🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
340. بَابُ الْغِنَاءِ وَاللَّهْوِ
گانے اور کھیل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 784
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ‏:‏ خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ إِلَى السُّوقِ، فَمَرَّ عَلَى جَارِيَةٍ صَغِيرَةٍ تُغَنِّي، فَقَالَ‏:‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَوْ تَرَكَ أَحَدًا لَتَرَكَ هَذِهِ‏.‏
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بازار گیا تو ان کا گزر ایک چھوٹی لڑکی کے پاس سے ہوا جو گا رہی تھی، آپ نے فرمایا: شیطان اگر کسی کو (گمراہ کرنے) چھوڑتا تو اس لڑکی کو چھوڑ دیتا۔ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 784]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه ابن أبى الدنيا فى ذم الملاهي: 43 و البيهقي فى شعب الإيمان: 5102»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 785
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عَمْرًا مَوْلَى الْمُطَّلِبِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”لَسْتُ مِنْ دَدٍ، وَلاَ الدَّدُ مِنِّي بِشَيْءٍ“، يَعْنِي‏:‏ لَيْسَ الْبَاطِلُ مِنِّي بِشَيْءٍ‏.‏
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں لہو و لعب والا ہوں، اور نہ لہو و لعب کا مجھ سے کوئی تعلق ہے۔“ یعنی: باطل کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 785]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه الدولابي فى الكني: 998 و الطبراني فى الأوسط: 413»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 786
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ‏:‏ ‏ ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ﴾ [لقمان: 6] ‏، قَالَ‏:‏ الْغِنَاءُ وَأَشْبَاهُهُ‏.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت مبارکہ «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ» [لقمان: 6] کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس سے مراد گانا بجانا اور اس سے ملتی جلتی چیزیں ہیں۔ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 786]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 21137 و ابن أبى الدنيا فى ذم الملاهي: 27 و البيهقي فى الكبرىٰ: 223/10»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالاَ‏:‏ أَخْبَرَنَا قِنَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ النَّهْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”أَفْشُوا السَّلاَمَ تَسْلَمُوا، وَالأشَرَةُ شَرٌّ‏“، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: وَالأَشَرُ: الْعَبَثُ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کو عام کرو، سلامتی سے رہو گے، اور فضول بات شر ہے۔“ ابو معاویہ رحمہ اللہ نے کہا: اشر کے معنی عبث کے ہیں۔ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه أحمد: 1853 و أبويعلى: 1683 و ابن حبان: 491 - انظر الصحيحة: 1493»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا عِصَامٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ الأَلَهَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ بِجَمْعٍ مِنَ الْمَجَامِعِ، فَبَلَغَهُ أَنَّ أَقْوَامًا يَلْعَبُونَ بِالْكُوبَةِ، فَقَامَ غَضْبَانَ يَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ‏:‏ أَلاَ إِنَّ اللاَّعِبَ بِهَا لَيَأْكُلُ ثَمَرَهَا، كَآكِلِ لَحْمِ الْخِنْزِيرِ، وَمُتَوَضِّئٍ بِالدَّمِ‏.‏ يَعْنِي بِالْكُوبَةِ‏:‏ النَّرْدَ‏.‏
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کسی مجمع میں تھے کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگ شطرنج کھیلتے ہیں۔ وہ وہاں سے بڑی سختی سے منع کرتے ہوئے غضبناک ہو کر اٹھے، پھر فرمایا: خبردار! شطرنج کھیلنے والا تاکہ اس کی کمائی کھائے، خنزیر کا گوشت کھانے والے کی طرح ہے، اور اس کے خون کے ساتھ وضو کرنے والے کی طرح ہے۔ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 788]
تخریج الحدیث: «ضعيف:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
341. بَابُ الْهَدْيِ وَالسَّمْتِ الْحَسَنِ
اچھی عادتیں اور عمدہ اخلاق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 789
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ‏:‏ إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ‏:‏ كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ، قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ، قَلِيلٌ سُؤَّالُهُ، كَثِيرٌ مُعْطُوهُ، الْعَمَلُ فِيهِ قَائِدٌ لِلْهَوَى‏.‏ وَسَيَأْتِي مِنْ بَعْدِكُمْ زَمَانٌ‏:‏ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ، كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ، كَثِيرٌ سُؤَّالُهُ، قَلِيلٌ مُعْطُوهُ، الْهَوَى فِيهِ قَائِدٌ لِلْعَمَلِ، اعْلَمُوا أَنَّ حُسْنَ الْهَدْيِ، فِي آخِرِ الزَّمَانِ، خَيْرٌ مِنْ بَعْضِ الْعَمَلِ‏.‏
زید بن وہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: بلاشبہ تم اس دور میں ہو جس میں فقہاء زیادہ اور خطباء کم ہیں، مانگنے والے کم اور دینے والے زیادہ ہیں، اور خواہشات نفس عمل کے تابع ہیں۔ اور تمہارے بعد ایسا زمانہ آئے گا جس میں فقہاء تھوڑے اور خطباء زیادہ ہوں گے۔ مانگنے والے زیادہ اور دینے والے تھوڑے ہوں گے۔ اعمال خواہشات کے تابع ہوں گے۔ جان لو کہ آخری زمانے میں اچھی عادات بعض اعمال سے بھی بہتر اور افضل ہوں گی۔ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 789]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه الطبراني فى الكبير: 197/3 و ابن بطة فى الإبانة الكبرىٰ: 751 و ابن عبدالبر فى جامع بيان العلم: 114/1 - انظر الصحيحة: 3189»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 790
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ‏:‏ قُلْتُ لَهُ‏:‏ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟‏ قَالَ‏:‏ نَعَمْ، وَلاَ أَعْلَمُ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ رَجُلاً حَيًّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي، قَالَ‏:‏ وَكَانَ أَبْيَضَ، مَلِيحَ الْوَجْهِ‏.‏ وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَبُو الطُّفَيْلِ نَطُوفُ بِالْبَيْتِ، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي، قُلْتُ: وَرَأَيْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ؟ قَالَ: كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقَصَّدًا.
جریری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اور میرے علم میں روئے زمین پر میرے سوا کوئی آدمی زندہ نہیں جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو، پھر فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید تھا اور چہرہ مبارک نہایت خوبصورت تھا۔ ایک دوسری سند سے جریری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ، یعنی عامر بن واثلہ کنانی بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے سوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی نہیں بچا۔ میں نے کہا: آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل و صورت کس طرح تھی؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید، چہرہ دل کش اور جاذب، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قد کے تھے۔ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 790]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الفضائل، باب كان النبى صلى الله عليه وسلم أبيض، مليح الوجه: 2340 و أبوداؤد: 4864 - انظر الصحيحة: 2053»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 791
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ الْهَدْيُ الصَّالِحُ، وَالسَّمْتُ الصَّالِحُ، وَالِاقْتِصَادُ، جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ‏.‏
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَابُوسُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ، وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ، وَالاقْتِصَادَ، جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک سیرت اور اچھی عادت، نیز میانہ روی نبوت کے پچیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“
ایک دوسری سند سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک سیرت، اچھی عادت اور خرچ کرنے میں میانہ روی نبوت کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 791]
تخریج الحدیث: «حسن بلفظ جزء من خمسة وعشرين جزءا (قال الشيخ الألباني): ضعيف: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب: 4776 - انظر صحيح الجامع الصغير: 401/1 - تقدم تخريجه برقم: 468»
قال الشيخ الألباني: حسن بلفظ جزء من خمسة وعشرين جزءا (قال الشيخ الألباني) : ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
342. بَابُ‏:‏ وَيَأْتِيكَ بِالأخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ
تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جسے تو نے تیار نہیں کیا ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 792
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ‏:‏ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا‏:‏ هَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ شِعْرًا قَطُّ‏؟‏ فَقَالَتْ‏:‏ أَحْيَانًا، إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ يَقُولُ‏:‏ ”وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ‏.‏“
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا آپ نے کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعر کہتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: بسا اوقات جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوتے تو یہ شعر پڑھتے: ”تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جسے تو نے تیار نہیں کیا۔“ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 792]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه الترمذي، كتاب الأدب: 2848 - انظر الصحيحة: 2057»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 793
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ إِنَّهَا كَلِمَةُ نَبِيٍّ‏: (البحر الطويل) ”وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ“.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ”وَيَأْتِيكَ ...... ”اور تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جسے تو نے کچھ نہیں دیا ہوگا۔“ کسی نبی کا کلمہ ہے۔ [الادب المفرد/كتاب الأقوال/حدیث: 793]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة فى الأدب: 362، نحوه»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں