الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
268. بَابُ الْبَغْيِ
سرکشی کا بیان
حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوْ أَنَّ جَبَلاً بَغَى عَلَى جَبَلٍ لَدُكَّ الْبَاغِي.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اگر ایک پہاڑ دوسرے پر سرکشی کرے تو سرکشی کرنے والے کا چورا ہو جائے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 588]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه وكيع فى الزهد: 427 و ابن وهب فى الجامع: 274 و هناد فى الزهد: 643/2 و أبونعيم فى الحلية: 322/1 - انظر الضعيفة تحت الحديث: 1948»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 589
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”احْتَجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ، فَقَالَتِ النَّارُ: يَدْخُلُنِي الْمُتَكَبِّرُونَ وَالْمُتَجَبِّرُونَ. وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: لاَ يَدْخُلُنِي إِلاَّ الضُّعَفَاءُ الْمَسَاكِينُ. فَقَالَ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي، أَنْتَقِمُ بِكِ مِمَّنْ شِئْتُ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ شِئْتُ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ اور جنت نے آپس میں جھگڑا کیا تو جہنم نے کہا: مجھ میں متکبر اور سرکش لوگ داخل ہوں گے۔ جنت نے کہا: مجھ میں صرف کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آگ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے، تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا، اور جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، تیرے ساتھ میں جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 589]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه الترمذي، كتاب صفة الجنة: 2561، و أصله فى الصحيحين، انظر الحديث، رقم: 554»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 590
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”ثَلاَثَةٌ لاَ يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ فَمَاتَ عَاصِيًا، فَلاَ تَسْأَلْ عَنْهُ، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبِقَ مِنْ سَيِّدِهِ، وَامْرَأَةٌ غَابَ زَوْجُهَا، وَكَفَاهَا مَؤُونَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ وَتَمَرَّجَتْ بَعْدَهُ. وَثَلاَثَةٌ لاَ يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ رِدَاءَهُ، فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرِيَاءُ، وَإِزَارَهُ عِزَّهُ، وَرَجُلٌ شَكَّ فِي أَمْرِ اللهِ، وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ.“
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کے بارے میں تو بات ہی نہ کی جائے (کہ وہ کتنے بڑے مجرم ہیں)، ایک وہ شخص جس نے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور اسی طرح نافرمان ہی مر گیا، اس کے بارے میں نہ پوچھا جائے (کہ اس کا کیا بنے گا)، اسی طرح وہ باندی یا غلام جو اپنے مالک سے بھاگ جائے، اور وہ عورت جس کا خاوند کہیں چلا جائے اور وہ اسے دنیاوی ضرورت کا خرچہ بھی دے جائے اور وہ اس کے بعد غیروں کے سامنے بنی سنوری رہے اور ان سے میل جول رکھے۔ مزید تین آدمی بھی ان کی ہلاکت کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت نہیں، وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ سے اس کی کبریائی کی چادر چھیننے کی کوشش کی اور اس کی ازار اس کی عزت ہے۔ اور جو آدمی اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أحمد: 23943 و الطبراني فى الكبير: 306/18 و ابن حبان: 4559 - انظر الصحيحة: 542»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 591
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”كُلُّ ذُنُوبٍ يُؤَخِّرُ اللَّهُ مِنْهَا مَا شَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِلاَّ الْبَغْيَ، وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ، أَوْ قَطِيعَةَ الرَّحِمِ، يُعَجِّلُ لِصَاحِبِهَا فِي الدُّنْيَا قَبْلَ الْمَوْتِ.“
بکار بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو قیامت تک مؤخر فرما دیتا ہے، مگر سرکشی، والدین کی نافرمانی اور قطع رحمی کی سزا اللہ تعالیٰ موت سے پہلے دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه الحاكم: 156/4 و الخرائطي: 245 و البزار: 137/9 - انظر الصحيحة: 918»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 592
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَذَّاءُ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: يُبْصِرُ أَحَدُكُمُ الْقَذَاةَ فِي عَيْنِ أَخِيهِ، وَيَنْسَى الْجِذْلَ، أَوِ الْجِذْعَ، فِي عَيْنِ نَفْسِهِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْجِذْلُ: الْخَشَبَةُ الْعَالِيَةُ الْكَبِيرَةُ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکے کو بھی دیکھ لیتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی بھول جاتا ہے۔ ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «جذل» کا مطلب بہت بڑی لمبی لکڑی۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا: الصحيحة: 33 - أخرجه ابن أبى الدنيا فى الصمت: 194 و أحمد فى الزهد: 995 موقوفًا، و رواه ابن المبارك فى الزهد: 212 و ابن حبان: 5761 و البيهقي فى شعب الإيمان: 6761»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوفًا
حدیث نمبر: 593
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَنِيرُ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ، فَأَمَاطَ أَذًى عَنِ الطَّرِيقِ، فَرَأَيْتُ شَيْئًا فَبَادَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ شَيْئًا فَصَنَعْتُهُ، قَالَ: أَحْسَنْتَ يَا ابْنَ أَخِي، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ أَمَاطَ أَذًى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ تُقُبِّلَتْ لَهُ حَسَنَةٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ.“
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا معقل مزنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہوں نے تکلیف دہ چیز راستے سے ہٹائی، پھر میں نے کوئی چیز دیکھی تو اسے اٹھانے کے لیے جلدی سے اس طرف گیا۔ انہوں نے پوچھا: میرے بھتیجے! تم نے ایسے کیوں کیا؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو ایک کام کرتے دیکھا تو میں نے بھی کر لیا۔ انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے! آپ نے بہت اچھا کیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس نے مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹائی اس کے حق میں ایک نیکی لکھی جائے گی، اور جس کی ایک نیکی قبول ہو گئی وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه الطبراني فى الكبير: 217/20 - انظر الصحيحة: 2306»
قال الشيخ الألباني: حسن
269. بَابُ قَبُولِ الْهَدِيَّةِ
ہدیہ قبول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 594
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”تَهَادُوا تَحَابُّوا.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں تحفے لیا دیا کرو، اس سے باہم محبت پیدا ہوتی ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه أبويعلى: 6122 و البيهقي فى الكبرىٰ: 280/6 و الدولابي فى الكني: 842 - انظر الإرواء: 1601»
قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ أَنَسٌ يَقُولُ: يَا بَنِيَّ، تَبَاذَلُوا بَيْنَكُمْ، فَإِنَّهُ أَوَدُّ لِمَا بَيْنَكُمْ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے میرے بیٹو! ایک دوسرے پر خرچ کیا کرو کیونکہ اس سے تمہارے درمیان محبت پیدا ہو گی۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن أبى الدنيا فى الإشراف: 165»
قال الشيخ الألباني: صحيح
270. بَابُ مَنْ لَمْ يَقْبَلِ الْهَدِيَّةَ لَمَّا دَخَلَ الْبُغْضُ فِي النَّاسِ
ہدیہ دینے والے سے ناگواری ہو جائے تو ہدیہ قبول نہ کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 596
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً، فَعَوَّضَهُ، فَتَسَخَّطَهُ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: ”يَهْدِي أَحَدُهُمْ فَأُعَوِّضُهُ بِقَدْرِ مَا عِنْدِي، ثُمَّ يَسْخَطُهُ وَايْمُ اللهِ، لاَ أَقْبَلُ بَعْدَ عَامِي هَذَا مِنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو فزارہ کے ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی کا تحفہ دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدلے میں تحفہ دیا تو وہ ناراض ہو گیا (کہ یہ کم ہے)۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق اس کا بدلہ دیتا ہوں، پھر بھی وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ اللہ کی قسم اس سال کے بعد میں کسی قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے سوا عرب میں سے کسی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه الترمذي، كتاب المناقب، باب فى ثقيف، و بني حنيفة: 3946 و أبوداؤد: 3537 و النسائي: 3759، مختصرًا - انظر الصحيحة: 1684»
قال الشيخ الألباني: صحيح
271. بَابُ الْحَيَاءِ
حیا کا بیان
حدیث نمبر: 597
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسَ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ: إِذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ.“
سیدنا ابو مسعود عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے نبیوں کی باتوں میں سے جو کچھ لوگوں کے پاس پہنچا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب تم میں شرم و حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأنبياء: 3483 و أبوداؤد: 4797 و ابن ماجه: 4183 - انظر الصحيحة: 684»
قال الشيخ الألباني: صحيح