🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلَمْ أَمْرَ الغَدِ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے کل کی بات نہیں جانتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3140
[ ص: 2065 ] (بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ  وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ) (الْفَصْلُ الْأَوَّلُ) 3140 - عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَالَ: دَعِي هَذِهِ وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
رُبَیِّع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب مجھے شادی کے بعد میرے خاوند کے گھر لایا گیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جس طرح آپ (حدیث کے راوی خالد بن ذکوان) مجھ سے (دور) بیٹھے ہیں، پس انصار کی چھوٹی چھوٹی بچیاں دف بجا کر میرے ان آباء جو غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے، کے محاسن بیان کرنے لگیں، کہ اچانک ان میں سے ایک نے کہہ دیا: ہم میں ایک نبی ہیں، جو مستقبل کے واقعات جانتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑو، اور جو تم پہلے کہہ رہی تھیں وہی کہو۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3140]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5147)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَحَادِيثُ مُتَعَلِّقَةٌ بِالشَّادِي وَالبِيَاهِ)
شادی بیاہ سے متعلق احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3141
3141 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: زُفَّتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ؟ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُعْجِبُهُمُ اللَّهْوُ  . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کی ایک انصاری صحابی کے ساتھ رخصتی ہوئی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کھیل کود کا سامان نہیں تھا؟ کیونکہ انصار کو دف اور اشعار کہنا اچھا لگتا ہے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3141]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5162)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النِّكَاحُ فِي شَهْرِ شَوَّالٍ مُبَارَكٌ)
شوال کے مہینے میں نکاح کرنا مبارک ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3142
3142 - وَعَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَوَّالٍ  وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شوال میں مجھ سے شادی کی اور شوال میں مجھے اپنے گھر لائے اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے کون سی وہ بیوی ہے جسے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں مجھ سے اہم مقام حاصل تھا؟ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3142]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1423/73)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ضَرُورَةُ تَكْمِيلِ شَرَائِطِ النِّكَاحِ)
نکاح کی شرطیں پوری کرنا ضروری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3143
3143 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ  مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن شروط کے ساتھ تم نے شرم گاہوں کو حلال بنایا ہے، وہ (شروط) زیادہ حق رکھتی ہیں کہ انہیں پورا کیا جائے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3143]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5151) و مسلم (1418/63)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ إِرْسَالِ خِطْبَةٍ عَلَى خِطْبَةِ غَيْرِهِ)
کسی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3144
3144 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ  حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغامِ نکاح نہ بھیجے حتیٰ کہ وہ نکاح کر لے یا چھوڑ دے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3144]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5144) و مسلم (1413/52)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ طَلَبِ امْرَأَةٍ طَلَاقَ امْرَأَةٍ أُخْرَى)
کوئی عورت دوسری عورت کے لیے طلاق کا مطالبہ نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3145
3145 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا  لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْكِحَ فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اسے اس کا رزق بھی مل جائے، اسے چاہیے کہ وہ اس مرد سے خود شادی کر لے، حالانکہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ اسے مل جائے گا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3145]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6601) و مسلم (1413/52)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (نِكَاحُ الوَطَى وَالسَّطَى)
وٹے سٹے کا نکاح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3146
3146 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: نَهَى عَنِ الشِّغَارِ  ، وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے «نِکَاحِ الشِّغَارِ» نکاحِ شغار سے منع فرمایا ہے، اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی اس شرط پر کرے کہ دوسرا آدمی اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دے اور ان دونوں کے درمیان مہر نہ ہو، اور مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ اسلام میں شغار (بٹے کا نکاح) نہیں ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3146]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5112) و مسلم (1415/57و1415/60) وذکره البغوي في مصابيح السنة (2337)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ نِكَاحِ المُتْعَةِ)
نکاح متعہ کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3147
3147 - وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ  يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4216) و مسلم (1407/29)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِجَازَةُ المُتْعَةِ فِي غَزْوَةِ أَوْطَاسٍ ثُمَّ مَنْعُهَا)
جنگ اوطاس پر متعہ کی اجازت پھر منع کر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3148
3148 - وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ  ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَى عَنْهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ اوطاس کے موقع پر تین روز کے لیے متعہ کی اجازت دی، پھر اس سے منع فرما دیا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1405/18)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (خُطْبَةُ النِّكَاحِ)
خطبہ نکاح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3149
الْفَصْلُ الثَّانِي 3149 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ  وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ، قَالَ:"التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضَلِّلُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ) ، (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا) ، (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا) . رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ. وَفِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ فَسَّرَ الْآيَاتِ الثَّلَاثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزَادَ ابْنُ مَاجَهْ بَعْدَ قَوْلِهِ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ، وَبَعْدَ قَوْلِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز میں تشہد پڑھنا سکھایا اور حاجت (نکاح وغیرہ) میں تشہد سکھایا، راوی بیان کرتے ہیں، نماز میں تشہد کے الفاظ یہ ہیں: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور کسی حاجت و ضرورت کے وقت پڑھا جانے والا تشہد یہ ہے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» بے شک ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، ہم اسی سے مدد چاہتے اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے نفوس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس کو اللہ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ تین آیات تلاوت فرماتے: ﴿یَا أَیُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 102] اے ایمان والو! اللہ سے ڈر جاؤ جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اور تم اس حال میں مرو کہ تم مسلمان ہو۔ ﴿یَا أَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک شخص (حضرت آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا، پھر ان دونوں سے بڑی تعداد میں مرد اور عورتیں پیدا کر کے انہیں روئے زمین پر پھیلا دیا اور ڈرو اللہ سے جس کے ذریعے تم اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہو، اور قطع رحمی سے بچو۔ اللہ تعالیٰ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ﴿یَا أَیُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * یُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَال کُمْ وَیَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ یُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 70-71] اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور درست بات کرو، وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت کرے وہ بہت بڑی کامیابی حاصل کر لے گا۔ اور جامع ترمذی میں ہے۔ سفیان ثوری نے تینوں آیات کی وضاحت کی۔ اور ابن ماجہ نے «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ» کے بعد «نَحْمَدُهُ» اور «مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا» کے بعد «وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا» کا اضافہ نقل کیا اور دارمی نے «عَظِيمًا» کے بعد اضافہ نقل کیا ہے کہ پھر اپنی حاجت و ضرورت کا تذکرہ کرے۔ اور شرح السنہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اس تشہد کو نکاح کے خطبہ حاجت یا کسی دوسرے خطبہ میں پڑھے۔ سندہ ضعیف، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی و فی شرح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3149]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (392/1. 393 ح 3720. 3721) و الترمذي (1105) و أبو داود (2118) و النسائي (89/6 ح 3279) و ابن ماجه (1892) و الدارمي (142/2 ح 2208) و البغوي في شرح السنة (49/9. 50ح 2268)
٭ أبو عبيدة عن أبيه منقطع و أبو إسحاق السبيعي مدلس و عنعن و رواه عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عند أحمد مبترًا فسنده معلول .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں