صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا}:
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ میں) فرمایا اور چور مرد اور چور عورت کا ہاتھ کاٹو۔
حدیث نمبر: 6799
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ، يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی ہے کہ ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے , ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6799]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ ایک بیضہ چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور ایک رسی چوری کرنے پر بھی اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6799]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
14. بَابُ تَوْبَةِ السَّارِقِ:
باب: چور کی توبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 6800
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعَ يَدَ امْرَأَةٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَابَتْ وَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کٹوایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ عورت بعد میں بھی آتی تھی اور میں اس کی ضرورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتی تھی , اس عورت نے توبہ کر لی تھی اور حسن توبہ کا ثبوت دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6800]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”وہ عورت اس کے بعد بھی آتی تھی اور میں اس کی ضروریات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کرتی تھی۔ اس عورت نے توبہ کرلی تھی اور اچھی توبہ کا ثبوت دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6800]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6801
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ، فَقَالَ:" أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَأُخِذَ بِهِ فِي الدُّنْيَا، فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَطَهُورٌ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَذَلِكَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: إِذَا تَابَ السَّارِقُ بَعْدَ مَا قُطِعَ يَدُهُ، قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ، وَكُلُّ مَحْدُودٍ كَذَلِكَ، إِذَا تَابَ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ.
ہم سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوادریس نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جماعت کے ساتھ بیعت کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں تم سے عہد لیتا ہوں کہ تم اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، تم چوری نہیں کرو گے، اپنی اولاد کی جان نہیں لو گے، اپنے دل سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہیں لگاؤ گے اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ پس تم میں سے جو کوئی وعدے پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے اوپر لازم ہے اور جو کوئی ان میں سے کچھ غلطی کر گزرے گا اور دنیا میں ہی اسے اس کی سزا مل جائے گی تو یہ اس کا کفارہ ہو گی اور اسے پاک کرنے والی ہو گی اور جس کی غلطی کو اللہ چھپا لے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کی مغفرت کر دے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہاتھ کٹنے کے بعد اگر چور نے توبہ کر لی تو اس کی گواہی قبول ہو گی۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہے جس پر حد جاری کی گئی ہو کہ اگر وہ توبہ کر لے گا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6801]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے چند لوگوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے اس شرط پر بیعت لیتا ہوں کہ کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرو گے، نہ چوری کے مرتکب ہو گے اور نہ اپنی اولاد کو قتل ہی کرو گے اور اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے کسی کے خلاف بہتان نہیں اٹھاؤ گے، نیز بھلے کاموں میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔ تم میں سے جس نے اپنے اس عہد کو پورا کیا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، جو کوئی ان میں سے کوئی غلطی کر گزرے گا اور دنیا میں اسے سزا دے دی گئی تو وہ اس کے گناہ کا کفارہ اور اس کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈالا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف کر دے۔““ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: ”جب چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، پھر وہ توبہ کر لے تو اس کی گواہی قبول ہو گی، نیز ہر وہ شخص جس پر حد لگائی گئی ہو، جب وہ توبہ کر لے تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6801]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة