صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى:
باب: مالداری کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
حدیث نمبر: 6376
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ هِشَامٍa>، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالَتِهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے ان کی خالہ (ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگا کرتے تھے کہا «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار ومن عذاب النار، وأعوذ بك من فتنة القبر، وأعوذ بك من عذاب القبر، وأعوذ بك من فتنة الغنى، وأعوذ بك من فتنة الفقر، وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کی آزمائش سے، دوزخ کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مالداری کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کی آزمائش سے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6376]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» ”اے اللہ! میں فتنہ نار اور آگ کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں فتنہ قبر اور عذاب قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔ میں مال داری کے فتنے سے تیری پناہ کا طالب ہوں۔ میں فقیری کی آزمائش سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں اور مسیح الدجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6376]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
46. بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ:
باب: محتاجی کے فتنہ سے پناہ مانگنا۔
حدیث نمبر: 6377
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ قَلْبِي بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْمَأْثَمِ، وَالْمَغْرَمِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار، وفتنة القبر وعذاب القبر، وشر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر، اللهم إني أعوذ بك من شر فتنة المسيح الدجال، اللهم اغسل قلبي بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياي، كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم إني أعوذ بك من الكسل، والمأثم والمغرم» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے فتنہ سے اور دوزخ کے عذاب سے اور قبر کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کی بری آزمائش سے اور محتاجی کی بری آزمائش سے اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے۔ اے اللہ! میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑے کو میل سے صاف کرتا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی دوری مشرق و مغرب میں ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، گناہ سے اور قرض سے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6377]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ قَلْبِي بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» اے اللہ! میں دوزخ کے فتنے اور دوزخ کے عذاب سے، فتنہ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (اسی طرح) تونگری کی بری آزمائش اور محتاجی کی بری آزمائش، نیز مسیح دجال کی بری آزمائش سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے اللہ! میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو گناہوں سے صاف کر دے جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے، میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب میں رکھی ہے۔ اے اللہ! میں سستی، گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6377]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
47. بَابُ الدُّعَاءِ بِكَثْرَةِ الْمَالِ مَعَ الْبَرَكَةِ:
باب: برکت کے ساتھ مال کی زیادتی کے لیے دعا کرنا۔
حدیث نمبر: 6378
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ"، وعَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، مِثْلَهُ.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! انس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہے اس کے لیے اللہ سے دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی «اللهم أكثر ماله، وولده، وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں زیادتی کر اور جو کچھ تو اسے دے اس میں برکت عطا فرما۔“ اور ہشام بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6378]
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! انس بیٹا آپ کا خدمت گزار ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ» ”اے اللہ! انس کے مال اور اس کی اولاد میں اضافہ کر دے اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔“ ہشام بن زید رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6378]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6379
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ"، وعَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، مِثْلَهُ.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! انس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہے اس کے لیے اللہ سے دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی «اللهم أكثر ماله، وولده، وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں زیادتی کر اور جو کچھ تو اسے دے اس میں برکت عطا فرما۔“ اور ہشام بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6379]
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! انس بیٹا آپ کا خدمت گزار ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ» ”اے اللہ! انس کے مال اور اس کی اولاد میں اضافہ کر دے اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔“ ہشام بن زید نے کہا کہ میں نے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6379]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
47M. بَاب الدُّعَاءِ بِكَثْرَةِ الولد مَعَ الْبَرَكَةِ
باب: برکت کے ساتھ بہت اولاد کی دعا کرنا۔
حدیث نمبر: 6380
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: أَنَسٌ خَادِمُكَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ".
ہم سے ابوزید سعید بن ربیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرمائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم أكثر ماله وولده، وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں زیادتی کر اور جو کچھ تو دے اس میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6380]
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! انس آپ کا خادم ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ» ”اے اللہ! اس کے مال میں فراوانی عطا فرما، اس کی اولاد کو زیادہ کر دے اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6380]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6381
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: أَنَسٌ خَادِمُكَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ".
ہم سے ابوزید سعید بن ربیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرمائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم أكثر ماله وولده، وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں زیادتی کر اور جو کچھ تو دے اس میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6381]
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! انس آپ کا خادم ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ وَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ» ”اے اللہ! اس کی اولاد کو زیادہ کر دے اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6381]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
48. بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الاِسْتِخَارَةِ:
باب: استخارہ کی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 6382
حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، كَالسُّورَةِ مِنَ الْقُرْآنِ:" إِذَا هَمَّ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي، وَآجِلِهِ، فَاقْدُرْهُ لِي، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي، وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ".
ہم سے ابومصعب مطرف بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے، قرآن کی سورت کی طرح (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جب تم میں سے کوئی شخص کسی (مباح) کام کا ارادہ کرے (ابھی پکا عزم نہ ہوا ہو) تو دو رکعات (نفل) پڑھے اس کے بعد یوں دعا کرے کہ اے اللہ! میں بھلائی مانگتا ہوں (استخارہ) تیری بھلائی سے، تو علم والا ہے، مجھے علم نہیں اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے بہتر ہے، میرے دین کے اعتبار سے، میری معاش اور میرے انجام کار کے اعتبار سے یا دعا میں یہ الفاظ کہے «في عاجل أمري وآجله» تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے میرے دین کے لیے، میری زندگی کے لیے اور میرے انجام کار کے لیے یا یہ الفاظ فرمائے «في عاجل أمري وآجله» تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں کہیں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس سے مطمئن کر دے (یہ دعا کرتے وقت) اپنی ضرورت کا بیان کر دینا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6382]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں قرآنی سورت کی طرح استخارے کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی اہم کام کا ارادہ کرے تو رکعتیں پڑھے، اس کے بعد یوں دعا کرے: اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے سے تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ساتھ ہمت کا طالب ہوں اور تیرے عظیم فضل کے ذریعے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ بلاشبہ تو ہی قدرت رکھنے والا ہے میں قدرت نہیں رکھتا۔ تو جانتا ہے میں نہیں جانتا۔ اور تو تمام تر پوشیدہ چیزوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے بہتر ہے میرے دین کے اعتبار سے، میری معاش اور میرے انجام کار کے اعتبار سے۔۔۔۔۔ یا دعا میں یہ الفاظ کہے: «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ» ”میرے معاملے کے فوری یا دیر سے ہونے کے متعلق۔“۔۔۔۔ تو پھر اسے میرے لیے مقدر کر دے۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے دین کے لیے، میری زندگی اور میرے انجام کار کے اعتبار سے۔۔۔۔ یا دعا میں یہ الفاظ کہے: «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ» ”میرے معاملے کے فوری یا دیر سے ہونے کے متعلق۔“۔۔۔۔ تو اس کو مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے، پھر جہاں کہیں بھی بھلائی ہو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور مجھے اس سے مطمئن بھی کر دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا کرتے وقت اپنی ضروریات کا ذکر بھی کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6382]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
49. بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْوُضُوءِ:
باب: وضو کے وقت کی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 6383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ:" دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ، وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی ”اے اللہ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما۔“ میں نے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل کی سفیدی دیکھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ”اے اللہ! قیامت کے دن اسے اپنی بہت سی انسانی مخلوق سے بلند مرتبہ عطا فرمائیو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6383]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اس سے وضو کیا، پھر ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ» ”اے اللہ! ابو عامر عبید کو بخش دے۔“ میں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر آپ نے یوں دعا کی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ» ”اے اللہ! قیامت کے دن اسے اپنی بہت سی انسانی مخلوق سے بلند مرتبہ عطا فرما۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6383]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
50. بَابُ الدُّعَاءِ إِذَا عَلاَ عَقَبَةً:
باب: کسی بلند ٹیلے پر چڑھتے وقت کی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6384
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ عَاقِبَةً وَعُقْبَى وَعُقْبَةً وَاحِدٌ وَهِيَ الْآخِرَةُ
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا قرآن میں جو «خير عقباء» آیا ہے تو «عاقبة» اور «عقب» کے ایک ہی معنی ہیں جن سے آخرت مراد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: Q6384]
حدیث نمبر: 6384
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَكُنَّا إِذَا عَلَوْنَا كَبَّرْنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، وَلَكِنْ تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا"، ثُمَّ أَتَى عَلَيَّ وَأَنَا أَقُولُ فِي نَفْسِي لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، قُلْ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"، أَوْ قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ هِيَ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم کسی بلند جگہ پر چڑھتے تو تکبیر کہتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگو! اپنے اوپر رحم کرو، تم کسی بہرے غائب رب کو نہیں پکارتے ہو تم تو اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا، بہت زیادہ دیکھنے والا ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں اس وقت زیر لب کہہ رہا تھا «لا حول ولا قوة إلا بالله» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عبداللہ بن قیس کہو «لا حول ولا قوة إلا بالله» کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے“ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ”میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6384]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جب کسی بلند جگہ پر چڑھتے تو بلند آواز سے «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! اپنے آپ پر نرمی کرو، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تم اس ذات کو پکار رہے ہو جو خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں اس وقت زیر لب «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» کہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! تم «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» کا ورد کرو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ وہ «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الدعوات/حدیث: 6384]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة