مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ایک جوتا پہن کر چلنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 90
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رُزَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا، وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا: ”جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرا جوتا پہن کر نہ چلے حتیٰ کہ وہ اس کو مرمت کر لے، اور جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو وہ اسے سات بار دھوئے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 90]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الطهارة، باب حكم ولوغ الكلب، رقم: 279 . سنن ابوداود، رقم: 4137 . سنن نسائي، رقم: 3570 . مسند احمد: 314/2»
کتا برتن میں منہ ڈالے تو سات مرتبہ دھونا چاہئیے
حدیث نمبر: 91
أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي رُزَيْنٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ بِالْعِرَاقِ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيكُونَ لَكُمُ الْمَهْنَأُ وَعَلَيَّ الْإِثْمُ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ فَلَا يَمْشِ فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا) ) .
ابورزین نے بیان کیا، میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو عراق میں اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر مارتے ہوئے دیکھا، اور وہ کہہ رہے تھے: عراق والو! کیا تم کہتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے جھوٹ لگاؤں گا تاکہ تمہارے لیے خوش گواری ہو جائے اور میرے ذمے گناہ لگ جائے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو وہ اسے سات بار دھوئے، اور جب اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے میں نہ چلے حتیٰ کہ وہ اس کی مرمت کر لے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 91]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه، كتاب الطهارة، باب غسل الاناء من ولوغ الكلب، رقم: 353 . قال الشيخ الالباني: صحيح . مسند احمد: 424/2 . ادب المفرد، رقم: 956»
حدیث نمبر: 92
أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، نا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ابوادریس خولانی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مثل روایت کیا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 92]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الطهارة، باب الايثار فى الاستشار والا استجمار، رقم: 238»
تیمم کا طریقہ
حدیث نمبر: 93
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، نا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:" لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى آيَةَ التَّيَمُّمِ لَمْ أَدْرِ كَيْفَ أَصْنَعُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ، وَقِيلَ: قَدْ خَرَجَ الْوَقْتَ الدُّرَجَةَ الَّذِي أَخَذَ فِيهِ، فَاتَّبَعْتُهُ فَأُرَانِي عَرَفَ حَاجَتِي، فَقَامَ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً عَلَى الْأَرْضِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ لَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، جب آیت تیمم نازل ہوئی تو مجھے معلوم نہ تھا کہ میں کس طرح کروں؟ پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کے گھر حاضر ہوا لیکن میں نے آپ کو نہ پایا، بتایا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے ہیں، مجھے اس راستے کا علم تھا جہاں میں آپ کو پا لوں گا، میں آپ کے پیچھے پیچھے گیا، میرا خیال ہے آپ نے میری ضرورت کو بھانپ لیا، آپ کھڑے ہوئے، پھر دونوں ہاتھ زمین پر مارے، اپنے چہرے اور ہاتھوں پر ملے اور اس پر کوئی اضافہ نہ کیا، میں واپس آ گیا اور آپ سے (تیمم کا طریقہ) نہ پوچھا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «مصنف ابن ابي شيبه: 147/1 رقم: 1689 . اسناده ضعيف»
تیمم کی اجازت
حدیث نمبر: 94
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَكُونُ فِي هَذَا الرَّمْلِ الْأَشْهُرَ الثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ، وَفِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ، وَالْجُنُبُ وَلَسْنَا نَجِدُ الْمَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (عَلَيْكُمْ بِالْأَرْضِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کچھ دیہاتی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تین اور چار ماہ تک اس ریگستان میں ہوتے ہیں، ہم میں نفاس و حیض والی خواتین اور اجنبی بھی ہوتے ہیں، ہمیں پانی نہیں ملتا، (ہم کیا کریں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مٹی استعمال (کر کے تیمم) کر لو۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 94]
تخریج الحدیث: «مسند ابي يعلي، رقم: 5870 . قال حسين سليم اسد، اسناده ضعيف . سنن كبري بيهقي: 216/1»
وضو کے بعد ہاتھ جھٹکنا منع ہے
حدیث نمبر: 95
أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى السَّكُونِيُّ، عَنِ الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَنْفِضْ يَدَيْهِ فَإِنَّهَا مَرَاوِحُ الشَّيْطَانِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو وہ اپنے ہاتھ نہ جھٹکے، کیونکہ وہ شیطان کے پنکھے ہیں۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 95]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، البختري بن عبيد سليمان خلف متروك كما قال الحافظ فى التقريب: 642»
موزوں اور اوڑھنی پر مسح
حدیث نمبر: 96
قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بِنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ فَإِنَّهُ حَقٌّ) ) ، فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ، وَقَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موزوں اور اوڑھنی پر مسح کرو، کیونکہ وہ حق ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 96]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف للانقطاع، مكحول لم يدرك اباهريرة رواه ابن ابي شيبه، رقم: 1882، 1924 . جامع التحصيل للعلاني: 285»
نمازیں پڑھنے سے گناہ بھی معاف ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 97
أَخْبَرَنَا كُلْثُومُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سِدْرَةَ، نا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ لِمَنِ اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کبیرہ گناہوں سے بچنے والے کے لیے اس درمیانی وقفے میں سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 97]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الطهارة، باب الصلوات الخمس والجمعه الي الجمعه الخ، رقم: 233 . سنن ترمذي، رقم: 214 . سنن ابي ماجه، رقم: 1086 . مسند احمد: 359/2 . صحيح ابن حبان، رقم: 1733»
طہارت کے بغیر نماز پڑھنا منع ہے
حدیث نمبر: 98
قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ الَأَوْدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِهِ أَذًى) ) فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی طہارت کے بغیر نماز پڑھنے کا قصد نہ کرے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه، كتاب الطهارة، باب ماجا فى النهي للحاقن الخ، رقم: 618 . قال الشيخ الالباني: صحيح . مسند احمد: 442/2»
شریعت محمدی کے انکار کی چند وجوہات
حدیث نمبر: 99
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي حَكِيمٌ الْأَثْرَمُ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ أَوْ أَتَى حَائِضًا أَوْ أَتَى امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کاہن کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کرے، یا حائضہ سے جماع کرے، یا عورت سے اس کی پشت میں جماع کرے تو ایسا شخص محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل ہونے والی شریعت سے لاتعلق ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 99]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب الطب، باب فى الكهان، رقم: 3904 . قال الالباني: صحيح، سنن ترمذي، ابواب الطهارة، باب ماجا فى كراهية اتيان الحائض، رقم: 1350 . سنن ابن ماجه، رقم: 639 . سنن دارمي، رقم: 1136 . مسند احمد: 408/2»