Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. بَابُ فَضْلِ مَنْ مَاتَ لَهُ الْوَلَدُ
اس شخص کی فضیلت جس کا بچہ فوت ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ، إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں (اور وہ صبر کرے) اسے آگ نہیں چھوئے گی، البتہ قسم پوری کرنے کے لیے (اسے آگ پر لایا جائے گا)۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، الايمان و النذور: 6656 و مسلم: 2632 و الترمذي: 1060 و النسائي: 1875 و ابن ماجه: 1603»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ فَقَالَتِ‏:‏ ادْعُ لَهُ، فَقَدْ دَفَنْتُ ثَلاَثَةً، فَقَالَ‏:‏ ”احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لے کر آئی اور عرض کیا: (اللہ کے رسول!) اس کے لیے دعا فرمائیں، میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے آگ سے بہت بڑی رکاوٹ بنا لی ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، البر و الصلة، باب فضل من يموت له ولد فيحتسبه: 2636 و النسائي: 1877 و ابن ماجه: 1603»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْعَبْسِيِّ قَالَ‏:‏ مَاتَ ابْنٌ لِي، فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ وَجَدَا شَدِيدًا، فَقُلْتُ‏:‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تُسَخِّي بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا‏؟‏ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”صِغَارُكُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ‏.‏“
خالد عبسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرا ایک بیٹا فوت ہوا تو میں شدید غمزدہ ہوا، بالآخر میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنا جس سے ہمیں فوت شدگان کے بارے میں سکون ملے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: تمہارے چھوٹے بچے جنت کی تتلیاں ہیں۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، البر و الصلة، باب فضل من يموت له: 2635 و أحمد: 10325 - الصحيحة: 431»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ دَخَلَ الْجَنَّةَ“، قُلْنَا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، وَاثْنَانِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”وَاثْنَانِ“، قُلْتُ لِجَابِرٍ‏:‏ وَاللَّهِ، أَرَى لَوْ قُلْتُمْ وَاحِدٌ لَقَالَ‏.‏ قَالَ‏:‏ وَأَنَا أَظُنُّهُ وَاللَّهِ‏.‏
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس کے تین بچے فوت ہو گئے اور اس نے ثواب کی نیت سے صبر کیا، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جس کے دو فوت ہوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے دو فوت ہوئے (وہ بھی جنت میں جائے گا)، میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ اگر تم کہتے کہ ایک والا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور فرماتے کہ جس کا ایک فوت ہوا وہ بھی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میرا بھی یہی خیال ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه أحمد: 14285 - صحيح الترغيب: 2006 - اتحاف السادة المتقين للزبيدي: 299/5 - الدر المنثور للسيوطي: 158/1 - كنز العمال: 6613»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، هُوَ جَدُّهُ، قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ فَقَالَتِ‏:‏ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَدْ دَفَنْتُ ثَلاَثَةً، فَقَالَ‏:‏ ”احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لے کر آئی اور عرض کیا: (اللہ کے رسول!) اس کے لیے دعا فرمائیں، میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے آگ سے بہت بڑی رکاوٹ بنا لی ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: «صحيح: تقدم: 144»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‏:‏ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لاَ نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ، فَوَاعِدْنَا يَوْمًا نَأْتِكَ فِيهِ، فَقَالَ‏:‏ ”مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلاَنٍ“، فَجَاءَهُنَّ لِذَلِكَ الْوَعْدِ، وَكَانَ فِيمَا حَدَّثَهُنَّ‏:‏ ”مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلاَثٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَتَحْتَسِبَهُمْ، إِلاَّ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ“، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ‏:‏ أَوِ اثْنَانِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أَوَِ اثْنَانِ“، كَانَ سُهَيْلٌ يَتَشَدَّدُ فِي الْحَدِيثِ وَيَحْفَظُ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَقْدِرُ أَنْ يَكْتُبَ عِنْدَهُ‏.‏
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتیں، لہٰذا ہمارے لیے ایک دن مقرر کر دیں جس میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلان کے گھر تمہارے ساتھ وعدہ ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسب وعدہ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں جو وعظ فرمایا، اس میں یہ بات بھی تھی: تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر ثواب کی امید رکھے، وہ ضرور جنت میں جائے گی۔ ایک عورت نے عرض کیا: اور دو بچے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو کا بھی یہی حکم ہے۔ راوی حدیث سہیل بن ابی صالح حدیث کے لکھنے میں بڑی سختی کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ اسے یاد رکھو۔ ان کے سامنے کوئی حدیث لکھ نہیں سکتا تھا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أحمد: 7357 - الصحيحة: 2680»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 149
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ الأَنْصَارِيُّ قَالَ‏:‏ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ‏:‏ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ ”يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلاَثَةُ أَوْلاَدٍ، إِلاَّ أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ“، قُلْتُ‏:‏ وَاثْنَانِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”وَاثْنَانِ‏.“‏
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! جس کسی مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہو جائیں، اللہ ان بچوں پر فضل و رحمت کرتے ہوئے ان کے والدین کو ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔ میں نے عرض کیا: اور دو بچے بھی (دخول جنت کا سبب بنیں گے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بچوں کا بھی یہی حکم ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أحمد: 27113 و ابن أبى شيبة: 36/3 و إسحاق بن راهويه: 2162 و الطبراني فى الكبير: 126/25 - الروض النضير: 951»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 150
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ‏:‏ قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ‏:‏ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُ بِوَاسِطَ، أَنَّ صَعْصَعَةَ بْنَ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا ذَرٍّ مُتَوَشِّحًا قِرْبَةً، قَالَ‏:‏ مَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ‏:‏ أَلاَ أُحَدِّثُكَ‏؟‏ قُلْتُ‏:‏ بَلَى، قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلاَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَعْتَقَ مُسْلِمًا إِلاَّ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ، فِكَاكَهُ لِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ‏.‏“
سیدنا صعصعہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ملے جو اس وقت ایک مشکیزہ بغل میں لٹکائے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیا: ابو ذر! آپ کے کتنے بچے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک حدیث بیان کروں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں جو ابھی بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ہوں تو اللہ اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا، ان بچوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت کی وجہ سے۔ اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ (غلام کے ہر عضو کے بدلے میں) اس کے ہر عضو کو دوزخ سے آزاد کر دے گا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه النسائي، الجنائز، باب من يتوفي له ثلاثًا: 1874 و أحمد: 21453 - الصحيحة: 567، 2260»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عُمَارَةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلاَثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ وَإِيَّاهُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ الْجَنَّةَ‏.‏“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہوئے اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے اس شخص اور ان بچوں کو ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، الجنائز، باب ما قبل فى أولاد المسلمين: 1381، 1248 و النسائي: 1873»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. بَابُ مَنْ مَاتَ لَهُ سَقْطٌ
اس عورت کا بیان جس کا ادھورا بچہ ضائع ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، وَكَانَ لاَ يُولَدُ لَهُ، فَقَالَ‏:‏ لأَنْ يُولَدَ لِي فِي الإِسْلاَمِ وَلَدٌ سَقْطٌ فَأَحْتَسِبَهُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يكُونَ لِيَ الدُّنْيَا جَمِيعًا وَمَا فِيهَا وَكَانَ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ‏.‏
سہل بن الحنظلیہ سے مروی ہے، اور ان کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تھی، انہوں نے کہا: اگر زمانہ اسلام میں میرا ایک ادھورا بچہ بھی پیدا ہو جائے اور میں اللہ کے ہاں اس کے ثواب کا یقین و امید کر لوں تو یہ مجھے ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے زیادہ محبوب ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: «ضعيف: رواه أبونعيم فى معرفة الصحابة: 2818/5 و ابن منده كما فى الإصابة لابن حجر: 504/6 و ابن عساكر فى تاريخه: 276/70»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»