَايَعْتُكِ كَلَامًا يُكَلِّمُهَا بِهِ، وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ، وَمَا بَايَعَهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ".
عروہ نے کہا کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرنے والی عورتوں کا اس آیت کی وجہ سے امتحان لیا کرتے تھے «{‏ يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن ‏}‏ إلى ‏ {‏ غفور رحيم‏ }‏‏.‏» ”اے مسلمانو! جب تمہارے یہاں مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لے لو غفور رحیم تک۔“ عروہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ میں نے تم سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے بیعت کرتے تھے۔ قسم اللہ کی! بیعت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کسی بھی عورت کے ہاتھ کو کبھی نہیں چھوا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے بیعت لیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2713]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ [سورة الممتحنة: 10] کے باعث ان عورتوں کا امتحان لیتے تھے۔ ان میں سے جو عورت بھی اس شرط کا اقرار کر لیتی، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”میں نے تجھ سے بیعت لے لی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس سے یہی کلام کرتے۔ اللہ کی قسم! بیعت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کسی (اجنبی) عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبانی کلامی (گفتگو ہی سے) عورتوں سے بیعت لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2713]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2714
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا کہ میں نے جریر رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2714]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے مجھ پر یہ شرط عائد کی: ”تم ہر مسلمان کی خیرخواہی کرو گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2714]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2715
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى: إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی شرطوں کے ساتھ بیعت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2715]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بروقت نماز پڑھنے، باقاعدہ زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2715]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ إِذَا بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ:
باب: پیوند لگانے کے بعد اگر کھجور کا درخت بیچے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2716
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کوئی ایسا کھجور کا باغ بیچا جس کی پیوند کاری ہو چکی تھی تو اس کا پھل (اس سال کے) بیچنے والے ہی کا ہو گا۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے (تو پھل سمیت بیع سمجھی جائے گی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2716]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کھجور کا پیوند شدہ درخت فروخت کرے تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے، ہاں اگر خریدار پھل کی شرط لگا دے تو پھل سمیت درخت اس کا ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2716]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْبَيْعِ:
باب: بیع میں شرطیں کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2717
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ، فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا" ابْتَاعِي، فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ بریرہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی مکاتبت کے بارے میں ان سے مدد لینے کے لیے آئیں، انہوں نے ابھی تک اس معاملے میں (اپنے مالکوں کو) کچھ دیا نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کہ اپنے مالکوں کے یہاں جا کر (ان سے دریافت کرو) اگر وہ یہ صورت پسند کریں کہ تمہاری مکاتبت کی ساری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے لیے ہو جائے تو میں ایسا کر سکتی ہوں۔ بریرہ نے اس کا تذکرہ جب اپنے مالکوں کے سامنے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ وہ (عائشہ رضی اللہ عنہا) اگر چاہیں تو یہ کار ثواب تمہارے ساتھ کر سکتی ہیں لیکن ولاء تو ہمارے ہی رہے گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2717]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اور وہ ان سے اپنی کتابت کی رقم کے سلسلے میں مدد لینا چاہتی تھیں، جبکہ انہوں نے کتابت کی رقم سے ابھی کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: تم اپنے آقاؤں کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کریں تو میں تیری کتابت کی رقم یکمشت ادا کر دوں بشرطیکہ تیری ولا میرے لیے ہو گی، میں ایسا کرنے کو تیار ہوں۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالکان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا اور کہا: اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ثواب لینے کے لیے ایسا کرنا چاہیں تو کر لیں لیکن ولا ہمارے لیے رہے گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: ”تم بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کرو، ولا تو اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2717]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ إِذَا اشْتَرَطَ الْبَائِعُ ظَهْرَ الدَّابَّةِ إِلَى مَكَانٍ مُسَمًّى جَازَ:
باب: اگر بیچنے والے نے کسی خاص مقام تک سواری کی شرط لگائی تو یہ جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2718
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَهُ، فَدَعَا لَهُ، فَسَارَ بِسَيْرٍ لَيْسَ يَسِيرُ مِثْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ؟ قُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ، فَبِعْتُهُ، فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ وَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَأَرْسَلَ عَلَى إِثْرِي، قَالَ: مَا كُنْتُ لِآخُذَ جَمَلَكَ، فَخُذْ جَمَلَكَ ذَلِكَ فَهُوَ مَالُكَ". قَالَ شُعْبَةُ: عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَفْقَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ إِسْحَاقُ: عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، فَبِعْتُهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ. وَقَالَ عَطَاءٌ، وَغَيْرُهُ: لَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: عَنْ جَابِرٍ، شَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: عَنْ جَابِرٍ، وَلَكَ ظَهْرُهُ حَتَّى تَرْجِعَ. وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ، أَفْقَرْنَاكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ الْأَعْمَشُ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، تَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ. وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، وَابْنُ إِسْحَاقَ: عَنْ وَهْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، اشْتَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقِيَّةٍ. وَتَابَعَهُ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرٍ. وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: عَنْ عَطَاءٍ وَغَيْرِهِ عَنْ جَابِرٍ، أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ، وَهَذَا يَكُونُ وَقِيَّةً عَلَى حِسَابِ الدِّينَارِ بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ، وَلَمْ يُبَيِّنْ الثَّمَنَ مُغِيرَةُ. عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، وَابْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ وَقَالَ الْأَعْمَشُ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَقِيَّةُ ذَهَبٍ. وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ. وَقَالَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، اشْتَرَاهُ بِطَرِيقِ تَبُوكَ، أَحْسِبُهُ قَالَ بِأَرْبَعِ أَوَاقٍ.وَقَالَ أَبُو نَضْرَةَ: عَنْ جَابِرٍ اشْتَرَاهُ بِعِشْرِينَ دِينَارًا. وَقَوْلُ الشَّعْبِيِّ: بِوَقِيَّةٍ أَكْثَرُ الِاشْتِرَاطُ أَكْثَرُ وَأَصَحُّ عِنْدِي. قَالَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عامر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ (ایک غزوہ کے موقع پر) اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے، اونٹ تھک گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی، چنانچہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک اوقیہ میں مجھے بیچ دو۔ میں نے انکار کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا۔ پھر جب ہم (مدینہ) پہنچ گئے، تو میں نے اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت بھی ادا کر دی، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا (میں حاضر ہوا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا، اپنا اونٹ لے جاؤ، یہ تمہارا ہی مال ہے۔ (اور قیمت واپس نہیں لی) شعبہ نے مغیرہ کے واسطے سے بیان کیا، ان سے عامر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تک اونٹ پر مجھے سوار ہونے کی اجازت دی تھی، اسحاق نے جریر سے بیان کیا اور ان سے مغیرہ نے کہ (جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا) پس میں نے اونٹ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس پر میں سوار رہوں گا۔ عطاء وغیرہ نے بیان کیا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) اس پر مدینہ تک کی سواری تمہاری ہے۔ محمد بن منکدر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے مدینہ تک سواری کی شرط لگائی تھی۔ زید بن اسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) مدینہ تک اس پر تم ہی رہو گے۔ ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ مدینہ تک کی سواری کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی۔ اعمش نے سالم سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اپنے گھر تک تم اسی پر سوار ہو کے جاؤ۔ عبیداللہ اور ابن اسحاق نے وہب سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ اونٹ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ میں خریدا تھا۔ اس روایت کی متابعت زید بن اسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔ ابن جریج نے عطاء وغیرہ سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) میں تمہارا یہ اونٹ چار دینار میں لیتا ہوں، اس حساب سے کہ ایک دینار دس درہم کا ہوتا ہے، چار دینار کا ایک اوقیہ ہو گا۔ مغیرہ نے شعبی کے واسطہ سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے (ان کی روایت میں اور) اسی طرح ابن المنکدر اور ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں قیمت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اعمش نے سالم سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں ایک اوقیہ سونے کی وضاحت کی ہے۔ ابواسحاق نے سالم سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں دو سو درہم بیان کیے ہیں اور داود بن قیس نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن مقسم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ تبوک کے راستے میں (غزوہ سے واپس ہوتے ہوئے) خریدا تھا۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ چار اوقیہ میں (خریدا تھا) ابونضرہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت میں بیان کیا کہ بیس دینار میں خریدا تھا۔ شعبی کے بیان کے مطابق ایک اوقیہ ہی زیادہ روایتوں میں ہے۔ اسی طرح شرط لگانا بھی زیادہ روایتوں سے ثابت ہے اور میرے نزدیک صحیح بھی یہی ہے، یہ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2718]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سوار ہو کر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو مارا اور اس کے لیے دعا فرمائی تو وہ اتنا تیز چلنے لگا کہ اس جیسا کبھی نہیں چلا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ایک اوقیے کے عوض میرے ہاتھ فروخت کر دو۔“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”ایک اوقیے کے عوض یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔“ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اسے فروخت کر دیا لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو میں اونٹ لے کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت مجھے نقد ادا کر دی لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے آدمی بھیجا۔ (میرے پہنچنے پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو تمہارا اونٹ لینا نہیں چاہتا تھا، اپنا اونٹ لے جاؤ، یہ تمہارا ہی مال ہے۔“ شعبہ رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق حضرت جابر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے اونٹ اس شرط پر فروخت کیا کہ مدینہ طیبہ تک کی مجھے اجازت دی تھی۔ اسحاق رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق حضرت جابر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے اونٹ اس شرط پر فروخت کیا کہ مدینہ طیبہ پہنچنے تک اس پر سوار رہوں گا۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ وغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اس پر مدینہ طیبہ تک سواری تمہاری ہے۔“ محمد بن منکدر رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ انہوں نے مدینہ طیبہ تک سواری کی شرط لگائی تھی۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ تک تم ہی اس پر سوار رہو گے۔“ ابو زبیر رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے مدینہ طیبہ تک اس پر سواری کی آپ کو اجازت دی۔“ اعمش رحمہ اللہ نے بواسطہ سالم رحمہ اللہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر تک تم اس پر سوار ہو کر جاؤ۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: میرے نزدیک شرط والی بات اکثر اور زیادہ صحیح ہے۔ عبید اللہ رحمہ اللہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ ایک اوقیے میں خریدا تھا۔ اس روایت کی متابعت زید بن اسلم رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے کی ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارا یہ اونٹ چار دینار میں لیتا ہوں۔“ اس حساب کے مطابق ایک دینار دس درہم کا اور دینار کا ایک اوقیہ ہو گا۔ مغیرہ رحمہ اللہ وغیرہ نے اپنی روایت میں قیمت کا ذکر نہیں کیا۔ اعمش رحمہ اللہ نے بواسطہ سالم رحمہ اللہ اپنی روایت میں ایک اوقیہ سونے کی وضاحت کی ہے۔ ابو اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں دو سو درہم بیان کیے ہیں۔ داود بن قیس رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ تبوک کے راستے میں خریدا تھا۔ نیز کہا کہ میرے خیال کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار اوقیے میں خریدا تھا۔ ابو نضرہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ بیس دینار میں خریدا تھا۔ شعبی رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق ایک اوقیہ ہی زیادہ روایات میں ہے۔ اسی طرح شرط لگانا بھی بیشتر روایات سے ثابت ہے۔ میرے نزدیک یہی صحیح ہے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کا بھی یہی قول ہے (جیسا کہ پہلے گزرا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2718]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْمُعَامَلَةِ:
باب: معاملات میں شرطیں لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2719
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَتْ الْأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ، قَالَ: لَا، فَقَالَ: تَكْفُونَا الْمَئُونَةَ، وَنُشْرِكْكُمْ فِي الثَّمَرَةِ، قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی۔ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار رضوان اللہ علیہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (مؤاخات کے بعد) یہ پیش کش کی کہ ہمارے کھجور کے باغات آپ ہم میں اور ہمارے بھائیوں (مہاجرین) میں تقسیم فرما دیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر انصار نے مہاجرین سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے باغوں کے کام کر دیا کریں اور ہمارے ساتھ پھل میں شریک ہو جائیں، مہاجرین نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور ہم ایسا ہی کریں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2719]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ ہمارے کھجور کے باغات کو ہمارے اور ہمارے (مہاجر) بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ تب انصار نے (مہاجرین سے) کہا: تم ہماری محنت و مشقت کی ذمہ داری اٹھاؤ، ہم تمہیں پیداوار اور پھل میں شریک کر لیتے ہیں، مہاجرین نے کہا: ہم نے سن لیا اور ہم اس پیشکش کو قبول کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2719]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2720
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا".
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دی تھی کہ اس میں کام کریں اور اسے بوئیں تو آدھی پیداوار انہیں دی جایا کرے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2720]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو خیبر کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اس میں محنت اور کاشت کاری کریں، پھر جو کچھ اس سے پیداوار ہو گی ان کو اس کا نصف ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2720]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں