مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا
حدیث نمبر: 878
قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَلَقِيتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ، كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، مَا نَقَصَتْ حَرْفًا وَاحِدًا عَنْهُ، إِنَّ أَبِي زَادَ فِيهِ بَابًا وَاحِدًا قَالَ: فَحَنَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ مِنْ نَحْوِ الْمَشْرِقِ مِمَّا هُوَ قَرِيبٌ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً.
شعبی رحمہ اللہ نے بیان کیا: میں المحرر بن ابی ہریرہ سے ملا تو میں نے انہیں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی روایت بیان کی، تو انہوں نے کہا: میں اپنے والد کے پاس تھا کہ انہوں نے مجھے یہ حدیث اس طرح بیان کی جس طرح فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے تمہیں بیان کی، انہوں نے اس میں سے ایک حرف کی بھی کمی نہیں کی، میرے والد نے اس میں ایک باب کا اضافہ کیا، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب تقریباً بیس بار لکیر کھینچی۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفتن/حدیث: 878]
تخریج الحدیث: «السابق»
حدیث نمبر: 879
قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: فَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَامِرًا، زَادَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ سَأَلَهُمْ:" هَلْ بَنَى النَّاسُ بِالْأَجْرِ بَعْدُ، وَفِيهِ أَنَّهُ ضَرَبَ قَدَمُهُ بَاطِنَ قَدَمِهِ، وَفِيهِ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ مَا هُوَ ثُمَّ قَالَ: لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْعَنَانِ".
ابواسامہ نے کہا: جس شخص نے عامر سے سنا اس نے مجھے حدیث بیان کی، اس نے حدیث میں اضافہ نقل کیا، کہ انہوں نے ان سے پوچھا: کیا بعد میں لوگوں نے اجر تیار کیا، اور اس میں ہے کہ اس نے اپنے قدم کے اندرونی حصے سے اس کے قدم کو مارا، اور اس میں ہے کہ اس نے کہا: یمن کی جانب سے کیا وہ ہے، پھر کہا: نہیں بلکہ العنان کی جانب سے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفتن/حدیث: 879]
ایسا وقت بھی آئے گا جب امامت کرانے والا کوئی نہیں ہوگا
حدیث نمبر: 880
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ غُرَابٍ جَدَّةُ عَلِيِّ بْنِ غُرَابٍ , عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا عَقِيلَةُ، عَنْ سَلَّامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ بِنْتِ الْحُرِّ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَمْكُثُونَ سَاعَةً لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ) ) .
سیدہ سلامہ بنت الحر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگوں پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ وہ ایک وقت تک کھڑے رہیں گے لیکن وہ کوئی امام نہیں پائیں گے کہ وہ انہیں نماز پڑھائے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفتن/حدیث: 880]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب الصلاة، باب كراهية التدافع على الامامة، رقم: 581 . سنن ابن ماجه، كتاب الاقامة، باب ما يجب على الامام، رقم: 982 . قال الشيخ الالباني: ضعيف . مسند احمد: 381/6 .»
حدیث نمبر: 881
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامِ بْنِ نَافِعٍ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ قَالَ: ( (أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَدَافَعَ قَوْمٌ الْإِمَامَةَ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ هَذَا لِهَذَا تَقَدَّمْ، وَهَذَا لِهَذَا تَقَدَّمْ حَتَّى خُسِفَ بِهِمْ) ) .
عبدالرزاق بن ہمام بن نافع الصنعانی نے بیان کیا: میں نے اپنے والد کو بعض علماء سے بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: نماز کے لیے اقامت ہو جائے گی، لوگ ایک دوسرے کو امامت کے لیے آگے بڑھائیں گے، پس یہ اسے کہے گا: آگے بڑھو اور وہ اسے کہے گا کہ آگے بڑھو، حتیٰ کہ انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفتن/حدیث: 881]
تخریج الحدیث: «الاحاد والمثاني: 189/6 . 3418 .»