مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ مَنْعِ ٱلِٱخْصَاءِ)
خصی ہونے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 724
724 - وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَئْذَنُ لَنَا فِي الِاخْتِصَاءِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَصَى وَلَا اخْتَصَى، إِنَّ خِصَاءَ أُمَّتِي الصِّيَامُ) ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَنَا فِي السِّيَاحَةِ، فَقَالَ: (إِنْ سِيَاحَةَ أُمَّتَيِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ) ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَنَا فِي التَّرَهُّبِ، فَقَالَ: (إِنَّ تَرَهُّبَ أُمَّتَيَ الْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ، رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ.
عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں خصی ہونے کی اجازت عطا فرمائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کو خصی کیا یا اپنے آپ کو خصی کیا تو وہ ہم میں سے نہیں، کیونکہ میری امت کا خصی ہونا، روزہ رکھنا ہے۔“ انہوں نے کہا: ہمیں سیاحت کی اجازت مرحمت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی سیاحت، جہاد فی سبیل اللہ ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے انتظار میں مساجد میں بیٹھنا میری امت کی رہبانیت ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 724]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (370/2 ح 484)
٭ فيه رشدين بن سعد عن ابن أنعم (الإفريقي) و ھما ضعيفان، و أما قوله: ’’إن سياحة أمتي الجھاد في سبيل الله‘‘ فصحيح، رواه أبو داود (2486)»
٭ فيه رشدين بن سعد عن ابن أنعم (الإفريقي) و ھما ضعيفان، و أما قوله: ’’إن سياحة أمتي الجھاد في سبيل الله‘‘ فصحيح، رواه أبو داود (2486)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (رُؤْيَا ٱلنَّبِيِّ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ فِي ٱلْمَنَامِ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں اللہ رب العزت کو دیکھنا
حدیث نمبر: 725
725 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (رَأَيْتُ رَبِّيَ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ; قُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ) ، قَالَ: فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفِيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَتَلَا: وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ رَوَاهُ الدِّرَامِيُّ مُرْسَلًا، وَلِلتِّرْمِذِيِّ نَحْوُهُ عَنْهُ.
عبدالرحمٰن بن عائش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے (خواب میں) اپنے رب عزوجل کو بہترین صورت میں دیکھا، اس نے فرمایا: مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: تو بہتر جانتا ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے قلب و صدر میں محسوس کی، اور میں نے زمین و آسمان کی ہر چیز جان لی۔“ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ﴾ [سورة الأنعام: 75] ”اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہت دکھائی تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں سے ہو جائیں۔“ دارمی نے مرسل روایت کیا، اور ترمذی میں بھی انہی سے اسی کی مثل ہے۔ اس کی سند حسن ہے، اسے دارمی اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 725]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الدارمي (126/2 ح 2155) والترمذي (من حديث معاذ بن جبل رضي الله عنه: 3235 وقال: حسن .)
٭ عبد الرحمٰن بن عائش له صحبة، رضي الله عنه .»
٭ عبد الرحمٰن بن عائش له صحبة، رضي الله عنه .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (ثَوَابُ ٱلْجُلُوسِ فِي ٱلْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاةٍ ٱنْتِظَارًا لِأُخْرَى)
مسجد میں ایک نماز پڑھ کر دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھنے کا ثواب
حدیث نمبر: 726
726 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَزَادَ فِيهِ: (قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فِي الْكَفَّارَاتِ) ، وَالْكَفَّارَاتُ: الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، وَالْمَشْيِ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِبْلَاغِ الْوَضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ، وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ، الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَ إِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ) ، قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ: إِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، وَلَفْظُ هَذَا الْحَدِيثِ كَمَا فِي الْمَصَابِيحِ لَمْ أَجِدْهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَّا فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) .
ابن عباس اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا آپ جانتے ہیں کہ مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! گناہ ختم کرنے والے اعمال کے بارے میں (بحث کر رہے ہیں) اور گناہ ختم کرنے والے اعمال یہ ہیں: نمازوں کے بعد مسجد میں بیٹھے رہنا، باجماعت نماز پڑھنے کے لیے پیدل چل کر جانا اور ناگواری کے باوجود خوب اچھی طرح وضو کرنا، پس جو یہ کرے گا وہ بہتر زندگی بسر کرے گا اور اس کی موت بھی اچھی ہو گی اور وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہو، اور فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! جب آپ نماز سے فارغ ہو جائیں تو یہ دعا کیا کریں: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ» ”اے اللہ! میں تجھ سے نیک کام بجا لانے، برے کام چھوڑ دینے اور مساکین سے محبت کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش و فتنے سے دوچار کرنے کا ارادہ فرمائے تو مجھے اس سے دو چار کیے بغیر اپنی طرف اٹھا لینا۔““ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بلندیِ درجات والے اعمال یہ ہیں: سلام عام کرنا، کھانا کھلانا اور جب لوگ سو رہے ہوں تو نمازِ تہجد پڑھنا۔“ اور اس حدیث کے الفاظ جیسا کہ مصابیح میں ہیں، میں نے عبدالرحمٰن کی سند سے شرح السنہ میں پائے ہیں۔ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 726]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البغوي في شرح السنة (4/ 35. 37 ح 924 من حديث عبد الرحمٰن بن عائش المصري رضي الله عنه .) مصابيح السنة (290/1 ح 512) و رواه الترمذي (3234. 3235) و انظر الحديث السابق (725)»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (عَلَى ذِمَّةِ ٱللَّهِ!)
اللہ تعالیٰ کے ذمے!
حدیث نمبر: 727
727 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ: رَجُلٌ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ فَيَدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلَامٍ، فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ) ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کی مکمل حفاظت کرنا اللہ کے ذمہ ہے، وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے روانہ ہو تو وہ اللہ کی حفاظت میں ہے حتیٰ کہ اللہ اسے فوت کر کے جنت میں داخل فرما دے، یا اسے حاصل ہونے والے اجر یا مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹا دے۔ وہ آدمی جو مسجد کی طرف جائے تو وہ بھی اللہ کی حفاظت میں ہے اور وہ آدمی جو اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرتا ہے وہ بھی اللہ کی حفاظت میں ہے۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 727]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (2494) [وصححه الحاکم 73/2، 74 ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (ثَوَابُ ٱلْمَجِيءِ إِلَى ٱلصَّلَاةِ مِنَ ٱلْبَيْتِ بَعْدَ ٱلْوُضُوءِ)
گھر سے وضو کر کے نماز کے لئے آنے کا ثواب
حدیث نمبر: 728
728 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ ; فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُحْرِمِ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى لَا يُنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ ; فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى إِثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ) ، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص باوضو ہو کر فرض نماز کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوتا ہے تو اس کا اجر احرام باندھ کر حج کے لیے روانہ ہونے والے کے اجر کی طرح ہے، اور جو شخص صرف نمازِ چاشت کے لیے روانہ ہوتا ہے اس کے لیے عمرہ کرنے والے کی مثل اجر ہے، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز اس طرح پڑھنا کہ ان کے درمیان کوئی لغو بات نہ ہو اس کا عمل علّیّین میں لکھ دیا جاتا ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 728]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (268/5 ح 22660) و أبو داود (558)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (ٱلْمَسَاجِدُ... رِيَاضٌ مِنْ رِيَاضِ ٱلْجَنَّةِ)
مسجدیں۔۔۔ جنت کے باغیچے
حدیث نمبر: 729
729 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا) ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ ; قَالَ: (الْمَسَاجِدُ) ، قِيلَ وَمَا الرَّتْعُ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: (سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ) ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں کے پاس سے گزرو تو کچھ کھا پی لیا کرو۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جنت کے باغات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مساجد۔“ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! خورد و نوش سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ پاک ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 729]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3509 وقال: غريب .)
٭ حميد المکي مجھول الحال، و تکلم فيه البخاري وغيره و ضعفه راجح .»
٭ حميد المکي مجھول الحال، و تکلم فيه البخاري وغيره و ضعفه راجح .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (بَعْضُ آدَابِ ٱلْمَسْجِدِ)
مسجد کے کچھ آداب
حدیث نمبر: 730
730 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: (مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ، فَهُوَ حَظُّهُ) ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جس چیز کے لیے مسجد میں جاتا ہے وہی اس کا نصیب ہو گی، (جو اسے آخرت میں ملے گی)۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 730]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (472)
٭ عثمان بن أبي العاتکة ضعيف ضعفه الجمھور .»
٭ عثمان بن أبي العاتکة ضعيف ضعفه الجمھور .»
قال الشيخ الألباني: حَسَنٍ
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (تَسَابِيحُ دُخُولِ وَخُرُوجِ ٱلْمَسْجِدِ)
مسجد کے اندر جاتے اور باہر آتے وقت کی تسبیحات
حدیث نمبر: 731
731 - وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرَى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: (رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ) ، وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: (رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ) ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَتِهِمَا، قَالَتْ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَكَذَا إِذَا خَرَجَ، قَالَ (بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ) ، بَدَلَ: صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى.
فاطمہ بنت حسین رحمہا اللہ اپنی دادی فاطمہ کبریٰ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے فرمایا: جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ» ”محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام ہو“ اور فرماتے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد سے باہر نکلتے تو فرماتے: «الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ» ”محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام ہو“ اور فرماتے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» ”میرے رب! میرے گناہ بخش دے، اور میرے لیے فضل کے دروازے کھول دے۔“ ترمذی، احمد، ابن ماجہ اور ان دونوں کی روایت میں ہے، انہوں نے فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے اور اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لاتے تو ”محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ وسلام ہو“ کے بجائے: «بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ رَسُولِ اللَّهِ» ”اللہ کے نام سے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ہو۔“ کے الفاظ پڑھتے تھے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی سند متصل نہیں، فاطمہ بنت حسین رحمہا اللہ کی فاطمہ کبریٰ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ثابت نہیں۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 731]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (314) و أحمد (282/6 ح 26948) و ابن ماجه (771)
٭ ليث بن أبي سليم: ضعيف من جھة حفظه، و مدلس و السند منقطع، و حديث مسلم (713 ب) يغني عنه .»
٭ ليث بن أبي سليم: ضعيف من جھة حفظه، و مدلس و السند منقطع، و حديث مسلم (713 ب) يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (ٱلْأَعْمَالُ ٱلْمَمْنُوعَةُ فِي ٱلْمَسَاجِدِ)
وہ کام جو مساجد میں کرنا منع ہیں
حدیث نمبر: 732
732 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ، وَعَنِ الْبَيْعِ وَالِاشْتِرَاءِ فِيهِ، وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں شعر گوئی، خرید و فروخت اور جمعہ کے روز نماز سے پہلے مسجد میں حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔“ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 732]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (1079) والترمذي (322 وقال: حديث حسن .) [وابن ماجه (749، 766، 1133) والنسائي (47/2، 48 ح 715) و محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/ 179، و أطراف المسند 4/ 32 ح 5171) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (مَنْعُ ٱلشِّرَاءِ وَٱلْبَيْعِ وَإِعْلَانِ ٱلضَّالَّةِ فِي ٱلْمَسَاجِدِ)
مساجد میں خرید و فرخت اور گمشدگی کا اعلان کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 733
733 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً، فَقُولُوا: لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ) ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو تم کہو: «لَا أَرْبَحَ اللّٰهُ تِجَارَتَكَ» ”اللہ تیری تجارت کو نفع مند نہ بنائے“، اور جب تم کسی شخص کو اس میں گم شدہ جانور کا اعلان کرتے ہوئے دیکھو تو تم کہو: «لَا رَدَّهَا اللّٰهُ عَلَيْكَ» ”اللہ کرے وہ چیز تمہیں نہ ملے۔““ صحیح، رواہ الترمذی و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 733]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (1321 وقال: حسن غريب .) والدارمي (1/ 326 ح 1408 [وصححه ابن خزيمة (1305) و ابن حبان (313) والحاکم علٰي شرط مسلم (56/2) ووافقه الذهبي، و للحديث طريق آخر عند مسلم (568) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح