صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ إِثْمِ مَنْ عَاهَدَ ثُمَّ غَدَرَ:
باب: معاہدہ کرنے کے بعد دغا بازی کرنے والے پر گناہ؟
حدیث نمبر: Q3178
وَقَوْلِهِ: {الَّذِينَ عَاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لاَ يَتَّقُونَ}.
اور سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد «الذين عاهدت منهم ثم ينقضون عهدهم في كل مرة وهم لا يتقون» ”وہ لوگ (یہود) آپ جن سے معاہدہ کرتے ہیں، اور پھر ہر مرتبہ وہ دغا بازی کرتے ہیں، اور وہ باز نہیں آتے۔“ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: Q3178]
حدیث نمبر: 3178
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَعُ خِلَالٍ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَنَّ مُنَافِقًا خَالِصًا مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مرہ نے، ان سے مسروق نے، ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، چار عادتیں ایسی ہیں کہ اگر یہ چاروں کسی ایک شخص میں جمع ہو جائیں تو وہ پکا منافق ہے۔ وہ شخص جو بات کرے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ کرے، تو وعدہ خلافی کرے، اور جب معاہدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔ اور جب کسی سے لڑے تو گالی گلوچ پر اتر آئے اور اگر کسی شخص کے اندر ان چاروں عادتوں میں سے ایک ہی عادت ہے، تو اس کے اندر نفاق کی ایک عادت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3178]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار خصلتیں ایسی ہیں جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہوتا ہے: وہ جب بھی بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے، جب عہد و پیمان کرے تو اسے توڑ دے اور جب جھگڑا کرے تو فسق و فجور پر اتر آئے۔ اور جس میں ان خصلتوں میں سے کوئی خصلت پائی جائے گی، جب تک اسے چھوڑے گا نہیں یہ نفاق کی خصلت اس میں باقی رہے گی۔“ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3178]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم تیمی نے، انہیں ان کے باپ (یزید بن شریک تیمی) نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن مجید لکھا اور جو کچھ اس ورق میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ عائر پہاڑی اور فلاں (کدیٰ) پہاڑی کے درمیان تک حرم ہے۔ پس جس نے یہاں (دین میں) کوئی نئی چیز داخل کی یا کسی ایسے شخص کو اس کے حدود میں پناہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی۔ نہ اس کا کوئی فرض قبول اور نہ نفل قبول ہو گا۔ اور مسلمان پناہ دینے میں سب برابر ہیں۔ معمولی سے معمولی مسلمان (عورت یا غلام) کسی کافر کو پناہ دے سکتے ہیں۔ اور جو کوئی کسی مسلمان کا کیا ہوا عہد توڑ ڈالے اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل! اور جس غلام یا لونڈی نے اپنے آقا اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بنا لیا، تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل! [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3179]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن لکھا اور جو کچھ اس صحیفے میں درج ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ جبل عائر سے فلاں پہاڑی تک حرم ہے۔ جس نے اس میں کسی بدعت کو رواج دیا یا کسی بدعتی کو جگہ دی تو اس پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی پھٹکار ہے۔ اس کی نہ تو کوئی فرض اور نہ نفل عبادت قبول ہوگی۔ تمام مسلمان کسی کو پناہ دینے میں برابر ہیں، اس کے لیے کوئی کم تر آدمی بھی کوشش کرسکتا ہے، لہذا جس شخص نے بھی کسی مسلمان سے بد عہدی کی اس پر اللہ تعالیٰ کی، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں ہوگی۔ اور جس نے اپنے آقاؤں کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا آقا ظاہر کیا اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اس کی بھی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہوگی۔“ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3179]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3180
قَالَ أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، فَقِيلَ لَهُ: وَكَيْفَ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ، قَالُوا: عَمَّ ذَاكَ، قَالَ: تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَشُدُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَيَمْنَعُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ".
ابوموسیٰ (محمد بن مثنیٰ) نے بیان کیا کہ ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد سعید بن عمرو نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب (جزیہ اور خراج میں سے) نہ تمہیں درہم ملے گا اور نہ دینار! اس پر کسی نے کہا۔ کہ جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کیسے سمجھتے ہیں کہ ایسا ہو گا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے۔ یہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ لوگوں نے پوچھا تھا کہ یہ کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ نے فرمایا، جب کہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد (اسلامی حکومت غیر مسلموں سے ان کی جان و مال کی حفاظت کے بارے میں) توڑا جانے لگے، تو اللہ تعالیٰ بھی ذمیوں کے دلوں کو سخت کر دے گا۔ اور وہ جزیہ دینا بند کر دیں گے (بلکہ لڑنے کو مستعد ہوں گے)۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3180]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے لوگوں سے کہا کہ تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم جزیے کے طور پر دینار حاصل کر سکو گے نہ درہم؟ ان سے دریافت کیا گیا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! تم کیا خیال کرتے ہو کہ ایسا کس طرح ہوگا؟ انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! یہ بات میں صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ لوگوں نے پوچھا: ایسا کس وجہ سے ہوگا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے کو توڑ دیا جائے گا، یعنی مسلمان دغا بازی کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان ذمیوں کے دل سخت کر دے گا اور جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے وہ جزیے کے طور پر نہیں دیں گے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3180]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
18. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3181
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ شَهِدْتَ صِفِّينَ، قَالَ: نَعَمْ، فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، يَقُولُ:" اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرِ أَمْرِنَا هَذَا".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے اعمش سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابووائل سے پوچھا، کیا آپ صفین کی جنگ میں موجود تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں (میں تھا) اور میں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ تم لوگ خود اپنی رائے کو غلط سمجھو، جو آپس میں لڑتے مرتے ہو۔ میں نے اپنے تئیں دیکھا جس دن ابوجندل آیا (یعنی حدیبیہ کے دن) اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پھیر دیتا اور ہم نے جب کسی مصیبت میں ڈر کر تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو وہ مصیبت آسان ہو گئی۔ ہم کو اس کا انجام معلوم ہو گیا۔ مگر یہی ایک لڑائی ہے (جو سخت مشکل ہے اس کا انجام بہتر نہیں معلوم ہوتا)۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3181]
اعمش رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو وائل رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ جنگ صفین میں حاضر تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں نے وہاں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم لوگ خود اپنی رائے کو غلط خیال کرو۔ میں نے خود کو ابو جندل (صلح حدیبیہ) کے دن دیکھا، اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مسترد کرنے کی طاقت رکھتا تو مسترد کر دیتا۔ ہم نے جب بھی کسی مصیبت سے گھبرا کر تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو وہ مصیبت آسان ہو گئی سوائے اس کام کے کہ یہ نہ ہو سکا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3181]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3182
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو وَائِلٍ، قَالَ: كُنَّا بِصِفِّينَ، فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ؟ فَقَالَ:" بَلَى، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَعَلَي مَا نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا أَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهَا، فَقَالَ: عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَفَتْحٌ هُوَ، قَالَ: نَعَمْ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے، ان سے یزید بن عبدالعزیز نے، ان سے ان کے باپ عبدالعزیز بن سیاہ نے، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابووائل نے بیان کیا کہ ہم مقام صفین میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ پھر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو! تم خود اپنی رائے کو غلط سمجھو۔ ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو اس وقت ضرور لڑتے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر آئے (یعنی حدیبیہ میں) اور عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہیں! عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ کیوں نہیں! پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں کیوں دبیں؟ کیا ہم (مدینہ) واپس چلے جائیں گے، اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی برباد نہیں کرے گا۔“ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وہی سوالات کئے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابھی کر چکے تھے۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ انہیں کبھی برباد نہیں ہونے دے گا۔ پھر سورۃ فتح نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو اسے آخر تک پڑھ کر سنایا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! بلا شک یہی فتح ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3182]
حضرت ابو وائل رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم مقامِ صفین میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے کہ حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! تم خود اپنی رائے کو غلط خیال نہ کرو، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مقامِ حدیبیہ میں تھے، اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو اس وقت ضرور لڑتے، واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ عرض کیا: آیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ عرض کیا: پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں کس کے لیے کمزوری کا اظہار کر رہے ہیں؟ کیا ہم واپس چلے جائیں گے، ہمارے اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے اور ان سے وہی سوالات کیے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کر چکے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا، پھر سورہ فتح نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ آخر تک پڑھ کر سنائی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (یہی فتح ہے)۔“ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3182]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3183
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُدَّتِهِمْ مَعَ أَبِيهَا فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا، قَالَ:" نَعَمْ صِلِيهَا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ قریش سے جس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حدیبیہ کی) صلح کی تھی، اسی مدت میں میری والدہ (قتیلہ) اپنے باپ (حارث بن مدرک) کو ساتھ لے کر میرے پاس آئیں، وہ اسلام میں داخل نہیں ہوئی تھیں۔ (عروہ نے بیان کیا کہ) اسماء رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری والدہ آئی ہوئی ہیں اور مجھ سے رغبت کے ساتھ ملنا چاہتی ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! ان کے ساتھ صلہ رحمی کر۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3183]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ قریش نے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ بندی کی صلح کر رکھی تھی، اس مدت میں میری والدہ اپنے باپ کے ہمراہ میرے ہاں مدینہ طیبہ آئی جبکہ وہ اس وقت مشرکہ تھی، حضرت اسماء رضی اللہ عنہما نے اس کے متعلق مسئلہ دریافت کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ میرے پاس آئی ہے اور وہ مجھ سے (کچھ مال لینے کی) رغبت رکھتی ہے، تو کیا میں ایسے حالات میں اس سے صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔“ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3183]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
19. بَابُ الْمُصَالَحَةِ عَلَى ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ وَقْتٍ مَعْلُومٍ:
باب: تین دن یا ایک معین مدت کے لیے صلح کرنا۔
حدیث نمبر: 3184
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَعْتَمِرَ أَرْسَلَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَسْتَأْذِنُهُمْ لِيَدْخُلَ مَكَّةَ فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهِ أَنْ لَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ، وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ وَلَا يَدْعُوَ مِنْهُمْ أَحَدًا، قَالَ: فَأَخَذَ يَكْتُبُ الشَّرْطَ بَيْنهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نَمْنَعْكَ وَلَبَايَعْنَاكَ وَلكِنِ اكْتُبْ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَنَا وَاللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَا وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: وَكَانَ لَا يَكْتُبُ، قَالَ: فَقَالَ: لِعَلِيٍّ امْحَ رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: عَلِيٌّ وَاللَّهِ لَا أَمْحَاهُ أَبَدًا، قَالَ: فَأَرِنِيهِ، قَالَ: فَأَرَاهُ إِيَّاهُ فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَلَمَّا دَخَلَ وَمَضَى الْأَيَّامُ أَتَوْا عَلِيًّا، فَقَالُوا: مُرْ صَاحِبَكَ فَلْيَرْتَحِلْ فَذَكَرَ ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ ارْتَحَلَ".
ہم سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عمرہ کرنا چاہا تو آپ نے مکہ میں داخلہ کے لیے مکہ کے لوگوں سے اجازت لینے کے لیے آدمی بھیجا۔ انہوں نے اس شرط کے ساتھ (اجازت دی) کہ مکہ میں تین دن سے زیادہ قیام نہ کریں۔ ہتھیار نیام میں رکھے بغیر داخل نہ ہوں اور (مکہ کے) کسی آدمی کو اپنے ساتھ (مدینہ) نہ لے جائیں (اگرچہ وہ جانا چاہے) انہوں نے بیان کیا کہ پھر ان شرائط کو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے لکھنا شروع کیا اور اس طرح ”یہ محمد اللہ کے رسول کے صلح نامہ کی تحریر ہے۔“ مکہ والوں نے کہا کہ اگر ہم جان لیتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کو روکتے ہی نہیں بلکہ آپ پر ایمان لاتے، اس لیے تمہیں یوں لکھنا چاہئے، ”یہ محمد بن عبداللہ کی صلح نامہ کی تحریر ہے“۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ گواہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ گواہ ہے کہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا نہیں جانتے تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دے۔ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! یہ لفظ تو میں کبھی نہ مٹاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر مجھے دکھلاؤ، راوی نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ لفظ دکھایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے گئے اور (تین) دن گزر گئے تو قریش علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اب اپنے ساتھی سے کہو کہ اب یہاں سے چلے جائیں (علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) میں نے اس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں، چنانچہ آپ وہاں سے روانہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3184]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عمرہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو مکہ میں داخلے کے لیے اہل مکہ سے اجازت لینے کی خاطر ایک آدمی بھیجا تو انہوں نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تین دن سے زیادہ قیام نہیں کریں گے، مکہ میں ہتھیار بند داخل ہوں گے اور کسی کو دین اسلام کی دعوت نہیں دیں گے۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان کے مابین شرائط لکھنا شروع کیں تو مضمون لکھا: یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے۔ مکہ والوں نے کہا: اگر ہمیں یقین ہو کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ہم آپ کو نہ روکتے بلکہ آپ کی بیعت کر لیتے، لیکن مضمون اس طرح لکھو: اس شرط پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو لکھنا نہیں جانتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”(لفظ) رسول اللہ مٹا دو۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں تو اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا وہ (لفظ) مجھے دکھاؤ۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ (لفظ) دکھایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اسے مٹا دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور (تین) دن گزر گئے تو اہل مکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے صاحب سے کہیں کہ وہ اب یہاں سے چلے جائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے کوچ فرمایا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
20. بَابُ الْمُوَادَعَةِ مِنْ غَيْرِ وَقْتٍ:
باب: نامعلوم مدت کے لیے صلح کرنا۔
حدیث نمبر: Q3185
وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ بِهِ» .
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے فرمایا تھا ”میں اس وقت تک تمہیں یہاں رہنے دوں گا، جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔“ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: Q3185]
21. بَابُ طَرْحِ جِيَفِ الْمُشْرِكِينَ فِي الْبِئْرِ وَلاَ يُؤْخَذُ لَهُمْ ثَمَنٌ:
باب: مشرکوں کی لاشوں کو کنویں میں پھینکوانا اور ان کی لاشوں کی (اگر ان کے ورثاء دینا بھی چاہیں تو بھی) قیمت نہ لینا۔
حدیث نمبر: 3185
4 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى جَاءَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام فَأَخَذَتْ مِنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَا مِنْ قُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ، فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيٍّ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلًا ضَخْمًا فَلَمَّا جَرُّوهُ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ قَبْلَ أَنْ يُلْقَى فِي الْبِئْرِ".
ہم سے عبدان بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ابواسحاق نے، انہیں عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ میں (شروع اسلام کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کی حالت میں تھے اور قریب ہی قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی لایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر اسے ڈال دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ سے اپنا سر نہ اٹھا سکے۔ آخر فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سے اس اوجھڑی کو ہٹایا اور جس نے یہ حرکت کی تھی اسے برا بھلا کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بددعا کی کہ اے اللہ! قریش کی اس جماعت کو پکڑ۔ اے اللہ! ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، امیہ بن خلف یا ابی بن خلف کو برباد کر۔ پھر میں نے دیکھا کہ یہ سب بدر کی لڑائی میں قتل کر دئیے گئے۔ اور ایک کنویں میں انہیں ڈال دیا گیا تھا۔ سوا امیہ یا ابی کے کہ یہ شخص بہت بھاری بھر کم تھا۔ جب اسے صحابہ نے کھینچا تو کنویں میں ڈالنے سے پہلے ہی اس کے جوڑ جوڑ الگ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3185]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ بحالت سجدہ تھے اور قریب ہی قریش کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک عقبہ بن ابی معیط ایک ذبح شدہ اونٹنی کی وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے گندگی سمیت اٹھا لایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر اسے ڈال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے اپنا سر مبارک نہ اٹھا سکے حتیٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے ہٹایا اور جس نے یہ حرکت کی تھی اسے برا بھلا کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بایں الفاظ بددعا کی: ”اے اللہ! قریش کی جماعت کو پکڑ لے۔ اے اللہ! ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابی معیط، امیہ بن خلف یا ابی بن خلف کو برباد کر۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ بدر کی جنگ میں قتل ہو گئے اور ان کی لاشوں کو ایک اوندھے کنویں میں پھینک دیا گیا، البتہ امیہ یا ابی بن خلف موٹا آدمی تھا جب اسے (کنویں میں پھینکنے کے لیے) کھینچا گیا تو کنویں میں پھینکنے سے پہلے اس کے سارے جوڑ الگ الگ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3185]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة