صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ رَفْعِ الأَيْدِي فِي الدُّعَاءِ:
باب: دعا میں ہاتھوں کا اٹھانا۔
حدیث نمبر: Q6341
وَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ.
اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اپنے ہاتھ اٹھائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی کہ ”اے اللہ! خالد نے جو کچھ کیا ہے میں اس سے بیزار ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: Q6341]
حدیث نمبر: 6341
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَشَرِيكٍ، سَمِعَا أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ.
ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے کہا مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید اور شریک بن ابی نمر نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اتنے اٹھائے کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6341]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ ”میں نے آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6341]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
24. بَابُ الدُّعَاءِ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةِ:
باب: قبلہ کی طرف منہ کئے بغیر دعا کرنا۔
حدیث نمبر: 6342
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَمُطِرْنَا حَتَّى مَا كَادَ الرَّجُلُ يَصِلُ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَلَمْ تَزَلْ تُمْطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَصْرِفَهُ عَنَّا فَقَدْ غَرِقْنَا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَقَطَّعُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ، وَلَا يُمْطِرُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ".
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ ہمارے لیے بارش برسائے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی) اور آسمان پر بادل چھا گیا اور بارش برسنے لگی، یہ حال ہو گیا کہ ہمارے لیے گھر تک پہنچنا مشکل تھا۔ یہ بارش اگلے جمعہ تک ہوتی رہی پھر وہی صحابی یا کوئی دوسرے صحابی اس دوسرے جمعہ کو کھڑے ہوئے اور کہا کہ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اب بارش بند کر دے ہم تو ڈوب گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بستیوں کو سیراب کر اور ہم پر بارش بند کر دے۔ چنانچہ بادل ٹکڑے ہو کر مدینہ کے چاروں طرف بستیوں میں چلا گیا اور مدینہ والوں پر بارش رک گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6342]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، اس دوران میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو آسمان پر بادل آگئے اور بارش برسنے لگی، بارش اس قدر ہوئی کہ آدمی اپنے گھر نہیں پہنچ سکتا تھا، یہ بارش آئندہ جمعہ تک ہوتی رہی، پھر وہی آدمی یا کوئی دوسرا کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں بارش بند کر دے، ہم تو ڈوبنے لگے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا ہم پر اسے بند کر دے۔“ چنانچہ بادل ٹکڑے ٹکڑے مدینہ طیبہ کے ارد گرد پھیل گئے اور اہل مدینہ پر بارش رک گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6342]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
25. بَابُ الدُّعَاءِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ:
باب: قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا۔
حدیث نمبر: 6343
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هَذَا الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، فَدَعَا وَاسْتَسْقَى، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبادہ بن تمیم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عیدگاہ میں استسقاء کی دعا کے لیے نکلے اور بارش کی دعا کی، پھر آپ قبلہ رخ ہو گئے اور اپنی چادر کو پلٹا۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6343]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ استسقاء کے لیے عیدگاہ کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں بارش کے لیے دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو گئے اور اپنی چادر کو پلٹا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6343]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
26. بَابُ دَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ بِطُولِ الْعُمُرِ وَبِكَثْرَةِ مَالِهِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم (انس رضی اللہ عنہ) کے لیے لمبی عمر کی اور مال کی زیادتی کی دعا فرمائی۔
حدیث نمبر: 6344
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَادِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ".
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ میری والدہ (ام سلیم رضی اللہ عنہ) نے کہا: یا رسول اللہ! انس رضی اللہ عنہ آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرما دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! اس کے مال و اولاد کو زیادہ کر اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6344]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میری امی جان رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! انس آپ کا خادم ہے، آپ اس کے لیے دعا فرما دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ» ”اے اللہ! اس کے مال وعیال کو زیادہ کر دے اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6344]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
27. بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ:
باب: پریشانی کے وقت دعا کرنا۔
حدیث نمبر: 6345
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ، يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے «لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب السموات والأرض، رب العرش العظيم» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت عظمت والا ہے اور برد بار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب اور بڑے بھاری عرش کا رب ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6345]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو بہت عظمت والا اور بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جو زمین و آسمان اور عرشِ عظیم کا رب ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6345]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6346
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ"، وَقَالَ وَهْبٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، مِثْلَهُ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن ابی عبداللہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت پریشانی میں یہ دعا کیا کرتے تھے «لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السموات، ورب الأرض، ورب العرش الكريم» ”اللہ صاحب عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے۔“ اور وہب نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اس طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6346]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کی حالت میں یہ دعا پڑھتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو صاحبِ عظمت اور بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو عرشِ عظیم کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو زمین و آسمان اور عرشِ کریم کا مالک ہے۔“ وہب نے کہا: ”ہم سے شعبہ نے قتادہ کے واسطے سے اسی طرح بیان کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6346]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
28. بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ جَهْدِ الْبَلاَءِ:
باب: مصیبت کی سختی سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
حدیث نمبر: 6347
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ"، قَالَ سُفْيَانُ: الْحَدِيثُ ثَلَاثٌ زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً، لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مصیبت کی سختی، تباہی تک پہنچ جانے، قضاء و قدر کی برائی اور دشمنوں کے خوش ہونے سے پناہ مانگتے تھے اور سفیان نے کہا کہ حدیث میں تین صفات کا بیان تھا۔ ایک میں نے بھلا دی تھی اور مجھے یاد نہیں کہ وہ ایک کون سی صفت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6347]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت مصیبت، بدبختی لاحق ہونے، بری تقدیر اور دشمنوں کی خوشی سے پناہ مانگتے تھے۔“ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے کہا کہ: ”حدیث میں تین صفات کا بیان تھا، ایک کا میں نے اضافہ کیا تھا لیکن اب مجھے یاد نہیں کہ وہ ایک کون سی صفت ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6347]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
29. بَابُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض الموت میں دعا کرنا کہ یا اللہ! مجھ کو آخرت میں رفیق اعلیٰ (ملائکہ اور انبیاء) کے ساتھ ملا دے۔
حدیث نمبر: 6348
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ في رجال من أهل العلم، أن عائشة رضي الله عنها، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ:" لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ"، فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي، غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى"، قُلْتُ: إِذًا لَا يَخْتَارُنَا، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے علم والوں کے سامنے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار نہیں تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی جاتی تو پہلے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے، اس کے بعد اسے اختیار دیا جاتا ہے (کہ چاہیں دنیا میں رہیں یا جنت میں چلیں) چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور سر مبارک میری ران پر تھا۔ اس وقت آپ پر تھوڑی دیر کے لیے غشی طاری ہوئی۔ پھر جب آپ کو اس سے کچھ ہوش ہوا تو چھت کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے، پھر فرمایا «اللهم الرفيق الأعلى» ”اے اللہ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔“ میں نے سمجھ لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب ہمیں اختیار نہیں کر سکتے، میں سمجھ گئی کہ جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحت کے زمانے میں بیان فرمایا کرتے تھے، یہ وہی بات ہے۔ بیان کیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ تھا جو آپ نے زبان سے ادا فرمایا کہا «اللهم الرفيق الأعلى» ”اے اللہ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6348]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تندرست تھے تو فرمایا کرتے تھے: ”کسی نبی کی روح قبض نہیں کی جاتی یہاں تک کہ وہ جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے، اس کے بعد اسے اختیار دیا جاتا ہے“۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرضِ وفات میں مبتلا ہوئے تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ آپ پر تھوڑی دیر کے لیے غشی طاری ہوئی، جب کچھ افاقہ ہوا تو ٹکٹکی باندھ کر آپ چھت کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ» ”اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ کی رفاقت کا طلب گار ہوں۔“ میں نے سمجھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اختیار نہیں کریں گے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہی بات ہے جو آپ زمانہ تندرستی میں فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ یہ تھا جو آپ نے اپنی زبان سے ادا فرمایا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَىٰ» ”اے اللہ! رفیقِ اعلیٰ کی رفاقت کا طلب گار ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6348]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
30. بَابُ الدُّعَاءِ بِالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ:
باب: موت اور زندگی کی دعا کے بارے میں۔
حدیث نمبر: 6349
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ خَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا، قَالَ:" لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ"،
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا کہ میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے سات داغ (کسی بیماری کے علاج کے لیے) لگوائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6349]
حضرت قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ انہوں نے بیماری کی وجہ سے سات داغ لگوا رکھے تھے، انہوں نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت مانگنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا۔““ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6349]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة