Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صدقہ حلال نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 274
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَدْخَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((كِخْ كِخْ)) فَأَلْقَاهَا، فَقَالَ: ((أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا)).
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: نہ لو، نہ لو۔ پس انہوں نے اسے باہر پھینک دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں؟ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الزكوٰة /حدیث: 274]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الزكاة، باب ما يذكر فى الصدقة للنبي صلى الله عليه وسلم، رقم: 1491 . مسلم، كتاب الزكاة، باب تحريم الزكاة على رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه واله وسلم، رقم: 69 . مسند احمد: 409/2 . سنن دارمي، رقم: 1642 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 275
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
محمد بن زیاد نے بیان کیا: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا: حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے (ایک کھجور) لے لی، پس حدیث سابق کے مانند ذکر کیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الزكوٰة /حدیث: 275]
تخریج الحدیث: «السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 276
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَمَرَ فِيهِ بِأَمْرٍ، وَحَمَلَ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ فَإِذَا لُعَابُهُ يَسِيلُ فَنَظَرَ فَإِذَا فِي فِيهِ تَمْرَةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَحَرَّكَهُ فَأَلْقَاهَا، فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقہ کی کھجوریں پیش کی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھایا، ان کا لعاب بہنے لگا، آپ نے دیکھا کہ ان کے منہ میں صدقہ کے کھجوروں میں سے ایک کھجور ہے، پس آپ نے انہیں ہلایا تو انہوں نے اسے پھینک دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں، صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الزكوٰة /حدیث: 276]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 279/2 . قال شعيب الارناوط، اسناده صحيح»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
زکوٰۃ وصول کرنے میں حد سے بڑھنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 277
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كمَانِعِهَا)).
اسی سند سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ میں حد سے بڑھنے والا اسے منع کرنے والے کی طرح ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الزكوٰة /حدیث: 277]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب الزكوة، باب فى زكاة السائمة، رقم: 1585 . سنن ترمذي، ابواب الزكاة، باب ماجاء فى المعتدي فى الصدقة، رقم: 646 . صحيح ترغيب وترهيب، رقم: 785 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ کھانے سے انکار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 278
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، أَكَلَ، وَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ، قَالَ: كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کے گھر کا کھانا پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے، اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ تناول فرماتے، اور اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کھاؤ۔ اور آپ تناول نہ فرماتے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الزكوٰة /حدیث: 278]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب اللقطة، باب اذا وجد ثمرة فى الطريق: رقم: 2432 . مسلم، كتاب الزكاة، باب قبول النبى الهدية ورده الصدقه: 1077 . مسند احمد: 406/2 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حقیقی مسکین کون ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 279
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ مَنْ تَرُدُّهُ الَأُكْلَةُ وَالَأُكْلَتَانِ وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، أَوِ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا أَوْ يَسْتَحْيِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ إِلْحَافًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جسے لقمہ، دو لقمے یا کھجور، دو کھجوریں در در پھرائیں، مسکین تو وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں جو اسے بے نیاز کر دے اور وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال بھی نہیں کرتا، یا وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال کرنے سے حیا محسوس کرتا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الزكوٰة /حدیث: 279]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الزكاة، باب قول الله تعالىٰ لا يستلون الناس الحافا، رقم: 1479 . مسلم، كتاب الزكاة، باب المسكين الذمي لا يجد غني الخ، رقم: 1039 . معجم طبراني اوسط، رقم: 3041 . سنن ابوداود، رقم: 1631 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 280
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الْمِسْكِينُ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً، قَالَ: شَكَّ شُعْبَةُ فِي قَوْلِهِ: أَوِ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں۔ پس راوی نے حدیث سابق کے مثل روایت کیا: راوی نے کہا کہ شعبہ کو کھجور اور دو کھجوروں میں شک ہوا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الزكوٰة /حدیث: 280]
تخریج الحدیث: «السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
صدقہ خیرات کرنے کی ترغیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 281
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: زَعَمَ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدي مِنْهُ دِينَارٌ لَيْسَ شَيْءٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور پھر تین دن گزر جائیں اور اس میں سے میرے پاس ایک دینار بھی باقی ہو سوائے اس کے جنہیں میں قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ لوں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الزكوٰة /حدیث: 281]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الرفاق، باب قول النبى صلى الله عليه وسلم ما بسرني الخ، رقم: 6445 . مسلم، كتاب الزكاة، باب تغليظ عقوبة من لا يزدي الزكاة، رقم: 991 . مسند احمد: 467/2 . صحيح ابن حبان، رقم: 635 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 282
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَتَصَدَّقُ؟ قَالَ: وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ عِنْدَ نَحْرِكَ، قُلتُ: مَالِي لِفُلَانٍ وَفُلَانٍ وَهُوَ لَهُمْ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس طرح صدقہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبکہ تم صحت مند ہو اور بخیل بھی ہو، زندگی کی امید ہو اور فقر کا اندیشہ ہو، اور تم اس قدر التوا کا شکار نہ ہو حتیٰ کہ جب تمہاری سانس حلق تک پہنچ جائے تو تم کہو: میرا مال فلاں کے لیے اور فلاں کے لیے، وہ تو ان کا ہو چکا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الزكوٰة /حدیث: 282]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الزكاة، باب اي الصدقة الخ، رقم: 1419 . مسلم، كتاب الزكاة، باب بيان ان افضل الصدقة الخ، رقم: 1033 . سنن ابوداود، رقم: 2865 . صحيح ابن حبان، رقم: 3312 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اصل مالداری نفس کی مالداری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 283
أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ، نا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ((لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ)).
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: تونگری کثرت مال و متاع کا نام نہیں، بلکہ دل کی تونگری اصل تونگری ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الزكوٰة /حدیث: 283]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الزكاة، باب ليس الغني عن كثرة العرض، رقم: 1051 . سنن ترمذي، رقم: 2373 . سنن ابن ماجه، رقم: 4137 . مسند احمد: 243/2 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں