سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب في لَيْلَةِ الْقَدْرِ:
شب قدر کا بیان
حدیث نمبر: 1820
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أَيْقَظَنِي بَعْضُ أَهْلِي فَنَسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی لیکن میری کسی بیوی نے مجھے بیدار کر دیا لہٰذا میں بھول گیا (کہ وہ کون سی رات ہے) سو تم رمضان کے آخری عشرے میں اسے تلاش کرو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1820]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1823] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن صحیح سند سے یہی حدیث موجود ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1166] ، [أبويعلی 5972] ، [ابن حبان 3678]
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن صحیح سند سے یہی حدیث موجود ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1166] ، [أبويعلی 5972] ، [ابن حبان 3678]
حدیث نمبر: 1821
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1821]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1824] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2015] ، [مسلم 1165] ، [أبويعلی 5419] ، [ابن حبان 3675] ، [الحميدي 647] ، [ابن الجارود فى الملتقى 405]
اس روایت کی سند ضعیف لیکن حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2015] ، [مسلم 1165] ، [أبويعلی 5419] ، [ابن حبان 3675] ، [الحميدي 647] ، [ابن الجارود فى الملتقى 405]
وضاحت: (تشریح احادیث 1819 سے 1821)
ليلۃ القدر کی فضیلت کا بیان اوپر گذر چکا ہے، علمائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کون سی رات ہے؟ مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ آخری عشرے میں ہے یا کم از کم آخری سات راتوں میں ہے اور صحیح یہ ہے کہ پورے عشرے شب بیداری اور عبادت کرنی چاہے، کچھ علماء کرام یہ بھی کہتے ہیں کہ طاق راتوں کو ہرگز نہ چھوڑا جائے، اور شبِ قدر ہر سال ہوتی ہے اور کبھی کسی معین دن یا تاریخ میں نہیں ہوتی بلکہ بدلتی رہتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ستائیسویں رات کو شبِ قدر ہوئی جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نشانیاں بتائی تھیں کہ رات بارش ہوگی، شہابِ ثاقب اس رات میں نہ دیکھے جائیں گے، اور سورج کی شعاعوں میں تیز ی و تمازت نہ ہوگی۔
بعض لوگ اس رات کو شعبان کی پندرہویں رات سمجھتے ہیں جو دلائل و حقائق کے قطعاً خلاف ہے۔
واللہ اعلم۔
ليلۃ القدر کی فضیلت کا بیان اوپر گذر چکا ہے، علمائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کون سی رات ہے؟ مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ آخری عشرے میں ہے یا کم از کم آخری سات راتوں میں ہے اور صحیح یہ ہے کہ پورے عشرے شب بیداری اور عبادت کرنی چاہے، کچھ علماء کرام یہ بھی کہتے ہیں کہ طاق راتوں کو ہرگز نہ چھوڑا جائے، اور شبِ قدر ہر سال ہوتی ہے اور کبھی کسی معین دن یا تاریخ میں نہیں ہوتی بلکہ بدلتی رہتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ستائیسویں رات کو شبِ قدر ہوئی جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نشانیاں بتائی تھیں کہ رات بارش ہوگی، شہابِ ثاقب اس رات میں نہ دیکھے جائیں گے، اور سورج کی شعاعوں میں تیز ی و تمازت نہ ہوگی۔
بعض لوگ اس رات کو شعبان کی پندرہویں رات سمجھتے ہیں جو دلائل و حقائق کے قطعاً خلاف ہے۔
واللہ اعلم۔