صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ إِذَا قَالُوا صَبَأْنَا وَلَمْ يُحْسِنُوا أَسْلَمْنَا:
باب: اگر کافر لڑائی کے وقت گھبرا کر اچھی طرح یوں نہ کہہ سکیں ہم مسلمان ہوئے اور یوں کہنے لگیں ہم نے دین بدل دیا، دین بدل دیا تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: Q3173-2
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ، وَقَالَ عُمَرُ: إِذَا قَالَ مَتْرَسْ فَقَدْ آمَنَهُ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ الْأَلْسِنَةَ كُلَّهَا، وَقَالَ: تَكَلَّمْ لَا بَأْسَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے (بنی ہدبہ کی جنگ میں) کافروں کو مارنا شروع کر دیا، حالانکہ وہ کہتے جاتے تھے۔ ہم نے دین بدل دیا، ہم نے دین بدل دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ حال سنا تو فرمایا، یا اللہ! میں تو خالد کے کام سے بیزار ہوں، اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، کہا جب کسی (مسلمان) نے (کسی فارسی آدمی سے) کہا کہ «مترس.» مت ڈرو تو گویا اس نے اسے امان دے دی، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام زبانوں کو جانتا ہے اور عمر رضی اللہ عنہ نے (ہرمزان سے) کہا (جب اسے مسلمان گرفتار کر کے لائے) کہ جو کچھ کہنا ہو کہو، ڈرو مت۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: Q3173-2]
12. بَابُ الْمُوَادَعَةِ وَالْمُصَالَحَةِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ بِالْمَالِ وَغَيْرِهِ، وَإِثْمِ مَنْ لَمْ يَفِ بِالْعَهْدِ:
باب: مشرکوں سے مال وغیرہ پر صلح کرنا، لڑائی چھوڑ دینا، اور جو کوئی عہد پورا نہ کرے اس کا گناہ۔
حدیث نمبر: Q3173
وَقَوْلِهِ: {وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا} الآيَةَ.
اور (سورۃ الانفال میں) اللہ کا یہ فرمانا «وإن جنحوا للسلم فاجنح لها» ”اگر کافر صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا۔“ اخیر آیت تک۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: Q3173]
حدیث نمبر: 3173
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ ومُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ فَتَفَرَّقَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمٍ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ: كَبِّرْ كَبِّرْ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا، فَقَالَ:" أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ، قَالُوا: وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ، قَالَ: فَتُبْرِيكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ، فَقَالُوا: كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَعَقَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر گئے۔ ان دنوں (خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی) صلح تھی۔ پھر دونوں حضرات (خیبر پہنچ کر اپنے اپنے کام کے لیے) جدا ہو گئے۔ اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ خون میں لوٹ رہے ہیں۔ کسی نے ان کو قتل کر ڈالا، خیر محیصہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا۔ پھر مدینہ آئے، اس کے بعد عبدالرحمٰن بن سہل (عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بھائی) اور مسعود کے دونوں صاحبزادے محیصہ اور حویصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، گفتگو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے شروع کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ جو تم لوگوں میں عمر میں بڑے ہوں وہ بات کریں۔ عبدالرحمٰن سب سے کم عمر تھے، وہ چپ ہو گئے۔ اور محیصہ اور حویصہ نے بات شروع کی۔ آپ نے دریافت کیا، کیا تم لوگ اس پر قسم کھا سکتے ہو، کہ جس شخص کو تم قاتل کہہ رہے ہو اس پر تمہارا حق ثابت ہو سکے۔ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم ایک ایسے معاملے میں کس طرح قسم کھا سکتے ہیں جس کو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا یہود تمہارے دعوے سے اپنی برات اپنی طرف سے پچاس قسمیں کھا کر کے کر دیں؟ ان لوگوں نے عرض کیا کہ کفار کی قسموں کا ہم کس طرح اعتبار کر سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کو دیت ادا کر دی۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3173]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف گئے جبکہ ان دنوں یہودیوں سے صلح تھی۔ وہاں پہنچ کر دونوں جدا جدا ہو گئے، پھر جب محیصہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ اپنے خون میں لت پت ہیں، کسی نے ان کو قتل کر ڈالا ہے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دفن کر دیا۔ اس کے بعد وہ مدینہ طیبہ آئے تو عبدالرحمن بن سہل اور محیصہ و حویصہ (جو مسعود کے بیٹے تھے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ عبدالرحمن نے بات کرنا چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے کو بات کرنے دو۔“ چونکہ وہ سب سے چھوٹے تھے، اس لیے خاموش ہو گئے۔ تب حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہما نے گفتگو کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قسم اٹھا کر قاتل یا اپنے ساتھی کے خون کا استحقاق ثابت کرو گے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم کیونکر قسم اٹھا سکتے ہیں جبکہ ہم وہاں موجود نہ تھے اور نہ ہم نے انہیں دیکھا ہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر اپنی براءت کر لیں گے۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ تو کافر ہیں، ہم ان کی قسموں کا کیسے اعتبار کریں؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3173]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
13. بَابُ فَضْلِ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ:
باب: عہد پورا کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3174
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَخْبَرَهُ:" أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا تِجَارًا بِالشَّأْمِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي مَادَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، اور انہیں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل (فرمانروائے روم) نے انہیں قریش کے قافلے کے ساتھ بلا بھیجا (یہ لوگ شام اس زمانے میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان سے (صلح حدیبیہ میں) قریش کے کافروں کے مقدمہ میں صلح کی تھی۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3174]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہیں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہیں ہرقل نے قافلہ قریش کے ہمراہ بلا بھیجا۔ یہ لوگ اس وقت شام کے علاقے میں بغرض تجارت گئے ہوئے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے ہمراہ ابوسفیان سے صلح کر رکھی تھی۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3174]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
14. بَابُ هَلْ يُعْفَى عَنِ الذِّمِّيِّ إِذَا سَحَرَ:
باب: اگر کسی ذمی نے کسی پر جادو کر دیا تو کیا اسے معاف کیا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: Q3175
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ سُئِلَ أَعَلَى مَنْ سَحَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ قَتْلٌ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ صُنِعَ لَهُ ذَلِكَ فَلَمْ يَقْتُلْ مَنْ صَنَعَهُ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ".
ابن وہب نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی کہ ابن شہاب رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا اگر کسی ذمی نے کسی پر جادو کر دیا تو اسے قتل کر دیا جائے؟ انہوں نے بیان کیا کہ یہ حدیث ہم تک پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ سے جادو کرنے والے کو قتل نہیں کروایا تھا اور آپ پر جادو کرنے والا اہل کتاب میں سے تھا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: Q3175]
حدیث نمبر: 3175
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُحِرَ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ آپ سمجھتے کہ میں نے فلاں کام کر لیا ہے۔ حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3175]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خیال گزرتا کہ ”میں نے فلاں کام کر لیا ہے،“ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3175]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
15. بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنَ الْغَدْرِ:
باب: دغا بازی کرنا کیسا گناہ ہے؟
حدیث نمبر: Q3176
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ} الآيَةَ.
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وإن يريدوا أن يخدعوك فإن حسبك الله» ”اور اگر یہ کافر لوگ آپ کو دھوکا دینا چاہیں (اے نبی!) تو اللہ آپ کے لیے کافی ہے۔“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: Q3176]
حدیث نمبر: 3176
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ، قَالَ:سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ:" اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَوْتِي، ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ مُوتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتٌ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا".
مجھ سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن علاء بن زبیر نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے بسر بن عبیداللہ سے سنا، انہوں نے ابوادریس سے سنا، کہا کہ میں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو، میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک وبا جو تم میں شدت سے پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیل جاتا ہے۔ پھر مال کی کثرت اس درجہ میں ہو گی کہ ایک شخص سو دینار بھی اگر کسی کو دے گا تو اس پر بھی وہ ناراض ہو گا۔ پھر فتنہ اتنا تباہ کن عام ہو گا کہ عرب کا کوئی گھر باقی نہ رہے گا جو اس کی لپیٹ میں نہ آ گیا ہو گا۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی الاصفر (نصارائے روم) کے درمیان ہو گی، لیکن وہ دغا کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے۔ اس میں اسی جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہو گی (یعنی نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج سے وہ تم پر حملہ آور ہوں گے)۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3176]
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں (ہوں گی انہیں) شمار کرلو: ایک تو میری وفات، دوسری فتح بیت المقدس، تیسری وبا تم میں اس طرح پھیلے گی جیسے بکریوں کی بیماری «قُعَاصٌ» پھیلتی ہے۔ چوتھی مال کی اس قدر فراوانی کہ اگر کسی کو سو اشرفیاں دی جائیں گی تو بھی خوش نہیں ہوگا۔ پانچویں ایک فتنہ جس سے عرب کا کوئی گھر نہیں بچے گا۔ چھٹی نشانی وہ صلح جو تمہارے اور رومیوں کے درمیان ہوگی۔ وہ بے وفائی کریں گے اور اسی جھنڈے لے کر تم سے لڑنے آئیں گے اور ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار فوج ہوگی۔“ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3176]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
16. بَابُ كَيْفَ يُنْبَذُ إِلَى أَهْلِ الْعَهْدِ:
باب: عہد کیوں کر واپس کیا جائے؟
حدیث نمبر: Q3177
وَقَوْلُهُ: {وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ} الآيَةَ.
اور اللہ پاک نے سورۃ الانفال میں فرمایا «وإما تخافن من قوم خيانة فانبذ إليهم على سواء» ”اگر آپ کو کسی قوم کی طرف سے دغا بازی کا ڈر ہو تو آپ ان کا عہد معقول طور سے ان کو واپس کر دیں۔“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: Q3177]
حدیث نمبر: 3177
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ:" بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ وَإِنَّمَا قِيلَ الْأَكْبَرُ مِنْ أَجْلِ قَوْلِ النَّاسِ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، فَنَبَذَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّاسِ فِي ذَلِكَ الْعَامِ فَلَمْ يَحُجَّ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْرِكٌ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (حجۃ الوداع سے پہلے والے حج کے موقع پر) دسویں ذی الحجہ کے دن بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ مجھے بھی منیٰ میں یہ اعلان کرنے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر نہ کرے اور حج اکبر کا دن دسویں تاریخ ذی الحجہ کا دن ہے۔ اسے حج اکبر اس لیے کہا گیا کہ لوگ (عمرہ کو) حج اصغر کہنے لگے تھے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سال مشرکوں سے جو عہد لیا تھا اسے واپس کر دیا، اور دوسرے سال حجۃ الوداع میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو کوئی مشرک شریک نہیں ہوا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3177]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ روانہ کیا جنہوں نے منیٰ کے مقام پر قربانی کے دن یہ اعلان کیا تھا کہ ”اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی شخص ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا“ اور حجِ اکبر کا دن دسویں ذی الحجہ کا دن ہے۔ اسے حجِ اکبر اس لیے کہا گیا کہ لوگ عمرے کو حجِ اصغر کہنے لگے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سال مشرکین سے جو عہد و پیمان لیا تھا اسے واپس کر دیا اور دوسرے سال حجۃ الوداع میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو کوئی مشرک شریک نہ ہوا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3177]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة