🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب الترغيب في مكارم الأخلاق
مکارم اخلاق (اچھے عمدہ اخلاق) کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1326
وعن تميم الداري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الدين النصيحة» ‏‏‏‏ ثلاثا قلنا: لمن يا رسول الله؟ قال: «‏‏‏‏لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم» ‏‏‏‏ أخرجه مسلم.
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین (دین اسلام) وعظ و نصیحت کا نام ہے۔ تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا۔ ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! یہ نصیحت کا حق کس کے لیے ہے؟ فرمایا اللہ کے لیے اس کی کتاب کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور مسلمانوں کے آئمہ کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 1326]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الإيمان، باب بيان أن الدين النصيحة، حديث:55.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1327
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏أكثر ما يدخل الجنة تقوى الله وحسن الخلق» أخرجه الترمذي وصححه الحاكم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز اکثر جنت میں جانے کا سبب بنے گی وہ اللہ کا ڈر اور حسن خلق ہے۔ اسے ترمذی نے نکالا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، البر والصلة، باب ما جاء في حسن الخلق، حديث:2004، والحاكم:4 /324.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1328
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إنكم لا تسعون الناس بأموالكم ولكن ليسعهم منكم بسط الوجه وحسن الخلق» أخرجه أبو يعلى وصححه الحاكم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں میں رسائی مال کے ذریعہ پیدا نہیں کر سکتے اس لئے تمہیں چاہیئے کہ حسن خلق و کشادہ روئی سے لوگوں کے اندر رسائی پیدا کرو۔ اسے ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو يعلي: لم أجده، والحاكم:1 /124 وصححه، وأبونعيم في الحلية:10 /25، فيه عبدالله بن سعيدالمقبري متروك.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1329
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «المؤمن مرآة أخيه المؤمن» ‏‏‏‏ أخرجه أبو داود بإسناد حسن.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے۔ اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے، اس کی سند حسن ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الأدب، باب في النصيحة والحياطة، حديث:4918.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1330
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏المؤمن الذي يخالط الناس ويصبر على أذاهم خير من المؤمن الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على أذاهم» ‏‏‏‏ أخرجه ابن ماجه بإسناد حسن وهو عند الترمذي إلا أنه لم يسم الصحابي.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مومن لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان کی جانب سے اذیت رسانی پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے بہتر اور اچھا ہے جو لوگوں سے ملتا جلتا نہیں اور ان کی جانب سے اذیت رسانی پر صبر بھی نہیں کرتا۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے مگر اس نے صحابی رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الفتن، باب الصبر علي البلاء، حديث:4032، والترمذي، صفة القيامة، حديث:2507 بألفاظ مختلفة.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1331
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اللهم كما حسنت خلقي فحسن خلقي» ‏‏‏‏ رواه أحمد وصححه ابن حبان.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الٰہی جس طرح تو نے میری تخلیق کو خوب اچھا بنایا ہے۔ اس طرح میرے اخلاق کو اچھا اور حسین بنا دے۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد: 1 /403، وابن حبان(الموارد)، حديث:2423، وسنده حسن وله شاهد عندأحمد:6 /68، 155.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب الذكر والدعاء
ذکر اور دعا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1332
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يقول الله تعالى: أنا مع عبدي ما ذكرني وتحركت بي شفتاه» ‏‏‏‏. أخرجه ابن ماجه وصححه ابن حبان وذكره البخاري تعليقا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں اپنے بندوں کے اس وقت تک ساتھ رہتا ہوں جب تک وہ مجھے یاد کرتا ہے اور میرے لئے اس کے ہونٹ ہلتے رہتے ہیں۔ اس کو ابن ماجہ نے نکالا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے اور بخاری نے اسے تعلیقاً بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث: «أخرجه ماجه، الأدب، باب فضل الذكر، حديث:3792، وابن حبان(الإحسان):2 /92، والبخاري تعليقًا، التوحيد، باب قول الله تعالي: " لا تحرك به لسانك..."، قبل حديث:7524.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1333
وعن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ما عمل ابن آدم عملا أنجى له من عذاب الله من ذكر الله» ‏‏‏‏. أخرجه ابن أبي شيبة والطبراني بإسناد حسن.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کا کوئی عمل اللہ کی یاد سے بڑھ کر عذاب الٰہی سے نجات دینے والا نہیں۔ اسے ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے حسن سند کے ساتھ نکالا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن أبي شيبة:10 /300، والطبراني في الأوسط:3 /156، حديث:2317، أبوالزبير عنعن، وأخرج البخاري في التاريخ:1 /63 بإسناد قوي بلفظ: "ما عمل ابن آدم شيئًا من الصلاة، وصلاح ذات البين، وخلق حسن".»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1334
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ما جلس قوم مجلسا يذكرون الله فيه إلا حفتهم الملائكة وغشيتهم الرحمة وذكرهم الله فيمن عنده» .‏‏‏‏ أخرجه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی قوم کسی مجلس میں نہیں بیٹھتی کہ وہ اس میں اللہ کا ذکر کرتی ہو مگر فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور ان کو اللہ کی رحمت ڈھانک لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے ہاں فرشتوں میں فرماتا ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الذكر والدعاء، باب فضل الاجتماع علي تلاوة القرآن وعلي الذكر، حديث:2699.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1335
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ما قعد قوم مقعدا لم يذكروا الله فيه ولم يصلوا على النبي صلى الله عليه وآله وسلم إلا كان عليهم حسرة يوم القيامة» ‏‏‏‏ أخرجه الترمذي وقال: حسن.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بیٹھتی کوئی قوم کسی مجلس میں کہ انہوں نے اس مجلس میں اللہ کا ذکر کیا اور نہ نبی پر درود بھیجا مگر وہ مجلس ان کیلئے قیامت کے روز باعث حسرت و ندامت ہو گی۔ اسے ترمذی نے نکالا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الدعوات، باب ما جاء في القوم يجلسون ولا يذكرون الله، حديث:3380.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں