🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (اسْتِمْرَارُ نِكَاحِ الجَاهِلِيَّةِ بِشَرْطِ الإِسْلَامِ)
اسلام کی شرط پر جاہلیت کے نکاح برقرار رکھے گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3180
3180 - وَرُوِيَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ: أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ النِّسَاءِ رَدَّهُنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ عِنْدَ اجْتِمَاعِ الْإِسْلَامَيْنِ  بَعْدَ اخْتِلَافِ الدِّينِ وَالدَّارِ. مِنْهُنَّ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ مُغِيرَةَ كَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الْإِسْلَامِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَانًا لِصَفْوَانَ فَلَمَّا قَدِمَ جَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَسْيِيرَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ حَتَّى أَسْلَمَ فَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ، وَأَسْلَمَتْ أَمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ امْرَأَةُ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ فَارْتَحَلَتْ أَمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ الْيَمَنَ فَدَعَتْهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمَ، فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مُرْسَلًا.
شرح السنہ میں مروی ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنی ہی عورتوں کو پہلے نکاح پر ہی ان کے خاوندوں کی طرف لوٹا دیا جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا اگرچہ ایک وقت تک ان کا دین اور رہن سہن ایک دوسرے سے الگ رہا، ان میں ولید بن مغیرہ کی بیٹی رضی اللہ عنہا ہیں جو کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، فتح مکہ کے روز وہ تو مسلمان ہو گئیں جبکہ ان کا خاوند اسلام قبول کرنے سے بھاگ گیا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے چچا زاد وہب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو صفوان کی امان کے لیے اپنی چادر دے کر بھیجا، جب وہ آیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے چار ماہ گھومنے پھرنے کی مہلت عطا کی حتی کہ اس نے اسلام قبول کر لیا تو وہ (ولید بن مغیرہ کی بیٹی) ان کے نکاح میں رہیں، اور (اسی طرح) عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حکیم بنت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہا نے فتح مکہ کے روز اسلام قبول کر لیا جبکہ ان کا خاوند اسلام سے بھاگ کر یمن چلا گیا تو ام حکیم رضی اللہ عنہا نے بھی کوچ کیا حتی کہ ان کے پاس یمن پہنچ گئیں اور اسے اسلام کی دعوت پیش کی تو اس نے اسلام قبول کر لیا، اور دونوں کا نکاح برقرار رہا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے مرسل روایت کیا ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ مالک و فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3180]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، مالک في الموطأ (543/2. 545 ح 1181) والبغوي في شرح السنة (96/9 بعد ح 2290 بدون سند)
٭ سنده ضعيف لأن الزھري قال أنه بلغه وحديث مسلم (2313) يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الأَرْحَامُ الَّتِي حُرِّمَتْ)
وہ رشتے جو حرام قرار دیے گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3181
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3181 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حُرِّمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ ثُمَّ قَرَأَ (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ)  الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سات رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور سات نکاح کی وجہ سے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ﴾ [سورة النساء: 23] ”تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں۔۔۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3181]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5105)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حُرِّمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ ثُمَّ قَرَأَ: (حُرِّمَتْ عَلَيْكُم أُمَّهَاتكُم)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بِنْتُ الزَّوْجَةِ حَرَامٌ إِلَى الأَبَدِ بَعْدَ المُجَامَعَةِ)
بیوی سے صحبت کے بعد اس کی بیٹی ہمیشہ کے لئے حرام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3182
[ ص: 2089 ] 3182 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بِهَا لَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلْيَنْكِحِ ابْنَتَهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ أُمَّهَا دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَهُمَا يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے صحبت کی تو پھر اس کے لیے اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرنا حلال نہیں، اور اگر اس نے اس کے ساتھ تعلق زن و شو قائم نہیں کیا تو پھر وہ اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے۔ اور جس آدمی نے کسی عورت سے نکاح کیا تو پھر اب اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح کرنا حلال نہیں خواہ اس نے اس سے تعلق زن و شو قائم کیا ہو یا نہ کیا ہو۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث اسناد کے حوالے سے صحیح نہیں، ابن لہیعہ اور مثنی بن صباح نے اسے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے، اور ان دونوں کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ”اس کی سند ضعیف ہے، اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3182]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1117)
٭ ابن لھيعة مدلس و عنعن و المثني بن الصباح: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَسَائِلُ الزَّوَاجِيَّةِ)
ازدواجی مسائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3183
بَابُ الْمُبَاشِرَةِ (الْفَصْلُ الْأَوَّلُ) 3183 - عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ فَنَزَلَتْ (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ)  مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، یہود کہا کرتے تھے، جب آدمی اپنی بیوی سے اس کی پچھلی جانب سے اس کی اندام نہانی میں جماع کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں، تم جیسے چاہو اپنی کھیتی کو آؤ۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3183]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4528) و مسلم (117/ 1435)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ العَزْلِ (تَخْطِيطِ الأُسْرَةِ))
عزل (فیملی پلاننگ) کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3184
3184 - وَعَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسْلِمٌ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَنْهَنَا.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم عزل کیا کرتے تھے جبکہ قرآن نازل ہو رہا تھا۔ بخاری، مسلم۔ اور امام مسلم رحمہ اللہ نے مزید یہ بھی روایت کیا ہے کہ یہ بات نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ نے ہمیں منع نہیں فرمایا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1440/138)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الوَلَدُ الَّذِي فِي القَدَرِ سَيُولَدُ حَتْمًا)
جو اولاد تقدیر میں ہے وہ ضرور پیدا ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3185
3185 - وَعَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً هِيَ خَادِمَتُنَا وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ:"اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا"فَلَبِثَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَاهُ قَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ. قَالَ:"قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: میری ایک لونڈی ہے وہ ہماری خادمہ ہے اور میں اس سے جماع کرتا ہوں جبکہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اس سے عزل کرو، کیونکہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ اسے مل کر رہے گا۔“ کچھ مدت گزری تو وہ آدمی پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: لونڈی تو حاملہ ہو گئی ہے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ اس کے مقدر میں جو کچھ ہے وہ اسے مل کر رہے گا۔“ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3185]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1439/139)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا فَائِدَةَ مِنَ العَزْلِ أَوْ عَدَمِهِ)
عزل کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3186
3186 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ، وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ  وَقُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ؟ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: مَا عَلَيْكُمْ أَلَّا تَفْعَلُوا ; مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے تو کچھ عرب لونڈیاں ہمارے ہاتھ لگیں، ہمیں عورتوں کی رغبت ہوئی اور عورتوں سے الگ رہنا ہمارے لیے دشوار ہو گیا اور ہم نے عزل کرنا پسند کیا، ہم نے عزل کرنے کا ارادہ کیا اور ہم نے کہا: ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیے بغیر عزل کرتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم میں موجود ہیں، ہم نے اس کے متعلق آپ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا حرج ہے اگر تم ایسے نہ کرو؟ کیونکہ جس جان نے قیامت تک آنا ہے اس نے آنا ہی ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3186]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4138) و مسلم (125/ 1438)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ يُقَدَّرُ وُلِدَ سَيُولَدُ)
جس کو پیدا ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3187
3187 - وَعَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْعَزْلِ  فَقَالَ:"مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ خَلْقَ شَيْءٍ لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عزل کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہر پانی (منی) سے بچہ نہیں ہوتا، اور جب اللہ کسی چیز کی تخلیق کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3187]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (133/ 1438)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا فَائِدَةَ مِنَ العَزْلِ لِأَيِّ خَوْفٍ)
کسی بھی ڈر سے عزل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3188
3188 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي  . قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لِمَ تَفْعَلُ فِي ذَلِكَ؟ قَالَ الرَّجُلُ أَشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ ضَارًّا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کیا: میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم یہ کیوں کرتے ہو؟“ اس آدمی نے عرض کیا: مجھے اس کے بچے (حمل یا شیر خوار) کے متعلق اندیشہ ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ (جماع) مضر ہوتا تو یہ فارسیوں اور رومیوں کے لیے مضر ہوتا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3188]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1443/143)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (العَزْلُ سِرًّا يُعَادِلُ دَفْنَ حَيٍّ)
عزل خفیہ طور پر زندہ درگور کرنے کے برابر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3189
3189 - وَعَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ قَالَتْ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ  ، فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ وَفَارِسَ فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا، ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ  ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ وَهِيَ (وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جُذامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے: ”میں نے «الْغِيلَةَ» ”غیلہ“ (حالتِ حمل میں دودھ پلانے) سے منع کرنے کا ارادہ کیا، پھر میں نے رومیوں اور فارسیوں کو دیکھا کہ وہ اپنی اولاد کو حالتِ حمل میں دودھ پلاتے رہتے ہیں، اور یہ ان کی اولاد کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاتا۔“ پھر انہوں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے «الْعَزْلِ» ”عزل“ کے متعلق دریافت کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یہ «الْوَأْدُ الْخَفِيُّ» ”پوشیدہ طور پر زندہ درگور کرنا“ ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِذَا الْمَوْعُودَةُ سُئِلَتْ﴾ [سورة التكوير: 8] ”جب زندہ درگور کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا“ کے زمرہ میں آتا ہے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (141/ 1442)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں