🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب صفة الصلاة
نماز کی صفت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 239
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يقول بين السجدتين: «‏‏‏‏اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وعافني وارزقني» ‏‏‏‏. رواه الأربعة إلا النسائي واللفظ لأبي داود وصححه الحاكم.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے «اللهم اغفرلي وارحمني واهدني وعافني وارزقني» یا اللہ! میری پردہ پوشی فرما دے (مجھے بخش دے) مجھ پر رحم فرما۔ مجھے راہ ہدایت پر چلا (اور گامزن رکھ) مجھ سے درگزر فرما (معاف کر دے) مجھے رزق (حلال) عطا فرما۔
اسے نسائی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 239]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يَقُولُ» کہا کرتے تھے – «بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ» دونوں سجدوں کے درمیان: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «اغْفِرْ لِي» مجھے بخش دے – «وَارْحَمْنِي» اور مجھ پر رحم فرما – «وَاهْدِنِي» اور مجھے ہدایت دے – «وَعَافِنِي» اور مجھے عافیت دے – «وَارْزُقْنِي» اور مجھے رزق دے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْأَرْبَعَةُ» چاروں (ائمہ) نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِأَبِي دَاوُدَ» ابو داود کے ہیں – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان یہ کہا کرتے تھے: ”اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔“ اسے نسائی کے سوا چاروں (ائمہ) نے روایت کیا ہے، الفاظ ابو داود کے ہیں اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الدعاء بين السجدتين، حديث: 850، والترمذي، الصلاة، حديث:284، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:898، والحاكم: 1 /262_271* حبيب مدلس وعنعن وصح بنحوه عن مكحول رحمه الله من قوله، رواه ابن المقريء في معجمه (1357) وسنده صحيح.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 240
وعن مالك بن الحويرث رضي الله عنه: أنه رأى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يصلي فإذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي قاعدا. رواه البخاري.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا فرماتے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی وتر (رکعت) پڑھتے تو (پہلے تھوڑا) بیٹھتے پھر سیدھا کھڑے ہو جاتے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 240]
«وَعَنْ» اور سے – «مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ» مالک بن حویرث – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» کہ انہوں نے – «رَأَى» دیکھا – «النَّبِيَّ» نبی کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُصَلِّي» نماز پڑھتے ہوئے – «فَإِذَا كَانَ» تو جب آپ ہوتے – «فِي وِتْرٍ» طاق (رکعت) میں – «مِنْ صَلَاتِهِ» اپنی نماز کی – «لَمْ يَنْهَضْ» تو نہ اٹھتے – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يَسْتَوِيَ» سیدھے ہو جاتے – «قَاعِدًا» بیٹھ کر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، تو جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت (پہلی یا تیسری) میں ہوتے تو اس وقت تک (اگلی رکعت کے لیے) نہ اٹھتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: «أجرجه البخاري، الأذان، باب من استوي قاعدًا في وترمن صلاته ثم نهض، حديث:823.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 241
وعن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قنت شهرا بعد الركوع يدعو على أحياء من العرب ثم تركه. متفق عليه. ولأحمد والدارقطني نحوه من وجه آخر وزاد:"وأما في الصبح فلم يزل يقنت حتى فارق الدنيا".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، پھر اسے چھوڑ دیا۔ (بخاری و مسلم) احمد اور دارقطنی وغیرہ نے ایک اور طریق سے اسے روایت کیا ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ صبح کی نماز میں دعائے قنوت تا دم زیست ہمیشہ پڑھتے رہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 241]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَنَتَ» قنوت پڑھی – «شَهْرًا» ایک مہینہ – «بَعْدَ الرُّكُوعِ» رکوع کے بعد – «يَدْعُو» بد دعا کرتے ہوئے – «عَلَى أَحْيَاءٍ» کچھ قبیلوں پر – «مِنَ الْعَرَبِ» عرب کے – «ثُمَّ» پھر – «تَرَكَهُ» اسے چھوڑ دیا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِأَحْمَدَ» اور احمد – «وَالدَّارَقُطْنِيِّ» اور دارقطنی کے ہاں – «نَحْوُهُ» اسی طرح (کی روایت) ہے – «مِنْ وَجْهٍ آخَرَ» ایک دوسری سند سے – «وَزَادَ» اور یہ اضافہ کیا: – «وَأَمَّا فِي الصُّبْحِ» اور رہی صبح (کی نماز) – «فَلَمْ يَزَلْ» تو آپ برابر – «يَقْنُتُ» قنوت پڑھتے رہے – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «فَارَقَ» آپ رخصت ہو گئے – «الدُّنْيَا» دنیا سے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد قنوت پڑھی جس میں عرب کے کچھ قبیلوں پر بد دعا کرتے رہے، پھر اسے چھوڑ دیا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور احمد اور دارقطنی کے ہاں ایک دوسری سند سے اسی طرح کی روایت ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے: ”اور رہی صبح کی نماز، تو آپ دنیا سے رخصت ہونے تک اس میں قنوت پڑھتے رہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 241]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوتر، باب القنوت قبل الركوع وبعده، حديث: 1003، ومسلم، المساجد، باب استحباب القنوت في جميع الصلوات، حديث:677، وحديث "حتي فارق الدنيا" أخرجه أحمد:3 /162، والدار قطني:2 /39، حديث:1677، وسنده ضعيف* أبوجعفر الرازي ضعيف فيما يرويه عن الربيع بن أنس، وهذا منه.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 242
وعنه رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: كان لا يقنت إلا إذا دعا لقوم أو دعا على قوم.صححه ابن خزيمة.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے حق میں یا کسی کے لیے بد دعا فرماتے تو اس صورت میں قنوت پڑھتے ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔ اس کو ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 242]
«وَعَنْهُ» اور انہی (انس) سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ لَا يَقْنُتُ» قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے – «إِلَّا» مگر – «إِذَا دَعَا» جب دعا کرتے – «لِقَوْمٍ» کسی قوم کے حق میں – «أَوْ دَعَا» یا بد دعا کرتے – «عَلَى قَوْمٍ» کسی قوم کے خلاف۔ – «صَحَّحَهُ» اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور انہی (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے مگر اس وقت جب کسی قوم کے حق میں دعا کرتے یا کسی قوم کے خلاف بد دعا کرتے۔ ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة: 1 /314، حديث:620* سعيد بن أبي عروبة وقتادة عنعنا.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 243
وعن سعد بن طارق الأشجعي رضي الله عنه قال: قلت لأبي: يا أبت إنك قد صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان وعلي أفكانوا يقنتون في الفجر؟ قال: أي بني محدث. رواه الخمسة إلا أبا داود.
سیدنا سعد بن طارق اشجعی رحمہ اللہ سے مروی ہے (کہتے ہیں کہ) ” میں نے اپنے والد سے استفسار کیا کہ ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ کیا یہ سب نماز فجر میں قنوت پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ بیٹا! یہ نئی بات ہے۔“ اس کو ابوداؤد کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 243]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيِّ» سعد بن طارق اشجعی – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قُلْتُ» میں نے کہا – «لِأَبِي» اپنے والد سے: – «يَا أَبَتِ» اے میرے ابا جان! – «إِنَّكَ» بے شک آپ نے – «قَدْ صَلَّيْتَ» نماز پڑھی ہے – «خَلْفَ» پیچھے – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَأَبِي بَكْرٍ» اور ابو بکر – «وَعُمَرَ» اور عمر – «وَعُثْمَانَ» اور عثمان – «وَعَلِيٍّ» اور علی کے – «أَفَكَانُوا» تو کیا وہ – «يَقْنُتُونَ» قنوت پڑھتے تھے – «فِي الْفَجْرِ» فجر میں؟ – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «أَيْ بُنَيَّ» اے میرے پیارے بیٹے! – «مُحْدَثٌ» (یہ) نئی ایجاد کردہ (بات) ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں (ائمہ) نے – «إِلَّا أَبَا دَاوُدَ» سوائے ابو داود کے۔
اور سعد بن طارق اشجعی (ابو مالک) رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد (سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ) سے کہا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی (رضی اللہ عنہم) کے پیچھے نماز پڑھی ہے، تو کیا وہ فجر میں قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: میرے پیارے بیٹے! یہ نئی ایجاد کردہ بات ہے۔ اسے ابو داود کے سوا پانچوں (ائمہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الصلاة، باب ما جاء في ترك القنوت، حديث:402، وقال:"هذا حديث حسن صحيح"، والنسائي، التطبيق، حديث:1080، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1241، وأحمد:3 /472 و6 /394.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 244
وعن الحسن بن علي رضي الله عنهما أنه قال: علمني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كلمات أقولهن في قنوت الوتر: «‏‏‏‏اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» .‏‏‏‏ رواه الخمسة. وزاد الطبراني والبيهقي: «‏‏‏‏ولا يعز من عاديت» .‏‏‏‏ زاد النسائي من وجه آخر في آخره: «‏‏‏‏وصلى الله تعالى على النبي» .‏‏‏‏ وللبيهقي عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يعلمنا دعاء ندعو به في القنوت من صلاة الصبح. وفي سنده ضعف.
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات ایسے سکھائے ہیں جنہیں میں وتروں میں (دعائے قنوت کے طور پر) پڑھتا ہوں «اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» ” اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرے میں شامل فرما جنھیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت دے کر ان میں شامل فرما دے جنھیں تو نے عافیت بخشی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا ہے ان میں مجھے بھی شامل کر کے اپنا دوست بنا لے۔ جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت نازل فرما اور جس برائی کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ۔ یقیناً فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا۔ آقا۔ ہمارے پروردگار! تو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔“
اسے پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ طبرانی اور بیہقی نے، «ولا يعز من عاديت» کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔ نیز نسائی نے ایک دوسرے طریق سے اس دعا کے آخر میں «وصلى الله تعالى على النبي» کا بھی اضافہ روایت کیا ہے۔ اور بیہقی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دعا سکھاتے تھے جسے ہم صبح کی نماز میں دعائے قنوت کی صورت میں مانگتے تھے۔ اس کی سند میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 244]
«وَعَنْ» اور سے – «الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ» حسن بن علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّهُ قَالَ» کہ انہوں نے کہا: – «عَلَّمَنِي» مجھے سکھائے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَلِمَاتٍ» چند کلمات – «أَقُولُهُنَّ» جنہیں میں کہوں – «فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ» وتر کی قنوت میں: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «اهْدِنِي» مجھے ہدایت دے – «فِيمَنْ هَدَيْتَ» ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی – «وَعَافِنِي» اور مجھے عافیت دے – «فِيمَنْ عَافَيْتَ» ان میں جنہیں تو نے عافیت دی – «وَتَوَلَّنِي» اور میرا کارساز بن جا – «فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ» ان میں جن کا تو کارساز بنا – «وَبَارِكْ لِي» اور میرے لیے برکت دے – «فِيمَا أَعْطَيْتَ» اس میں جو تو نے عطا کیا – «وَقِنِي» اور مجھے بچا – «شَرَّ» برائی سے – «مَا قَضَيْتَ» اس کی جو تو نے فیصلہ کیا – «فَإِنَّكَ» کیونکہ بے شک تو – «تَقْضِي» فیصلہ کرتا ہے – «وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ» اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاتا – «وَإِنَّهُ» اور بے شک – «لَا يَذِلُّ» ذلیل نہیں ہوتا – «مَنْ وَالَيْتَ» جسے تو دوست بنا لے – «تَبَارَكْتَ» تو بابرکت ہے – «رَبَّنَا» اے ہمارے رب! – «وَتَعَالَيْتَ» اور تو بلند ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں (ائمہ) نے۔ – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «الطَّبَرَانِيُّ» طبرانی – «وَالْبَيْهَقِيُّ» اور بیہقی نے: – «وَلَا يَعِزُّ» اور عزت نہیں پاتا – «مَنْ عَادَيْتَ» جس سے تو دشمنی رکھے۔ – «زَادَ» اضافہ کیا – «النَّسَائِيُّ» نسائی نے – «مِنْ وَجْهٍ آخَرَ» ایک دوسری سند سے – «فِي آخِرِهِ» اس کے آخر میں: – «وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى» اور اللہ تعالیٰ رحمت نازل فرمائے – «عَلَى النَّبِيِّ» نبی پر۔ – «وَلِلْبَيْهَقِيِّ» اور بیہقی کی روایت میں – «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس سے ہے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُعَلِّمُنَا» ہمیں سکھاتے – «دُعَاءً» ایک دعا – «نَدْعُو بِهِ» جس کے ساتھ ہم دعا کریں – «فِي الْقُنُوتِ» قنوت میں – «مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ» صبح کی نماز کی۔ – «وَفِي سَنَدِهِ» اور اس کی سند میں – «ضَعْفٌ» کمزوری ہے۔
اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر کی قنوت میں پڑھوں: ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی، مجھے عافیت دے کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت دی، میرا کارساز بن کر مجھے ان میں شامل فرما جن کا تو کارساز بنا، جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا ہے اس میں میرے لیے برکت دے، اور جو فیصلہ تو نے کیا ہے اس کی برائی سے مجھے بچا، کیونکہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور جسے تو دوست بنا لے وہ ذلیل نہیں ہوتا، اے ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند ہے۔“ اسے پانچوں (ائمہ) نے روایت کیا ہے۔ اور طبرانی اور بیہقی نے یہ اضافہ کیا ہے: ”اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاتا۔“ اور نسائی نے ایک دوسری سند سے اس کے آخر میں یہ اضافہ کیا ہے: ”اور اللہ تعالیٰ نبی پر رحمت نازل فرمائے۔“ اور بیہقی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ایک دعا سکھاتے تھے جو ہم صبح کی نماز کی قنوت میں پڑھیں۔ اور اس کی سند میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 244]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب القنوت في الوتر، حديث:1425، والترمذي، الوتر، حديث:464، والنسائي، قيام الليل، حديث:1746، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1178، وأحمد:1 /199، قوله: "ولا يعز من عاديت" أخرجه البيهقي:2 /209، والطبراني في الكبير:3 /73، حديث:2701، وأبوداود: الوتر، حديث: 1425، وقوله:"صلي الله علي النبي" أخرجه النسائي، قيام اللّيل، حديث:1747 وزاد" محمد" وسنده ضعيف، وثبت، موقوفًا عن أبي بن كعب عند ابن خزيمة:2 /155، حديث:1100، وحديث ابن عباس أخرجه البيهقي:2 /210 وسنده ضعيف، ابن جريج عنعن.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 245
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه» . أخرجه الثلاثة،‏‏‏‏ وهو أقوى من حديث وائل بن حجر: رأيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم: إذا سجد وضع ركبتيه قبل يديه. أخرجه الأربعة. فإن للأول شاهدا من حديث ابن عمر رضي الله تعالى عنه صححه ابن خزيمة وذكره البخاري معلقا موقوفا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے جب کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے اور گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے۔“ (نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ) اور یہ حدیث وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے مروی اس حدیث سے قوی تر ہے جس میں ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ میں جاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھتے تھے۔
اس کو چاروں یعنی ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ پہلی حدیث کا شاہد ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔ ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیقا موقوف بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 245]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا سَجَدَ» جب سجدہ کرے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فَلَا يَبْرُكْ» تو نہ بیٹھے – «كَمَا يَبْرُكُ» جیسے بیٹھتا ہے – «الْبَعِيرُ» اونٹ – «وَلْيَضَعْ» اور چاہیے کہ رکھے – «يَدَيْهِ» اپنے دونوں ہاتھ – «قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ» اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الثَّلَاثَةُ» تینوں (ائمہ) نے – «وَهُوَ أَقْوَى» اور یہ زیادہ قوی ہے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ» وائل بن حجر کی: – «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا – «النَّبِيَّ» نبی کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا سَجَدَ» جب سجدہ کرتے – «وَضَعَ» رکھتے – «رُكْبَتَيْهِ» اپنے دونوں گھٹنے – «قَبْلَ يَدَيْهِ» اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْأَرْبَعَةُ» چاروں (ائمہ) نے۔ – «فَإِنَّ» کیونکہ بے شک – «لِلْأَوَّلِ» پہلی (حدیث) کے لیے – «شَاهِدًا» ایک شاہد (تائیدی روایت) ہے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر کی – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «صَحَّحَهُ» جسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے – «وَذَكَرَهُ» اور اسے ذکر کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے – «مُعَلَّقًا» معلق (بغیر سند) – «مَوْقُوفًا» موقوف (صحابی کے عمل کے طور پر)۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے، بلکہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھے۔“ اسے تینوں (ائمہ) نے روایت کیا ہے، اور یہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے زیادہ قوی ہے (جس میں ہے): میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے۔ اسے چاروں (ائمہ) نے روایت کیا ہے۔ (پہلی حدیث اس لیے زیادہ قوی ہے) کیونکہ اس کے لیے سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے ایک شاہد موجود ہے جسے ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے اور بخاری نے اسے معلقاً موقوفاً ذکر کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب كيف يضع ركبتيه قبل يديه، حديث:840، والترمذي، الصلاة، حديث:269، والنسائي، التطبيق، حديث:1092، وحديث وائل: "وضع ركبتيه قبل يديه" أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث: 838، والترمذي، الصلاة، حديث:268، والنسائي، التطبيق، حديث:1090، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:882، وسنده ضعيف، شريك القاضي عنعن، وحديث ابن عمر ذكره البخاري معلقًا موقوفًا، الأذان، قبل حديث:803، وابن خزيمة:1 /318، 319، حديث:627.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 246
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: كان إذا قعد للتشهد وضع يده اليسرى على ركبتيه اليسرى واليمنى على اليمنى وعقد ثلاثا وخمسين وأشار بإصبعه السبابة.رواه مسلم. وفي رواية له: وقبض أصابعه كلها وأشار بالتي تلي الإبهام.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد کیلئے بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر دایاں ہاتھ اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور ترپن کی گرہ دیتے (یعنی تریپن کا عدد بناتے) اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کرتے۔ (مسلم) اور ایک روایت میں ہے جسے مسلم، ہی نے روایت کیا ہے کہ اپنی تمام انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی انگلی سے اشارہ کرتے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 246]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ» تھے – «إِذَا قَعَدَ» جب بیٹھتے – «لِلتَّشَهُّدِ» تشہد کے لیے – «وَضَعَ» رکھتے – «يَدَهُ الْيُسْرَى» اپنا بایاں ہاتھ – «عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى» اپنے بائیں گھٹنے پر – «وَالْيُمْنَى» اور دایاں – «عَلَى الْيُمْنَى» دائیں پر – «وَعَقَدَ» اور گرہ باندھتے – «ثَلَاثًا وَخَمْسِينَ» ترپن (کی شکل) کی – «وَأَشَارَ» اور اشارہ کرتے – «بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ» اپنی شہادت کی انگلی سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ» اور ان (مسلم) کی ایک روایت میں ہے: – «وَقَبَضَ» اور بند کر لیتے – «أَصَابِعَهُ» اپنی انگلیاں – «كُلَّهَا» سب کی سب – «وَأَشَارَ» اور اشارہ کرتے – «بِالَّتِي» اس (انگلی) سے جو – «تَلِي» ساتھ ملی ہوئی ہے – «الْإِبْهَامَ» انگوٹھے کے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے، اور (دائیں ہاتھ سے) ترپن کی گرہ باندھتے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ان کی ایک روایت میں ہے: آپ اپنی سب انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب صفة الجلوس في الصلاة، حديث:580.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 247
وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: التفت إلينا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏إذا صلى أحدكم فليقل: التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ثم ليتخير من الدعاء أعجبه إليه فيدعو» .‏‏‏‏ متفق عليه واللفظ للبخاري. وللنسائي: كنا نقول قبل أن يفرض علينا التشهد. ولأحمد: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم علمه التشهد وأمره أن يعلمه الناس. ولمسلم عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يعلمنا التشهد: «‏‏‏‏التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله» إلى آخره.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو تشہد میں یوں کہے۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام سلامیاں اللہ ہی کیلئے ہیں اور نمازیں پاکیزیاں بھی (زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کے لئے ہیں) اے نبی! سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت (معبود) نہیں اور اس کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اسے دعا کا انتخاب کرنا چاہیئے کہ جو اسے سب سے اچھی لگے وہ مانگے۔“ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں اور نسائی میں ہے کے ہم تشہد فرض ہونے سے پہلے کہا کرتے تھے اور احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تشہد سکھایا اور حکم دیا کہ لوگوں کو اسے سکھاؤ اور مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے تھے (وہ اس طرح تھا) «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله» إلى آخره۔ [بلوغ المرام/حدیث: 247]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ» عبد اللہ بن مسعود – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «الْتَفَتَ» متوجہ ہوئے – «إِلَيْنَا» ہماری طرف – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» اور فرمایا: – «إِذَا صَلَّى» جب نماز پڑھے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فَلْيَقُلْ» تو اسے چاہیے کہ کہے: – «التَّحِيَّاتُ» تمام قولی عبادتیں – «لِلَّهِ» اللہ کے لیے ہیں – «وَالصَّلَوَاتُ» اور تمام بدنی عبادتیں (نمازیں) – «وَالطَّيِّبَاتُ» اور تمام پاکیزہ (مالی) عبادتیں – «السَّلَامُ عَلَيْكَ» آپ پر سلامتی ہو – «أَيُّهَا النَّبِيُّ» اے نبی! – «وَرَحْمَةُ اللَّهِ» اور اللہ کی رحمت – «وَبَرَكَاتُهُ» اور اس کی برکتیں – «السَّلَامُ» سلامتی ہو – «عَلَيْنَا» ہم پر – «وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ» اور اللہ کے بندوں پر – «الصَّالِحِينَ» جو نیک ہیں – «أَشْهَدُ» میں گواہی دیتا ہوں – «أَنْ لَا إِلَهَ» کہ کوئی معبود (برحق) نہیں – «إِلَّا اللَّهُ» سوائے اللہ کے – «وَأَشْهَدُ» اور میں گواہی دیتا ہوں – «أَنَّ مُحَمَّدًا» کہ محمد – «عَبْدُهُ» اس کے بندے – «وَرَسُولُهُ» اور اس کے رسول ہیں – «ثُمَّ» پھر – «لْيَتَخَيَّرْ» چاہیے کہ چن لے – «مِنَ الدُّعَاءِ» دعا میں سے – «أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ» جو اسے سب سے زیادہ پسند ہو – «فَيَدْعُو» پھر وہ دعا کرے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں۔ – «وَلِلنَّسَائِيِّ» اور نسائی کی روایت میں ہے: – «كُنَّا نَقُولُ» ہم کہا کرتے تھے – «قَبْلَ» پہلے – «أَنْ يُفْرَضَ» اس سے کہ فرض کیا جائے – «عَلَيْنَا» ہم پر – «التَّشَهُّدُ» تشہد۔ – «وَلِأَحْمَدَ» اور احمد کی روایت میں ہے: – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَّمَهُ» نے انہیں سکھایا – «التَّشَهُّدَ» تشہد – «وَأَمَرَهُ» اور انہیں حکم دیا – «أَنْ يُعَلِّمَهُ» کہ وہ اسے سکھائیں – «النَّاسَ» لوگوں کو۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں – «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس سے ہے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُعَلِّمُنَا» ہمیں سکھاتے – «التَّشَهُّدَ» تشہد: – «التَّحِيَّاتُ» تمام قولی عبادتیں – «الْمُبَارَكَاتُ» بابرکت – «الصَّلَوَاتُ» تمام بدنی عبادتیں – «الطَّيِّبَاتُ» پاکیزہ – «لِلَّهِ» اللہ کے لیے ہیں – «إِلَى آخِرِهِ» آخر تک۔
اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو کہے: التحیات للہ والصلوات والطیبات، السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین، اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ (تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں)، پھر جو دعا اسے سب سے زیادہ پسند ہو اسے چن کر دعا کرے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور نسائی کی روایت میں ہے: ہم تشہد فرض ہونے سے پہلے (کچھ اور) کہا کرتے تھے۔ اور احمد کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں تشہد سکھایا اور حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بھی سکھائیں۔ اور مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے تھے: ”التحیات المبارکات الصلوات الطیبات للہ...“ آخر تک۔ [بلوغ المرام/حدیث: 247]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب التشهد فلي الآخرة، حديث:831، ومسلم، الصلاة، باب التشهد في الصلاة، حديث:402، والترمذي، الصلاة، حديث:289، والنسائي، السهو، حديث:1278، وأحمد:1 /376، وحديث ابن عباس أخرجه مسلم، الصلاة، حديث:403.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 248
وعن فضالة بن عبيد رضي الله عنه قال: سمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رجلا يدعو في صلاته ولم يحمد الله ولم يصل على النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال:«‏‏‏‏عجل هذا» ‏‏‏‏ ثم دعاه فقال: «‏‏‏‏إذا صلى أحدكم فليبدأ بتحميد ربه والثناء عليه ثم يصلي على النبي صلى الله عليه وآله وسلم ثم يدعو بما شاء» ‏‏‏‏ رواه أحمد والثلاثة وصححه الترمذي وابن حبان والحاكم.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنی نماز میں دعا کرتے سنا۔ نہ تو اس نے اللہ کی حمد کی اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس نے جلدی کی“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور سمجھایا کہ ” تم میں سے کوئی جب دعا مانگنے لگے تو پہلے اسے اپنے رب کی حمد و ثنا کرنی چاہیئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیئے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔“
اسے احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 248]
«وَعَنْ» اور سے – «فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ» فضالہ بن عبید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعَ» سنا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَجُلًا» ایک آدمی کو – «يَدْعُو» دعا کرتے ہوئے – «فِي صَلَاتِهِ» اپنی نماز میں – «وَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ» اور اس نے اللہ کی حمد نہیں کی – «وَلَمْ يُصَلِّ» اور درود نہیں پڑھا – «عَلَى النَّبِيِّ» نبی پر – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «عَجِلَ» جلدی کی – «هَذَا» اس نے – «ثُمَّ» پھر – «دَعَاهُ» اسے بلایا – «فَقَالَ» اور فرمایا: – «إِذَا صَلَّى» جب نماز پڑھے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فَلْيَبْدَأْ» تو چاہیے کہ شروع کرے – «بِتَحْمِيدِ» حمد سے – «رَبِّهِ» اپنے رب کی – «وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ» اور اس کی ثنا سے – «ثُمَّ» پھر – «يُصَلِّي» درود پڑھے – «عَلَى النَّبِيِّ» نبی پر – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «ثُمَّ» پھر – «يَدْعُو» دعا کرے – «بِمَا شَاءَ» جو چاہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالثَّلَاثَةُ» اور تینوں (ائمہ) نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنی نماز میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ اللہ کی حمد کی اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے جلدی کی۔“ پھر آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے رب کی حمد و ثنا سے شروع کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے، پھر جو چاہے دعا کرے۔“ اسے احمد اور تینوں (ائمہ) نے روایت کیا ہے، اور ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 248]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الدعاء، حديث:1481، والترمذي، الدعوات، حديث:3476-3477، والنسائي، السهو حديث:1285، وأحمد:6 /18، وابن حبان (الإحسان):3 /208، حديث:1957، والحاكم:1 /230.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں