صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَاب مَا يُحْذَرُ مِنْ الْحُدُودِ:
باب: جس میں حدود پر سزا سے ڈرایا گیا ہے۔
حدیث نمبر: Q6772-2
n
(نوٹ: اس باب میں حدیث نہیں ہے۔) [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: Q6772-2]
2. بَابُ الزنا وشرب الخمر، لاَ يُشْرَبُ الْخَمْرُ:
باب: حدود سے بچنے، زنا شراب نوشی کے بیان میں۔
حدیث نمبر: Q6772
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُنْزَعُ مِنْهُ نُورُ الإِيمَانِ فِي الزِّنَا.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا زنا کرتے میں اس (زانی) سے ایمان کا نور اٹھا لیا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: Q6772]
حدیث نمبر: 6772
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ" وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِهِ إِلَّا النُّهْبَةَ.
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب بھی زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی لوٹنے والا لوٹتا ہے کہ لوگ نظریں اٹھا اٹھا کر اسے دیکھنے لگتے ہیں تو وہ مؤمن نہیں رہتا۔“ اور ابن شہاب سے روایت ہے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے بیان کیا ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سوا لفظ «نهبة.» کے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6772]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی کوئی زنا کرتا ہے تو زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں رہتا، جب بھی کوئی شراب نوشی کرتا ہے تو شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں رہتا، جب بھی کوئی چوری کرتا ہے تو چوری کرتے وقت وہ ایمان کی حالت میں نہیں ہوتا اور جب بھی کوئی لوٹنے والا لوٹتا ہے کہ لوگ اپنی نظریں اٹھا اٹھا کر اسے دیکھتے ہیں تو وہ مومن نہیں رہتا۔“ ابن شہاب رحمہ اللہ نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ رحمہما اللہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لوٹ مار کے الفاظ کے بغیر اسے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6772]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
2M. بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَرْبِ شَارِبِ الْخَمْرِ:
باب: شراب پینے والے کو مارنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 6773
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ، وَالنِّعَالِ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (دوسری سند) ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتے سے مارا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے مارے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6773]
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (دوسری سند)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6773]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
3. بَابُ مَنْ أَمَرَ بِضَرْبِ الْحَدِّ فِي الْبَيْتِ:
باب: جس نے گھر میں حد مارنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 6774
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:" جِيءَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوْ بِابْنِ النُّعَيْمَانِ شَارِبًا، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، قَالَ: فَضَرَبُوهُ، فَكُنْتُ أَنَا فِيمَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو شراب کے نشہ میں لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں، انہوں نے مارا عقبہ کہتے ہیں میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس کو جوتوں سے مارا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6774]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”نعیمان کو نشے کی حالت میں لایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، چنانچہ لوگوں نے اسے مارا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے اسے جوتوں سے مارا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6774]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
4. بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ:
باب: (شراب میں) چھڑی اور جوتے سے مارنا۔
حدیث نمبر: 6775
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ بِنُعَيْمَانَ أَوْ بِابْنِ نُعَيْمَانَ وَهُوَ سَكْرَانُ، فَشَقَّ عَلَيْهِ، وَأَمَرَ مَنْ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ، فَضَرَبُوهُ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، وَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عبداللہ بن ابی ملکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعیمان یا ابن نعیمان کو لایا گیا، وہ نشہ میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ناگوار گزرا اور آپ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں۔ چنانچہ لوگوں نے انہیں لکڑی اور جوتوں سے مارا اور میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے مارا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6775]
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نعیمان یا ان کے بیٹے کو حاضر کیا گیا جبکہ وہ شراب کے نشے میں دھت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حالت بہت ناگوار گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، چنانچہ انہوں نے کھجور کی چھڑیوں اور جوتوں سے اس کو مارا۔ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے مارا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6775]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6776
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ، بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ".
ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتوں سے مارا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس (40) کوڑے لگوائے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6776]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی پر چھڑی اور جوتوں سے مارا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگوائے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6776]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6777
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، قَالَ: اضْرِبُوهُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، قَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے انس نے بیان کیا، ان سے یزید بن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو شراب پیے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے اسے ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے اپنے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو کسی نے کہا کہ اللہ تجھے رسوا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کے جملے نہ کہو، اس کے معاملہ میں شیطان کی مدد نہ کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6777]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے ابھی ابھی شراب نوشی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مارو۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ہم میں سے بعض نے اسے مکوں سے مارا، کچھ نے جوتوں اور کچھ نے کپڑوں سے اس کی مرمت کی۔“ جب وہ جانے لگا تو کسی نے کہا: ”اللہ تجھے رسوا کرے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کہو اور اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6777]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6778
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، سَمِعْتُ عُمَيْرَ بْنَ سَعِيدٍ النَّخَعِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ حَدًّا عَلَى أَحَدٍ فَيَمُوتَ فَأَجِدَ فِي نَفْسِي، إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ: فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ يَسُنَّهُ".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن الحارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمیر بن سعید نخعی سے سنا، کہا کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نہیں پسند کروں گا کہ حد میں کسی کو ایسی سزا دوں کہ وہ مر جائے اور پھر مجھے اس کا رنج ہو، سوا شرابی کے کہ اگر وہ مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کر دوں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6778]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں کسی پر حد قائم نہیں کرتا جس سے مر جائے، پھر مجھے اس کا رنج ہو سوائے شرابی کے۔ اگر وہ حد قائم کرنے سے مر جائے تو اس کی دیت ادا کروں گا۔ یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6778]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6779
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْجُعَيْدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" كُنَّا نُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، فَنَقُومُ إِلَيْهِ بِأَيْدِينَا، وَنِعَالِنَا، وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ، فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جعید نے، ان سے یزید بن خصیفہ نے، ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں شراب پینے والا ہمارے پاس لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھ، جوتے اور چادریں لے کر کھڑے ہو جاتے (اور اسے مارتے) آخر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری دور خلافت میں شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے مارے اور جب ان لوگوں نے مزید سرکشی کی اور فسق و فجور کیا تو (80) اسی کوڑے مارے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6779]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ حکومت میں شراب پینے والے کو ہمارے پاس لایا جاتا تو ہم اسے اپنے ہاتھوں، جوتوں اور کپڑوں سے مارتے تھے۔ آخری دورِ خلافت میں شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے لگوائے، پھر جب لوگ مزید سرکشی اور فسق و فجور کرنے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی (80) کوڑے مارے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحدود/حدیث: 6779]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة