🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
119. باب في قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَارُكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ كَذَا جُزْءاً» :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کا معمولی جزء ہے“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2881
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ (دنیا کی) آگ جہنم کی آگ کا (اپنی گرمی اور ہلاکت خیزی میں) سترواں حصہ ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2881]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف الهجري وهو: إبراهيم بن مسلم. وأبو عياض هو: عمرو بن الأسود، [مكتبه الشامله نمبر: 2889] »
اس روایت کی سند الہجری: ابراہیم بن مسلم کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3265] ، [مسلم 2843] ، [ابن حبان 7462] ، [موارد الظمآن 2608] ، [مسند الحميدي 1163]
وضاحت: (تشریح حدیث 2880)
صحیحین میں ہے: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کیا کہ دنیاوی آگ جہنم کی آگ کا ستّرواں حصہ ہے تو صحابہ میں سے کسی نے پوچھا: یا رسول الله! عذاب کے لئے تو یہ دنیاوی آگ بھی بہت تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی آگ کے مقابلہ میں جہنم کی آگ انہتر درجہ اور بڑھ کر ہے۔
اس سے معلوم ہوا اس آگ کی ہولناکی اور تمازت اور ہلاکت کا عالم کیا ہوگا۔
(اعاذنا اللہ منہا)۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف الهجري وهو: إبراهيم بن مسلم. وأبو عياض هو: عمرو بن الأسود
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
120. باب في أَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَاباً:
جہنمیوں میں سے جس کو سب سے کم عذاب ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2882
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "أَهْوَنُ النَّاسِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے ہلکا عذاب (جہنم میں) اس کو ہوگا جو دو جوتیاں پہنے ہوگا جن سے اس کا دماغ (گرم پانی کی طرح) کھولتا ہوگا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2882]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2890] »
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 213] ، [أحمد 432/2] ، [ابن حبان 7472] ، [الموارد 2617]
وضاحت: (تشریح حدیث 2881)
سب سے ہلکے اور کم عذاب والے کا یہ حال ہوگا تو دوسروں کا کیا حال ہوگا۔
مسلم شریف میں ہے: اور یہ عذاب ابوطالب کو ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور مدد کرنے کی وجہ سے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
121. باب قَوْلِهِ تَعَالَى: {هَلْ مِنْ مَزِيدٍ}:
فرمان الٰہی: «هَلْ مِنْ مَزِيْدٍ» کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2883
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "يُلْقَى فِي النَّارِ أَهْلُهَا، وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ثَلَاثًا، حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا تَعَالَى فَيَضَعَ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتُزْوَى وَتَقُولُ: قَطْ قَطْ قَطْ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں دوزخیوں کو ڈالا جائے گا اور وہ کہے گی: «هَلْ مِنْ مَزِيْدٍ؟» یعنی کچھ اور بھی ہیں؟ کچھ اور بھی ہیں؟ تین بار کہے گی یہاں تک کہ الله رب العزت اپنا قدم مبارک اس پر رکھے گا تو وہ سکڑ جائے گی اور کہنے لگے گی: بس، بس، بس۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2883]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح عمار بن أبي عمار بينا أنه ثقة، [مكتبه الشامله نمبر: 2891] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4849، 4850] ، [مسلم 2846] ، [أبويعلی 3140] ، [ابن حبان 7447]
وضاحت: (تشریح حدیث 2882)
اس حدیث سے الله تعالیٰ کا قدم ثابت ہوا جو بعض روایت میں رجل کے لفظ سے وارد ہے، علمائے سلف کا عقیدہ و ایمان ہے کہ الله تعالیٰ کا قدم ہے لیکن کیفیت ہمیں معلوم نہیں، نہ اس کی کرید کرنی جائز ہے، بعض لوگوں نے قدم کی تأویل کی ہے اور کہا ہے کہ قدم رکھنے سے مراد اس کا ذلیل کرنا ہے، یا کسی اور مخلوق کا قدم ہو سکتا ہے، یا قدم سے مراد جگہ بھی ہو سکتی ہے۔
لیکن یہ سب تاویلات باطلہ ہیں، اہلِ حدیث کا مذہب اس سلسلہ میں وہی ہے جو سلف صالحین نے کہا کہ یہ رب العالمین کی صفت ہے، جیسے سمع، بصر، وجہ، عین، ید، اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے جنّت اور جہنم سے متعلق چنیدہ صحیح احادیث اختصار کے ساتھ اس کتاب میں ذکر کی ہیں، اس سے ان کے عقیدہ اور مذہب و مسلک کا پتہ چلتا ہے، تو دوسری طرف جنّت کی تمنا اور جہنم سے خوف پیدا ہوتا ہے، چند ایک احادیث اس باب میں ضعیف ہیں لیکن ان کے شواہد صحیحین اور حدیث کی اہم کتابوں میں موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ مؤلف کو اپنے رحم و کرم سے نوازے اور سنتِ رسول «على صاحبه الصلاة والسلام» کی خدمت پر ان کے درجات بلند فرمائے، اور مترجم و پڑھنے والے کو بھی الله تعالیٰ ان کے نقشِ قدم و منہج مسلک پر چلنے کی توفیق بخشے، آمین۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح عمار بن أبي عمار بينا أنه ثقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں