🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
418. بَابُ كَيْفَ تَشْمِيتُ مَنْ سَمِعَ الْعَطْسَةَ
چھینک سننے والا کیسے جواب دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 929
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِذَا شُمِّتَ‏:‏ عَافَانَا اللَّهُ وَإِيَّاكُمْ مِنَ النَّارِ، يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ‏.‏
ابو جمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو چھینک کے جواب میں یہ فرماتے ہوئے سنا: «عافانا الله وإياكم من النار، يرحمكم الله» ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں آگ سے بچائے اور اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ [الادب المفرد/كتاب العطاس والتثاؤب/حدیث: 929]
تخریج الحدیث: «صحيح: و كذا فى (الفتح): 609/10»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 930
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا يَعْلَى، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا أَبُو مُنَيْنٍ وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”يَرْحَمُكَ اللَّهُ“، ثُمَّ عَطَسَ آخَرُ، فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا، فَقَالَ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، رَدَدْتَ عَلَى الْآخَرِ، وَلَمْ تَقُلْ لِي شَيْئًا‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ، وَسَكَتَّ‏.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کو چھینک آئی اور اس نے «الحمد للہ» کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «يرحمك الله» فرمایا۔ پھر ایک آدمی کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہ فرمایا، تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے جواب دیا اور مجھے آپ نے چھینک کا جواب نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی تعریف کی اور تم خاموش رہے۔“ [الادب المفرد/كتاب العطاس والتثاؤب/حدیث: 930]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 25976 و ابن راهويه: 361 - أنظر تخريج المشكاة: 4734 التحقيق الثاني»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
419. بَابُ إِذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ لا يُشَمَّتُ
جب کوئی اللہ کی تعریف نہ کرے تو اسے چھینک کا جواب نہ دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 931
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ‏:‏ عَطَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا، وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ‏:‏ شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَلَمْ تَحْمَدْهُ‏.“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہ دیا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا اس نے کہا کہ آپ نے اسے جواب دیا اور مجھے نہیں دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی تعریف کی اور تم نے اللہ کی تعریف نہیں کی۔“ [الادب المفرد/كتاب العطاس والتثاؤب/حدیث: 931]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب: 6225 و مسلم: 2991 و أبوداؤد: 5039 و الترمذي: 2742 و ابن ماجه: 3713»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ أَخُو ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ جَلَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ مِنْهُمَا فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، وَلَمْ يُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الشَّرِيفُ‏:‏ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَ هَذَا الْآخَرُ فَشَمَّتَّهُ، فَقَالَ‏:‏ ”إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ، وَأَنْتَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ‏.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی بیٹھے جن میں سے ایک دوسرے سے زیادہ معزز تھا۔ ان میں سے جو معزز تھا اسے چھینک آئی اور اس نے «الحمد لله» نہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا۔ دوسرے کو چھینک آئی اور اس نے «الحمد للہ» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «يرحمك الله» کہا۔ اس پر اس معزز آدمی نے کہا: میں نے آپ کے پاس چھینک لی تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ اور اس کو آپ نے جواب دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کو یاد کیا تو میں نے بھی اسے یاد کیا، اور تم اللہ کو بھول گئے تو میں نے بھی تمہیں بھلا دیا۔“ [الادب المفرد/كتاب العطاس والتثاؤب/حدیث: 932]
تخریج الحدیث: «حسن:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
420. بَابُ كَيْفَ يَبْدَأُ الْعَاطِسُ
چھینکے والا شروع میں کیا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 933
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا عَطَسَ فَقِيلَ لَهُ‏:‏ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَقَالَ‏: يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَإِيَّاكُمْ، وَيَغْفِرُ لَنَا وَلَكُمْ‏.‏
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں جب چھینک آتی اور ان سے «يرحمك الله» کہا جاتا تو وہ فرماتے: اللہ ہم پر اور تم پر رحم فرمائے، اور ہمیں اور آپ کو بھی معاف فرما دے۔ [الادب المفرد/كتاب العطاس والتثاؤب/حدیث: 933]
تخریج الحدیث: «صحيح: الموطأ للإمام مالك، ح: 1522»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ‏:‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلْيَقُلْ مَنْ يَرُدُّ‏:‏ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ هُوَ‏:‏ يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ‏.‏
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ «الحمد للہ رب العالمین» کہے، اور جو جواب دے وہ «يرحمك الله» کہے، پھر جسے چھینک آئی وہ کہے: «يغفر الله لي ولكم» اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو بھی معاف کر دے۔ [الادب المفرد/كتاب العطاس والتثاؤب/حدیث: 934]
تخریج الحدیث: «صحيح الإسناد موقوفًا: المعجم الكبير للطبراني: 162/10»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوفًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 935
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ ”يَرْحَمُكَ اللَّهُ“، ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”هَذَا مَزْكُومٌ‏.“
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يرحمك الله»، اسے دوبارہ چھینک آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے زکام ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب العطاس والتثاؤب/حدیث: 935]
تخریج الحدیث: «صحيح: صحيح مسلم، الزهد و الرقائق، ح: 2993 - الصحيحة: 1330- رواه مسلم، كتاب الزهد، باب تشميت العاطس: 55، 2993 و الترمذي: 2743»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
421. بَابُ مَنْ قَالَ: يَرْحَمُكَ إِنْ كُنْتَ حَمِدْتَ اللهَ
جس نے کہا: اللہ تجھ پر رحم کرے اگر تو نے الحمد للہ کہا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ الأَزْدِيُّ قَالَ‏:‏ كُنْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ‏:‏ يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنْ كُنْتَ حَمِدْتَ اللَّهَ‏.‏
مکحول ازدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں بیٹھا تھا کہ مسجد کے کونے میں بیٹھے ایک شخص کو چھینک آئی تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «يرحمك الله» اگر تو نے «الحمد للہ» کہا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب العطاس والتثاؤب/حدیث: 936]
تخریج الحدیث: «ضعيف الإسناد موقوف: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
422. بَابُ لا يَقُولُ: آبَّ
کوئی چھینک کے وقت آب نہ کہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 937
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ‏:‏ عَطَسَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ - إِمَّا أَبُو بَكْرٍ، وَإِمَّا عُمَرُ - فَقَالَ‏:‏ آبَّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ‏:‏ وَمَا آبَّ‏؟‏ إِنَّ آبَّ اسْمُ شَيْطَانٍ مِنَ الشَّيَاطِينِ جَعَلَهَا بَيْنَ الْعَطْسَةِ وَالْحَمْدِ‏.‏
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے - ابو بکر یا عمر - کو چھینک آئی تو اس نے کہا: آب۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آب کیا ہے؟ آب تو شیطانوں میں سے ایک شیطان کا نام ہے، جسے اس نے چھینک اور «الحمد للہ» کے درمیان کر دیا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب العطاس والتثاؤب/حدیث: 937]
تخریج الحدیث: «صحيح: المصنف لابن أبى شيبة: 162/6»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
423. بَابُ إِذَا عَطَسَ مِرَارًا
جب کئی بار چھینک آئے تو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ‏:‏ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رَجُلٌ، فَقَالَ‏:‏ ”يَرْحَمُكَ اللَّهُ“، ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”هَذَا مَزْكُومٌ‏.‏“
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک آدمی کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «يرحمك الله» کہا، پھر اسے دوسری مرتبہ چھینک آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو زکام ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب العطاس والتثاؤب/حدیث: 938]
تخریج الحدیث: «صحيح: صحيح مسلم، الزهد و الرقائق، ح: 2993»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں