🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (رِيَاضُ ٱلْجَنَّةِ)
ریاض الجنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 694
694 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو جگہ ہے وہ جنت کا باغیچہ ہے، اور میرا منبر میرے حوض (کوثر) پر ہو گا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 694]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1196) و مسلم (502/ 1391)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ذَهَابُ ٱلنَّبِيِّ ٱلْكَرِيمِ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَسْجِدِ قُبَاءَ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد قبا تشریف لے جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 695
695 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ كُلَّ سَبْتٍ مَاشِيًا وَرَاكِبًا، فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ہفتے، کبھی پیدل اور کبھی سواری پر مسجد قبا تشریف لے جایا کرتے تھے، اور وہاں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 695]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1193) و مسلم (516/ 1399، 521/ 1399)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَفْضَلُ وَأَسْوَأُ مَكَانٍ)
سب سے اچھی اور سب سے بری جگہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 696
696 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى اللَّهِ أَسْوَاقُهَا) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 696]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (288/ 671)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ٱلْجَزَاءُ لِمَنْ بَنَى مَسْجِدًا)
مسجد بنانے والے کے لیے انعام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 697
697 - وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر مسجد بناتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 697]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (450) و مسلم (24/ 533)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عُمَّارُ ٱلْمَسَاجِدِ)
مساجد آباد کرنے والے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 698
698 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ، أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح و شام جتنی مرتبہ مسجد میں جاتا ہے، اللہ اس کے لیے اتنی مرتبہ ہی جنت میں ضیافت کا اہتمام فرماتا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 698]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (622) و مسلم (285 / 669)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ ٱلْمَجِيءِ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ مِنْ بَعِيدٍ)
دور سے مسجد میں آنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 699
699 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ، أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص جتنی دور سے چل کر نماز پڑھنے آتا ہے تو وہ اسی قدر زیادہ اجر حاصل کرتا ہے، اور جو شخص نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو وہ اس شخص سے زیادہ اجر حاصل کرتا ہے جو اکیلا نماز پڑھ کر سو جاتا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (651) و مسلم (277/ 662)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كُلَّمَا بَعُدَ ٱلْبَيْتُ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ كَانَ ٱلثَّوَابُ أَكْثَرَ)
جتنا گھر مسجد سے دور ہو گا اتنا ہی ثواب زیادہ ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 700
700 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: (بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ) . قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ. فَقَالَ: (يَا بَنِي سَلِمَةَ! دِيَارَكُمْ، تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ، تُكْتَبُ آثَارُكُمْ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مسجد (نبوی) کے آس پاس کچھ اراضی خالی ہوئی تو بنوسلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چلا تو آپ نے انہیں فرمایا: مجھے پتہ چلا ہے کہ تم مسجد کے قریب آنا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہمارا ارادہ تو یہی ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنوسلمہ! اپنے گھروں ہی میں رہو، تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں ہی میں رہو، تمہارے (مسجد کی طرف اٹھنے والے) قدم لکھے جاتے ہیں۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 700]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (280 / 665)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ٱلَّذِينَ يَنَالُونَ ظِلَّ عَرْشِ ٱللَّهِ)
عرش الٰہی کا سایہ پانے والے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 701
701 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سات خوش نصیب ایسے ہیں جنہیں اللہ اپنا سایہ نصیب فرمائے گا جس روز اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا: عادل حکمران، وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا، وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ معلق ہے، جب مسجد سے نکلتا ہے (تو وہ مسجد سے لاتعلق نہیں رہتا) حتیٰ کہ وہ وہاں لوٹ جاتا ہے، وہ دو آدمی جو اللہ کی رضا کی خاطر باہم محبت کرتے ہیں، اسی بنیاد پر اکٹھے ہوتے ہیں، اور اگر جدا ہوتے ہیں تو بھی اس محبت پر قائم رہتے ہیں، وہ آدمی جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، وہ آدمی جسے حسب و جمال والی دوشیزہ نے (برائی کی) دعوت دی تو اس نے کہا: میں اللہ سے ڈرتا ہوں! اور وہ آدمی جس نے جو صدقہ کیا، اس نے اسے اس قدر مخفی رکھا حتیٰ کہ اس کا بایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 701]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (660) و مسلم (91 / 1031)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ ٱلْمَلَائِكَةِ)
فرشتوں کا دعا کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 702
702 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تُضَعَّفُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَفِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ ضِعْفًا ; وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ; فَإِذَا صَلَّى، لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ. وَلَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ) . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: (إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ) . وَزَادَ فِي دُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ. مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی جو نماز با جماعت ادا کرتا ہے، اس کی وہ نماز اس کے گھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز سے، پچیس گنا زیادہ اجر و ثواب رکھتی ہے، وہ اس لیے کہ جب وہ وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پھر وہ محض نماز ادا کرنے کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کے ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے، پس جب وہ نماز پڑھ کر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں: اے اللہ! اس پر رحمتیں نازل فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اور جب کوئی شخص نماز کے انتظار میں رہتا ہے تو وہ (حکم و ثواب کے لحاظ سے) نماز میں ہوتا ہے۔ متفق علیہ۔ اور ایک روایت میں ہے، فرمایا: جب وہ مسجد میں آئے اور نماز اسے (مسجد میں) روکے رکھے۔ امام مسلم ؒ نے فرشتوں کی دعا میں یہ اضافہ نقل کیا ہے: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، اور جب تک وہ کسی کو تکلیف پہنچائے نہ اس کا وضو ٹوٹے تو فرشتوں کی دعا کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 702]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (647) و مسلم (272 / 649 بعد ح 661)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَدْعِيَةُ ٱلدُّخُولِ وَٱلْخُرُوجِ مِنَ ٱلْمَسْجِدِ)
مسجد میں آنے جانے کی دعائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 703
703 - وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ. وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور جب وہ مسجد سے باہر آئے تو یہ دعا پڑھے: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 703]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (68/ 713)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں